پی ایم انڈیا
نئیدہلی،14جون ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ڈیم سیفٹی بل 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کی منظوری دے دی ئ
فوائد :
اس بل سے ہندوستان کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باندھ یعنی ڈیمز کی حفاظت کا یکساں عمل اختیار کرنے میں معاونت ہوگی ،جس سے ڈیمز کی حفاظت کر یقینی بنایا جاسکے گا اور ان ڈیمز سے حاصل ہونے والے فوائد کی حفاظت کی جاسکےگی ۔علاوہ ازیں اس سے انسانی زندگی ،مویشیوں اور املاک کی حفاظت میں بھی معاونت ہوسکے گی۔
اس ڈیم بل کو معروف ہندوستانی ماہرین اور سرکردہ بین الاقوامی ماہرین سے وسیع تر مشاورت کے بعد قطعی شکل دی گئی ہے ۔
تفصیلات :
نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی :
اسٹیٹ کمیٹی آن ڈیم سیفٹی :
یہ کمیٹی ریاست کے تمام شناخت شدہ ڈیمز کی نگرانی ، جانچ ، آپریشن اور دیکھ بھال کو یقینی بنائے گا ۔اس کے ساتھ ہی یہ کمیٹی ان ڈیمز کے کام کاج کی بھی نگرانی کرے گی ۔علاوہ ازیں اس کمیٹی کی رو سے ہر ریاستی سرکار ایک’’ اسٹیٹ ڈیم سیفٹی آرگنائزیشن‘‘ قائم کرے گی ۔ اس تنظیم نے ڈیم ڈیزائننگ ، ہائیڈو میکنکل انجنئرین ، ہائیڈرولوجی ، جیو ٹیکنیکل انویسٹی کیشن ، انٹسرو مینٹیشن اور ڈیم ری ہیبلی ٹیشن کے شعبوں میں کام کرنے والے فیلڈ سیفٹی ڈیم کے محکموں کے افسرا ن ترجیحی طور پر شامل کئے جائیں گے ۔
پس منظر :
ہندوستان میں 5200 سے زائد بڑے ڈیم واقع ہیں اور 450 نئے ڈیم زیر تعمیر ہیں ۔علاوہ ازیں ملک میں ہزاروں اوسط درجے کے اور چھوٹے ڈیم بھی موجودہیں اور ڈیمز کی حفاظت کے قانونی اور ادارہ جاتی ضابطوں اور اصولوں کے فقدان کے نتیجے میں باندھ یعنی ڈیمز کی حفاظت ایک باعث تشویش مسئلہ بن گیا ہے ۔ غیر محفوظ ڈیمز خطرناک ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے زبردست تباہیاں ہوتی ہیں اور بڑے پیمانے پر جان ومال کا نقصان ہوتا ہے ۔
ڈیم سیفٹی بل 2018 میں باندھوں یعنی ڈیمز کی حفاظت سے متعلق تمام مسائل کا تدارک پیش کیا گیا ہے جن میں ڈیمز کی باقاعدہ جانچ ، ایمرجنسی ایکشن پلان ، ڈیم کی حفاظت کے امور کا جامع جائزہ ، ڈیمز کی حفاظت کی خاطر معقول مرمت اور دیکھ بھال کے لئے سرمائے کی فراہمی اور انسٹرومینٹیشن اینڈ سیفٹی مینول شامل ہیں ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔س ش ۔رم
U-3086