پی ایم انڈیا
عزت مآب جناب بنجامن نتن یاہو، اسرائیل کے وزیراعظم۔
بھارت اور اسرائیل کےسرکردہ تاجرین!
خواتین و حضرات
میں وزیر اعظم نتن یاہو اور اسرائیلی وفد کے ارکان کا اپنے تمام ہم وطنوں کی جانب سےخیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ دونوں ملکوں کے سی ای او ز کا ساتھ ہے۔ وزیر اعظم نتن یاہو اور میں نے ابھی سی ای او کے دو طرفہ فورم کے ذریعے بھارت اور اسرائیل کے سرکردہ تاجرین کے ساتھ ثمرآور بات چیت مکمل کی ہے۔ مجھے سی ای او کی اس بات چیت اور شراکت داری سے بڑی امیدیں ہیں، جو پچھلے سال شروع ہوئی ہے۔
دوستو!
میرے دل میں اسرائیل اور اس کے عوام کے لیے ہمیشہ زبردست احترام رہا ہے۔ میں نے 2006 میں گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، پچھلے سال جولائی میں ایک مرتبہ پھر میں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جو بھارت کی طرف سے اپنی نوعیت کا ایسا پہلا دورہ تھا۔
یہ بہت ہی خاص دورہ تھا۔ مجھے اپنے قریبی حلقوں میں اختراع، محنت اور استقلال کے قابل قدر جذبے کا تجربہ ہوا، جو مجھے اسرائیل سے حاصل ہوا۔ یہ نئی توانائی اور مقصد ہے ، جس کی وجہ سے پچھلے چند برسوں میں ہمارے تعلقات میں نئی جان پیدا ہوئی ہے۔ اس سے ہمارے تعاون کو نئی اونچائیاں ملنے میں مدد ملے گی۔ ہم بھارت- اسرائیل تعلقا ت میں ایک درخشاں اور نئے باب کی دہلیز پر ہیں۔ یہ باب ہمارے عوام اور باہمی موقعوں کی وجہ سے ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے شروع ہواہے۔
ہمارے تعلقات کی کایا پلٹ میں تجارت اور صنعت کا کردار بہت اہم ہے۔ یہ آپ کی مشترکہ کوششیں ہیں، جن سے ہماری بات چیت کو صحیح معنوں میں اہمیت ملے گی اور اس سے ٹھوس کامیابی حاصل ہوگی۔ اگر ہم اپنے لیے بھارتی معیشت اور اسرائیل کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی بات کریں تو ہم مل کر جو کچھ حاصل کرسکتے ہیں، اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
دوستو!
مجھے خوشی ہے کہ ہم نے بھارت – اسرائیل صنعتی آر اینڈ ڈی اور ٹیکنالوجیکل انوویشن فنڈ (آئی 4ایف) کے تحت مشترکہ تحقیق و ترقی کے پروجیکٹوں کے لیے پہلی مرتبہ اپیل کی ہے۔ جس کا اعلان پچھلی جولائی کو میرے اسرائیل کے دورے کے دوران کیا گیا تھا۔ اس فنڈ کو اگلے پانچ سال کے عرصے میں استعمال کیا جانا ہے اور یہ ڈگر سے ہٹ کر ٹیکنالوجی کے حل کے سلسلے میں دونوں ملکوں کی مشترکہ صلاحیتوں کے لیے ایک خیرمقدمی موقع ہے، جس تجارتی طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
میں دونوں ملکوں کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اس پلیٹ فارم کی استعمال کریں گی۔ اسی طرح ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر اسپیس سیکیورٹی جیسے میدانوں میں مشترکہ آر این ڈی پروجکٹوں کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی کے لین دین میں بھی موقع ہیں۔
مجھے یہ کہنے میں خوشی ہورہی ہے کہ بھارت- اسرائیل اختراع اور ٹیکنالوجی سے متعلق ایک مکمل اجلاس بھارت میں جولائی 2018 میں ہونے والا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس اجلاس سے نئی ٹیکنالوجی کے مشترکہ فروغ کو رفتار حاصل ہوگی۔ درحقیقت اس کے لیے بنیادی کام کل کے بعد سے آئی کرئیٹ سے شروع ہوگا۔ ہم اس کیمپس کے آغاز کے لیے گجرات جارہے ہیں، جو ایک سرکردہ اختراعی مرکز کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔
دوستو!
میں وزیر اعظم نتن یاہو کو گجرات کے دیہی علاقوں میں اس لیے لے کر جارہا ہوں کیونکہ ٹیکنا لوجی اور توانائی کی اصل طاقت اس فائدے میں ہے، جوعام آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ اسرائیل کو اختراع اور تخلیقی کام کے دوران آنے والے وقفے کے لیے انفرادی نوعیت کے ایک ماحولیاتی نظام کے ساتھ اسٹارٹ –اپ ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس کا سہرا اسرائیل کے چھوٹے صنعت کاروں کو جاتا ہے۔ آپ نے اسرائیل کو ایک مضبوط مستحکم اور اختراعی معیشت بنایا ہے۔ آپ نے 80 لاکھ عوام کے ملک کو ٹیکنالوجی کے عالمی پاور ہاؤس کے طور پر درخشاں کیا ہے۔
چاہے یہ واٹر ٹیک ہو یا زرعی ٹیک ہو، چاہے یہ خوراک کی پیداوار ہو، یا یہ اس کی ڈبہ بندی اور تحفظ ہو۔ اسرائیل نئی کامیابیوں اور ترقی کے ساتھ ایک درخشاں مثال رہا ہے۔ چاہے یہ جسمانی یا حقیقی سیکیورٹی ہو، چاہے وہ زمین ہو، پانی ہو، یا خلا ہو۔ آپ کی ٹیکنالوجی نے داد حاصل کی ہے۔ درحقیقت میں نے بھارت میں جہاں پانی کی کمی پائی جاتی ہے، اسرائیل کی خاص طور پر پانی سے متعلق استعداد کو سراہا ہے۔
دوستو!
بھارت میں چھوٹی اور بہت چھوٹی سطح پر تین سال سے لگاتار اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ فرق کو نمایاں طور پر محسوس کیا جاسکے۔ ہمار انعرہ ہے: اصلاح ، کارکردگی اور کایا پلٹ۔
نتیجہ دوگنا ہے ۔ ایک طرف ہمارے طریقہ کار ، لائحہ عمل اور نظام دنیا میں بہترین طریقے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہم نے تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھاہوا ہے۔
گہری ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے باوجود ہم سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہیں۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی آمد ، ابھی تک سب سے زیادہ ہوئی ہے،جس میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں میں ہنر پیدا کرنے اور انہیں روزگار دینے کے لیے زبردست کام کیا جارہا ہے۔ ہماری آبادی کا 65 فیصد حصہ 35 سال سے کم عمر کا ہے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے کی جانے والی ترقی کا منتظر ہے ۔
یہی ہمارا سب سے بڑا موقع ہے اور چیلنج ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے اسٹارٹ- اپ انڈیا مہم شروع کی ہے۔ اس میدان میں بھارت- اسرائیل شراکت داری کے لیے زبردست صلاحیت موجودہ ہے۔ بھارت- اسرائیل اختراعی رابطہ، دونوں ملکوں کے اسٹارٹ- اپ کے درمیان ایک رابطے کا کام کرے گا۔ میں یہ بات کہتا رہا ہوں کہ بھارتی صنعتوں ، اسٹارٹ اپ اور تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ حصہ داری کریں۔ تاکہ معلومات کے ایک بڑے خزانے تک رسائی حاصل کی جاسکے۔
بہت سےایسے نت نئے نظریات اور ٹیکنالوجیزہیں، جو بھارت میں تجارتی سطح پر فائدے مند ہوسکتے ہیں۔
دوستو!
آج ہم مصنوعات سازی کے سب سے بڑے ملکوں کے طور پر ابھر چکے ہیں، لیکن ہم نے ابھی تک اس کی تکمیل نہیں کی ہے۔ ہم بھارت کو اپنے نوجوانوں کی توانائی کو بروئے کار لاکر مصنوعات سازی کا عالمی مرکز بنارہے ہیں۔
میک ان انڈیا قدم،اسی لیے تیار کیا گیا ہے کہ یہ کامیابی حاصل کی جاسکے۔ ایک باقاعدہ معیشت کے نئے ماحولیاتی نظام اور ایک متحدہ ٹیکس نظام کے ساتھ ساتھ ان اقدامات کے ذریعے ہم ایک نئے بھارتی کی تعمیر کی کوشش کررہے ہیں۔
ہم بھارت کو معلومات کی بنیاد والا، ہنرمندی کی حمایت والا اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر قائم ایک سماج کے طور پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا اور اسکل انڈیا کے ذریعے ہم نے اس کام کا آغاز کردیا ہے۔ مائی گورنمنٹ کے ذریعے خاطر خواہ اصلاحات کی گئی ہیں۔
تجارت اور کمپنیوں کو درپیش بہت سے ضابطہ جاتی اور پالیسی سے متعلق معاملات حل کرلئے گئے ہیں۔ ہم نے بھارت میں تجارت کو آسان بنانے کے سلسلے میں بڑی سنجیدگی سے کام کیا ہے۔
نتائج سامنے ہیں:
ہم مزید کافی کچھ اور کافی بہتر کرنا چاہتے ہیں ۔
اثاثے اور ٹیکنالوجی کی آمد کے لیے دفاع سمیت زیادہ تر شعبوں کو ایف ڈی آئی کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ایف ڈی آئی کی 90 فیصدسےزیادہ منظوریوں کو خودکار طریقہ کار میں شامل کرلیا گیا ہے۔
ہم اب سب سے زیادہ کھلی معیشتوں میں شامل ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ہم نے واحد کمپنی کی خوردہ فروخت میں اور تعمیراتی سرگرمیوں میں ایف ڈی آئی کو خود بخود 100 فیصد میں شامل کیے جانے کو منظوری دی ہے۔ہم نے اپنی قومی ہوائی کمپنی ائیر انڈیا کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھول دیا ہے۔
ہم بھارت میں تجارت کو ہر روز آسان بنارہے ہیں۔ ٹیکس کے معاملے میں ہم نے بہت سی تاریخی اصلاحات کی ہیں۔ ڈگر سے ہٹ کر جی ایس ٹی اصلاح کا نفاذ بڑی کامیابی اور بلا کسی رکاوٹ کے کردیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی، مالی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل لین دین کے آغاز کے ساتھ ہی ہم ٹیکس کے جدید نظام کی طرف صحیح معنوں میں رجوع ہوگئے ہیں، جو شفاف بھی ہے اور مستحکم بھی ہے اور جس کا اندازہ پہلے سے لگایا بھی جاسکتا ہے۔
دوستو!
میک ان انڈیا کے یے بہت سی اسرائیلی کمپنیوں نے ہاتھ بڑھایا ہے۔ بہت سی دیگر کمپنیوں نے خاص طور پر جن کا تعلق جدید ترین آبی ٹیکنالوجی اور زرعی تکنیک، دفاع اور حٖفاظتی نظام اور دوا سازی معلومات سے ہے، بھارت میں قدم رکھا ہے۔ اسی طرح اسرائیل میں بھی آئی ٹی، سینچائی اور دواسازی جیسےبہت سے شعبوں میں بھارتی کمپنیوں کی موجودگی بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ہماری تجارت میں ہیرے کا ایک خاص مقام ہے۔ آج تجارت کے مشترکہ پروجیکٹوں میں پہلے سے زیادہ مواقع ہیں۔ البتہ یہ محض آغاز ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ہماری تجارت 5 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔
لیکن یہ اصل صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ ہمیں اپنے تعلقا ت کی مکمل گنجائشوں کو استعمال کرنا چاہئے۔ یہ تعلقات محض سفارتی نوعیت کے ہی نہیں، بلکہ اقتصادی نوعیت کے بھی ہونے چاہئیں۔ ہم اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو کیسے بروئے کار لائیں، اس سلسلے میں آپ نے جو مشورے دئیے ہیں ، میں ان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔اختراع، نئی چیزوں کو اختیار کرنا اور مسائل کو حل کرنا، یہ جذبہ دونوں ملکوں کے مزاج میں شامل ہے۔
میں اس کی محض ایک مثال پیش کرتا ہوں۔
اگر ہم کچرے کو کام میں لانے اور اگر ہم اپنے پھلوں، سبزیوں اور باغبانی کو زیادہ قابل قدر بنانے میں شراکت کریں تو تصور کیجئے کہ ہمیں ماحولیاتی اور اقتصادی طور پر کتنا فائدہ ہوگا۔
ہمارے یہاں پانی کی زبردست قلت ہے۔ ہمیں ایسی بھی صورتحال کا سامنا ہے کہ جب ہم کھانے کو پھینک دیتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ یہاں بھوکے بھی رہتے ہیں۔
دوستو!
بھارت کا ترقی کا ایجنڈہ بہت وسیع ہے۔ اسرائیلی کمپنیوں کے لیے اس میں بہت سے اقتصادی مواقع موجود ہیں۔ میں زیادہ سے زیادہ اسرائیلی عوام تاجروں اور کمپنیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھارت آئیں اور کام کریں۔
بھارت کی حکومت اور عوام اور تجارتی برادری ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔ میں آپ کی کمپنیوں اور پروجیکٹوں کے لیے ہر طرح کی کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ میں آپ کو اپنی حمایت کا یقین دلاتا ہوں اور یہ کہ میری حکومت جہاں بھی کہیں ضرورت ہوگی آپ کا ساتھ دے گی۔ اور میں بھارت- اسرائیل تجارت اور اقتصادی اشتراک کو رفتار دینے میں وزیراعظم نتن یاہو کاان کی لگاتار حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہماری شراکت داری میں بہت سی کامیابیاں مضمر ہیں۔
شکریہ
***********
U – 317
I have always had a deep regard for Israel and its people. I visited Israel in 2006 as CM of Gujarat. Last year in July, I visited Israel, the first such visit from India. I experienced the remarkable spirit of innovation, enterprise and perseverance that drives Israel: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 15, 2018
There is new energy and purpose that has invigorated our ties over the last few years. It will help take our cooperation to greater heights. We stand on the cusp of a new chapter in India-Israel relations driven by our people & mutual opportunities for betterment of lives: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 15, 2018
In India, we have been taking steady steps over three years at both macro as well as micro-level, to make a difference. Our motto is: Reform, Perform and Transform: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) January 15, 2018
The India-Israel Innovation Bridge will act as a link between the Start-ups of the two sides. I have been saying that Indian Industries, start-ups and the academic institutions must collaborate with their Israeli counterparts to access the huge reservoir of knowledge: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 15, 2018
We want to do more and do better. To enable entry of capital and technology, most of the sectors including defence, have been opened for FDI. More than 90 percent of the FDI approvals have been put on automatic route. We are now among the most open economies: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 15, 2018
India’s development agenda is huge. It presents a vast economic opportunity for Israeli companies. I invite more and more Israeli people, businesses and companies to come and work in India. Along with Govt & people, the business community of India too is keen to join hands: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 15, 2018