پی ایم انڈیا
وزیرِ اعظم: آپ نے ایک نئے شعبے میں قدم رکھنے کا حوصلہ دکھایا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے حکومت کی بات پر اعتماد کیا۔ میرا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں، اس پر مستقل مزاجی سے قائم رہیں اور بار بار اس میں تبدیلی نہ کریں، تاکہ اگر کوئی شخص خطرہ مول لینا چاہتا ہے تو اسے یہ اعتماد حاصل ہو کہ اگر میری اپنی غلطی سے کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے تو وہ الگ بات ہے، لیکن حکومت مشکل وقت میں میرا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔ ہمارا مقصد یہی اعتماد پیدا کرنا تھا۔
چیف ایگزیکٹو افسر: ہم بھارت کی خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے کی پہلی اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی کمپنی ہیں۔ ابھی 18 جولائی کو ہم نے بھارت کا پہلا نجی راکٹ کامیابی کے ساتھ مصنوعی سیاروں کو خلا میں پہنچا کر روانہ کیا ہے۔ اور یہ تو محض آغاز ہے۔ ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ یہ اسکائی روٹ کے لیے ابھی صرف ابتدائی تیاری ہے۔ اگلے سال کے وسط تک ہمارا ہدف ہر ماہ ایک راکٹ کی لانچنگ کرنا ہے۔ اور سر، شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنے پر آپ کا بہت شکریہ۔
ہم پہلے ہی تین کارخانے قائم کر چکے ہیں اور ہمارے پاس ہر ماہ ایک راکٹ تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ تو ابھی صرف آغاز ہے۔ مستقبل کا ہمارا خواب یہ ہے کہ ہر ہفتے ایک راکٹ لانچ کیا جائے اور بالآخر روزانہ کئی راکٹ لانچ کیے جائیں۔
چیف ایگزیکٹو افسر: ہم نے ایک ایسا انجن تیار کیا ہے جو دنیا کے جدید ترین انجنوں میں شمار ہوتا ہے۔ سر، ہم نے اسے ابھی تیار کیا ہے اور اس کی آزمائش جاری ہے۔
وزیرِ اعظم: ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے؟ سرمایہ کاروں کا کیا حال ہے؟
چیف ایگزیکٹو افسر: سر، اسکائی روٹ کی پہلی کامیاب لانچنگ کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بہت بڑھ گیا ہے۔
وزیرِ اعظم: اچھا۔ وہ کامیابی آپ کے لیے مفید ثابت ہو رہی ہے؟
چیف ایگزیکٹو افسر: جی سر، اس سے ہمیں بہت فائدہ ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم: اب تو دنیا بھارت کی نئی کمپنیوں کو تلاش کرتی ہوگی کہ آخر اس شعبے میں کون کون ہے؟ کیونکہ جب کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو فوراً لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول ہو جاتی ہے۔
چیف ایگزیکٹو افسر: میرا خیال ہے کہ خلائی شعبہ نجی اداروں کے لیے کھولے جانے کے بعد ہم نے ایک بہت اچھا رجحان دیکھا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں مقیم ہمارے بہت سے شہری واپس آ کر ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔
وزیرِ اعظم: ہمیں بہت سے لوگوں کو اس شعبے سے جوڑنا ہے۔ جیسا کہ مہتا نے کہا کہ بیرونِ ملک گئے ہوئے لوگ اب واپس آ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں ایسا ماحول اور کشش پیدا کرنی چاہیے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو محسوس ہو کہ اگر زندگی میں کچھ بڑا کرنا ہے تو بھارت جاؤ۔ کسی بھارتی نئی کمپنی سے وابستہ ہو جاؤ۔ بھارت کی کسی خلائی ایجنسی سے وابستہ ہو جاؤ۔
مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کی بدولت ہم دنیا بھر کے مکمل مستعد اور باصلاحیت انسانی وسائل کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑی طاقت بن سکتی ہے۔
چیف ایگزیکٹو افسر: ہمارا ویژن ہے کہ اگلے 18 ماہ میں ہم دنیا بھر میں گراؤنڈ اسٹیشنز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کرنا چاہتے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو افسر: ہم وہ انجن تیار کرتے ہیں جو مصنوعی سیاروں کو خلا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ انجن مصنوعی سیاروں کو 5 سال یا 15 سال تک خلا میں حرکت دینے میں مدد دیتے ہیں۔ ہمیں عالمی سطح پر بہت اچھا ردِعمل اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس میں آپ کی کوششوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے کہ بھارتی کمپنیوں کو اب اپنی مصنوعات بیرونِ ملک برآمد کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے تعاون حاصل ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم: لاگت کے اعتبار سے ہم بہت مسابقتی ہیں، صلاحیت اور ہنرمندی کے معاملے میں تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت بھی ہمارے ملک کے لوگوں میں ویسے ہی زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے ہم بہت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو افسر: یہ روبوٹک خلائی جہاز خلا میں جائے گا، ناکارہ مصنوعی سیارے کو جسمانی طور پر اپنی گرفت میں لے گا اور اسے مدار سے باہر نکال دے گا۔
چیف ایگزیکٹو افسر: ہم بھارت کی پہلی کمپنی ہیں جو خلائی جہازوں کی ڈاکنگ اور خلا میں ایندھن بھرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد خلا میں ایک ایندھن اسٹیشن قائم کرنا ہے۔
چیف ایگزیکٹو افسر: میرا نام انترکش ہے اور میری شریک بانی مونیکا بھی یہاں موجود ہیں۔ سر، ہم بھارت کا پہلا خلائی دواسازی کا نیا ادارہ ہیں۔ ہم ایسے مصنوعی سیارے تیار کر رہے ہیں جو خلا میں جا کر ادویات تیار کر سکیں اور انہیں دوبارہ خلا سے زمین پر واپس لا سکیں۔
وزیرِ اعظم: آپ کا نام انترکش رکھا گیا ہے، کیا آپ کے خاندان میں پہلے سے کوئی اس شعبے سے وابستہ تھا؟
چیف ایگزیکٹو افسر: جی سر، نہیں۔ یہ نام میری والدہ نے رکھا تھا۔
چیف ایگزیکٹو افسر: ایک لانچ کے بعد گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہمیں آٹھ لانچ کے معاہدے ملے ہیں۔
وزیرِ اعظم: اچھا، اچھا۔
چیف ایگزیکٹو افسر: اور ان میں زیادہ تر بین الاقوامی معاہدے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو افسر: سر، فی الحال ہمارا منصوبہ ہے کہ 10 لاکھ کسانوں کے ساتھ مل کر اس اختراع کو عملی طور پر متعارف کرایا جائے۔
چیف ایگزیکٹو افسر: سر، یہ آپ کے لیے ہے، تاکہ یہ آپ کے لیے ایک یادگار کے طور پر رہے۔
وزیرِ اعظم: واہ!
چیف ایگزیکٹو افسر: نجی شعبے کے لیے جو راستہ آپ نے کھولا، اس کے نتیجے میں جو نجی مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے جا رہے ہیں، ان کے ذریعے بھارت کی خوبصورتی اور ترقی کی جو تصویر سامنے آ رہی ہے، وہ قابلِ دید ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2490
Met India’s brightest space StartUps.
— Narendra Modi (@narendramodi) August 23, 2026
As always, came away impressed by their energy and ambition.
You would love their insights and optimism.
Do tell me...what excites you most about India’s space journey? #NationalSpaceDay pic.twitter.com/d1pDC0UZ6p