Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

نئی دہلی میں بلومبرگ نیواکنامی فورم میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن


نمسکار!

معززشخصیات، دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین، کاروبار اور صنعت کے قائدین، پالیسی سازوں اور میرے ساتھیوں!

ہندوستان میں آپ سب کا تہہ دل سے خیر مقدم ہے۔ کچھ دیر پہلے جناب بلومبرگ نے یہاں اپنے خیالات پیش کیے۔ ان کا 30 سالہ سفر رہا ہے اور وہ مجھے اپنا دوست کہہ رہے ہیں۔ وہ عمر میں بھی مجھ سے بڑے ہیں اور اپنے کام کے میدان میں بھی ایک انتہائی کامیاب شخصیت ہیں۔ وہ کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کام کے تئیں مخلص بھی ہیں۔ ہندوستان کے تئیں ان کی محبت کو میں نے بہت گہرائی سے محسوس کیا ہے، اسی لیے میں ذاتی طور پر ہمیشہ ان کا احترام کرتا رہا ہوں اور ان کا مداح بھی رہا ہوں۔ آج بھی ہندوستان کے تئیں ان کی محبت اور عالمی پلیٹ فارموں پر ہندوستان کے حوالے سے ان کے خیالات ہمیشہ مثبت توانائی فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس کے لیے میں جناب، آپ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہر سال یہ فورم دنیا کے بہترین ذہنوں کو یکجا کرتاہے۔ یہاں معیشت پر تبادلۂ خیال ہوتا ہے، ٹیکنالوجی، توانائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوتی ہے اور اس بار پہلی مرتبہ یہ تقریب ہندوستان میں منعقد ہو رہی ہے۔ میں جناب بلومبرگ اور ان کی پوری ٹیم کو اس فیصلے کے لیے بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آپ نے صحیح وقت پر صحیح جگہ کا انتخاب کیا ہے۔

دوستو!

رواں برس بلومبرگ اکنامی فورم کا موضوع دنیا میں ابھرتی ہوئی نئی طاقتوں پر مرکوز ہے۔ ہر دور میں طاقت کے اپنے ذرائع رہے ہیں اور اس کی اپنی تعریف رہی ہے، لیکن اکیسویں صدی میں، خاص طور پر اس کی تیسری دہائی میں، ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ آج ٹیکنالوجی طاقت ہے، ڈیٹا طاقت ہے، علم طاقت ہے اور اختراع طاقت ہے۔

لیکن ساتھیو!

اصل سوال یہ نہیں ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کا استعمال کیسے ہو رہا ہے؟ کیا ٹیکنالوجی صرف چند لوگوں کو آگے بڑھائے گی؟ یا کروڑوں لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی؟ کیا علم صرف چند لوگوں کی طاقت بنا رہے گا؟ یا سب کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا؟ یہیں سے ایک نئے خیال کی پیدائش ہوتی ہے اور یہ خیال ہے، بااختیار بنانے کی طاقت، قابو پانے کی طاقت سے آگے بڑھ کر اہل بنانے کی طاقت، مقابلہ کرنے کی طاقت سے آگے بڑھ کر تعاون کرنے کی طاقت، کامیاب ہونے کی طاقت سے آگے بڑھ کر دوسروں کو کامیاب بنانے کی طاقت اور اسی لیے آج میں یہاں جس تصور کے ساتھ آیا ہوں، وہ ہے، دوسروں کو بااختیار بنانے کی طاقت۔

ساتھیو!

یہ خیال ہندوستان کے لیے نیا نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کہا گیا ہے، ‘‘وِدیا وِوادائے دھنم مادائے، شکتیہ پریشام پری پیڑنائے۔ خَلسْیہ سادھو: وِپریتَم اَیتَت، گیانائے دانائے چ رَکشنائے’’-اس کا مفہوم یہی ہے کہ علم، دولت اور طاقت جس کے پاس بھی ہو، وہ ان کا استعمال کیسے کرتا ہے، یہ اہم ہے۔ یعنی طاقت کی اصل قدر اس کے مقصد میں پوشیدہ ہے اور آج کے دور میں اس سوچ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

ساتھیو!

دوسروں کو بااختیار بنانے کا یہ انسانی جذبہ محض دوسروں کو نصیحت کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہزاروں سال کی ہماری روایت نے ہمیں یہ سکھایا ہےاور ہندوستان میں ہم نے اسے اپنی حکمرانی اور اپنے طرزِ کار میں نافذ کرکے دکھایا ہے۔ اسی لیے میں ہندوستان کی مثالوں کے ذریعے ہی اپنی بات کو آگے بڑھاؤں گا۔

ساتھیو!

آپ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے۔ ہندوستان میں سو سے زیادہ زبانیں ہیں، تقریباً اسی ہزار رجسٹرڈ اخبارات اور مطبوعات ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینل ہیں اور صرف یہی نہیں، سوشل میڈیا کے اس دور میں ہندوستان میں پچاس کروڑ سے زیادہ یوٹیوب صارفین ہیں۔ پچاس کروڑ سے زیادہ انسٹاگرام صارفین ہیں۔ ہمارے یہاں مختلف مسائل پر کھل کر بحث ہوتی ہے اور عوام مختلف نقطۂ نظر پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور موجودہ دور میں اس میں جس چیز نے اہم کردار ادا کیا ہے، وہ ہے ڈیجیٹل طاقت۔

ساتھیو!

بارہ سے 13 ؍برس پہلے تک ہندوستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا، جب موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی بھی اپنے آپ میں ایک طاقت ہوا کرتی تھی۔ جس کے پاس رسائی تھی، اسی کے پاس معلومات، علم اور مواقع تھے۔ 2014 کے بعد، جب ہندوستان میں نئی حکومت بنی اور ہمیں خدمت کرنے کا موقع ملا، تو ہندوستان نے موبائل ڈیٹا کو سستا بنانے پر زور دیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ایک چھوٹے شہر کا طالب علم بھی ڈیجیٹل تعلیم سے جڑ سکتا ہے۔ کسی گاؤں کا ایک چھوٹا دکاندار بھی نئے گاہکوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک نوجوان بھی آن لائن نئے کورسوں میں داخلہ لے سکتا ہے۔ یعنی ہندوستان میں رابطے کی سہولت نے صرف لوگوں کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑا، بلکہ اس نے مواقع کو بھی آپس میں جوڑ دیا ہے۔ یہی دوسروں کو بااختیار بنانے کی طاقت ہے۔

ساتھیو!

آپ میں سے جو مہمان بیرون ملک سے آئے ہیں، ان سے میں کہوں گا کہ آپ ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو بھی آزما کر دیکھیے۔ ہمارے یہاں ایک سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے شخص اور ایک بڑے کار شوروم کا کاروبار الگ الگ ہے، ان کا پیمانہ الگ ہے، لیکن ہندوستان میں یہ دونوں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایک ہی نظام کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ٹیکنالوجی کی طاقت ہے۔

ساتھیو!

ہندوستان کی جو بھی صلاحیت ہے، اسے ہم صرف اپنے ملک تک محدود رکھنے کے حامی نہیں ہیں، بلکہ اسے عالمی جنوب اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مسلسل مشترک کرتے ہیں۔ ہم عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے تجربات دوسرے ممالک کے ساتھ مشترک کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اپنے ڈیجیٹل نظام تیار کر سکیں۔ ہم نے کووڈ کے دوران بھی ’کووِن‘ پلیٹ فارم بنایا تھا، جو آزاد ماخذ پر مبنی تھا، یعنی ہماری مسلسل کوشش ہے کہ ہندوستان کی صلاحیت دوسرے ممالک کے لیے بھی امکانات کے نئے دروازے کھولے۔ یعنی ہماری صلاحیت انسانیت کو بااختیار بنائے۔

ساتھیو!

اختراع کی طاقت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ کسی خیال کو مصنوعات میں بدلنا، کسی مسئلے کو حل میں تبدیل کرنا، اپنے آپ میں ایک بڑی صلاحیت ہے، لیکن جب یہ موقع معاشرے کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ملتا ہے، تو طاقت کا توازن قائم ہوتا ہے اور اس کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ہندوستان میں نئے کاروباری اداروں کے سفر کی کہانی اسی تبدیلی کی مثال ہے۔ 2014 سے پہلے ہندوستان میں چند سو نئے کاروباری ادارے ہی ہوا کرتے تھے، لیکن اب ملک میں ان کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ تقریباً نصف نئے کاروباری ادارے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے آتے ہیں۔45؍ فیصد سے زیادہ نئے کاروباری اداروں میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر یا شراکت دار ہے۔ یعنی اختراع کے مواقع زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں، نئی صلاحیتیں سامنے آ رہی ہیں اور نئے حل تیار ہو رہے ہیں۔

طاقت کے مقصد پر جو توجہ دی جاتی ہے، یہی سوچ حکمرانی میں بھی ضروری ہے۔ حکومت کے پاس اختیارات ہیں، لیکن ان کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کا شہری نظام پر ہی منحصر ہو جائے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ملک کے شہری اہل ہوں، بااختیار ہوں اور ہندوستان اسی راستے پر چل رہا ہے۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے ہندوستان نے گزشتہ ایک دہائی میں 25 کروڑ لوگوں کو، جو دنیا کے کئی ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہیں، غربت سے باہر نکالا ہے۔

ساتھیو!

آپ نے جے اے ایم ٹرینٹی اور براہ راست فائدہ کےمنتقلی کے نظام کے بارے میں بھی سنا ہوگا۔ ہم نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا نظام بنایا ہے، جس کے ذریعے سرکاری امداد براہِ راست مستفیدین کے بینک کھاتوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس سے بدعنوانی میں کمی آئی ہے، ملک کے شہریوں کی سہولت میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اور شہریوں کے درمیان رابطے کا ایک براہِ راست راستہ بنا ہے۔

ساتھیو!

دوسروں کو بااختیار بنانے کی یہی سوچ ہندوستان کے عالمی روابط میں بھی نظر آتی ہے۔ کووڈ وبا کے دوران ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ اہمیت تھی۔ اس وقت سوال یہ تھا کہ کیا اس طاقت کا فائدہ بھی صرف چند ممالک تک محدود رہ جائے گا؟ یا پھر ان ممالک اور ان لوگوں تک بھی ویکسین پہنچے گی، جن کے پاس یہ سہولت اور یہ صلاحیت نہیں ہے؟ ہندوستان نے انسانیت کو بااختیار بنانے کا راستہ منتخب کیا۔ ہم نے 100 سے زیادہ ممالک کو ویکسین فراہم کیں۔ ہماری ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت دوسرے ممالک کے لیے بھی مدد کا ذریعہ بنی۔ میں آپ کو ایک اور دلچسپ مثال دیتا ہوں۔ چند ماہ پہلے ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا اور جناب بلومبرگ نے بھی ابھی اس سربراہی اجلاس کی بہت تعریف کی۔ اس میں ہم نے انسانیت کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ ہی اس بات کو بھی زیرِ بحث لایا کہ جانوروں کو مصنوعی ذہانت سے کس طرح فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ نندن یہاں بیٹھے ہیں، آپ بعد میں ان سے اس بارے میں کافی معلومات حاصل کر سکتے ہیں کہ یہ کام کیسے کیا گیا۔ یعنی ہندوستان جتنا زیادہ اہل ہوگا، انسانیت اور دنیا کے لیے اتنا ہی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔

دوستو!

طاقت صرف آگے بڑھنے کی صلاحیت کا نام نہیں ہے، بلکہ دوسروں کو بھی آگے بڑھنے کے لیے بااختیار بنانے کی صلاحیت کا نام ہے۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ مقابلہ ضروری ہے، لیکن ہمدردی بھی ہونی چاہیے۔ اختراع ضروری ہے، لیکن اس کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ قومی طاقت ضروری ہے، لیکن عالمی چیلنجوں کے حل میں بھی اپنا تعاون دینا ہوگا۔ چاہے موسمیاتی تبدیلی ہو، آبی انتظام ہو، عوامی صحت ہو یا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال، دنیا کو ایسی صلاحیت کی ضرورت ہے جو مسائل کا حل پیش کرے اور نئے مواقع پیدا کرے۔

ساتھیو!

میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں۔ پیرس معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہندوستان نے ایک بڑا عہد کیا تھا۔ سال 2015 میں ہم نے ہدف مقرر کیا تھا کہ 2030 تک اپنی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کا 40 فیصد غیر فوسل ذرائع سے حاصل کریں گے۔ ہندوستان نے یہ کامیابی نومبر 2021 میں ہی حاصل کر لی، یعنی مقررہ وقت سے نو سال پہلے۔ ہندوستان ایسا کرنے والا پہلا جی 20 ملک بنا۔ یہ صرف ایک عہد پورا کرنے کی بات نہیں تھی، بلکہ یہ ہندوستان میں توانائی کے شعبے میں آتی ہوئی تبدیلی کا بھی اشارہ تھا۔

ساتھیو!

سن2014 میں ہندوستان کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت تقریباً 75 گیگاواٹ تھی۔ آج یہ بڑھ کر تقریباً 300 گیگاواٹ ہو چکی ہے۔ یعنی ہم نے صلاحیت میں تقریباً چار گنا زیادہ اضافہ کیا ہے۔

ساتھیو!

ہندوستان میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی اس تبدیلی سے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ آج ہمارے یہاں پی ایم سوریہ گھر اور پی ایم کُسم جیسی اسکیمیں چل رہی ہیں۔ ایک اسکیم گھروں کو شمسی توانائی سے جوڑ رہی ہے، جبکہ دوسری اسکیم کسانوں کو شمسی توانائی پیدا کرنے اور اس کے استعمال کے ذریعے اپنی پیداواری لاگت کم کرنے کی صلاحیت فراہم کر رہی ہے۔ ان دونوں اسکیموں کے ذریعے ہندوستان میں 30 گیگاواٹ سے زیادہ شمسی توانائی کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے۔ اندازہ ہے کہ ان کے ذریعے ہر سال 3 کروڑ ٹن سے زیادہ کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی۔ یعنی شمسی توانائی قدرت کے تحفظ کا ذریعہ بھی بن رہی ہے اور لوگوں کو بااختیار بھی بنا رہی ہے۔

ساتھیو!

دنیا میں طاقت کی اس دوڑ میں ہندوستان ایک الگ مزاج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی گواہی یہ دہائی بھی دے رہی ہے۔

ساتھیو!

اکیسویں صدی کی یہ دہائی بے مثال عالمی چیلنجوں کے ساتھ آئی ہے۔ اگر ہم گزشتہ چھ برسوں پر نظر ڈالیں تو ہم نے عالمی وبا دیکھی، پھر مختلف خطوں میں جنگیں چھڑ گئیں۔ گویا اتنا ہی کافی نہیں تھا، اب تجارت ہو، اہم معدنیات ہوں یا توانائی کی فراہمی، ان میں بھی رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ دنیا ایک بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتی ہے، تب تک ایک نیا بحران سامنے آ جاتا ہے۔ جن چیزوں نے کبھی دنیا کو آپس میں جوڑا تھا، آج وہی ہتھیار بنتی جا رہی ہیں۔ سپلائی چینز ہوں، توانائی ہو، معدنیات ہوں، ادائیگیوں کا نظام ہو یا ٹیکنالوجی، یہ سب دباؤ ڈالنے اور اپنا غلبہ قائم کرنے کے ذرائع بنتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں عالمگیریت نے رابطوں کے جو راستے بنائے تھے، وہ کب اور کہاں رکاوٹوں کے اہم مقامات بن گئے، یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان مصنوعی ذہانت ہر شعبے میں کام کرنے کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ بہت سے ممالک میں عمر رسیدہ آبادی سے متعلق چیلنج بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں آج دنیا کے سامنے ایک بڑا سوال اعتماد کا ہے، بھروسے کا ہے۔ یہ اعتماد کہ ضرورت کے وقت رسد جاری رہے گی۔ یہ بھروسہ کہ جو وعدے کیے گئے ہیں، انہیں پورا بھی کیا جائے گا۔ یہ اعتماد کہ بحران کے وقت ہمارا شراکت دار ملک ہمارے ساتھ کھڑا رہے گا اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہندوستان ایک الگ مزاج اور ایک الگ سوچ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود ہے۔

ساتھیو!

اکیسویں صدی میں ہندوستان کی ترقی کی کہانی سب کے ساتھ مل کر اور سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی کہانی ہے۔ جب دنیا کو سستی دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے تو ہر پانچ میں سے ایک  جنرک دوا ہندوستان سے آتی ہے۔ جب ڈیجیٹل شناخت اور ادائیگیوں کے حل درکار ہوتے ہیں تو ہندوستان میں تیار کیا گیا نمونہ سامنے آتا ہے۔ جب دنیا کو ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے تو ہندوستان کے ہنرمند نوجوانوں پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ آج ہندوستان میں دو ہزار سے زیادہ گلوبل کیپابلٹی سینٹر ہیں، جو دنیا بھر کی کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

ساتھیو!

یہ واضح ہے کہ جب بھی دنیا کو ایک مضبوط اور مستحکم سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، تو ہندوستان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔ ہم کسی کی قیمت پر ترقی نہیں کرتے۔ ہم دنیا کے ساتھ مل کر اور دنیا کی بھلائی کے لیے ترقی کرتے ہیں۔

اور ساتھیو!

ہندوستان جو کچھ کرتا ہے، اس کا سہرا بھی نہیں چاہتا۔ دنیا فخر سے کہتی ہے کہ ہندوستان نے دنیا کو ’صفر‘ دیا۔ اس صفر سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچا، لیکن ہندوستان نے اس کے لیے کبھی کوئی حقِ امتیاز نہیں مانگا۔ آج بھی ہندوستان اسی جذبے کے ساتھ کام کرتا ہے۔ آج کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے جو خیالات ہیں، ان میں بھی یہی تمام باتیں  نظر آتی  ہیں۔ تاریخ میں بہت سی عالمی تنظیمیں قائم ہوئیں، جن کے اپنے اپنے مفادات رہے ہیں، لیکن ہندوستان نے کس طرح کے عالمی پلیٹ فارم قائم کیے، آپ بھی اس پر غور کیجیے۔ ہم نے کیسی کیسی تنظیموں کو جنم دیا اور دنیا میں کیا کچھ ہوا ہے، ان کا ایک بار موازنہ کرکے دیکھیے۔ ہم نے کیا دیا؟ بین الاقوامی شمسی اتحاد، ہم نے کیا دیا؟ آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کا اتحاد، ہم نے کیا دیا؟ بڑی جنگلی بلیوں کے تحفظ کا اتحاد، عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد، ہندوستان، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ اقتصادی راہداری، یعنی آئی میک، مشن لائف، یعنی ماحولیات کے لیے طرزِ زندگی۔ دوسرے لفظوں میں ہندوستان نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے سب کا بھلا ہو اور ہر جاندار کی بہتری ہو۔

ساتھیو!

ہندوستان کن خیالات کے ساتھ دنیا کے سامنے آیا ہے، یہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ ایک سورج، ایک دنیا، ایک فیملی کا تصور؛ ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل، یہ ہماری سوچ ہے۔ ایک زمین، ایک صحت، یہ ہمارا دور اندیش نظریہ ہے۔ یعنی ہندوستان جوڑنے اور ایک دوسرے سے جڑنے پر زور دیتا ہے اور اس میں بھی طاقت کا استعمال دوسروں کو بااختیار بنانے کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔

ساتھیو!

غیر یقینی صورت حال سے بھری اس دنیا میں ہندوستان بھروسے اور استحکام کا یقین دلاتا ہے۔ رواں برس  اپریل سے جون کی سہ ماہی میں ہندوستان کی شرح ترقی 7.8 فیصد رہی ہے اور یہ ترقی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ب12 سے 13 برس  پہلے ہندوستان کا جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی گھریلو پیداوار کے چار فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ گزشتہ سال یہ گھٹ کر تقریباً نصف فیصد، یعنی 0.61 فیصد رہ گیا ہے۔ آج ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 700 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ ہمارا بینکاری نظام گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں سب سے مضبوط حالت میں ہے۔

ساتھیو!

اسی مضبوطی کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان کی خودمختار قرضہ جاتی درجہ بندی میں بہتری کی جا رہی ہے۔ آج ہندوستان کا اعتماد بے مثال بلندی پر ہے۔ ہم واضح پالیسی سمت کے ساتھ اصلاحات کر رہے ہیں۔ جی ایس ٹی کے ذریعے ہم نے ٹیکسوں کے پیچیدہ جال کو ایک قومی بازار میں تبدیل کیا ہے۔ ہم نے دیوالیہ پن سے متعلق قانون بنایا ہے۔ 29 مزدور قوانین اب سمٹ کر چار آسان ضابطوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کاروبار سے متعلق سینکڑوں چھوٹی موٹی غلطیوں کو جرم کے زمرے سے باہر کیا گیا ہے اور ہم یہیں نہیں رکے ہیں، ہندوستان میں اصلاحات کی گاڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہمارے لیے اصلاحات کوئی مجبوری نہیں ہیں، بلکہ اصلاحات ہمارا پختہ یقین ہیں۔

ساتھیو!

ہزاروں سال پہلے ہمارے ویدوں نے ہمیں ایک منتر  ’’سَنگَچھَدھْوَم سَموَدَدْھْوَم سَم وُو مَنَانْسِ جانَتامْ دیا تھا۔ آئیے، آج پھر اس منتر کو دہرائیں’’ایک ساتھ چلیں، ایک ساتھ گفتگو کریں اور ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھیں۔کیونکہ ساتھ چلنے سے ہماری طاقت بڑھتی ہے۔ بات چیت سے ہماری سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے سے ہم مل کر بڑے چیلنجوں کا حل نکال سکتے ہیں۔ یہی ہے دوسروں کو بااختیار بنانے کی طاقت۔ اپنی طاقت کو صرف اپنی ترقی تک محدود نہ رکھنا، بلکہ اس کے ذریعے دوسروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرنا۔ مجھے یقین ہے کہ بلومبرگ اکنامی فورم کا یہ پلیٹ فارم اسی جذبے کو آگے بڑھانے کا ایک بڑا ذریعہ بنے گا۔ ایک بار پھر، اس پروگرام میں شریک آپ سبھی افراد کے لیے میری بہت بہت نیک خواہشات۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ شکریہ۔

***

ش ح۔ م ع ن- م ش

U.NO.5068