Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

بلجیم کے وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کا بیان

بلجیم کے وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کا بیان


عالی جناب وزیرِ اعظم صاحب،

دونوں ممالک کے معزز وفود کے اراکین،

میڈیا کے رفقاء،

نمسکار!

عالی جناب وزیرِ اعظم صاحب کے پہلے دورۂ ہندوستان پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

یہ ان کا پہلا دورۂ ہندوستان ضرور ہے، لیکن ہندوستان سے ان کا تعلق نیا نہیں ہے۔ وہ طویل عرصے تک اینٹورپ کے میئر رہے ہیں اور انہوں نے اینٹورپ میں مقیم بڑی ہندوستانی برادری اور ہند-بلجیم ہیرے کی تجارت کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

دوستو!

ہندوستان اور بلجیم کے تعلقات کی جڑیں تاریخی طور پربہت گہری ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران بلجیم میں ہزاروں ہندوستانی فوجیوں کی بہادری اور قربانیاں ہماری مشترکہ یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

آج جمہوری اقدار، بازار پر مبنی معیشت اور عوامی سطح پر گہرے روابط ہمیں فطری شراکت دار بناتے ہیں۔

دوستو!

دس سال قبل مجھے بلجیم کا دورہ کرنے کا موقع ملا تھا اور مجھے بے حد خوشی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہماری شراکت داری میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

آج ہمارے تعاون کا دائرہ روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر دفاع اور صاف توانائی جیسے اہم تزویراتی شعبوں تک وسیع ہو چکا ہے۔ ہم ‘زورآور’ ٹینک جیسے جدید دفاعی آلات پرساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش کے کاکیناڑہ میں ہم دنیا کے سب سے بڑے گرین امونیا پروجیکٹس میں سے ایک تیار کر رہے ہیں۔

دوستو!

آج دنیا بڑے اتھل پتھل کے دور سے گزر رہی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں کشیدگی اور تنازعات کی صورتِ حال برقرار ہے۔ خوراک، ایندھن یا رسد کانظام، ہر شعبے میں غیر یقینی صورتِ حال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس چیلنج بھرے ماحول کے باوجود ہندوستان کی معیشت نے اپنی رفتار برقرار رکھی ہے۔ گزشتہ سہ ماہی میں ہماری معیشت نے 7.8 فیصد کی شرحِ نمو درج کی ہے۔ آج ہندوستان کی ترقیاتی کہانی دنیا کے لیے اعتماد اور نئے مواقع کا ذریعہ بن رہی ہے۔

دوستو!

رواں  سال کے آغاز میں ہم نے تاریخی ہند-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ کیا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کے درمیان یہ بے مثال تعاون عالمی استحکام، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو بھی نئی مضبوطی فراہم کرے گا۔

ہندوستان کی مسلسل اقتصادی ترقی اور اس معاہدے سے ہمارے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھل چکے ہیں۔ آج ہم نے ان امکانات کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

دوستو!

بلجیم کی کمپنیوں کے لیے ہم نے ہندوستان میں ’سرمایہ کاری کی تیز تر سہولت کا نظام‘ قائم کیا ہے۔ ہم نے ہند-بلجیم بزنس فورم کو مستقل نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم دونوں ممالک کے مالی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور ضابطہ کار اداروں کے درمیان تال میل کو مزید فروغ دیں گے۔

ان تمام اقدامات کے ذریعے ہم آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کے ہدف کو حقیقت میں بدلیں گے۔

دوستو!

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون ہمارے باہمی تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ آج ہم نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تبادلوں اور تربیتی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

ہماری حکومتوں اور دفاعی صنعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں سے دفاعی شعبے میں مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہم اپنی متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے اور جرائم کے خلاف آپسی تال میل کو بھی مزید مضبوط کریں گے۔

دوستو!

صاف توانائی پر مبنی مستقبل اور قابلِ اعتماد سپلائی چین ہماری مشترکہ ترجیحات ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں آج طے پانے والا مفاہمت نامہ پائیداری کے میدان میں ہمارے تعاون کو نئی رفتار دے گا۔ اہم معدنیات کے شعبے میں ہم نےمعدنیات کی پروسیسنگ اور ری سائیکلنگ میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں بلجیم کی مہارت اور ہندوستان کا وسیع پیمانے پر کام کرنے کا تجربہ ایک دوسرے کے لیے معاون اور تکمیلی ہیں۔ اسی سمت میں ہم بلجیم کے آئی ایم ای سی ادارے کو ہندوستان کے سیمی کنڈکٹرکے ماحولیاتی نظام سے جوڑنے کے لیے  ساتھ مل کر کام کریں گے۔

دوستو!

عوامی سطح پر مضبوط روابط ہمارے باہمی تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ آج ہم نے اپنے اسٹارٹ اَپس کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور بحری شعبے کی استعداد سازی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

ہم جامعات اور تحقیق کے شعبے میں تعاون کو بھی مزید مستحکم کریں گے۔ باصلاحیت افراد کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے ہم جلد ہی ’مائگریشن اور موبلٹی کی شراکت داری کے معاہدے‘ پر دستخط کریں گے۔

دوستو!

آج ہم نے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر بھی تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا۔ ہندوستان اور بلجیم، دونوں ہی قانون کی حکمرانی، بات چیت  اور سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں۔

خواہ یوکرین کا تنازعہ ہو یا مغربی ایشیاکا مسئلہ، ہم تنازعات کے جلد خاتمے اور قیامِ امن کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کی ہر شکل کا جڑ سے خاتمہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

عالی جناب!

گزشتہ ماہ بلجیم اور نیدرلینڈ نے مشترکہ طور پر ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کی۔ میں اس عالمی کپ کے شاندار انعقاد پر آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں اپنے کھلاڑیوں کی محنت اور شاندار کارکردگی کے لیے بھی ان کی ستائش کرتا ہوں۔

ہیرے کی تجارت نے طویل عرصے سے ہندوستان اور بلجیم کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ آج ہم اس تاریخی رشتے کو ایک وسیع تر شراکت داری کی نئی شکل دے رہے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ آج ہماری بات چیت باہمی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ایک بار پھر، میں آپ کا اور آپ کے وفد کا ہندوستان میں پرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

***

ش  ح۔م ش ع ف ر

U-no-2982