Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

قومی تغذیہ مشن اوربیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کی توسیع کے آغاز کے موقع پرجھنجھنومیں وزیراعظم کی تقریرکامتن

قومی تغذیہ مشن اوربیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کی توسیع کے  آغاز کے موقع پرجھنجھنومیں وزیراعظم کی تقریرکامتن

قومی تغذیہ مشن اوربیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کی توسیع کے  آغاز کے موقع پرجھنجھنومیں وزیراعظم کی تقریرکامتن

قومی تغذیہ مشن اوربیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کی توسیع کے  آغاز کے موقع پرجھنجھنومیں وزیراعظم کی تقریرکامتن


نئی دہلی ،9؍مارچ :وسیع تعداد میں آئی ہوئی ماؤں ، بہنو ، بھائیواورنوجوان دوستو!

          آج 8مارچ ، پوراعالم 100سالوں  سے زائد عرصے سے بین الاقوامی  یوم خواتین کے طورپر اس سے جڑاہواہے ۔ لیکن آج پورا ہندوستان جھنجھنوکے ساتھ جڑگیاہے ۔ ٹکنالوجی کی مدد سے  جھنجھنو کا یہ خوبصورت منظر پورے ملک کے کونے کونے میں پہنچ رہاہے ۔

          میں جھنجھنو یوں ہی نہیں آیاہوں ، سوچ سمجھ کریہاں آیاہوں ، اورآیاکیاآپ نے مجھے کھینچ لیاہے ۔ آپ نے مجھے آنے کے لئے مجبورکردیاہے ۔ اورمجبوری اس بات  کی تھی کہ آپ نے ، بیٹی بچاو۔بیٹی پڑھاو،کی اس تحریک کو اس ضلع  نے جس شاندار طریقے سے آگے بڑھایا ، یہاں کے ہرکنبے نے ایک بہت بڑا عمدہ کام کیا ، توفطری طورپرمیرےدل نے کہا کہ چلوجھنجھنوکی مٹی کو ماتھے پرچڑھاکرآجاتے ہیں ۔

          ابھی وسندھراجی وضاحت سے بیان کررہی تھیں کہ کیسے  سورماؤ ں کی سرزمین ہے ، اس سرزمین کی کیاقوت رہی ہے ، اوراس لئے چاہے معاشرے کی خدمت کا کام ہو، چاہے تعلیم کا کام ہو، چاہے ناداروں کی امداد کا کام ہو، چاہے ملک کے لئے مرمٹنے کی بات ہو، اس ضلع نے ثابت کردیاہے ،جنگ ہویا قحط ، ، جھنجھنو جھکنانہیں جانتا ، جھنجھنو  جوجھنا جانتاہے ۔اوراس لئے جھنجھنو کی سرزمین سے آج جس کام کو آگے بڑھایاجارہاہے ، ملک کو جھنجھنو سے ترغیب ملے گی ، ملک کو یہاں سے بھی ایک نئی طاقت ملے گی ۔

          بیٹی بچاؤ۔بیٹی پڑھاؤ،کواگرکامیابی ملتی ہے ، تودل کو اطمینان ہوتاہے ، لگتاہے کہ چلوبھائی کچھ حالات میں سدھارآیا۔ لیکن کبھی کبھی دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے ۔تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ جس ملک کی عظیم تہذیب ، جس ملک کی عظیم روایات ، شاستروں میں عمدہ سے عمدہ  باتیں ، وید سے ویویکانند تک ، صحیح سمت میں ادراک ، لیکن کیاوجہ ہے وہ کون سی برائی گھرکرگئی کہ آج ہمیں اپنے ہی گھرمیں بیٹی بچانے کے لئے ہاتھ پیرجوڑنے پڑرہے ہیں ، سمجھاناپڑرہاہے ، اس کے لئے بجٹ سے پیسہ خرچ کرناپڑرہاہے ۔

          میں سمجھتاہوں کسی بھی معاشرے کے لئے اس سے زیادہ تکلیف  کی بات نہیں ہوسکتی ۔ اورکئی دہوں سے ایک بیمارذہنیت کی وجہ ، ایک غلط سوچ کے باعث ، معاشرے  کی برائیوں کی بجائے  ہم نے بیٹیوں کو ہی بلی چڑھانے کا راستہ چن لیا ۔ جب یہ سنتے ہیں کہ ہزاربیٹوں کے سامنے کہیں 800بچیاں ہیں ، 850بچیاں ہیں ، کہیں 900بچیاں ہیں ، یہ معاشرے کی کیاحالت ہوگئی ، آپ محسوس کرسکتے ہیں ۔ عورت اورمرد کی برابری سے ہی اس معاشرے کا نظام چلتاہے ، معاشرے میں سرگرمیاں بڑھتی ہیں ۔

          کئی دہوں سے بیٹیوں کی تردید کرتے رہے ، خارج کرتے رہے ، مارتے رہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سماج میں عدم توازن پیداہوا ۔ میں جانتاہوں ایک آدھ پیڑھی میں یہ سدھارنہیں ہوتاہے ۔ چارچار، پانچ پانچ پیڑھیوں کی برائیاں آج یکجاہوگئی ہیں ۔ پرانا جو نقصان ہے ، اس نقصان کو پوراکرنے میں وقت لگے گا، اسے ہرشخص سمجھتاہے ۔ لیکن اب توہم طے کریں کہ جتنے بیٹے پیداہوں گے ، اتنی ہی بیٹیاں بھی پیداہوں گی ۔ جتنے بیٹوں کی پرورش ہوگی ، اتنی ہی بیٹیوں کی بھی پرورش ہوگی ۔ بیٹی ۔بیٹا دونوں ، ایک سمان ، اس جذبے کو لے کر آگے چلیں گے تو چار،پانچ ،چھ پیڑھی میں برا ہواہے ، وہ شاید ہم اگلی دویاتین پیڑھیوں میں ٹھیک کرپائیں گے ۔ لیکن اس کی پہلی شرط ہے ، ابھی جو بچے پیداہوں گے ، اس میں کوئی عدم توازن نہیں ہوناچاہیئے ۔

          مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ آج جن اضلاع کو نوازنے کا موقع ملا ، ان پہلے دس اضلاع نے اس کو بخوبی نبھایاہے ۔ یہ جو نئے پیداہونے والے بچے ہیں ، اس میں وہ بیٹوں کی برابری میں بیٹیوں کو لانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ آج جن کو نوازنے کا موقع ملا ان ضلعوں کو  ، اس ریاست کو ، اس ٹیم کو میں مبارکباد دیتاہوں ۔ انھوں نے اس پاکیزہ کام کو اپنے ذمہ لیا۔

          اس سلسلے میں ، میں ملک کے سبھی افسران سے ، سرکارکے سبھی اپنے ساتھیوں سے ، ریاستی سرکاروں سے بھی گذارش کروں گاکہ اسے عوامی تحریک بناناہوگا۔ جب تک اس تحریک سے  ایک ایک کنبہ نہیں جڑتاہے اور ساس اس   کی سرپرستی نہیں سنبھالتی ہے ، اس کام میں وقت زیادہ لگے گا۔ لیکن اگر(مدر۔ان ۔لأ)یعنی ساس اس کو سنبھال لیتی ہے کہ  بیٹی چاہیئے اورایک بار صاف کہہ دیں کہ گھرمیں بیٹی چاہیئے ، کسی کی طاقت نہیں ہے کہ وہ بیٹی کے ساتھ ناانصافی کرسکے ۔ اوراسی لئے ہمیں ایک  سماجی تحریک شروع کرناپڑے گی ، عوامی تحریک چھیڑنا ہوگی ۔

          بھارت سرکارنے دوسال قبل ہریانہ ، جہاں تناسب ہی تشویشناک تھا ، اس چنوتی کو منظورکرتے ہوئے ہریانہ میں پروگرام کیا۔ ہریانہ کی سرزمین پرجاکر یہ بات بتانا کافی مشکل کام تھا۔ میرے افسروں نے مجھے مشورہ دیاتھا کہ صاحب وہاں تو حالت اتنی خراب ہوچکی ہے کہ وہاں جائیں گے تواور نیا ہی غلط ہوجائے گا۔ میں نے کہاجہاں سب سے زیادہ پریشانی ہے ، وہاں سے ہی شروع کروں گا۔ اورآج میں ہریانہ کو مبارکباد دیتاہوں ، انھوں نے گذشتہ دوسالوں میں  ہی حالات میں بہت تیزی سے تبدیلی پیداکی ہے ۔

          بیٹیوں کی پیدائش کی تعداد میں جو اضافہ ہواہے وہ اپنے آپ میں ایک نیا اعتماد اور ایک نئی امید جگاتاہے ۔اوریہ جو پچھلے دوسال کا تجربہ ہے ، اس میں جو کامیابی ملی ہے ، اسے ذہن میں رکھ کر آج 8مارچ ، بین الاقوامی یوم خواتین پربھارت سرکارنے اب وہ منصوبہ 161-160اضلاع تک ہی نہیں ، بلکہ ہندوستان کے سبھی اضلاع میں اس منصوبے کا نفاذ کیاجارہاہے  ۔اس کے لئے وہاں حالات اچھے بھی ہوں گے ، زیادہ بہترکیسے ہوں ، اس کے بارے میں کام کیاجائے گا۔

          ہمیں اپنے آپ  سے پوچھنا پڑیگا۔یہ جو پرانی سوچ رہی ہے کہ بیٹی کبھی کبھی لگتاہے کہ بوجھ ہوتی ہے ۔ لیکن آج واقعات بتاتے ہیں ، بیٹی بوجھ نہیں ، بیٹی ہی پورے کنبے کی آن بان شان ہے۔

          ہندوستان میں دیکھئے آپ ۔ جب سیٹلائٹ ، آسمان میں ہم جاتے ہیں ، سنتے ہیں کہ وہ سیٹلائٹ گیا، منگلاین ہوا، ڈھکنا ہوا، اور جب دیکھتے ہیں توپتہ چلتاہے کہ میرے ملک کی تین خواتین سائنسٹٹوں نے خلأ تکنالوجی میں اتنی زبردست شہرت حاصل کی ہے ، تب  پتہ چلتاہے کہ بیٹیوں کی طاقت کیاہوتی ہے ۔جب جھنجھنوکی  ہی ایک بیٹی فائٹرجہاز چلاتی ہے ، تب پتہ چلتاہے کہ بیٹیوں کی طاقت کیاہوتی ہے ۔ اولمپک میں جب گولڈمیڈل لے کر آتے ہیں ، میڈل لے کرآتے ہیں ، اورپتہ چلتاہے لانے والی بیٹیاں ہیں توتمام ملک کا سرفخرسے  اونچاہوجاتاہے کہ ہماریں بیٹیاں دنیامیں نام روشن کررہی ہیں ۔

          اورجو لوگ یہ مانتے ہیں کہ بیٹا ہے توبڑھاپے میں کام آئیگا، حالت کچھ الگ ہی ہے ۔ میں ایسے کنبے دیکھے ہیں ، جہاں بوڑھے ماں ۔باپ ہوں ، چارچاربیٹے ہوں ، بیٹوں کے اپنے بنگلے ہوں ، گاڑیوں کی بھرمارہو، لیکن ماں اورباپ یتیم خانہ میں بڑھاپے کے دن بتاتے ہیں ، ایسے کنبے ہم نے دیکھے ہیں ، اورایسے بھی کنبے دیکھے ہیں کہ بیٹی ، ، ضعیف  والدین کی اکلوتی بیٹی ، والدین کو بڑھاپے میں تکلیف نہ ہو، اس لئے روزگارکرتی ہیں ، کام کاج کرتی ہیں ، نوکری پرجاتی ہیں ، محنت کرتی ہیں ، شادی تک نہیں کرتی ہیں ، تاکہ بڑھاپے میں والدین کو تکلیف نہ ہو اور ماں باپ کے لئے اپنی زندگی قربان کردیتی ہیں ۔

          اور اس لئے معاشرے میں جوسوچ بنی ہے ، یہ جو خرابی گھرکرگئی ہے ، اس  خرابی سے ہمیں باہرآناہے ۔ اوراس کو ایک سماجی تحریک بنانا ، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ کامیابی ، ناکامی کے لئے کوئی حکومت کو بدنام کرے ، ٹھیک ہے وہ کام کرنے والے کرتے رہیں ، لیکن اس کی کامیابی کی بنیاد ، ہرکنبے کا عزم ہی کامیابی کاباعث بن سکتاہے ، اوراس لئے جب تک بیٹا ،بیٹی میں برابری ، بیٹی کے لئے فخرکا جذبہ ، یہ ہمارے ذہن میں نہیں ہوگا، تب تک ماں کی گود میں ہی بیٹیوں کو ماردیاجائے گا۔

          18ویں صدی میں بیٹی کو دودھ پیتی کرنے کی روایت تھی ۔ ایک بڑے برتن میں دودھ بھرکے بیٹی کو ڈبودیاجاتاتھا۔ لیکن کبھی کبھی مجھے لگتاہے کہ ہم 21ویں صدی میں ہونے کے باوجود بھی ان 18ویں صدی کے لوگوں سے بھی برے لگتے ہیں ، کیونکہ 18ویں صدی میں کم سے کم اس بیٹی کو پیداہونے کا توحق حاصل تھا، اس کو اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے کی خوش قسمتی نصیب ہوتی تھی ، اس ماں کو اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھنے کی خوشی  قسمتی نصیب ہوتی تھی ، اس زمین پراس کو کچھ لمحے کے لئے  ہی کیوں نہ ہو ، سانس لینے کا موقع ملتاتھااور بعد  میں بہت بڑا گناہ کرکے معاشرے کا سب سے زیادہ برائی والاکام کردیاجاتاتھا۔
          لیکن آج ، آج تواس سے بھی زیادہ براکرتے ہیں کہ ماں کے رحم میں ، نہ ماں نے بیٹی کا منھ دیکھا ، اورنہ بیٹی نے ماں کا چہرہ دیکھا ، جدید سائنس کی مدد سے ماں کے رحم میں بیٹی کو ختم کردیاجاتاہے ۔ میں سمجھتاہوں اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ جب تک مانیں گے نہیں کہ بیٹی ہماری آن ۔ بان ۔ شان ہے ، تب تک یہ برائیاں دماغ سے نہیں نکلیں گی ۔

          آج مجھے یہاں جن کے کنبے میں  بیٹی پیداہوئی ہے ، ان ماؤں سے ، ان بچیوں سے ملنے کی خوشی نصیب ہوئی۔ان کے چہرے پراتنی خوشی تھی ، میں نے ان سے پوچھا کہ کیاآپ کوپتہ ہے ، آپ کو کسی نے بتایاکہ آپ جب پیداہوئی تھیں تومٹھائی بانٹی گئی تھی ؟انھوں نے کہا ،وہ تومعلوم نہیں ہے ، لیکن ہمارے بیٹی پیداہوئی ہے توپورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی اور ایک جشن منایاتھا۔

          ہمیں یہ حالات بدلنے ہیں ، اوراس کو بدلنے کی سمت میں جو اہم کام سرکارکے ذریعے کئے جارہے ہیں اسی کے تحت آج اس منصوبے کو پورے ملک میں ہم وسیع پیمانے پرکررہے ہیں ۔

           دوسرا ، آج ایک  پروگرام  کا آغاز ہورہاہے ،تغذیہ  مشن کا ، قومی  تغذیہ مشن ۔جب کسی کو بھی پی ایم کو گالی دینی ہے ، پی ایم کی تنقید کرنی ہے ، پی ایم کی برائی کرنی ہے تومیری ان سے گذارش ہے کہ جتنی بار آپ پی ایم کی برائی کریں ، پی ایم کی تنقید کریں ، اچھاکہیں ، براکہیں ، بھلا کریں  نہ کریں ، لیکن جب بھی پی ایم  بولیں ، من میں پی ایم آئے :تو آپ کو نریندرمودی نہیں دکھنا چاہیے ، آپ کو پی ایم سنتے ہی تغذیہ مشن دکھنا چاہیئے ۔ دیکھئے کیسے ایک دم سے گھرگھرپھیل جاتاہے ۔

          اورہمارے یہاں بیٹاہے یا بیٹی ، اس کے جسم کا جو وکاس ہونا چاہیئے ، وہ رک جاتاہے ۔ کبھی  پیدائش کے وقت ہی بہت کم  وزن کا بچہ پیداہوتاہے اوراس میں بھی لاعلمی بہت اہم کرداراداکرتی ہے۔ہمیں اس مسئلے سے باہرنکلناہے ۔ اورپھربھی میں کہتاہوں کہ  یہ صرف سرکاری بجٹ سے ہونے والےکام نہیں ہیں ۔یہ تب ہوتاہے کہ جب عوامی تحریک شروع ہوتی ہے ۔ لوگوں کو خواندہ بنایاجاتاہے ، سمجھایاجاتاہے ، اس کے مضمرات کی طرف دیکھاجاتاہے ۔

          ناکافی تغذیہ  کے خلاف پہلے کام نہیں ہوئے ، ایسا نہیں ہے ۔ ہرسرکارمیں کچھ نہ کچھ  منصوبے وضع ہوئے ہیں ۔ لیکن دیکھا یہ گیاہے  کہ زیادہ ترہم لوگوں کو لگتاہے کہ  اگرجتناکیلوری چاہیئے ، اتنا اگر اس کے پیٹ میں جائیگاتو پھرناقص تغذیہ  سے نجات مل جائیگی ۔ لیکن تجربہ کہتاہے کہ صرف کھانا ٹھیک ہوجائے ، اتنے سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ یہ پورا ایکونظام درست کرناپڑتاہے ۔ کھانااچھابھی مل جائے لیکن اگروہاں پانی خراب ہے ، کتنا ہی کھاتے جاو ٔ، ناقص  تغذیہ کی حالت میں فرق نہیں آتاہے ۔

          بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگاکم  عمر میں شادی ۔یہ بھی کوپوشت بچوں کے لئے ایک بہت بڑی وجہ سامنے آئی ہے ۔ کم عمری میں شادی ہوجانا، بچے ہوجانا، نہ ماں کے جسم کا وکاس ہواہے ، نہ آنے والے بچے کے جسم پرکوئی بھروسہ کرسکتاہے ۔اوراس لئے زندگی سے جڑے جتنے بھی پہلوہیں ، بیمارہیں تو وقت پردوا ، زچگی کے فوراًبعدماں کے دودھ پلانے  کی خوش نصیبی ، پرانے لوگ توکہتے ہیں کہ پیدائش کے  فورابعد ماں کا دودھ مت پلاؤ،غلط ہے ۔سچ پوچھئے تو یہ بات غلط ہے ۔ پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ اگربچے کو ملتاہے تو پرورش کے دوران بڑا ہونے کی مدت میں کم سے کم مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ اس لئے ماں کو جب ہم پوری طرح یہ مانتے ہیں ، اس کی پوجا کرتے ہیں ، اس کی عظمت کو سمجھتے ہیں تو ہم اس کی رکھوالی کریں گے اوریقینی بنائیں گے کہ اس کی گود میں پلنے والا بچہ بھی سوئے تغذیہ سے محفوظ رہے ۔

          غذائیت کی فکرکرنا بھی ایک کام ہے ، اس کے ذریعہ کی جانے والی ٹیکہ کاری کے پروگرام ، خدمات ، بجٹ اور عملہ کی موجودگی کے باوجود کبھی کبھی انجام نہیں دی جاپاتی ۔ آپ نے ابھی جوفلم دکھائی اس میں بتایاگیاہے کہ ہاتھ دھوئے بغیرکھانے سے بدن میں بیماریاں پیداہوتی ہیں ، جو بچے موت کا شکارہوتے ہیں ، ان میں ہاتھ نہ دھوکرکھاناکھانے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ، اس کے ساتھ ہی اس سے پیداہونے والے امراض میں مرنے والوں کی 30سے 40فیصد بچوں کی تعداد وہ ہوتی ہے جن کے کھانے پینے میں صفائی کا خیال نہیں رکھاجاتا۔ اب کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت کون ڈالے گا۔ یہ بات تو ماں ہی سکھاتی ہے اس لئے ماں کو بھی ہاتھ دھونے چاہیئں اوربچے کو کچھ کھاناہے تو ہاتھ دھوکرکھاناچاہیئے ۔ یہ کون سکھائے گا۔ ہمارے روشن مستقبل کے لئے ، ہماری زندگی میں بہتری کے لئے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ، اس کے تحت اس اسکیم کو ایک مشن کے طریقے سے چلایاجارہاہے اورتمام اسکیموں کو ایک ساتھ جوڑ کر خواہ پانی کا مسئلہ ہو یادواؤ ں کا ہو، یاروایتی کی دشواریوں کا ہو، جوبچے اسکول جاتے ہیں وہ ایک عمرکے بعد ان کے دل میں ایک احساس کمتری پیداہوجاتاہے ، یہ احساس کس بات کا ہے ؟اگراس اسکول میں پانچ بچوں کے قدزیادہ ہیں ، باقی پستہ قدہیں ، تو باقی تمام بچوں کو یہ احساس ہوتاہے کہ کاش ہمارا قدبھی اتناہی اونچاہوتا۔پھروہ پیڑیاکسی دوسری جگہ لٹک کرسوچتاہے کہ اس کا قدبڑھ گیاہے ۔ آپ میں سے بیشترلوگوں نے   یہ تجربہ کیاہوگا، کہ میراقدبڑھنا چاہیئے ۔ لیکن ہم ان چیزوں پر سائنسی طریقے سے کام نہیں کرتے ۔

ملک میں قدکی طوالت عمرکے حساب سے ہونی چاہیئے ۔ اس میں کافی کمی نظرآتی ہے ۔ ہمارے بچے تندرست ہوں ، ان کاوزن مناسب ہو، اورقدمعقول ہو، ان سب کو پیش نظررکھ کر یہ مبارک نظریہ بنایاگیاہے کہ جب ہماری آزادی کے 75سال ہوں گے ، اس وقت ملک میں پرورش اورغذاوں کے شعبے پرتوجہ مرکوز کرکے ہم فخرکے ساتھ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ہم اپنے بچوں پرنظرڈالیں توہماراپورادن بہترگذرے ، ایسے ہنستے کھیلتے بچے ہرلمحہ نظرآئیں ، جہاں جائیں وہاں ایسے بچے نظرآئیں ،ہمیں یہی صورت حال پیداکرنی ہے ۔

اس اسکیم کو تقریباً9ہزارکروڑروپے کی لاگت سے آگے بڑھایاجائے گااور مشترکہ معیارات کے ساتھ آشاورکراور دیہی سطح کے رضاکاروں کی ٹکنالوجی کی سہولت سے لیس کرنا ہوگا ۔مستقل بنیاد پرآگر اعدادوشمار جمع کرنے ہوں ، اگراس میں کوئی اتارچڑھاو آتاہے تو فوری طورسے اوپرسے کارروائی کی جائیگی یہ دیکھا جائے گا کہ مسئلہ کا حل کیسے ہو، یہ دیکھنا ہوگا کہ 8مہینے تک بچے کی نموصحیح ڈھنگ سے ہورہی ہے ، وزن صحیح ہے ، بارش کا موسم آگیاہے ، توبیماریوں کا دورشروع ہوگیاہے ۔ اچانک سیکڑوں بچوں کی حالت خراب ہوجاتی ہے  ۔ آپ کی 8مہینے کی محنت محض ایک مہینے میں ہی نیچے آجاتی ہے ۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے ۔ لیکن ہمیں اس چیلنج کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا اورمجھے یقین ہے ہم سب نے جوعہد کیاہے ، اس کام کو اس عہد کے ذریعہ پوراکیاجاسکے گا۔

          پردھان منتری ماتروندنایوجنا کے تحت ان والدین کو 6ہزارروپے کی مالی امداد کرکے ان کے حمل کے دوران ان کی فکرکی جائے ، اس کے لئے بھی سرکارتقریباً30لاکھ خواتین سووچھ بھارت مشن سے وابستہ ہیں ۔ جولوگ وہاں ہیں وہ نیچے والے اڈوں کو پکڑلیں ، آندھی ذراتیز ہے ہراس کو ئی اس کو پکڑلے ۔

اسی طرح سے گھرمیں لکڑی کا چولہاجلاکرکے گھرمیں ماں ایک دن میں 400سگریٹ کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں لے جاتی تھی ۔ ہم نے اس سے نجات دلانے کے لئے پردھان منتری اجول یوجنا کے تحت مفت میں گیس کے کنکشن پہنچانے کاکام شروع کیاہے ۔ اورمفت میں گیس کے کنکشن پہنچانے کی وجہ سے قریب قریب ساڑھے تین کروڑکنبوں کو اس سے نجات دلانے کا کام کیاہے ۔ آنے والے دنوں میں بھی ترقی کے اس سفرکو جاری رکھتے ہوئے ، آج جن منصوبوں کی شروعات ہوئی ہے ، اس کو اورتیزی سے آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں اپنے ملک کو تواناوتندرست بناناہے ۔ ہمارے بچے اگرسشکت ہوگئے تو ہمارے ملک کا مستقبل بھی روشن  ہوگا۔

اسی عہدکے ساتھ آپ سب اس عوامی تحریک سے جڑیں ۔ میں تمام اہل وطن کو مدعوکرتاہوں ۔یہ انسانیت کاکام ہے ، یہ آنے والی پیڑھی کاکام ہے ، یہ بھارت کے مستقبل کاکام ہے ، آپ سب ہمارے ساتھ جڑیئے ۔

پوری طاقت سے میرے ساتھ بولئے :

بھارت ماتاکی ۔جئے

بھارت ماتاکی ۔جئے

بھارت ماتاکی ۔جئے

بہت بہت شکریہ

 (م ن ۔ ع آ۔820109.03.)

U-1303