Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

مرکزی کابینہ نے دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں کے 40لاکھ باشندوں کے لئے ملکیت یارہن ؍منتقلی حقوق عطاکرنے ؍تسلیم کرنے کے لئے ضابطوں کی منظوری دی


 

نئی دہلی،23؍اکتوبر:مرکزی کابینہ نے دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں(یو سی) کے باشندوں کے لئے ملکیت یارہن؍منتقلی حقوق عطاکرنے؍تسلیم کرنے کے لئے ضابطوں کی منظوری دی۔مزید برآں مرکزی کابینہ نے اس تجویز کو نافذ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں ایک بل لانے کی بھی منظوری دی ہے۔

دہلی کی غیر منظورشدہ کالونیوں میں رہائش پذیر لوگوں پر ہونے والے اہم اثرات اور فوائد:

  • مرکزی کابینہ کے اس فیصلے سے تقریباً 175 مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں میں رہنے والے 40  لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوگا، کیونکہ اب ان کالونیوں میں ترقیاتی کام؍از سر نوترقیاتی کام ممکن ہوسکے گا ۔اس کے نتیجے میں زندگی بسر کرنے کے لئے ایک صاف ستھرا محفوظ اور صحت مند ماحول پیدا ہوگا۔
  • اس تاریخی فیصلے سے دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں کے باشندوں کو درپیش متعدد اہم معاملات مثلاًملکیت؍منتقلی کے حقوق کی کمی، بنیادی    ڈھانچےکی کمی اور شہری سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد فراہم ہوگی۔
  • املاک کے دستاویز ات کو تسلیم کر لینے سے دہلی کی غیر منظور شدہ کالونیوں میں املاک کے مالکان اب جائز طریقے سے اپنی املاک کی خریدو فروخت کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کالونیوں کی جائیداد کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کے اس فیصلے سے جائیداد کے مالکان کو محفوظ طریقہ کار سے سرمایہ کاری کرنے کے لئے تحریک ملے گی۔اس طرح سے ان کالونیوں میں رہائش پذیر لوگوں کے زندگی کے بسر کرنے کے انداز میں واضح طورپر بہتری آئے گی۔
  • یہ فیصلہ 1797ءنشان زد غیر منظور شدہ کالونیوں کے لئے قابل اطلاق ہوگا۔ان کالونیوں میں کم آمدنی والے افراد ، گروپ اور معاشرے بستے ہیں۔یہ فیصلہ دہلی  ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)کے ذریعے نشان زد 69متمول کالونیوں مثلاً سینک فارم، مہیندرو انکلیو اور آننت رام ڈیئری کے لئے قابل اطلاق نہیں ہوگا۔
  • جائیداد ؍املاک کے مالکان کو کارپیٹ ایریا؍پلاٹ سائز کی بنیاد پر معمولی چارج کے عوض حقوق عطا کئے جائیں گے۔سرکاری زمین پر آباد کالونیوں کے لئے یہ چارج غیر منظور شدہ کالونیوں کے آس پاس رہائشی علاقے کے سب سے اعلیٰ زمرے کے سرکل ریٹ کا 0.5فیصد(100مربع میٹر سے کم کے لئے)، 1 فیصد (100تا 250مربع میٹر) اور 2.5 فیصد (250مربع میٹر سے زیادہ کے لئے) رہے گا۔
  • نجی اراضی پر آباد کالونیوں کے لئے یہ چارج سرکاری زمین کے چارج سے نصف ہوگا۔

تفصیلات:

  • پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں مرکزی حکومت جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے)، وصیت نامہ ،   فروخت سے متعلق معاہدہ، خریداری اور جائیداد کی تحویل سے متعلق دستاویزات کو تسلیم کرنے کے لئے ایک بل متعارف کرائے گی، جو کہ غیر منظورشدہ کالونیوں(یو سی) کے لئے اس مقصد کے تحت یکبارگی چھوٹ ہوگی۔
  • یہ بل آخری لین دین پر رجسٹریشن چارج اور اسٹیمپ ڈیوٹی مہیا کرائے گا اور سرکل ریٹ کےچارجز سے کم اکاؤنٹ پر آمدنی ٹیکس کے مسئلے کو بھی حل کرے گا۔
  • دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ڈی ڈی اے)جائیداد کی کفایت نامہ اور رجسٹریشن  جاری کرنے کے لئےایک آسان طریقہ کار وضع کرے گی۔
  • ڈی ڈی اے کے ذریعے غیر منظور شدہ کالونیوں ؍غیر منظورشدہ جھگیوں کی سرحدوں کا خاکہ تیا رکیاجائے گا۔
  • ڈی ڈی اے تمام غیر منظور شدہ کالونیوں کے لئے مقامی علاقہ پلان (ایل اے پی)تیار کرے گی۔
  • کوئی جرمانہ اور باہری ترقیاتی  چارجز (ای ڈی سی)نہیں رہیں گے۔
  • متعدد پلاٹوں ؍فلیٹوں کے مالکان کو تمام جائیداد کو ایک ساتھ ملا کر اس علاقے کے لئے قابل اطلاق شرح سے چارچز ادا کرنے ہوں گے۔
  • غیر منظور شدہ باشندگان کو تین مساوی قسطوں میں چارج ادا کرنے کا اختیار ہوگا، جس کو ایک سال کے اندر ادا کرنے ہوں گے۔
  • اگر کوئی شخص  ایک ہی قسط میں پوری رقم ادا کردیتا ہے تو اسے فوری طورپر مالکانہ حقوق حاصل  ہوجائیں گے۔دو قسطوں کی ادائیگی پر عبوری حقوق دیئے جائیں گے، جس کو مکمل اور آخری قسط کی رقم کی ادائیگی کے بعد حتمی       حقوق میں تبدیل کردیا جائے گا۔
  • تاخیر سے ادائیگی کرنے پر 8فیصد سالانہ کی شرح سے سود دینا ہوگا۔
  • رہائشی  مقصد کے لئے خواہ جیسے بھی اس کا استعمال کے لئے کفایت نامہ تیار کیا جائے گا۔

پس منظر:

  • 2008ء کے موجودہ ضابطوں کے مطابق غیر منظور شدہ کالونیوں کو منظوری دینے کا پورا عمل قومی خطہ راجدھانی دہلی کی حکومت (جی این سی ٹی ڈی)کے ذریعے  بڑے پیمانے پر مشتہر کرکے کیا جائے گا۔اس کی نگرانی بھی قومی خطہ راجدھانی دہلی کی حکومت ہی کرے گی۔ضابطوں کے مطابق غیر منظور شدہ کالونیوں کے حدود کا تعین اس پورےعمل کا نقطہ آغاز ہے۔قومی خطہ راجدھانی دہلی کی حکومت ضابطوں کے جاری ہونے کے 11برسوں کے بعد بھی ان کالونیوں کے حدود کا تعین نہیں کرسکی اور اس عمل کو مکمل کرنے کے لئے اس نے سال 2021 تک کا وقت مانگا ہے۔
  • دہلی کی ان غیر منظور شدہ کالونیوں میں رہائش پذیر لوگوں نے کبھی بھی محفوظ طریقہ کار کے تحت سرمایہ کاری نہیں کی ہے اور نہ ہی حکومت نے کبھی ان کالونیوں کے لئے کوئی سماجی بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے۔یہ کالونیاں بغیر   کسی منصوبے کے آباد ہوئیں۔ 2021 کا ماسٹر پلان دہلی 50 فیصد اضافی فلور ایریا تناسب(ایف اے آر) کے ساتھ ایک ترغیبات دے کر ان کالونیوں کی تزئین کاری کے لئے اجازت فراہم کرتاہے۔تاہم ان کالونیوں میں اب تک کوئی بھی تزئین کاری کا کوئی کام نہیں ہوا، کیونکہ جائیداد کے مالکان کے    پاس ملکیت کے حقوق نہیں ہیے۔
  • غیر منظور شدہ کالونیوں کے باشندگان کو ملکیت یا رہن ؍منتقلی حقوق  عطاکرنے؍تسلیم کرنے کے لئے مرکزی کابینہ کی منظوری سے دہلی کے لیفٹیننٹ  گورنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاکہ  یہ کمیٹی ملکیت یا منتقلی ؍جائیداد کے رہن کے حقوق دیئے جانے ؍تسلیم کرنے کے لئے طریقہ کار کی سفارش کرسکے اور اس طرح ایک منظم انداز میں ایسے علاقوں کی تزئین کاری کےلئے ایک موقع فراہم ہوسکے۔
  • کمیٹی کی سفارشات اور تمام شراکت داروں کے ساتھ صلاح و مشورہ کی بنیاد پر ترمیم شدہ ضابطوں کو نوٹیفائی کرنے کے لئے مذکورہ فیصلہ کیا گیا اور پارلیمنٹ میں ایک بل متعارف کرانے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

 

********

 

 

م ن۔م ع ۔ن ع

U: 4727