Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

بھارت اورکینڈاکے مابین تحقیق عمدگی اورصنعتی تعلیمی اشتراک پرمرکوز شراکت داری سے متعلق مفاہمتی عرضداشت کو منظوری


نئی دہلی ،05؍اپریل : مرکزی کابینہ کو وزیراعظم ، جناب نریندرمودی کی قیادت میں بھارت اورکینڈا کے مابین 21فروری ، 2018کو نئی دہلی میں دستخط کی گئی، اس مفاہمتی عرضداشت سے واقف کرایا گیا، جس کا تعلق کینڈاکے ساتھ  باہمی افہام وتفہیم کو فروغ دینے سے ہے ۔

          اس مفاہمتی عرضداشت کا مقصد بھارت اورکینڈا کے مابین تحقیقی  وتعلیمی اشتراک میں عمدگی پرمرکوز سرحدپارکی اس شراکت داری کو فروغ دینا ہے ،جس کے توسط سے دونوں ممالک کے  مابین جدت طرازی پرمبنی فوائد ساجھا کئے جاسکیں گے ۔

          ٹیلنٹ موبلیٹی کے توسط سے اشتراک کو فروغ دینا اس شراکت داری کی کلید ہے ۔ اس مفاہمتی عرضداشت کے توسط سے بھارت اور کینڈا کے محققین گریجویٹ سطح کی تعلیمی تحقیق موبلیٹی اورسرحدپارسے ایک دوسرے کے ملک میں صنعت پر مبنی تعلیمی تعاون کے شعبے میں کام کرسکیں گے ۔ گریجویٹ سطح کی تعلیمی تحقیقی موبلیٹی پروگرام کے تحت طرفین کا ارادہ یہ ہے کہ 110ماسٹرس اور پی ایچ ڈی طلبامحققین کو سائنس ، تکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں بھارت میں مستحق یونیورسٹیوں کے تحت تین برسوں کی مدت کے لئے تعاون فراہم کیاجائے تاکہ یہ محققین 12سے 24ہفتوں کی مدت کے دوران کینڈا یونیورسٹی میں تحقیقی تجربہ گاہوں میں شریک ہوکر استفادہ کرسکیں ۔ کینڈا کی یونیورسٹیوں کے اتنے ہی تعداد کے طلبأ یہاں آکر12سے 24ہفتوں کے تحقیقی تجربہ گاہوں کے پروگراموں میں حصہ لیں گے،جو بھارتی یونیورسٹیوں کے تحت منعقد کرائے جائیں گے ۔ سرحد پار کے صنعتی ۔تعلیمی تعاون کے تحت 40ماسٹرس اور پی ایچ ڈی سطح کے طالب علم محققین تین برسوں میں طرفین کی جانب سے 16سے 24ہفتوں کے تحقیقی پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ دونوں طرف کے صنعتی شرکائے کار اپنی جانب سے اس کام میں تعاون کریں گے ۔

          توقع کی جاتی ہے کہ اس اشتراک سے نئے علم کا راستہ ہموار ہوگا ، مشترکہ سائنٹفک اشاعتیں ممکن ہوسکیں گی ۔ صنعتی تعارف بڑھے گا ، صنعتی پیداوارمیں اضافہ ہوگا اوراس مفاہمتی عرضداشت کے ذریعہ کینڈا کے ساتھ سائنس ، تکنالوجی اورجدت طرازی پرمبنی تعاون میں اضافہ ہوگا۔

***************

 (م ن ۔ ع آ۔820105.04.)

U-1926