پی ایم انڈیا
نئی دہلی،28/جنوری۔
بھارت ماتا کی جے
بھارت ماتا کی جے
بھارت ماتا کی جے
بھارت ماتا کی جے
کابینہ کی میری رفیق، ملک کی پہلی خاتون جو وزارت دفاع کو سنبھالتی ہیں، محترمہ نرملا سیتا رمن جی، ڈاکٹر سبھاش بھامرے جی، تینوں افواج کےافسرانِ اعلیٰ، این سی سی کے ڈائریکٹر جنرل، بیرون ملک سےتشریف لائے ہوئے ہمارے مہمان اور این سی سی کی عظیم روایت کا حصہ آپ سب میرے نوجوان ساتھی۔
نیشنل کیڈٹس کارپس کے یوم جمہوریہ کیمپ میں ایک بار پھر آپ کے درمیان آنا ہر بار کی طرح مسرور کررہا ہے۔ جب بھی میں آپ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے آتا ہوں تو ماضی کی متعدد یادیں دل و دماغ میں ابھر آتی ہیں۔ جوش اور نظم و ضبط کے جو دن آپ جی رہے ہیں، مجھے بھی ان لمحات کو جینے کا موقع ملا ہے۔ ایک کیڈٹ کے طور پر گزارے گئے وہ دن آج تک میرے عزم کو، میری تحریک کو توانائی دے رہے ہیں۔
ساتھیو، اس کیمپ کا اپنے آپ میں ایک قابل فخر ماضی بھی ہے اور مستقبل کے تعلق سے اس کی بہت بڑی اہمیت بھی ہے۔ اس کیمپ کا حصہ بنے آپ سبھی کیڈٹس کو میں بہت بہت مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ گزشتہ برس جب میں آپ کے درمیان آیا تھا تو میں نے آپ سے کچھ گزارش کی تھی۔ ملک اور سماج سے متعلق اہم موضوعات میں سرگرم تعاون کے لئے آپ سے اپیل کی تھی۔
مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ برس این سی سی کے کیڈٹس نے اپنے اہم اقدامات کے ساتھ خود کو جوڑا۔ سوچھ بھارت مہم ہو، ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ہو، بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم ہو، ماحولیات سے متعلق امور ہوں، عوامی بیداری کے متعدد ایسے امور کے تعلق سے آپ کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
خاص طور پر کیرالہ میں تباہ کن سیلاب کے بعد راحت اور بچاؤ کے کاموں میں این سی سی کے کیڈٹس کا تعاون بہت ہی قابل تعریف ہے۔ تعاون اور خودسپردگی کا یہ سبق آپ نے یہاں سیکھا ہے، اس کو آپ کیرالہ میں مشکل میں گرفتار اپنے لوگوں کو راحت دینے میں بروئے کار لائے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اسی طرح اپنے فرائض نبھاتے رہیں گے۔
ساتھیو، دو دن قبل ہی ہماری جمہوریت نے ستّرویں سال میں قدم رکھا ہے۔ پہلے راج پتھ پر اور آج یہاں پر آپ کے چہرے کی چمک اور آپ کے نظم و ضبط کی جھلکیاں نظر آئیں اور جھلکیوں میں مجھے نئے بھارت کا قدم تال نظر آتا ہے۔ پوری خوداعتمادی کے ساتھ، سینہ چوڑا کئے، سر کو اونچا رکھے، قوم کے فخر کے لئے مستعد یہ غیرمعمولی توانائی و حوصلہ دینے والے ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ جوش، آپ کا یہ حوصلہ ہی ہے جس کے سبب بھارت آج نئے اعتماد سے لبریز ہے۔ آج دنیا کہہ رہی ہے کہ بھارت نہ صرف امکانات سے پُر ملک ہے بلکہ اس کو عملی شکل بھی دے رہا ہے۔
ساتھیو، ملک کی معیشت ہو یا پھر دشمن سے نمٹنے کی ہماری اہلیت، ہر سطح پر ہماری صلاحیتوں کی توسیع ہوئی ہے۔ ہماری فوج نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ہم چھیڑتے نہیں ہیں، لیکن کسی نے اگر چھیڑا تو ہم اسے چھوڑتے بھی نہیں ہیں۔ ہم امن کے مضبوط حامی ہیں، لیکن قومی سلامتی کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے میں ہم چوکیں گے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں ملک کے دفاع اور سلامتی کو سب سے اوپر مانتے ہوئے متعدد اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔
ساتھیو، بھارت دنیا میں ان چنندہ ملکوں میں شامل ہوا ہے جس کے پاس پانی، خشکی اور فضا سے جوہری حملے اور اپنا تحفظ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے علاوہ دہائیوں سے لٹکے پڑے لڑاکو طیاروں اور جدید توپوں سے متعلق معاہدوں کو زمین پر اتارا گیا ہے۔ ملک میں بھی میزائل سے لے کر ٹینک، گولہ بارود اور ہیلی کاپٹر بنائے جارہے ہیں۔ میں، آپ نوجوان ساتھیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آنے والے وقت میں ہر وہ بڑا اور کڑا فیصلہ لیا جائے گا جو ملک کی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ اگر ملک محفوظ رہے گا، اہل رہے گا تبھی نوجوان اپنے خوابوں کی عملی تعبیر پاسکیں گے۔
ساتھیو، آپ یہاں ملک کے الگ الگ علاقوں سے آئے ہیں۔ آپ میں سے کئی چھوٹے چھوٹے گاؤوں سے، قصبوں سے، الگ الگ پس منظر سے ہیں۔ مجھے آپ سبھی کی محنت کا احساس ہے۔ آپ کی خودسپردگی کا احساس ہے۔ میں آپ کو صرف یہی کہوں گا کہ یہی محنت ہم سب کو خوش حال بناتی ہے۔ ہماری بنیاد کو مضبوط کرتی ہے۔ محنت کا کیا نتیجہ ہوتا ہے یہ جاننے کے لئے این سی سی کے آپ کیڈٹس کو بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے اندر سے ہی مختلف ساتھیوں نے حال ہی میں غیرمعمولی حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو فخر کے لمحات دیے ہیں۔
کوہ پیمائی اور ٹریکنگ جیسی حوصلہ مندانہ سرگرمیاں ہوں یا پھر کھیل کے میدان پر ترنگا لہرانے کا کام، متعدد کیڈٹس آگے آئے ہیں۔ شمال مشرقی ڈائریکٹوریٹ کی کیڈٹ ہیما داس کو تو آج دنیا قابل فخر انداز سے جاننے لگی ہے۔ دھان کے کھیتوں میں دوڑتے دوڑتے، کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر توازن برقرار رکھتے ہوئے ہیماداس آج اس مقام پر پہنچی ہیں۔ محرومی کو موقع بناتے ہوئے ہیما نے پہلے جونیئر ایتھلیٹک چمپئن شپ میں اور پھر ایشیائی کھیلوں میں ملک کے وقار کو بڑھایا۔ ایسے متعدد نوجوان صلاحیتوں کو جب میں دیکھتا ہوں، جب ان سے ملتا ہوں، میرا بھروسہ تو مضبوط ہوتا ہی ہے، اس بھروسے کو اور مضبوط کرنے کی توانائی بھی ملتی ہے۔
ساتھیو، خواب دیکھنا اور امنگوں کو پرواز دینا یہی نوجوانوں کی شناخت ہوتی ہے۔ یہی اس کا فطری میلان ہوتا ہے۔ اپنے خوابوں اور آرزوؤں کو اور بلند پرواز کرنے دیجئے۔ اپنی کوششوں کو پوری وسعت دیجئے۔ موجودہ حکومت ملک کے ہر نوجوان کو ہر خواب دیکھنے والوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑی ہے اور قدم سے قدم ملاکر چلنے کے لئے تیار ہے۔ نیا ہندوستان ہر جفاکش کو احترام دے گا، موقع دے گا۔ آپ سبھی ساتھی جب ملک کی ورک فورس میں جانے کے لئے تیار ہیں ، تب میں آپ کو یہ بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ نے کس خاندان میں جنم لیا، آپ کی جان پہچان کس سے ہے، آپ کی مالی حالت کیسی ہے، اس بنیاد پر آپ کا مستقبل طے نہیں ہوتا، آپ کی ہنرمندی، آپ کی خوداعتمادی، آپ کے قدموں کے چھالے ہی آپ کو نتائج دینے والے ہیں۔
ساتھیو، اس روایت کو توڑنے کے لئے سماج میں ہر طرح کے عدم توازن، عدم مساوات کو ختم کرنے کے لئے ایک بامعنی کوشش ضروری ہے۔ وی آئی پی نہیں ای پی آئی یعنی ایوری پرسن اِز امپورٹینٹ۔ اس سنسکار کو مضبوط کرنے کی کوشش لگاتار ہورہی ہے۔ گاڑی کے اوپر سے لال بتی ہٹائی گئی ہے۔ اب دماغ سے بھی اس کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آپ مطمئن رہیں، آپ کے خوابوں کو، آپ کی آرزوؤں کو صرف محرومیوں اور حالات کے سبب مرنے نہیں دیا جائے گا۔
دوستو!مواقع کی یکسانیت کی جب جب بات آتی ہے، تو ایک اہم ترین موضوع ہماری بیٹیوں سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ میرے سامنے بیٹھے آپ تمام کیڈٹس چاہے وہ بیٹے ہوں یا پھر بیٹیاں آپ کے جوش میں اور آپ کی صلاحیت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بیٹیوں کو ہر قسم کے مواقع سے جوڑنا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں کے دوران بیٹیوں کو ورک فورس میں ترغیب دینے کے لئےمتعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ محنت، خدمت اور صنعت کاری کے ساتھ ساتھ ملک کی دفاع کو بھی ہماری خواتین مستحکم کر رہی ہیں۔ اس کے لئے کئی تاریخی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ پہلی بار ہماری بیٹیاں فائٹر پائلٹ بنی ہیں ۔ تارِنی کی بہادری کو دنیا نے دیکھا ہے۔ اب فوج میں بھی بیٹیوں کی حصہ داری کو مستحکم کرنے کا بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ملٹری پولیس کی ٹوٹل کور میں 20فیصد خواتین کی بھرتی کے لئے قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوستو! ناری شکتی کا دم، بیتے ساڑھے چار سالوں کے دوران راج پتھ پر بھی دیکھا ہے۔ پچھلی بار مہلا سوات دستہ راج پتھ پر اترا تھا، تو اس سال ملک کی تاریخ میں پہلی بار خاتون جوانوں کی پوری ٹکڑی پریڈ شامل ہوئی ہے۔ ملک نے تو یہ بھی پہلی بار دیکھا کہ مرد ٹکڑی کی قیادت ایک بیٹی نے کی ہے۔ بیٹیا سماج کے ہر شعبے میں قیادت کریں، اس کے لئے بہتر ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سال کی پوری تصویر کو آپ دیکھیں گے، تو آپ کو یقین ہوگا کہ اب خواتین کو بااختیار بنانا بیٹیوں کی حصہ داری پر بات چیت نہیں، بلکہ کارروائی ہو رہی ہے۔
دوستو!مواقع کی یکسانیت کے راستے میں بدعنوانی بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ رشوت خوری، کنبہ پروری، اپنا پرایا ہمارے نظام میں اس کے لئے کوئی مقام نہیں ہونا چاہئے۔
بدعنوانی، نئے ہندوستان کا چلن نہیں ہو سکتا۔ میری حکومت کی سوچ اور کارروائی دونوں اس بات گواہ ہے کہ بدعنوانی کرنے والا کتنا بھی بڑا ہو، کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، کوئی بھی نہیں بچے گا۔ اپنی رسائی سے کارروائیوں کو متاثر کرنے والوں کو، دلالوں اور بچولیوں کی وساطت سے ہر فیصلے، ہر فائل کی بولی لگانے والوں کو غریب سے غریب ترین شخص کے حق کو لوٹنے والوں کی صفائی کرنے میں پوری شدت اورایمانداری سے لگا ہوا ہوں۔
دوستو!آج حکومت جو کچھ بھی کر پا رہی ہے، اس کے پیچھے آپ سبھی نوجوان دوستوں کا سرگرم تعاون ہے۔ سوچھ بھارت سے ملک میں صفائی کی تحریک کو آپ نے آگے بڑھایا ہے۔ نوٹ بندی جیسے کڑے فیصلے سے بدعنوانی کیخلاف لڑائی کو آپ نے طاقت بخشی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعے ایماندار اور شفاف نظام بنانے میں آپ کا بہت اہم کردار ہے۔ یعنی ہر یوجنا کو آپ نے سرکار بننے سے بچایا ہے۔ آپ سے ایک اور اپیل ہے کہ ملک کی وراثت، ملک کے قومی ہیرو کی یادگار سے جڑا ہوا گزشتہ 4سالوں میں یہاں دلی میں ایسے متعدد پوتراستھان بنائے گئے ہیں، جہاں آپ جائیں گے، تو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ وہاں سے ہو بھی آئے ہوں، لیکن پھر بھی آپ کوان کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ جیسے حال ہی میں لال قلعہ میں کرانتی مندر کی نقاب کشائی ہوئی ہے۔ یہ کرانتی مندر نیتا جی سبھاش چندر بوس کو منسوب ہے۔ جب آپ وہاں جائیں گے، تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ آزاد ہند فوج اور لال قلعہ کا کیا تعلق ہے۔ اسی طرح پچھلے سال راشٹریہ پولیس اسمارک کا بھی افتتاح ہوا ہے۔ ملک کے اندرونی علاقوں میں قانون اور نظم و نسق کو بنائے رکھنے کےلئے شہید ہوئے ہزاروں پولیس اور سکیورٹی فورسیز کی یاد میں اس اسمارک کی تعمیر ہوئی ہے۔ آپ سبھی علی پور روڈ پر بنے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے پَری نِروان استھل پر بھی جا سکتے ہیں۔
دوستو! یہ جگہ ہے، جو دلی کی نئی پہچان بن رہی ہے۔ سردارپٹیل کا نیا اسمارک دلی میں بنا ہے۔ ڈیجیٹل میوزیم بنایا گیا ہے۔ان مقامات پر آپ کو تاریخ سے جڑے متعدد عظیم ہستیوں سے متعلق معلومات حاصل ہوں گی ہی، ساتھ ہی ملک کے لئے کام کرنے کی، سماج کے لئے کام کرنے کی نئی توانائی بھی حاصل ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی اس توانائی سے نیو انڈیا کا نیا جوش اور بلند ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں ایک اور نذرانہ اور ایک پریرنا استھل طویل انتظار کے بعد ملک کے نام وقف ہونے والا ہے۔ آزادی کے بعدملک کےلئے مرمٹنے والے ہماری بہادر جوان، ہماری فوج کے جوان کا قومی سطح کا ایک وار میموریل، اس کا انتظار کر رہا تھا۔ ملک کے نوجوان انتظار کر رہے تھے کہ بہادروں کے خانوادوں کے ممکنہ انتظار ، لمبے عرصے سے وہ بھی اٹکا پڑا تھا۔ یہ کام سالوں پہلے ہونا چاہئے تھا، لیکن حکومت کے آنے کے بعد ہم نے فیصلہ لیا اور وہ اب وہ پوری طرح سے فروری میں ملک کے بہادر اور شہیدوں، جنہوں نے قربانی دی ہے، ایسے بہادروں کی یاد میں ہندوستان کے ایک قومی سطح کا وار میموریل تقریباً تیار ہو چکا ہے۔فروری میں اس کا بھی افتتاح کرنے کا موقع ملے گااور ہمارے بہادر جوانوں کی عزت افزائی کا بھی موقع حاصل ہوگا۔ میں ایک بار پھر آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ یہ موقع ہماری سوچ کو بدلتا ہے۔ مہینے بھر کا یہ حقیقی معنی میں ہمواری ہر سوچ کو قومی سطح پر لے جاتا ہے۔ ہر سوچ میں ہم اپنے ملک کے لئے کیا سوچتے ہیں۔ صرف اپنا گاؤں ، اپنا محلہ ، اپنی ذات، اپنی برادری نہیں، بلکہ ملک کے بارے میں سوچنے کے لئے یہ موقع ملتا ہے۔ کسی بھی ملک کا بڑا بننا، آگے بڑھنا، اس بات پر منحصر ہے کہ وہاں کے نظام میں یکجہتی، میں بندھے ہوئے لوگ ہوں۔ اس ملک کی ترقی کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ وہ کتنے امیدافزا ہیں، کتنی امیدوں سے بھرے ہوئے ہی۔ مایوسی میں ڈوبا ہوا سماج نہ کبھی خود کو اوپر لے جا سکتا ہے اور نہ کبھی ملک کو اوپر لے جا سکتا ہے۔ آج میں فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ سوا سو کروڑ ہندوستا نی نئی امیدوں اور توقع سے بھرے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ میرا ملک نئی بلندیوں پر پہنچے گا۔ خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرے گااور جن خوابوں کیلئے آزادی کے دیوانوں نے ، آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر بھارت ماتا کی جے کار کا گان کرتے ہوئے ان خوابوں کو نئی بلندیاں دیں، نئی طاقت دیں، نیا عزم کریں ۔میرے ساتھ بولیں۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بہت بہت شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U-559
Sharing some pictures from the NCC Rally in Delhi today.
— Narendra Modi (@narendramodi) January 28, 2019
I congratulate all those associated with the NCC family and wish them the very best for their future endeavours. pic.twitter.com/Btp1qj5b0G
Seeing the brilliant youngsters of the NCC reaffirms my belief that India's future is bright thanks to our talented Yuva Shakti. pic.twitter.com/M8stIHaZBs
— Narendra Modi (@narendramodi) January 28, 2019
हमारी सेना ने ये स्पष्ट संदेश दिया है कि हम छेड़ते नहीं हैं, लेकिन किसी ने छेड़ा तो फिर छोड़ते भी नहीं हैं! pic.twitter.com/avGOuCWNZB
— Narendra Modi (@narendramodi) January 28, 2019