پی ایم انڈیا

نئی دہلی،25؍دسمبر:اترپردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل جی، مرکزی کابینہ کے میرے سینئر ساتھی اور اسی سرزمین کی نمائندگی کرنے والے جناب راجناتھ سنگھ جی، یہاں کے قابل وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، نائب وزیر اعلیٰ جناب کیشو پرساد جی، دنیش ورما جی، قانون ساز اسمبلی کے صدر جناب نارائن دکشت جی، یوپی حکومت کے وزراء، یوپی کے اراکین پارلیمنٹ اور یہاں موجود خواتین و حضرات۔
لکھنؤ کے رکن پارلیمنٹ میرا استقبال کیا، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے استقبال کا تو کاشی کا رکن پارلیمنٹ شکریہ کہتا ہے۔ آج میری خوش قسمتی ہے کہ بے حد اہم دوسرے پروگراموں میں مجھے آنے کا موقع ملا ہے اور دونوں پروگرام میں مجھے اٹل بہاری واجپئی جی کو یاد کرنے کا، ان کے وژن کے احترام کرنے کا موقع میسر ہوا۔
یہاں آنے سے پہلے میں دہلی میں اٹل جل یوجنا کا افتتاح کررہا تھا۔ 6 ہزار کروڑ روپے کے اس یوجنا کے تحت اترپردیش سمیت ملک کی 7 ریاستوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری لانے کے لئے کام کیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی آج ہماچل پردیش کو لداخ سے جوڑنے والی روہتانگ سرنگ کا نام بھی اٹل ٹرنل کے نام پر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی اتفاق ہے کہ آج گورننس کا دن ہم منا رہے ہیں، تب اترپردیش کی حکومت جس بھون سے چلتی ہے، وہاں اٹل جی کے مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ ان کا یہ بڑا مجسمہ لوک بھون میں کام کرنے والے لوگوں کو سشاسن کی، عوامی خدمت کے لئے بے پناہ جذبہ دیتا رہے گا۔
ساتھیو! اس کے علاوہ اٹل جی کو وقف شدہ اٹل میڈیکل یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، جو لکھنؤ برسوں تک اٹل جی کے کام کرنے کی سرزمین رہی۔ اٹل جی کی پارلیمنٹ کی سیٹ رہی ہو اور وہاں آکر تعلیم سے جڑے، صحت سے جڑے ادارے کا سنگ بنیاد رکھنا، جس کو بھی موقع ملے گا وہ زندگی میں اسے اپنی خوش قسمتی مانے گا۔ میرے لئے بھی یہ آج خوش قسمتی کا لمحہ ہے۔
جب اٹل جی یہاں سے رکن پارلیمنٹ تھے، تب انہوں نے یہاں ترقی کے متعدد پروگراموں پر کام شروع کروایا تھا۔رنگ روڈ کا کام ہو، پرانے لکھنؤ میں ڈرینیج نظام ہو، یہاں کے ہوائی اڈے کی جدید کاری ہو، والمیکی امبیڈکر آواس یوجنا ہو، بایوٹیک پارک ہو، لکھنؤ کو نئی پہچان دینے والے سینکڑوں کام اٹل جی نے کئے تھے۔ اب رکن پارلیمنٹ کے طورپر جناب راج ناتھ سنگھ اس وراثت کو سنبھال رہے ہیں، سنوار بھی رہے ہیں۔
ساتھیو! اٹل جی کہتے تھے کہ زندگی کو ٹکڑوں میں نہیں دیکھا جاسکتا، اس اجتماعیت میں دیکھنا ہوگا۔ یہ بات حکومت کے لئے بھی اتنی ہی سچ ہے اور بہترین حکمرانی کے لئے بھی اور سشاسن کے لئے یہی رہنما اصول ہے۔
بہترین حکمرانی تبھی تک ممکن نہیں ہے، جب تک ہم مسائل کو مکمل طورسے اجتماعیت کے ساتھ نہ سوچیں گے، نہ اسے سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ مجھے بے حد اطمینان ہے کہ یوگی جی سرکار بھی اجتماعیت کی سوچ کو حقیقت میں لانے کے لئے بھرپور کوشش کررہی ہے۔
اٹل میڈیکل یونیورسٹی بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ یونیورسٹی یوپی میں میڈیکل کی پڑھائی اور اس کو طاقت دے گی، نصاب سے لے کر امتحان تک یکساں یکسانیت اور قدرتی انفرادیت کا جذبہ پیدا کرے گی۔
میڈیکل کالج ہو،ڈینٹل کالج،پیرامیڈیکل کالج ہو، نرسنگ ہو،طب سے متعلق ہر نصاب،ہر ڈگری ہو، آپ اسی کی نگرانی میں،یہ یونیورسٹی ان تمام نظام اورشعبوں کو آگے بڑھائے گی۔
سرکاری ہو، نیم سرکاری ہو یا نجی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہو، سبھی کا الحاق اس یونیورسٹی سے اب ہونے والا ہے۔ایک طرح کے تعلیمی سیشن لاگو ہوگا،امتحانات شفاف طریقے سے وقت پر ہوں گے۔ اس یونیورسٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یوپی میں میڈیکل کی تعلیم کے معیار میں مزید بہتری آنے والی ہے۔
ساتھیو! اترپردیش سمیت پورے ملک کےصحت کےشعبےکی ترقی کے لئے ہمارا وژن اورسمت پہلےدن سےہی واضح ہوچکی ہے۔ ہم نےصحت کوبہتر بنانےکے ساتھ ساتھ اس سےوابستہ سہولیات پربھی توجہ دی ہے۔
صحت کے شعبےکےلئے حکومت کا روڈ میپ یہ ہے۔
پہلا- صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر پر زوردینا چاہئے،
دوسرا- سستی صحت کی نگہداشت،اسے زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کی کوشش کی جائے،
تیسرا-رسد سے متعلق اقدامات،یعنی اس شعبے کے ہر مطالبے کے پیش نظرفراہمی کویقینی بنانا
اورچوتھا-مشن پر مبنی اقدامات، یعنی صحت سے جڑی اسکیموں کو مشن موڈ پر چلانا۔ اگر آپ حکومت کی ساری اسکیمیں دیکھتے ہیں،تو وہ اسی راستے سےگزرتے ہیں، وہ اسی نقشے پر آگے بڑھتے ہیں۔
ساتھیو!بیماری پر ہونے والے اخراجات کو بچانے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ بیمار ہونے سے بچیں۔ یہ بچاؤ والی نگہداشت ہےاوراس کے لئےہم لوگوں کو جتنا زیادہ بیدار کریں گے،اتنا لوگوں کا شعور بیدار ہوگا، عام لوگ اس کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوں گے،ان میں جتنی قوت دفاع بڑھے گی،جسم اتنا ہی صحت مند ہوگا۔
سوچھ بھارت-ایک طرح سے اگر امتناعی حفظان صحت کی ایک بڑی مہم ہے تو، یوگا سے بچاؤ والی ہیلتھ کیئر کیلئے صفر لاگت والی حفظان صحت ہے۔
اجولا یوجنا سے دھوئیں سے ماؤں کونجات دلانا۔یہ بھی امتناعی حفظان صحت کا بھی کام ہے، تو دوسری طرف ملک کے ہر ایک شہری کو فٹ انڈیا تحریک کا حصہ بناکرکے اس کو فٹ رہنے کے لئے ترغیب دینا، اس کے ساتھ آیوروید کو بڑھاوا دینا، کیونکہ آج کل مجموعی حفظان صحت کی مانگ بڑھتی چلی رہی ہے۔
ہر کوئی اس کے مضر اثرات سے بچنا چاہتا ہے اور اس میں آیوش ، آیوروید یہ بہت بڑا کردار ادا کرسکتےہیں، تو ایسی ہر پہل بیماریوں کی روک تھام میں اپنا اہم تعاون دے رہی ہے۔ امتناعی حفظان صحت کے لئے ہم جتنا زوردیں گے، اتنا ہی صحت کے شعبے کے لئے ہماری الجھنیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ایک طرف جہاں اس سے متعدی بیماریوں کی روک تھام میں مدد فراہم ہورہی ہے، وہیں دوسری طرف یہ ان بیماریوں کےعلاج میں مؤثر ثابت ہورہا ہے، جو طرز زندگی کی وجہ سےپیدا ہوتی ہیں۔
ساتھیو! امتناعی حفظان صحت کی ہی ایک کڑی ہے۔ ملک کے دیہی علاقوں میں سوالاکھ سے زیادہ علاج و معالجہ مراکز کی تعمیر ۔ یہ مرکز بیماری کے ابتدائی علامات کے علاج اور ان کا جلد علاج کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اسی طرح حکومت کا خصوصی زورحفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو بڑھانے پر بھی رہا ہے۔ نئے ٹیکے کے اضافے کے ساتھ ہم دور دراز علاقوں تک حفاظتی ٹیکوں کی مہم بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
ان دنوں ہم لوگ اور میں نے، کانپور میں اسے لانچ کیا تھا۔یہ جانوروں کی صحت کے ساتھ ساتھ خوراک اور منہ کے امراض والا ۔ یہ بھی جانوروں کاآروگیہ بھی انسانی عناصر کے لئے بھی امتناعی حفظان صحت کے لئے بھی مفید ہے۔ اگر جانور بیمار نہیں ہے تو بیماری پھیلانے کا وہ سبب بھی نہیں بنتاہے، یعنی ایک طرح سےجامع نقطہ نظر کو ہمیں ضرورت کے مطابق زور دیتے ہوئے آگے بڑھانا ہوگا۔
ساتھیو! ہیلتھ کے دوسرے جزو ، یعنی سستی امتناعی حفظان صحت کو فروغ دینے کے لئے، اس کے لئے بھی حکومت کے ذریعے کئی تاریخی قدم اٹھائے گئے ہیں۔
آیوشمان بھارت ک سبب ملک کے تقریباً 70 لاکھ غریب مریضوں کا مفت علاج ہوچکا ہے،یہ آیوشمان بھارت یوجنادنیا کی سب سے بڑی یوجنا ہے۔امریکہ،کینیڈا اور میکسیکو اس کی جو مکمل آبادی ہے اس سے کہیں زیادہ ہندوستان میں آیوشمان کے مستفدین کی فہرست ہے۔ اوراتنے کم وقت میں 70 لاکھ افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا ہےاور یہ وہ لوگ ہیں،جن میں سے بیشتر یہ مان کر بیٹھے تھے کہ اب موت کا ہی انتظار زیادہ بہتر ہوگا، جتنی جلدی موت آجائے ،اتنا ہی بہتر ہوگا۔ جتنے دن تک پریشانی جھیل سکتے ہیں، بیماری جھیل سکتے ہیں، جھیلتے رہیں گے، لیکن بچوں کو قرض میں ڈبوکر کے صحت کے لئے کچھ کرنا نہیں ہے، آپریشن کروانا نہیں ہے۔ دل کی بیماری کا علاج نہیں کروانا ہے، کینسر کا علاج بھی نہیں کروانا ہے۔ سب امید چھوڑ چکے تھے۔
لیکن آیوشمان بھارت یوجنا آنے کے بعد، اس کو ایک نئی زندگی، نیا اعتماد، نیا حوصلہ مل گیا اور ایک روپے کے خرچ کے بناء 70 لاکھ لوگوں کا علاج ہوگیا اور مجھے خوشی ہے کہ اترپردیش نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں کافی سرگرمی دکھائی ہے۔ صرف اترپردیش میں، قریب گیارہ لاکھ ایسے لوگوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے، 11 لاکھ لوک۔
اسی طرح، جن اوشدھی یوجنا- اس سے سستی دوائیں بھی مل رہی ہیں۔یعنی جو دوا بازار میں جاکر کے آپ لینے جاتے ہیں، 100 روپے لگتا ہے، جن اوشدھی کیندر میں وہ 30 سے 40روپے میں مل جاتی ہے، جن کو مستقل دوائیاں لینی پڑتی ہیں، ان لوگوں کو مہینے کا 800، 1000، 1200، 1500 روپے تک بل کی بچت ہورہی ہے۔ یعنی یہ پورے ملک میں جن اوشدھی کیندر بہت مقبول ہورہے ہیں اور لوگ جن اوشدھی کیندر کی دواؤں کو پسند کررہےہیں۔وہیں اسٹینٹس اور گھٹنے کے کیپس کی قیمت میں بھی کافی کمی لائی گئی ہے۔
ساتھیو! جیسے جیسے غریب سے غریب کو صحت خدمات دستیاب ہورہی ہے، ویسے ویسے حفظان صحت کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔مانگ بڑھ رہی ہے تو نئے نئے اسپتالوں ، نئے کلینک، نئے نرسنگ ہوم بننے کا راستہ کھلا ہے۔
پچھلے 5 سالوں میں ریکارڈ تعداد میں میڈیکل سیٹیں بڑھائی گئیں ہیں۔ اسی سال پورے ملک میں 75 نئے میڈیکل کالجوں کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک طرح سے یہ ہر تین لوک سبھا سیٹوں کے درمیان ایک میڈیکل کالج بنانے کے ہمارے وژن کو آگے بڑھانے والی ایک کامیاب کوشش ہے اور اس کا بہت بڑا فائدہ بھی اترپردیش کو مل رہاہے۔ پچھلے دو تین برسوں میں ہی اترپردیش میں دو درجن سے زیادہ میڈیکل کالج منظور کئے جاچکے ہیں، جن میں متعدد یاتو شروع ہوچکے ہیں یا پھر قیام کے عمل میں ہیں۔
ساتھیو! حکومت کے ذریعے خواتین اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لئے مشن موڈ میں قومی تغذیہ ابھیان سمیت متعد نئے پروگرام چلائے جارہے ہیں۔تپ دق(ٹی بی) کو ہندوستان سے 2025ء تک پوری طرح ختم کرنے کے لئے بھی قومی پروگرام چل رہا ہے۔ ملک کے لوگوں کی صحت کو سدھارنے میں بیماری پر ہونے والے کئی خرچ کو کم کرنے میں یہ چار چیزیں بہت اہم کردار نبھار ہی ہیں۔
ساتھیو!صحت عامہ کے شعبے میں ہو رہے اس بے مثال کام کا فائدہ یوپی میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سال،انسیفلائٹس کے معاملوں میں یوگی جی اور ان کی ٹیم نے اور یوپی کے عوام نے بہت ہی قابل تعریف کام کئے ہیں اور اس کے لئے آپ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔بین الاقوامی اداروں نے بھی دنیا کے مشہور و معروف اداروں نے بھی اترپردیش کی اس کامیابی کو سراہا اور اس کی تعریف بھی کی ہے۔
صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولیات کو گاؤں گاؤں تک رسائی کے لئے جومہم یہاں کی حکومت نے چلائی ہے ، وہ اترپردیش کے لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے کی سمت میں بڑا قدم ہے۔
اب ہماری یہ بھی کوشش ہونی چاہئے کہ قومی تغذیہ مشن اورمشن اندر دھنش کے کام اور ہم اور تیز کریں ، تاکہ آنے والے وقت میں اترپردیش کا ہر بچہ محفوظ رہے، ہرشہری صحت مند رہے۔
ساتھیو! آج بہتر حکمرانی کے دن کے موقع پر ،ایسے وقت میں جب ہم نئے سال اور نئی دہائی میں داخل ہونے جارہے ہیں، تب ہمیں اٹل جی کی ایک اور بات ضرور یاد رکھنی چاہئے۔ اٹل جی کہتے تھے کہ ہر نسل کے بھارت کی ترقی میں تعاون کا جائزہ دو باتوں کی بنیاد پر ہوگااور یہ دونوں پیمانے ہر شہری کے لئے ہیں۔ ہم کوئی بھی کام کریں، دونوں پیمانےاپنے سامنے رکھ کرکریں۔ اٹل جی نے ہمیں جو راستہ دکھایا ہے، ان دو میں پہلا ہے-ہمیں جو وراثت میں ملی، کتنے مسائل کو سلجھایا ہے؟ یہ پہلا پیمانہ ہے۔ وراثت میں مسائل آئے ہیں، آتے ہیں، لیکن ہم نے جو وراثت میں ملے، وہ مسائل کو سلجھایا ہے اور دوسرا،ہم نے اپنی کوششوں سے قوم کی مستقبل کی ترقی کی بنیاد کس قدر مضبوط رکھی ہے؟
ساتھیو!ان دونوں سوالات کی روشنی میں، آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ 2020 ء کے سال میں،ہندوستان بے مثال کامیابیوں کے ساتھ داخل ہورہا ہے۔ ہمیں جو بھی معاشرتی،معاشی اور سیاسی مسائل اور چیلنجز وراثت میں ملے ہیں،ہم ان کو حل کرنے کیلئے مستقل کوشش کر رہے ہیں۔
دفعہ 370 کتنی پرانی بیماری تھی، کتنا مشکل لگتا تھا، ہمیں وراثت میں ملی تھی،لیکن ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم اس طرح کے مشکل اور مشکل چیلنجوں کو حل کرنے کی پوری کوشش کریں اور یہ ہوا، یہ آسانی سے ہوا۔ سب کے عقائد متزلزل ہو گئے۔
رام جنم بھومی کا اتنا پرانا معاملہ، پُر امن حل- ہندوستان آزاد ہوا، تقسیم ہوا تب سے لے کر کے لاکھوں غریب۔ اس میں بھی زیادہ تر دلت،محروم اور استحصال کا شکار ہیں۔ پہنے کپڑے پہن کر،اپنا مذہب بچانے کے لئے،اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کے لئے جو لوگ پاکستان، بنگلہ دیش،افغانستان سے ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے،ایسے مہاجرین کو شہریت کا وقار دینے کا ایک ایسا طریقہ،ایسے کئی معاملات کا حل اس ملک کے 130 کروڑ ہندوستانی شہریوں نے کو نکال لیا ہے۔
یہ اعتماد سے پرُ ہندوستان 2020 ءمیں داخل ہورہا ہے، ایک نئی دہائی میں قدم رکھ رہا ہے اور ابھی بھی جو باقی ہےان کے حل کے لئے بھی پوری قوت کے ساتھ ہر شہری کوشش کر رہا ہے۔ چاہے ہر غریب کو مکان مہیا کرانا ہے، ہر گھر کو پانی مہیا کراناہے۔ کتنے ہی بڑے چیلنجز ہوں گے،ہم چیلنجوں کو چیلنج دینے کے جذبے کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
ساتھیو! 2014 ءسے لے کر 2019 ءتک کے عرصے میں،ہم نے چیلنجوں کو چیلنج دینے کا ایک بھی موقع نہیں گنوایا۔ 2014ءسے پہلے، ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کے پاس بیت الخلاءنہیں تھا، اب بیت الخلاء پہنچ چکا ہے۔
کروڑوں غریب خاندان، ہماری مائیں اوربہنیں، کچن میں دھوئیں میں زندگی بسر کرتی تھیں، اب ہر گھر میں رسوئی گیس پہنچ رہی ہے۔
ہزاروں گاؤں، ہزاروں کنبے اندھیرے میں زندگی گزارنے کے لئے مجبور تھے،اب ان کے گھر وں میں بجلی پہنچ رہی ہے۔
نصف سے زیادہ آبادی بینک سے دورتھی، اس کے لئے بینکوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
کروڑوں غریب خاندانوں کے پاس اپنا مکان نہیں تھا، تقریباً دو کروڑ کنبہ کے گھر بن چکے ہیں، 2022 تک ہر غریب جو بے گھر ہے اس کو اپنا پختہ مکان دینے کے لئے کام تیزی سے چل رہا ہے۔
گاؤں گاؤں تک سڑک پہچانے کا کام، ریلوے کنکٹی وٹی پہنچانے کا کام تیزی سے چل رہا ہے اور سال 2024ء تک ہر گھر میں پینے کا صاف پانی پہچانے کے عہد کو سچ کرنے کے لئے بھی ہم پوری محنت کے ساتھ جٹ چکے ہیں۔
یہی حل نئے ہندوستان کی ترقی کے لئے ٹھوس بنیاد تیار کررہے ہیں۔
اسی ٹھوس بنیاد پر ہم 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے عزم کو ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے ملک کو ساتھ لے کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، تاکہ کروڑوں ہندوستانیوں کی معیار زندگی بلند ہو، غریب سے غریب ترلوگوں کو بھی وقار اور عزت حاصل ہو۔
ساتھیو! یہی تو اچھی حکمرانی ہے، یہی تو سوراج ہے، جس کا تصور اٹل بہاری واجپئی جی اور محترمہ مالویہ جی سمیت تمام قوم کے معماروں نے کیا تھا۔
ہماری سرکار کے لئے بہتر حکمرانی کا مطلب ہے-
سنوائی، سب کی ہو۔
سہولت ہر شہری تک پہنچے۔
مواقع، ہر ہندوستانی شہری کو ملے۔
تحفظ،ملک کا ہر ایک شہری اس کا تجربہ کرے۔
اور دسترس،حکومت کے ہر نظام کو یقینی بنانا ہے۔
ہمارے لئے گڈ گورننس کا واحد منتر ہے سب کا ساتھ،سب وکاس اور سب کا وشواس۔
اسی جذبے اور روح کے ساتھ ہم سب متحد ہوئے ہیں۔
ساتھیو! ہماری مستقل کوشش رہی ہے کہ حکومت سے اقتدار کی خوشی سے دور کیا جاسکےاور اس کی جگہ خدمت کے سنسکار پیدا کیے جائیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے،جب ایک عام آدمی کی زندگی میں حکومت کے دخل کو جتنا کم ہوسکے، کم کرنی کی کوشش کرنی چاہئے۔
ہماری کوشش ہے کہ سرکاراٹکانے کے بجائے، الجھانے کے بجائے سلجھانے کا بنے۔ اگر آپ اس حکومت کا جائزہ لیں گے تو، یہی کوشش ہر قدم پر محسوس کریں گے۔
اب ملک دستاویزات کے اٹسٹیشن کے تصدیق سے دور سے باہر نکل رہا ہے۔آپ نے خود سے تصدیق کردی، خود ذمہ داری لے لی یہ سرکار کے لئے کافی ہے۔
آج زیادہ تر سرکاری خدمات کو آن لائن کردیا گیا ہے۔ ڈیجیٹائزیشن کردیا گیا ہے۔جن میں پیدائشی سرٹیفکیٹ سے لے کر پنشن کے لئے ضروری لائف سرٹیفکیٹ تک، زیادہ تر خدمات آن لائن ہے۔ ۔ پہلے جہاں کاغذوں، دستاویزات اور سرکاری دفتروں کے چکر میں ہی ایک عام آدمی پھنسا رہتا تھا، اب زندگی بہت آسان ہورہی ہے۔
ساتھیو! ہم بہتر حکمرانی کے اس مرحلے کی طرف گامزن ہیں، جہاں عوام کو درخواست کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کے گھر جاکر درخواست کرے کہ کہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ آج عوامی مفادات کی ساری اسکیمیں چل رہی ہیں، مستفید افراد کے انتخاب سے لے کر ٹیکنالوجی کے فوائد تک، ڈیٹا سائنس کا بھر پور استعمال کیا جارہا ہے۔
براہ راست فائدہ ہو اور ڈیلیوری جلد ہو، ٹارگیٹیڈ ہو، یہ ہم نے حکومت کے کام کرنے کا طریقہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسی سے شفافیت بھی آرہی ہے۔ عوام کی خدمت بھی تیزی سے ہورہی ہے اور ملک کے ایماندار ٹیکس دہندگان کا پیسہ بھی بچ رہا ہے۔
ساتھیو! آج اٹل سدھی کی اس سرزمین سے، میں اس جگہ کے ہر شہری ، یوپی کے نوجوان ساتھیوں سے ایک اور درخواست کرنے آیا ہوں۔
آزادی کے بعد ہم نے برابری کو دیکھا ہے، آزادی کے بعد کے سالوں میں، ہم نے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، لیکن اب جب ہم آزادی کی 75ویں سال کی طرف گامزن ہیں، اگر ہم آج آزادی کے دیوانوں کے سپنوں کو آج اگر ہم تولتے ہیں تو وقت کی مانگ ہے کہ اب تک بھلے ہم نے حقوق پر زور دیا ہو، لیکن اب وقت کا مطالبہ ہے کہ ہمیں اپنے فرائض اور اپنی ذمہ دارویوں پر یکساں زور دیں۔
یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ یوپی میں جس طرح کچھ لوگوں نے احتجاجی مظاہروں کے نام پر تشدد کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانایا، وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر ایک بار خود سے سوال پوچھیں کہ ان کا یہ راستہ صحیح تھا۔ یہ جوکچھ بھی جلایاگیا، بربراد کیا گیا، کیا وہ ان کے بچوں کو کام آنے والا نہیں تھا۔
اس مظاہرے میں، تشدد میں جن لوگوں کی موتیں ہوئیں، جو عام شہری زخمی ہوا، پولس والے زخمی ہوئے ، ان کے اور ان کے خاندان والوں کے تئیں پل بھر ہم سوچیں کہ کیا بیتتی ہوگی؟ اس لئے میں گزارش کروں گا کہ جھوٹی افواہوں میں آکر تشدد کرنے والوں کو سرکاری املاک برباد کرنے والوں کو میں بہت گزارش کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ بہتر سڑک، بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم، بہتر سیور لائن، شہریوں کا حق ہے، تو اس کو محفوظ رکھنا، صاف ستھرا رکھنا بھی تو شہریوں کا فرض ہے۔
حق اور فرائض کو ہمیں ساتھ ساتھ اور ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔
اچھی تعلیم،قابل رسائی تعلیم ہمارا حق ہے،لیکن تعلیم کےاداروں کی حفاظت،اساتذہ کا احترام،یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
طبی سہولت ہمارا حق ہے،لیکن ڈاکٹروں کی حمایت اور ان کا احترام کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
محفوظ ماحول ہمارا حق ہے، لیکن سیکورٹی کے ذمہ دار پولیس سسٹم کے کام کا احترام کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
حق کا وقار ہے،اس کی گنجائش ہے،ایک حد ہے، لیکن فرض کا احساس، فرض کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
ساتھیو!یہ احساس شہریوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے لئے بھی، ہر نظام حکومت کے لئے بھی اتنا ہی اہم ہے۔
حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ 5 سال کے لئے نہیں، بلکہ 5 نسلوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا کام کرنے کی عادت بنائیں۔ مجھے اطمینانہ ہے کہ یوپی سرکار اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے۔
آئیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں کریں، اپنے اہداف کو حاصل کریں،یہی اچھی حکمرانی اور یہی آج کا دِوس ، اٹل جی کو یاد کرتے ہوئے ہم لوگوں کا عہدہونا چاہئے، یہی عوام کی توقع ہے، یہی ہم سب کے لئے اٹل بہاری واجپائی کی تعلیم ہے۔
ایک بار پھر اترپردیش کے لوگوں کو اٹل میڈیکل یونیورسٹی کے لئے بہت بہت مبارکباد کے ساتھ ،آ پ سب کو بھی بہت سی نیک خواہشات کے ساتھ ،کچھ دنوں کے بعد نیا سال شروع ہوگا۔ اس نئے سال کے لئے بھی، جب بہت دور نہیں ہے، ہفتہ بھر ہے۔ آپ سبھی کو، اترپردیش کے لوگوں کو سال 2020ء کے لئےبھی بہت ساری نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ!
********************
م ن۔م ع ۔ ن ع
U-6041
In Lucknow today, I had the honour of laying the foundation stone for the Atal Bihari Vajpayee Medical University.
— Narendra Modi (@narendramodi) December 25, 2019
As you all know, Atal Ji and Lucknow had a strong bond. As Lucknow’s MP, he undertook numerous efforts to transform the city. pic.twitter.com/mo8K32AOxC
Comprehensive roadmap towards a healthier India. pic.twitter.com/iJpg17whoC
— Narendra Modi (@narendramodi) December 25, 2019
Atal Ji had two very simple benchmarks to assess how a government could contribute towards national progress.
— Narendra Modi (@narendramodi) December 25, 2019
We have always worked keeping in mind the tenets of Atal Ji. pic.twitter.com/Wp1jAmGZdK
In addition to rights, let us give as much importance to our duties as citizens. pic.twitter.com/3L6xdIsFOd
— Narendra Modi (@narendramodi) December 25, 2019
ये भी संयोग है कि आज सुशासन दिवस के दिन, यूपी का शासन जिस भवन से चलता है, वहां अटल जी की प्रतिमा का अनावरण किया गया है।
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
उनकी ये भव्य प्रतिमा, लोकभवन में कार्य करने वाले लोगों को सुशासन की, लोकसेवा की प्रेरणा देगी: PM @narendramodi
इसके अलावाअटल जी को समर्पित अटलमेडिकल यूनिवर्सिटी का शिलान्यास किया गया है।
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
जो लखनऊ, बरसों तक अटल जी की संसदीय सीट रही हो, वहां आकर, शिक्षा से जुड़े, स्वास्थ्य से जुड़े संस्थान का शिलान्यास करना मेरे लिए सौभाग्य की बात है: PM @narendramodi
अटल जी कहते थे, कि जीवन को टुकड़ों में नहीं देखा जा सकता, उसको समग्रता में देखना होगा। यही बात सरकार के लिए भी सत्य है, सुशासन के लिए भी सत्य है। सुशासन भी तब तक संभव नहीं है, जब तक हम समस्याओं को संपूर्णता में,समग्रता में नहीं सोचेंगे: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
हेल्थ सेक्टर के लिए सरकार का रोड मैप है-
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
पहला- Preventive healthcare पर काम करना,
दूसरा- Affordable healthcareका विस्तार करना,
तीसरा- Supply Side Interventions,यानि इस सेक्टर की हर डिमांड को देखते हुए सप्लाई को सुनिश्चित करना और चौथा- Mission Mode intervention:PM @narendramodi
स्वच्छ भारत से लेकर योग तक, उज्ज्वला से लेकर फिट इंडिया मूवमेंट तक और इन सबके साथ आयुर्वेद को बढ़ावा देने तक- इस तरह की हर पहल बीमारियों की रोकथाम में अपना अहम योगदान दे रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
Preventive Health Care की ही एक कड़ी है- देश के ग्रामीण इलाकों में सवा लाख से ज्यादा वेलनेस सेंटरों का निर्माण। ये सेंटर बीमारी के शुरुआती लक्षणों को पकड़कर, शुरुआत में ही उनके इलाज में मददगार साबित होंगे: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
आयुष्मान भारत के कारण देश के करीब 70 लाख गरीब मरीजों का मुफ्त इलाज हो चुका है, जिसमें करीब 11 लाख यहीं यूपी के हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
स्वच्छता और स्वास्थ्य सुविधाओं को गांव-गांव तक सुलभ कराने का जो अभियान यहां की सरकार ने चलाया है, वो यूपी के लोगों के जीवन को आसान बनाने की दिशा में बड़ा कदम हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
हमारी सरकार के लिए सुशासन का अर्थ है-
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
सुनवाई, सबकी हो।
सुविधा, हर नागरिक तक पहुंचे।
सुअवसर, हर भारतीय को मिले।
सुरक्षा, हर देशवासी अनुभव करे।
और सुलभता, सरकार के हर तंत्र की सुनिश्चित हो: PM @narendramodi
आज अटल सिद्धि की इस धरती से मैं यूपी के युवा साथियों को, यहां के हर नागरिक को एक और आग्रह करने आया हूं।
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
आजादी के बाद के वर्षों में हमने सबसे ज्यादा जोर अधिकारों पर दिया है, लेकिन अब हमें अपने कर्तव्यों, अपने दायित्वों पर भी उतना ही बल देना है: PM @narendramodi
हक और दायित्व को हमें साथ-साथ और हमेशा याद रखना है।
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019
उत्तम शिक्षा, सुलभ शिक्षा हमारा हक है, लेकिन शिक्षा के संस्थानों की सुरक्षा, शिक्षकों का सम्मान, हमारा दायित्व है: PM @narendramodi
हम अपना दायित्व निभाएं, अपने लक्ष्यों को प्राप्त करें, यही सुशासन दिवस पर हमारा संकल्प होना चाहिए, यही जनता की अपेक्षा है, यही अटल जी की भी भावना थी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 25, 2019