Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

قوم سے وزیراعظم کے خطاب کا متن


آج میں ایک انتہائی اہم موضوع پر خاص طور پر ملک کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے بات کرنے کے لیے آیا ہوں! آج بھارت کا ہر شہری دیکھ رہا ہے کہ کس طرح بھارت کی ناری شکتی کی اڑان کو روک دیا گیا۔ ان کے خوابوں کو بے دردی سے کچل دیا گیا ہے۔ ہماری بھرپور کوشش کے باوجود ہم کام یاب نہیں ہو پائے، ناری شکتی وندن بل میں ترمیم نہیں ہو سکی! اور اس کے لیے میں تمام ماؤں، بہنوں سے معافی کا طلب گار ہوں۔

ساتھیو،

ہمارے لیے ملکی مفاد سب سے اوپر ہے، لیکن جب کچھ لوگوں کے لیے پارٹی کا مفاد ہی سب کچھ بن جائے، پارٹی کا مفاد، ملکی مفاد سے بڑا ہو جائے، تو ناری شکتی کو، ملکی مفاد کو، اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا ہے۔ کانگریس، ڈی ایم کے، ٹی ایم سی اور سماج وادی پارٹی جیسی پارٹیوں کی خود غرضانہ سیاست کا نقصان ملک کی ناری شکتی کو اٹھانا پڑا ہے۔

ساتھیو،

کل ملک کی کروڑوں خواتین کی نظریں پارلیمنٹ پر تھیں، ملک کی ناری شکتی دیکھ رہی تھی، مجھے بھی یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا، کہ جب خواتین کے مفاد کی یہ قرارداد گری، تو کانگریس، ڈی ایم کے، ٹی ایم سی، ایس پی جیسی خاندانی پارٹیاں، خوشی سے تالیاں بجا رہی تھیں۔ خواتین سے ان کے حقوق چھین کر یہ لوگ میزیں تھپتھپا رہے تھے۔ انھوں نے جو کیا وہ صرف میزوں پر تھاپ نہیں تھی، وہ عورت کی خودداری، اس کی عزتِ نفس پر چوٹ تھی اور عورت سب بھول جاتی ہے، اپنی توہین کبھی نہیں بھولتی، اس لیے پارلیمنٹ میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے ان سب کے رویے کی کسک ہر عورت کے دل میں ہمیشہ رہے گی۔ ملک کی عورت جب بھی اپنے علاقے میں ان رہنماؤں کو دیکھے گی، تو وہ یاد کرے گی کہ انھی لوگوں نے، انھی لوگوں نے، پارلیمنٹ میں خواتین کے ریزرویشن کو روکنے کا جشن منایا تھا، خوشیاں منائی تھیں۔ کل پارلیمنٹ میں ناری شکتی وندن ترمیم کی جن پارٹیوں نے مخالفت کی ہے، ان سے میں دو ٹوک کہوں گا، یہ لوگ ناری شکتی کو فار گرانٹڈ لے رہے ہیں، وہ یہ بھول رہے ہیں، کہ 21ویں صدی کی عورت ملک کے ہر واقعے پر نظر رکھ رہی ہے، وہ ان کی نیت بھانپ رہی ہے اور سچائی کو بھی اچھی طرح جان چکی ہے۔ اس لیے خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کر کے جو گناہ اپوزیشن نے کیا ہے، اس کی انھیں سزا ضرور ملے گی۔ ان پارٹیوں نے آئین سازوں کے جذبات کی بھی توہین کی ہے اور عوام کی طرف سے اس کی سزا سے بھی وہ بچ نہیں پائیں گے۔

ساتھیو،

ایوان میں ناری شکتی وندن ترمیم کسی سے بھی کچھ چھیننے کے لیے نہیں تھی۔ ناری شکتی وندن ترمیم ہر کسی کو کچھ نہ کچھ دینے کے لیے تھی، دینے کے لیے ترمیم تھی۔ یہ 40 سال سے لٹکے ہوئے عورت کے حق کو، 2029 کے اگلے لوک سبھا انتخابات سے اس کا حق دینے کی ترمیم تھی۔

ناری شکتی وندن ترمیم 21ویں صدی کے بھارت کی عورت کو نئے مواقع دینے، نئی اڑان دینے، اس کے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کا مہا یگیہ تھی۔ ملک کی 50 فیصد یعنی آدھی آبادی کو اس کا حق دینے کی صاف نیت کے ساتھ، ایمانداری کے ساتھ کی گئی ایک مقدس کوشش تھی۔ عورت کو بھارت کے ترقیاتی سفر میں ہم سفر بنانے اور سب کو جوڑنے کی کوشش تھی۔ ناری شکتی وندن ترمیم وقت کی ضرورت ہے۔ ناری شکتی وندن ترمیم شمال، جنوب، مشرق، مغرب، تمام ریاستوں کی، ہر ریاست کی طاقت میں یکساں اضافے کی کوشش تھی۔ یہ پارلیمنٹ میں تمام ریاستوں کی آواز کو مزید طاقت دینے کی کوشش تھی۔ ریاست چھوٹی ہو، ریاست بڑی ہو، ریاست کی آبادی کم ہو یا ریاست کی آبادی زیادہ ہو۔ سب کی مساوی تناسب میں طاقت بڑھانے کی کوشش تھی۔ لیکن اس ایماندارانہ کوشش کا کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے ایوان میں پورے ملک کے سامنے اسقاطِ حمل کر دیا ہے، فیٹی سائیڈ کر دیا ہے۔ یہ کانگریس، ٹی ایم سی، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے جیسی پارٹیاں، اس اسقاطِ حمل کی گنہگار ہیں۔ یہ ملک کے آئین کی مجرم ہیں، یہ ملک کی ناری شکتی کی مجرم ہیں۔

ساتھیو،

کانگریس خواتین کے ریزرویشن کے موضوع سے ہی نفرت کرتی ہے، اس نے ہمیشہ سے ہی خواتین کے ریزرویشن کو روکنے کے لیے سازشیں کی ہیں۔ اس سمت میں پہلے جتنی بار بھی کوششیں ہوئیں، ہر بار کانگریس نے اس میں روڑے اٹکائے ہیں۔ اس بار بھی کانگریس اور اس کے ساتھیوں نے خواتین کے ریزرویشن کو روکنے کے لیے ایک کے بعد ایک نئے جھوٹ کا سہارا لیا۔ کبھی تعداد کو لے کر، کبھی کسی اور طریقے سے، کانگریس اور اس کے ساتھیوں نے ملک کو گم راہ کرنے کی کوشش کی۔ ایسا کر کے ان پارٹیوں نے بھارت کی ناری شکتی کے سامنے اپنا اصلی چہرہ سامنے لا دیا ہے۔ اپنا نقاب اتار دیا ہے۔

ساتھیو،

مجھے ذاتی طور پر امید تھی کہ کانگریس اپنی دہائیوں پرانی غلطی سدھارے گی۔ کانگریس اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرے گی، لیکن کانگریس نے تاریخ رقم کرنے کا، خواتین کے حق میں کھڑے ہونے کا، موقع گنوا دیا۔ کانگریس خود ملک کے بیشتر حصوں میں اپنا وجود کھو چکی ہے۔ کانگریس طفیلیے کی طرح علاقائی پارٹیوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ لیکن کانگریس، یہ بھی نہیں چاہتی کہ علاقائی پارٹیوں کی طاقت بڑھے، اس لیے کانگریس نے اس ترمیم کی مخالفت کروا کر کئی علاقائی پارٹیوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلنے کی سیاسی سازش کی ہے۔

ساتھیو،

کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، ٹی ایم سی اور دوسری پارٹیاں، اتنے برسوں سے ہر بار وہی بہانے، وہی بے تکی دلیلیں گھڑتے آئے ہیں، بناتے آئے ہیں، کوئی نہ कोई تکنیکی پیچ پھنسا کر، یہ خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے رہے ہیں۔ ملک سیاست کے اس بھدے پیٹرن کو بخوبی سمجھ چکا ہے، اور اس کے پیچھے کی وجہ بھی جان چکا ہے۔

بھائیو بہنو،

ناری شکتی وندن بل کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ ہے، ان خاندانی پارٹیوں کا ڈر۔ انھیں ڈر ہے، اگر خواتین بااختیار ہو گئیں، تو ان خاندانی پارٹیوں کی قیادت خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے خاندان کے باہر کی خواتین آگے بڑھیں۔ آج پنچایتوں میں، بلدیاتی اداروں میں، جن ہزاروں لاکھوں خواتین نے اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے، جب آگے بڑھ کر لوک سبھا اور اسمبلیوں میں آنا چاہتی ہیں، ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں، خاندانی سیاستدانوں کے اندر ان سے عدم تحفظ کا احساس بیٹھا ہوا ہے۔ حلقہ بندیوں کے بعد خواتین کے لیے کہیں زیادہ نشستیں ہوں گی، خواتین کا قد بڑھے گا، اسی لیے، ان لوگوں نے ناری شکتی وندن ترمیم کی مخالفت کی ہے۔ ملک کی ناری شکتی کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو اس گناہ کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

میرے عزیز ہم وطنو،

کانگریس اور اس کی اتحادی پارٹیاں، ڈی لمیٹیشن پر لگاتار، لگاتار جھوٹ بول رہی ہیں۔ یہ اس بہانے تقسیم کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ، بانٹو اور راج کرو، کانگریس یہ سیاست انگریزوں سے وراثت میں سیکھ کر آئی ہے۔ اور، کانگریس آج بھی اسی کے سہارے چل رہی ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ ملک میں دراڑ پیدا کرنے والے جذبات کو ہوا دی ہے۔ اس لیے، یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ ڈی لمیٹیشن یعنی حلقہ بندیوں سے کچھ ریاستوں کو نقصان ہوگا! جب کہ، حکومت نے پہلے دن سے واضح کیا ہے، کہ نہ کسی ریاست کی شرکت کا تناسب بدلے گا، نہ کسی کی نمائندگی کم ہوگی۔ بلکہ، تمام ریاستوں کی نشستیں یکساں تناسب میں ہی بڑھیں گی۔ پھر بھی کانگریس، ڈی ایم کے، ٹی ایم سی اور سماج وادی پارٹی جیسی پارٹیاں اسے ماننے کو تیار نہیں ہوئیں۔

ساتھیو،

یہ ترمیمی بل تمام پارٹیوں، اور تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا، ایک اوسر تھا۔ یہ بل پاس ہوتا تو تمل ناڈو، بنگال، یوپی ، کیرالہ، ہر ریاست کی نشستیں بڑھتیں۔ لیکن اپنی خود غرضانہ سیاست کی وجہ سے ان پارٹیوں نے، اپنی ریاست کے لوگوں کو بھی دھوکہ دے دیا۔ جیسے کہ، ڈی ایم کے کے پاس موقع تھا کہ وہ اور زیادہ تمل لوگوں کو رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی بنا سکتی تھی، تمل ناڈو کی آواز اور مضبوط کر سکتی تھی! لیکن، اس نے وہ موقع گنوا دیا۔ ٹی ایم سی کے پاس بھی بنگال کے لوگوں کو آگے بڑھانے کا موقع تھا۔ لیکن ٹی ایم سی نے بھی یہ موقع گنوا دیا۔ سماج وادی پارٹی کے پاس بھی موقع تھا کہ وہ خواتین مخالف شبیہ ہونے کے داغ کو کچھ کم کر سکے۔ لیکن ایس پی بھی اس میں چوک گئی۔ سماج وادی پارٹی لوہیا جی کو تو پہلے ہی بھول چکی ہے۔ ایس پی نے ناری شکتی وندن ترمیم کی مخالفت کر کے، لوہیا جی کے سارے خوابوں کو پیروں تلے روند دیا ہے۔ ایس پی خواتین کے ریزرویشن کی مخالف ہے، یہ یوپی کی اور ملک کی خواتین کبھی نہیں بھولیں گی۔

ساتھیو،

خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کر کے، کانگریس نے پھر ایک بات ثابت کر دی ہے۔ کانگریس، ایک اینٹی ریفارم پارٹی ہے۔ 21ویں صدی کے وکست بھارت کے لیے، جو بھی فیصلے، جو بھی اصلاحات ضروری ہیں، جو بھی فیصلے ملک لے رہا ہے، کانگریس ان سب کی مخالفت کرتی ہے، اسے مسترد کر دیتی ہے، اس کام کے اندر خلل ڈالتی ہے۔ یہی کانگریس کی تاریخ ہے اور یہی کانگریس کی منفی سیاست ہے۔

ساتھیو،

یہ وہی کانگریس ہے، جس نے جن دھن-آدھار-موبائل کی تری شکتی کی مخالفت کی۔ کانگریس نے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مخالفت کی، کانگریس نے، جی ایس ٹی کی مخالفت کی، کانگریس نے، جنرل کیٹیگری کے غریبوں کو ریزرویشن کی مخالفت کی، کانگریس نے، ٹرپل طلاق کے خلاف قانون کی مخالفت کی۔ کانگریس نے، آرٹیکل 370 ہٹانے کی مخالفت کی۔ ہمارا آئین، ہماری عدالتیں، جس یکساں سول کوڈ ، یکساں شہری ضابطہ اخلاق کو، یو سی سی کو ضروری بتاتے ہیں، کانگریس اس کی بھی مخالفت کرتی ہے۔ ریفارم کا نام سنتے ہی کانگریس، مخالفت کی تختی لے کر دوڑ پڑتی ہے۔ ایسا کوئی بھی کام جس سے ملک مضبوط ہوتا ہے، کانگریس اس میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے پوری طاقت لگا دیتی ہے۔ کانگریس، ون نیشن ون الیکشن کی مخالفت کرتی ہے، کانگریس، ملک سے دراندازوں کو بھگانے کی مخالفت کرتی ہے، کانگریس، ووٹر لسٹ کی تطہیر، ایس آئی آر کی مخالفت کرتی ہے، کانگریس، وقف بورڈ میں ریفارم کی مخالفت کرتی ہے۔

ساتھیو،

کانگریس نے، پناہ گزینوں کو تحفظ دینے والے سی اے اے قانون تک کی مخالفت کی۔ اس پر جھوٹ بول کر-افواہیں پھیلا کر ملک میں طوفان کھڑا کر دیا۔ کانگریس، ماؤنواز-نکسلی تشدد کو ختم کرنے کی ملک کی کوششوں میں بھی رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ کانگریس کا ایک ہی پیٹرن رہا ہے، کوئی بھی ریفارم آئے تو جھوٹ بولو، وہم پھیلاؤ۔ تاریخ گواہ ہے، کانگریس نے ہمیشہ یہی منفی راستہ چنا ہے۔

ساتھیو،

جو بھی کام ملک کے لیے ضروری فیصلہ ہوتا ہے، کانگریس اس کو قالین کے نیچے سرکا دیتی ہے۔ کانگریس کے اسی رویے کی وجہ سے بھارت ترقی کی اس بلندی پر نہیں پہنچ پایا، جس کا بھارت حقدار ہے۔ آزادی کے وقت، اس دور میں ہمارے ساتھ اور بھی کئی ملک آزاد ہوئے تھے۔ زیادہ تر ملک ہم سے بہت آگے نکل گئے، اور اس کی وجہ تھی، کہ کانگریس ہر ریفارم کو روک کر بیٹھی رہی۔ لٹکانا-بھٹکانا-اٹکانا یہی کانگریس کا اصول رہا ہے، یہی کانگریس کا ورک کلچر رہا ہے۔ کانگریس نے پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کو لٹکایا، کانگریس نے پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم سے جڑے تنازعات کو لٹکایا، کانگریس نے او بی سی ریزرویشن کے فیصلے کو 40 سال تک لٹکائے رکھا۔ کانگریس نے فوجیوں کے لیے ون رینک ون پینشن کو 40 سال تک روکے رکھا۔

ساتھیو،

کانگریس کے اس رویے نے ہمیشہ ملک کا بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ کانگریس کی ہر مخالفت، ہر ہچکچاہٹ، ہر فریب-دھوکے کا خمیازہ ملک نے بھگتا ہے، ملک کی نسلوں نے بھگتا ہے۔ آج ملک کے سامنے جتنے بھی بڑے چیلنجز ہیں، وہ کانگریس کے اسی رویے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے، یہ لڑائی صرف ایک قانون کی نہیں ہے، یہ لڑائی، کانگریس کی اس اینٹی ریفارم ذہنیت کے ساتھ ہے، جس میں صرف منفیت ہے، نکاراتمکتا ہے۔ اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے، کہ ملک کی تمام بہنیں-بیٹیاں، کانگریس کی اس ذہنیت کو کرارا جواب دے کر رہیں گی۔

ساتھیو،

کچھ لوگ ملک کی خواتین کے خواب ٹوٹنے کو حکومت کی ناکامی بتا رہے ہیں۔ لیکن، یہ موضوع کام یابی یا ناکامی کے کریڈٹ کا تھا ہی نہیں۔ میں نے پارلیمنٹ میں بھی کہا تھا، آدھی آبادی کو ان کا حق مل جانے دیجیے، میں اس کا کریڈٹ، اشتہار چھپوا کر اپوزیشن کے سبھی لوگوں کو دے دوں گا۔ لیکن، خواتین کو دقیانوسی سوچ سے دیکھنے والے پھر بھی اپنے جھوٹ پر اڑے رہے، قائم رہے!

ساتھیو،

ناری شکتی کو شراکت دلانے کی لڑائی دہائیوں سے چل رہی ہے۔ برسوں سے میں بھی اس کے لیے کوشش کرنے والوں میں سے ایک ہوں۔ کتنی ہی خواتین یہ موضوع میرے سامنے اٹھاتی رہی ہیں۔ کتنی ہی بہنوں نے خط کے ذریعے مجھے ساری باتیں بتائی ہیں۔ میرے ملک کی مائیں-بہنیں-بیٹیاں، میں جانتا ہوں، آج آپ سب دکھی ہیں۔ میں بھی آپ کے اس دکھ میں دکھی ہوں۔ آج بھلے ہی، بل پاس کرانے کے لیے ضروری 66 فیصد ووٹ ہمیں نہیں ملا ہو، لیکن میں جانتا ہوں، ملک کی 100 فیصد ناری شکتی کا آشیرواد ہمارے ساتھ ہے۔ میں ملک کی ہر عورت کو یقین دلاتا ہوں، ہم خواتین کے ریزرویشن کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کر کے رہیں گے، ہٹا کر کے رہیں گے۔ ہمارا حوصلہ بھی بلند ہے، ہماری ہمت بھی اٹوٹ ہے اور ہمارا ارادہ بھی اٹل ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کرنے والی پارٹیاں، یہ ملک کی ناری شکتی کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ان کی شرکت بڑھانے سے کبھی بھی روک نہیں پائیں گی، صرف وقت کا انتظار ہے۔ ناری شکتی کے بااختیار بنانے کا بی جے پی-این ڈی اے کا عزم غیر متزلزل ہے۔ کل ہمارے پاس عددی اکثریت نہیں تھی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ہار گئے۔ ہماری قوتِ ارادی ناقابلِ تسخیر ہے۔ ہماری کوشش رکے گی نہیں، ہماری کوشش تھمے گی نہیں۔ ہمارے پاس آگے ابھی اور مواقع آئیں گے، ہمیں آدھی آبادی کے خوابوں کے لیے، ملک کے مستقبل کے لیے، اس عزم کو پورا کرنا ہی ہے۔ آپ سب کا شکریہ۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 6030