Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

سابق صدر  جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند کی خودنوشت سوانح حیات کےاجراء کے موقع پروزیر اعظم کی تقریر کا متن

PM's speech during release of former President Shri Ram Nath Kovind's autobiography


ہمارے سابق صدر  جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند جی، لوک سبھا کے اسپیکر محترم اوم برلا جی، محترمہ سویتا کووند جی، ہال میں تمام سینئر شخصیات بیٹھی ہیں، سب کا ذکر نہیں کر پاؤں گا، لیکن میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک خاندانی تقریب جیسا لگ رہا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

آج ہمیں جناب رام ناتھ کووند جی کی خود نوشت کے اجراء کا موقع ملا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے بھی اس پروگرام کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ کووند جی سے میرا بہت طویل تعارف رہا ہے، انہیں قریب سے جاننے کا بھی موقع ملا اور صدر کے طور پر ان کی رہنمائی اور اس سب کے ساتھ ساتھ ان کا میرے لیے خاص پیار، ان کی اپنائیت، یہ میرا بہت بڑاسرمایہ رہا ہے۔ میں نے ان کی زندگی کو جتنا سمجھا ہے، ان کی کام کرنے کی صلاحیتوں کو جتنا جانا ہے، میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ جناب رام ناتھ کووند جی کی  آٹو بائیو گرافی  اپنے آپ میں ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہوگی۔ کووند جی کا زندگی کا سفر، معاشرے اور ملک کے لیے ان کا تعاون، ایسا بہت کچھ ہے ،جس کے بارے میں میں تفصیل سے بات کر سکتا ہوں، لیکن کتاب کے اجراء میں صرف ’کرٹن ریزر’ (ابتدائی جھلک) ہی ہونا چاہیے۔ آپ سب کتاب کا پورا فائدہ پڑھ کر ہی حاصل کریں، تو زیادہ بہتر ہے۔

ساتھیو،

کووند جی کے زندگی کے سفر کو آپ ان کے الفاظ میں جانیں، ان کی تحریر کو، ان کے تجربات کو ملک کی نئی نسل پڑھے، اس سے ہر کسی کو کافی کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ میں رام ناتھ کووند جی کو اس سوانح عمری  کے لیے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

کووند جی نے اپنی اس کتاب کو بہت ہی مناسب نام دیا ہے-  ٹریمف آف دی انڈین ریپبلک :مائی لائف، مائی اسٹرگلس (Triumph of the Indian Republic: My Life, My Struggles) کہنے کا مطلب یہ کہ زندگی اور زندگی کی جدوجہد ان کی ذاتی ہیں، لیکن ان جدوجہد کے نتیجے میں ملی جیت، ہندوستان کی جمہوریت کی ہے، ہندوستان کے جمہوری نظام کی ہے۔

ساتھیو،

ہم سب اکثر محسوس کرتے ہیں کہ انسان کی ایک فطرت ہوتی ہے، لوگ اپنی کامیابی کا سہرا خود اپنے سر باندھتے ہیں اور زندگی کی مشکلات کے لیے دشواریوں کے لیے معاشرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن، جب دل بڑا ہو، ہندوستانی تہذیب و ثقافت ہو، تب انسان معاشرے کی خامیاں نکالنے میں وقت ضائع نہیں کرتا، وہ اس کے مثبت پہلو پر توجہ دیتا ہے، وہ اپنی کامیابی میں معاشرے کو برابر کا حصہ دار مانتا ہے۔ کووند جی کی خود نوشت  اور اس کا عنوان اس کی مثالیں ہیں۔ آپ ان کی زندگی دیکھیے، کانپور دیہات میں ایک انتہائی عام خاندان میں ان کی پیدائش ہوئی۔ کووند جی نے ابھی بھی کچھ ذکر کیا اور اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے، کیسے گرمی کے موسم میں ایک دن ان کے گھر میں آگ لگ گئی، ان کی ماں اپنی فکر چھوڑ کر گھر کی چیزوں کو بچا رہی تھیں۔ آخر، ایک عام خاندان میں ماں کے لیے ایک ایک چیز بچوں کی پرورش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اسی کوشش میں آگ میں پھنس کر ان کی والدہ محترمہ کی موت ہو گئی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں چھوٹی سی عمر میں اس طرح کا واقعہ، ماں کو اس طرح کھو دینا،یہ کتنا دردناک رہا ہوگا۔ میں تو خوش قسمت رہا ہوں، میری ماں 100 سال سے بھی زیادہ زندہ رہیں اور مجھے دعائیں دیتی رہیں۔ اس کے باوجود بھی آج بھی میں ماں کی کمی محسوس کرتا ہوں۔

ساتھیو،

ان کی زندگی کا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا، کوئی بھی اس سے ٹوٹ سکتا تھا، لیکن کووند جی کو ان مشکلات نے مضبوط کیا۔ پڑوس کی ایک ماتا نے ان کی پرورش میں مدد کی۔ اس سے انہوں نے معاشرے کی اتحاد اور بھائی چارے کی طاقت کو سمجھا۔ اس واقعے کے بعد کووند جی کی زندگی میں ان کے والد کا رول اور بڑا ہو گیا اور جس طرح سے انہوں نے اپنے خاندان کو سنبھالا، بچوں کو تربیت دی، اسی لیے کووند جی اپنے والد کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

ساتھیو،

بچپن کی ان جدوجہد کے درمیان کووند جی نے تعلیم کو اپنی صلاحیت کو بڑھانے کا راستہ بنایا۔ انہوں نے محنت کی، انہوں نے وسائل کی کمی کو کمزوری نہیں بننے دیااور ایک ایسے مقام تک پہنچے، جس کا اندازہ بھی تب لوگوں نے نہیں لگایا تھا۔ وہ ہندوستان جیسے بڑے ملک کےصدرجمہوریہ بنے۔

ساتھیو،

اتنے بڑے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی کووند جی کی عاجزانہ شخصیت، ان کی سادگی ایسے ہی قائم رہی۔ مجھے یاد ہے وزیر اعظم کے طور پر میں راشٹرپتی بھون میں ان سے ملنے جاتا تھا۔ پروٹوکول کے حساب سے جو باتیں نہیں ہو سکتی ہیں، وہ باتیں وہ کرتے تھے۔ وہ وزیر اعظم کو چھوڑنے کے لیے گاڑی کے دروازے تک آتے تھے۔ میں شروع میں ان سے گزارش کرتا رہتا تھا، پلیز آپ ایسا مت کیجیے، لیکن انہوں نے آخر تک اپنی اس عاجزی کو کبھی نہیں چھوڑا ۔ صدر بننے کے بعد جب وہ اپنے گاؤں پرونکھ گئے، تو انہوں نے وہاں اپنے استادوں کے پیر چھو کر انہیں پرنام کیا۔ گاؤں کی مٹی کو سلام کر کے انہوں نے گاؤں کے عام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ پورے ملک نے وہ جذباتی منظر دیکھا تھا۔ ان کے اس رویے نے دنیا کے سامنے ہندوستان کے اعلیٰ اخلاق کی ایسی تصویر سامنے رکھی، جس پر ہر ہندوستانی فخر کرتا ہے۔

ساتھیو،

غلامی کے سینکڑوں سال میں ہمارے ملک نے معاشی اور سماجی طور پر بہت کچھ کھویا تھا۔ ہمارے آباو اجداد نے صدیوں تک جدوجہد کی۔ مہاتما گاندھی، بابا صاحب امبیڈکر، جیوتی با پھولے، ساوتری بائی پھولے، ایسی کتنی ہی عظیم شخصیات نے ہندوستان کی تعمیر نو کا خواب دیکھا تھا۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں غریب سے غریب، محروم سے محروم کو بلندی تک پہنچنے کا موقع مل سکے۔ کووند جی جیسی شخصیات نے اپنی محنت اور قابلیت سے صرف خود کی زندگی ہی بدلی، اتنا ہی نہیں ہے، انہوں نے صدیوں کے اس خواب کو، اس ویژن کو بھی سچ کرنے میں اپنا اہم رول نبھایا ہے اور اس سمت میں ہم سب کی کوششیں ابھی بھی جاری ہیں۔ ہمیں مستقبل میں کووند جی جیسے بہت سے نوجوان چاہیے، جو پریشانیوں سے ہار نہ مانیں، جو مشکلات کے سامنے مایوس نہ ہوں، بلکہ اپنی محنت سے ہر منزل کو آسان بنانے کا حوصلہ رکھیں۔ اسی تبدیلی سے مضبوط ہندوستان کی تعمیر کا عزم پورا ہوگا۔ یہی سے آتم نربھر  اور وکست بھارت کا راستہ بنے گا۔

ساتھیو،

ایسی نوجوان طاقت کی تعمیر کے لیے جو تحریک چاہیے، کووند جی کی خود نوشت اس کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

ساتھیو،

کووند جی نے اپنی خود نوشت میں مرارجی بھائی دیسائی کے ساتھ کے اپنے تجربات کے بارے میں بھی اس میں تفصیل سے بتایا ہے۔ کووند جی کے اندر ملک کی خدمت کا جو جذبہ تھا، مرارجی بھائی کے ساتھ کام کر کے انہیں جو سیکھنے کو ملا، جو راستہ ملا۔ کووند جی نے سیاست اور سماجی خدمت کو اپنا راستہ بنایا۔ وہ اپنے فرائض کے لیے وقف رہے۔ خدمت کو انہوں نے اپنا مقصد بنا کر کام کیا۔ پارلیمنٹ میں ان کی مدت کار اس کا گواہ ہے۔ گورنر کے طور پر بھی انہوں نے ایک مثال قائم کی۔ صدر کے طور پر بھی ہمیں ان کی یہی فرض شناسی دکھائی دیتی رہی۔ یہاں تک کہ صدر جیسے اعلیٰ ترین عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی انہوں نے آرام نہیں لیا ہے۔ وہ ابھی بھی ’ایک ملک، ایک الیکشن‘ جیسے اہم موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ ملک کو بیدار کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس کا حل ملک کی جمہوریت کا نیا باب شروع کر سکتا ہے۔ میں مانتا ہوں، کووند جی کی اس فرض شناسی اور خدمت کے جذبے سے ملک کے لوگ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

ساتھیو،

سماجی زندگی میں متحرک رہتے ہوئے سوانح عمری  کے لیے وقت نکال پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کووند جی نے یہ کام ہم سب کے لیے کیا ہے، کیونکہ ان کی زندگی میں ایسا کتنا کچھ ہے، جس میں غریب، محروم طبقے سے آئے تمام لوگ اپنی زندگی کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ کیسے ایک عام خاندان مشکل حالات میں بھی زندگی کی پاکیزگی اور ایمانداری سے سمجھوتہ نہیں کرتا، کیسے وہی اصول آگے چل کر ہماری زندگی کی بنیاد بنتے ہیں، ہمارے مشکل وقت کے اقدار کس طرح زندگی بھر ہمیں روشنی دیتے ہیں، کیسے اس پاکیزگی سے ہمیںملک کی خدمت کی طاقت ملتی ہے۔ الگ الگ عہدوں کیذمہ داری نبھاتے ہوئے، کووند جی نے معاشرے کو مسلسل اس کی ترغیب دی ہے۔

ساتھیو،

مجھےیقین ہے، کووند جی کی سوانح عمری ، اس میں صرف ان کی زندگی ہی نہیں، بلکہ ہماری جمہوریت کی بھی اہم یادیں محفوظ ہوں گی۔ میں ایک بار پھر انہیں ان کی سوانح عمری  کے لیے مبارکباد دیتا ہوں اور میں خاص طور پر نئی نسل سے گزارش کروں گا، ریل کا زمانہ ہے، سوشل میڈیا پر انفلوئنسر  آپ کو کھینچ کر کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں۔ اس شارٹ کٹ کے دور میں بھی ایک بات ہم ضرور یاد رکھیں، ریلوے اسٹیشن پر لکھا ہوتا ہے، کچھ لوگوں کو پٹری پر کود کر جانے کی عادت ہوتی ہے، پل کا استعمال نہیں کرتے۔ تو وہاں لکھا ہوتا ہے،’شارٹ کٹ ول کٹ یو شارٹ‘  اور اگر شارٹ کٹ کے راستے سے بھی کہیں آگے نکلنا ہے، تو میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ آپ کو جس کی بھی پسند ہو، سوانح عمری  ضرور پڑھیں۔ سوانح عمری  اس دور کی تاریخ کے واقعات کو الگ طریقے سے سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ تاریخ سے کافی قریب ہوتا ہے وہ سوانح عمری  کا دور اور اس لیےمیں ضرور چاہوں گا کہ کووند جی کی جو محنت ہے، وہ آنے والی نسلوں کے کام آئے، خاص طور پر نوجوان نسل کے کام آئے۔ بہت بہت مبارکباد۔ بہت بہت شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م عن۔ ن م۔

U-1889