Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

دولت مشترکہ کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران کی 28ویں کانفرنس کے موقع پر وزیرِ اعظم کے خطاب کا متن

دولت مشترکہ کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران کی 28ویں کانفرنس کے موقع پر وزیرِ اعظم کے خطاب کا متن


لوک سبھا کے اسپیکر معززجناب اوم برلا جی، راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین جناب ہری ونش جی، انٹر پارلیامنٹری یونین کی صدر محترمہ تُلیا ایکسن جی، کامن ویلتھ پارلیامنٹری ایسوسی ایشن کے صدر جناب کرسٹوفر کلیلا جی، کامن ویلتھ ممالک سے تشریف لائے ہوئے اسپیکرز، پریزائیڈنگ افسران ، دیگر معزز مندوبین، معزز خواتین و حضرات!

دوستوں!

پارلیمانی جمہوریت میں آپ کا کردار اسپیکر کا ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیکر کو خود زیادہ بولنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کا کام دوسروں کی بات سننا اور یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ سب کو بولنے کا موقع ملے۔ اسپیکرز کی ایک مشترکہ خوبی ان کا صبر و تحمل ہوتا ہے۔ وہ شور شرابہ کرنے والے اور بے حد جوشیلے اراکین کو بھی مسکراہٹ کے ساتھ سنبھالتے ہیں۔

دوستوں!

اس خصوصی موقع پر میں آپ سب کا پُرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج آپ کی موجودگی ہمارے لیے باعثِ فخرہے۔

دوستوں!

جس مقام پر آپ سب اس وقت تشریف فرما ہیں، وہ بھارت کے جمہوری سفر کا نہایت اہم مقام ہے۔ غلامی کے آخری برسوں میں، جب بھارت کی آزادی یقینی ہو چکی تھی، اس وقت اسی سینٹرل ہال میں بھارت کے آئین کی ترتیب کے لیے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس منعقد ہوئے تھے۔بھارت کی  آزادی کے بعد 75 برس تک یہ عمارت بھارت کی پارلیمنٹ رہی اور اسی ہال میں بھارت کے مستقبل سے متعلق بے شمار اہم فیصلے اور مباحثے ہوئے۔ اب جمہوریت کے نام وقف اس مقام کو بھارت نے “سمویدھان  سدن” کا نام دیا ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل بھارت کے آئین کے نفاذ کے 75 برس مکمل ہوئے ہیں۔ اس آئین سدن میں آپ تمام معزز مہمانوں کی آمد، بھارت کی جمہوریت کے لیے نہایت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

ساتھیوں!

یہ چوتھا موقع ہے، جب کامن ویلتھ کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کی کانفرنس بھارت میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس مرتبہ اس کانفرنس کااہم موضوع ہے:  ‘پارلیمانی جمہوریت کی مؤثر فراہمی’ ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ جب بھارت آزاد ہوا، تو اس دور میں یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ اتنی زیادہ گوناگونیت کے ساتھ بھارت میں جمہوریت قائم نہیں رہ سکے گی۔ لیکن بھارت نے اسی گوناگونیت کو اپنی جمہوریت کی طاقت بنا دیا۔ ایک اور بڑا خدشہ یہ بھی تھا کہ اگر بھارت میں جمہوریت کسی طرح قائم بھی رہ گئی، تو وہ ترقی نہیں کر پائے گا۔ مگر بھارت نے یہ ثابت کر دیا کہ جمہوری ادارے اور جمہوری عمل، جمہوریت کو استحکام، رفتار اور وسعت—تینوں فراہم کرتے ہیں۔آج بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ آج بھارت میں یو پی آئی دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی نظام ہے۔ آج بھارت دنیا کا سب سے بڑا ویکسین تیار کرنے والا ملک ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ آج بھارت میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم موجود ہے۔ آج بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی ہوا بازی مارکیٹ ہے۔ آج بھارت کے پاس دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریلوے نیٹ ورک ہے۔ آج بھارت میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا میٹرو ریل نیٹ ورک ہے۔ آج بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے، اور دنیا میں چاول کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر ہے۔

 دوستوں!

بھارت میں جمہوریت کا مطلب ہے  صفِ آخر تک خدمات کی مؤثر فراہمی ۔ ہم عوامی فلاح کے جذبے کے تحت، ہر شخص کے لیے بغیر کسی امتیاز کے کام کر رہے ہیں۔ اسی عوامی فلاحی سوچ کے سبب گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں  25 کروڑ افراد غربت سے باہر نکلے ہیں ۔

 بھارت میں جمہوریت نتائج دیتی ہے ۔

 ساتھیوں!

بھارت میں جمہوریت اس لیے نتائج دیتی ہے، کیونکہ ہمارے ملک میں اور بھارت میں ملک کے عوام  ہی سب سے اعلیٰ ہے ۔ ہم نے عوام کی امنگوں اور خوابوں کو اولین ترجیح دی ہے۔ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، اس کے لیے ہم نے عمل سے لے کر ٹیکنالوجی تک ہر چیز کو جمہوری بنایا ہے۔ یہی جمہوریت ہماری نسوں میں ہے ، ہمارے ذہن میں اور ہمارے اقدار میں رچی بسی ہے۔میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ چند سال قبل پوری دنیا کورونا کی وبا سے نبرد آزما تھی۔ بھارت میں بھی بحران کم نہیں تھا، لیکن ان مشکلات کے باوجود بھارت نے  150 سے زائد ممالک  کو ادویات اور ویکسین فراہم کیں۔ عوام کا مفاد، عوام کی بھلائی اور ان کی فلاح—یہ ہماری تہذیبی اقدار ہیں اور یہ اقدار ہمیں ہماری جمہوریت نے عطا کئے ہیں ۔

 دوستوں!

آپ میں سے بہت سے لوگ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر جانتے ہیں اور واقعی ہماری جمہوریت کا پیمانہ غیر معمولی ہے۔  2024 کے عام انتخابات  انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جمہوری مشق تھے۔ تقریباً  98 کروڑ شہری  ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ تھے—یہ تعداد بعض براعظموں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔  آٹھ ہزار سے زائد امیدوار  اور  سات سو سے زیادہ سیاسی جماعتیں  اس عمل میں شامل تھیں۔ ان انتخابات میں خواتین ووٹرز کی شرکت بھی ریکارڈ سطح پر رہی۔

آج بھارتی خواتین نہ صرف حصہ لے رہی ہیں بلکہ قیادت بھی کر رہی ہیں۔ بھارت کی صدرِ جمہوریہ، یعنی ملک کی اولین شہری، ایک خاتون ہیں۔ دہلی، جہاں ہم اس وقت موجود ہیں، کی وزیرِ اعلیٰ بھی ایک خاتون ہیں۔ دیہی اور مقامی حکومتی اداروں میں بھارت میں  تقریباً 15 لاکھ منتخب خواتین نمائندے  ہیں، جو بنیادی سطح پر تقریباً  50 فیصد قیادت  کی نمائندگی کرتی ہیں—جو عالمی سطح پر ایک منفرد مثال ہے۔بھارتی جمہوریت گوناگونیت سے بھرپور ہے۔ یہاں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں، 900 سے زائد ٹی وی چینلز  مختلف زبانوں میں نشریات کرتے ہیں، اور ہزاروں اخبارات و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ بہت کم معاشرے اس پیمانے پر گوناگونیت کو سنبھال پاتے ہیں۔ بھارت اس گوناگونیت کا جشن مناتا ہے، کیونکہ ہماری جمہوریت کی بنیاد نہایت مضبوط ہے۔ ہماری جمہوریت ایک گھنے درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ہمیں مباحثے، مکالمے اور اجتماعی فیصلہ سازی کی طویل روایت حاصل ہے۔ بھارت کو مادرِ جمہوریت کہا جاتا ہے۔ ہمارے مقدس متن، وید، پانچ ہزار سال سے زائد قدیم ہیں، جن میں ایسے اجتماعات کا ذکر ملتا ہے جہاں عوام مسائل پر گفتگو ہوتی تھی اور اتفاقِ رائے سے فیصلے ہوتے تھے۔ ہم بھگوان بدھ کی سرزمین ہیں، جہاں بدھ سنگھ میں منظم اور کھلے مباحث ہوتے تھے، اور فیصلے اتفاقِ رائے یا رائے دہی سے کیے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ ، بھارتی ریاست تمل ناڈو کی  دسویں صدی  کے ایک کتبے میں ایک گاؤں کے اجتماع کا ذکر ملتا ہے جو جمہوری اقدار کے تحت کام کرتاتھااور جہاں ذمہ داری طے کرنے اور فیصلہ سازی کے واضح اصول موجود تھے۔ ہماری جمہوری قدریں وقت کی کسوٹی پر پوری اتری ہیں، گوناگونیت سے مضبوط ہوئی ہیں اور نسل در نسل مزید مستحکم ہوتی گئی ہیں۔

 دوستوں!

دولت مشترکہ کی مجموعی آبادی کا تقریباً 50 فیصد حصہ بھارت میں رہتا ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ بھارت، تمام ممالک کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ تعاون کرے۔ کامن ویلتھ کے  پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت صحت، موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی ترقی اور اختراع  کے شعبوں میں ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے وعدے نبھا رہے ہیں۔بھارت آپ سبھی ممالک سے مسلسل سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اور ہماری یہ بھی خواہش رہتی ہے کہ بھارت کے تجربات دیگر کامن ویلتھ شراکت داروں کے لیے مفید ثابت ہوں۔

 دوستوں!

آج جب دنیا غیر معمولی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، یہ وقت  خطہ جنوب کے ترقی پذیر ممالک کے لیے نئے راستے تلاش کررہا ہے ۔ بھارت ہر عالمی پلیٹ فارم پر خطہ جنوب کے ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو پوری مضبوطی سے اٹھا رہا ہے۔ اپنی  جی-ٹوئنٹی صدارت  کے دوران بھی بھارت نے خطہ جنوب کے ترقی پذیر ممالک کے خدشات کو عالمی ایجنڈے کے مرکز میں رکھا۔بھارت کی مسلسل کوشش ہے کہ ہماری اختراعات سے پورے خطہ جنوب کے ترقی پذیر ممالک اور دولت مشترکہ ممالک کو فائدہ پہنچے۔ ہم  اوپن سورس ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز  بھی تیار کر رہے ہیں، تاکہ خطہ جنوب کے شراکت دار ممالک اپنے یہاں بھارت جیسی مؤثر نظام سازی کر سکیں۔

 دوستوں!

اس کانفرنس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ مختلف طریقوں سے  پارلیمانی جمہوریت  کے علم اور فہم کو فروغ دیا جائے۔ اس میں اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران دونوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ عوام کو جمہوری عمل میں زیادہ فعال شراکت دار بنانے کا کام ہے۔بھارت کی پارلیمنٹ پہلے ہی اس سمت میں کام کر رہی ہے۔  اسٹڈی ٹورز، حسبِ ضرورت تربیتی پروگرامز اور انٹرن شپس  کے ذریعے عوام کو پارلیمنٹ کو قریب سے جاننے کا موقع دیا گیا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ میں  مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی مدد سے مباحثوں اور کارروائی کو  ریئل ٹائم میں علاقائی زبانوں  میں ترجمہ کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ پارلیمانی وسائل کو بھی اے آئی کے ذریعے استعمال کرنے والوں کے لیے زیادہ آسان بنایا جا رہا ہے، جس سے ہماری نوجوان نسل کو پارلیمنٹ کو سمجھنے کے بہتر مواقع مل رہے ہیں۔

 دوستوں!

اب تک مجھے آپ کی تنظیم سے وابستہ  20 سے زائد رکن ممالک  کے دورے کا موقع ملا ہے اور کئی پارلیمنٹس سے خطاب کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔ جہاں بھی گیا، مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ میں اپنے تجربات اور بہترین عملی مثالیں  فوراً لوک سبھا کے معزز اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے ساتھ شیئر کرتا رہا ہوں۔مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کانفرنس سیکھنے اور سکھانے کے اس عمل کو مزید مضبوط اور ثمرآور بنائے گی۔ اسی نیک خواہش کے ساتھ، میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔

 شکریہ!

**********

(ش ح ۔ض ر ۔ت ا(

U.No.622