Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

بھارت کے خلائی پروگرام کو تقویت


 

نئی دہلی، 28دسمبر / مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی aکی قیادت میں  گگن یان پروگرام کو اپنی منظوری دے دی ہے ۔ اس کے تحت  بھارت میں  خلاء نورد بردار خلائی پرواز کی صلاحیت کرۂ ارض کے  قریب ترین مدار میں   کی جائے گی اور یہ پرواز  ایک مداری مدت  یا کم سے کم سات دنوں کے لئے  انجام دی جائے گی  ، جس کا ایک با قاعدہ مشن ہو گا ۔ ایک جی ایس ایل وی ایم کے III ہیومن ریٹیڈ  سیارچے کا استعمال  مداری موڈیول کے لئے کیا جائے گا ، جس میں   3 رکنی عملے کو  لے جانے کی صلاحیت ہو گی ، جو پورے مشن کی مدت پر احاطہ کرے گا ۔   مذکورہ عملے  کی تربیت  کے لئے ضروری بنیادی  ڈھانچہ ،  پرواز کے نظام کو حقیقی شکل میں بدلنے کے لئے ساز و سامان اور زمینی بنیادی ڈھانچہ باقاعدہ طور پر قائم کیا جائے گا تاکہ گگن یان پروگرام کو تقویت پہنچائی جا سکے ۔ اسرو  وسیع پیمانے پر   قومی ایجنسیوں ، تجربہ گاہوں ،  دانشوروں اور صنعت کی دنیا سے اشتراک قائم کرے گا تاکہ گگن یان پروگرام کے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے ۔

اخراجات :

          گگن یان پروگرام کے لئے درکار کلی سرمایہ  10000 کروڑ روپئے کے بقدر کا ہے  اور اس میں  ٹیکنا لوجی ترقیات کی لاگت  ، پرواز کے لئے درکار  ہارڈ ویئر کا حصول اور لازمی بنیادی ڈھانچہ عناصر شامل ہیں ۔  دو  غیر خلاء نوردوں پر مشتمل  پروازیں اور ایک خلاء نورد بردار پرواز اِس گگن یان پروگرام کا حصہ ہو گی ۔

فوائد :

  • گگن یان پروگرام اسرو  ، تعلیمی برداری ، صنعت اور قومی ایجنسیوں  نیز دیگر سائنٹفک تنظیموں کے ساتھ اشتراک کے لئے ایک وسیع  فریم ورک تشکیل دے گا ۔
  • گونا گوں ٹیکنا لوجی اور صنعتی صلاحیتوں کے سلسلے میں  وسائل بہم پہنچائے گا اور  تحقیقی مواقع  اور ٹیکنا لوجی ترقیات کے کام میں  وسیع شراکت کو یقینی بنائے گا اور اس کے ذریعے بڑی تعداد میں طلبا اور محققین کو فائدہ  ہو گا ۔
  • پرواز کے نظام کو صنعت کے توسط سے عملی جامہ پہنایا جائے گا ۔
  • توقع کی جاتی ہے کہ  ترقی یافتہ ٹیکنا لوجیوں میں  روز گار فراہم ہو گا  اور انسانی وسائل کی تربیت بھی ہو گی ۔
  • یہ بڑی تعداد میں نو جوان طلبا کو سائنس اور ٹیکنا لوجی کو قومی ترقیات کے لئے اپنانے کی ترغیب فراہم کرے گا ۔
  • گگن یان پروگرام ایک قومی کوشش ہے اور اس میں صنعت ، تعلیمی برادری ، قومی ایجنسیوں کی شرکت ہو گی ، جو ملک کے طول و ارض میں پھیلی ہوئی ہیں ۔

 

نفاذ کی حکمتِ عملی اور نشانے

          گگن یان پروگرام صنعت ، تعلیمی برداری اور دیگر سائنٹفک ایجنسیوں اور تجربہ گاہوں کے اشتراک سے چلائی جانے والی ایک قومی کوشش ہو گی چونکہ اسرو کے ساتھ یہ تمام ادارے  بطور شریکِ کار شامل ہوں گے ،  اسرو پرواز کے لئے درکار ہارڈ ویئر کو صنعت کے توسط سے حاصل کرے گا  ۔ قومی ایجنسیاں ، تجربہ گاہیں اور  تعلیمی برادری  ، عملے کی تربیت  ، انسانی لائف سائنس ٹیکنا لوجی ترقیات اقدامات  میں اشتراک کرے گی اور  نظر ثانی  کا کام بھی انجام دے گی ۔  خلا ء نورد بردار اولین خلائی پرواز  کا مظاہرہ اِس منظوری سے 40 مہینوں کی مدت کے اندر  انجام دینے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل دو غیر  خلاء نورد بردار  پروازیں انجام دی جائیں گی تاکہ اعتماد حاصل کیا جا سکے یعنی جو ٹیکنا لوجی استعمال میں آنی ہے ، اُس کی معتبریت   ثابت ہو سکے اور مشن انتظام کے دیگر پہلو کے سلسلے میں بھی اطمینان حاصل کیا جا سکے ۔

اثرات

  • اس پروگرام سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ پروگرام مخصوص سائنس و ٹیکنا لوجی کے دائرۂ کار میں تحقیق و ترقیات کو فروغ دے گا ۔ 
  • ٹیکنا لوجی سے متعلق  زبردست مضمرات ، جو  ادویہ ، زراعت ، صنعتی سلامتی ،  کثافت ، فضلہ انتظام ، آبی اور خوردنی وسائل انتظام وغیرہ کے لئے درکار ہیں ، اُن میں ٹیکنا لوجی کا استعمال  کیا جا سکے گا ۔
  • خلاء نورد بردار خلائی پرواز پروگرام   خلاء میں  ایک منفرد   مجموعی ثقل  پلیٹ فارم  فراہم کرے گا  ، جہاں تجربات کئے جا سکیں گے اور مستقبل کی ٹیکنا لوجیوں کو بھی پرکھا جا سکے گا ۔
  • پروگرام سے توقع کی  جاتی ہے کہ یہ پروگرام روز گار کی فراہمی ، انسانی وسائل ترقیات اور افزوں صنعتی صلاحیتوں کے سلسلے میں ملک کے اندر اقتصادی سرگرمیوں کو مہمیز کرے گا ۔
  • خلاء نورد بردار خلائی پرواز صلاحیت بھارت کو   مستقبل میں  عالمی خلائی  کھوج اور تلاش اقدامات میں اشتراک کرنے کے لائق بنائے گی ، جس سے طویل المدت قومی  فوائد حاصل ہوں گے ۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

U. No. 6511