Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

صدرجمہوریہ ہند کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے  دوران  لوک سبھا میں وزیراعظم کے جواب پر مبنی خطاب کی نمایاں جھلکیاں


نئی دہلی ،08فروری :وزیراعظم ، جناب نریندرمودی نے لوک سبھامیں  کل صدرجمہوریہ ہند کے  خطاب پرشکریہ کی تحریک کے دوران  جواب پراس طرح  خطاب کیا ہے ۔ پروزیراعظم  نے بالترتیب اپنے خیالات کا اس طر ح اظہارکیا :

          ‘‘ ایک حکومت کو  ہندوستان کے عوام  کے لئے کام کرناہوتاہے ،  ایک حکومت  کو عوام کی توقعات کے تئیں حساس رہناہوتاہے ۔ بدعنوانی کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ میں مباحثے میں اتنے اراکین نے اظہارخیال کیا۔میں ان سب کا شکریہ اداکرتاہوں ۔ میں ان سب کو مبارکباد پیش کرتاہوں، جو 2019کے پارلیمانی انتخاب میں پہلی مربتہ ووٹ ڈالیں گے ۔ جنھوں نے 21ویں صدی میں آنکھیں کھولی ہیں وہ اب ووٹربننے جارہے ہیں اوراب اس طریقے سے وہ بھارت کی ترقی کے راستے کا تعین کرنے میں اپنا کرداراداکریں گے ۔ یہ اعتماد اور امید پسندی ہے جو ہمارے ملک کو آگے لے جائیگی ۔ ہم ان لوگوں میں نہیں ہیں جو چنوتیاں دیکھ راہ فرار اختیارکرتے ہیں ، ہم چنوتیو ں کا سامناکرتے ہیں ، اور عوام کی توقعات کو پوراکرتے ہیں ۔

          کانگریس کی پارٹی میں ہمارے دوست دومختلف ادوار میں چیزوں کو پرکھتے ہیں بی سی یعنی کانگریس سے قبل جب کچھ بھی نہیں رونماہوا ۔ اے ڈی ۔ ایک کنبے کے بعد جہاں سب کچھ توقع پذیرہوا۔

          بھارت گذشتہ چاربرسوں کے دوران قابل ذکرپیش رفت سے ہمکناررہاہے ۔ تمام شعبوں میں ، سرمایہ کاری ، فولاد کا شعبہ ،اسٹارٹ اپ ، دودھ اورزراعت ، شہری ہوابازی  میں بھارت کی ترقی غیرمعمولی رہی ہے ۔

          مودی سے نفرت کے عمل میں حسب اختلاف نے ملک سے نفرت شروع کردی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے رہنما لندن جاتے ہیں اوروہاں پریس کانفرنسوں کا اہتما م کرتے ہیں تاکہ بھارت کی شبیہ مسخ کرکے پیش کرسکیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے ان کا کیابگاڑا ہے ایک ایسا شخص جو ایک غریب کنبے میں پیداہواان کی سلطنت کو چنوتی دے رہاہے ۔

          ان کے 55سالوں کے دوران صفائی ستھرائی کا احاطہ 38فیصد کے بقدرتھا اور ہمارے 55مہینوں میں یہ تقریبا98فیصد کے قریب ہے ۔ ان کے 55برسوں میں گیس کنکشن 12کروڑتھے ،55مہینوں میں یہ 13کروڑہیں ۔ ہم نے اپنے پانچ برسوں میں فزوں تررفتارسے کام کیاہے ۔  ذراسوچیئے ، کانگریس نے ایمرجنسی نافذ کی تھی تاہم مودی اداروں کو تباہ کررہاہے ، کانگریس فوج کی توہین کرتی ہے ، بری فوج کے سربراہ کو غنڈ ہ قراردیتی ہے مگر مودی اداروں کو تباہ کررہاہے ۔ کانگریس کہانیاں بناتی ہے کہ بھارتی فوج تختہ پلٹ کررہی ہے تاہم مودی اداروں کو تباہ کررہاہے ۔ کانگریس ای سی اورای وی ایم پرسوال اٹھاتی ہے مگرمودی اداروں تباہ کررہاہے ۔ کانگریس عدلیہ کو حراساں کرتی ہے مگرمودی اداروں کو تباہ کررہاہے ۔  کانگریس منصوبہ   بندی کمیشن کومسخروں کا جمگھٹ قراردیتی ہے مگر مودی اداروں کو تباہ کررہاہے ۔ کانگریس آرٹیکل 356کا متعدد مرتبہ ناجائز استعمال کرچکی ہے تاہم مودی ادارو ں کو تباہ کررہاہے ۔ بھارت کے   عوام نے دیکھا ہے کہ اکثریت سے منتخب ہوکر آئی ہوئی حکومت کتنا کام کرسکتی ہے ۔ انھوں نے ا ین ڈی اے  کا کام دیکھاہے ۔ وہ ایک مہاملاوٹ گورنمنٹ نہیں چاہتے جو کولکاتہ میں جمع ہوئے ،سی ڈبلیوجی 2010کے دوران ہمارے کھلاڑی بھارت کے لئے تمغہ جیتنے کے لئے پوری تندہی سے کھیل رہے تھے مگرکانگریس کے لئے دولت مشترکہ کے کھیل پارٹی میں چند افراد کے لئے ذاتی دولت بنانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے ۔یوپی اے کی فون بینکنگ نے ان کے رہنماوں کے دوستوں کے لئے بڑے کارنامے کئے ۔ اسی طرفداری کے نتیجے میں ہمارے بینکنگ نظام کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

          میں پارلیمنٹ میں یہی کہنا چاہتاہوں کہ انڈین نیشنل کانگریس نہیں چاہتی کہ ہمارے مسلح دستے مضبوط بنیں ۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہمارے سلامتی ذرائع مضبوط ہو ں۔ جن کمپنیوں کے لئے وہ بولی لگارہے ہیں یہ وہی ہیں جو شرمنا ک طریقے سے کام کررہی ہیں ۔ ڈاکٹرباباصاحب امبیڈکر ہمیشہ اپنے وقت سے آگے کی سوچتے تھے ۔انھوں نے کہاتھا کانگریس میں شمولیت اختیارکرنا خود کشی کے مترادف ہے ۔ ہزاروں ادارے سمندرپارسے فنڈحاصل کررہے تھے ۔ ہم نے اس عمل میں شفافیت لانی چاہی مگریہ ادارے بند کردیئے گئے ۔ بغیراحتساب اتنا سرمایہ لانے کی اجازت کیوں دی گئی ۔ قیمتوں میں اضافہ اورکانگریس ایک ٹیم کے حصے ہیں ۔ جب کانگریس برسراقتدارآتی ہے تواس کے ساتھ ہی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتاہے ۔ این ڈی اے حکومت نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے کام کیاہے ۔ وہ وجوہات کیاتھیں جن کے نتیجے میں یوپی اے کے دورحکومت میں ایل ای ڈی بلب کی قیمتیں اتنی زیادہ تھیں ۔ہماری حکومت  نے بھارت کے عوام کی صحت اورخیروعافیت کے لئے کام کیاہے ۔

اسٹنٹ ، گھٹنے کی سرجری اور ادویہ کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں ۔ اس سے غریب ترین فرد کی مدد ہورہی ہے ۔ ستمبر 2017سے لے کر نومبر 2018تک یعنی قریب قریب 15مہینوں میں لگ بھگ ایک کروڑ80لاکھ لوگوں نے پہلی بار پراویڈینٹ فنڈ کا پیسہ کاٹنا شروع کیاہے ۔ ان میں سے بھی 64پرتی شت 28سال سے کم آئیوکے ہیں ۔

          اس کے علاوہ ایک اور تتھیہ ہے ۔ ہمارے دیش میں مارچ 2014میں قریب قریب 65لاکھ لوگوں کو نیشنل پینشن سسٹم ( این پی ایس ) میں رجسٹرکیاگیاتھا۔ پچھلے سال اکتوبر میں یہ سنکھیا بڑھ کر قریب 1کروڑ 20لاکھ ہوگئی ہے ۔ کیایہ بھی بنانئی نوکری کے ہی ہوگیا۔

          ایک اورآنکڑا ہے ۔ ہرسال انکم ٹیکس ریٹرن بھرتے سمے ، Non- Cooperative Taxpayersبھی اپنی آئے گھوشت کرتے ہیں ۔ انھیں خود salaryنہیں ملتی ، لیکن یہ لوگ یہاں نیکت لوگوں کو salaryدیتے ہیں ۔

          پچھلے چارورشوں میں دیش میں ایسے 6لاکھ 35ہزار نئے پروفیشنلز جڑے ۔ کیا آپ کو لگتاہے کہ ایک ڈاکٹر نے اپنا کلینک یا نرسنگ ہوم کھولاہے تو اس نے صرف ایک ویکتی کو ہی نوکری دی ہوگی ، یاکوئی چارٹرڈ اکاونٹنٹ صرف ایک ویکتی کو نوکری پررکھ کر اپنادفترچلارہاہوگا؟نہیں ۔

          ہزاروں کروڑروپے کی لاگت سے 99لٹکی پڑی سینچائی پریوجناوں کو پوراکیاجارہاہے :

 بھارت اسرائیل اورفلسطین دونوں کا دوست بنارہے گا ۔ بھارت سعودی عرب اورایران کابھی دوست بنارہے گا ۔ ہماری خارجہ پالیسی نے بھارت کی آواز کو مطلع عالم پرمضبوطی سے پیش کیاہے ۔ ہم ہمیشہ بھارت کے عوام کی توقعات کو پائیہ تکمیل تک پہنچائیں گے ۔ تکبر نے انھیں 400سے 44پرپہنچادیا۔ ملک کے تئیں عہد بندگی اور ہماری جانفشانی نے ہمیں دو سے 282پرپہنچادیا۔

میں آپ کو یقین دہانی کراتاہوں کہ جنھوں نے ملک کو لوٹاہے وہ مودی سے خوف زدہ ہوتے رہیں گے ۔

سورج جائیگابھی توکہاں

اسے یہیں رہنا ہوگا

یہیں ہماری سانسوں میں

ہماری رگوں میں

ہمارے سنکلپوں میں

ہمارے رتجگوں میں

تم اداس مت ہوؤ

اب میں کسی بھی سورج کو نہیں ڈوبنے دوں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U-805