پی ایم انڈیا
نئیدہلی11دسمبر۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی 12دسمبر 2018 کو نئی دلی میں پارٹنر فورم کے چوتھے اجلاس کا افتتاح کریں گے۔حکومت ہند کی جانب سے 12 اور13دسمبر 2018 کو پارٹنر شپ فار میٹرنل ،نیو بارن اینڈ چائلڈ ہیلتھ (پی ایم این سی ایچ ) کے اشتراک سے ایک دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا جائے گا۔اس کانفرنس میں خواتین ،بچوں اور نوخیز بچوں کی صحت اورتندرستی میں بہتری کے طریقو ں کی تلاش وجستجو اور گفتگو کے لئے دنیا کے 85 ملکوں کے 1500شرکا شرکت کریں گے ۔کانفرنس میں مدعو ممالک کا انتخاب سبھی خطوں سے اور آمدنی کی سطحوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے ، جن میں وہ ملک بھی شامل ہیں ، جو جی -7 ،جی -20 اوربرکس (بی آر آئی سی ایس ) جیسے کلیدی عالمی اورعلاقائی اداروں کی قیادت کررہے ہیں۔
یہ مسلسل چوتھا اعلیٰ سطحی عالمی اجتماع ہے ۔ جس میں دنیا کے مختلف ممالک اور مختلف دعوے دار شرکت کررہے ہیں اوراس کے اہتمام کا مقصد خواتین ،بچوں اور نوخیز بچوں کی صحت سے متعلق مسائل کے پائیدار عالمی تدارک کا اہتمام کرنا ہے ۔ پارٹنرس فورم ابتدائی طور پر پارٹنر شپ فار میٹرنل نیو بارن اینڈ چائلڈ ہیلتھ ( پی ایم این سی ایچ ) کے ایک وفدنے 11 اپریل 2018 کو اس فورم کے تعارفی خاکے کی پیش کش کے دوران وزیراعظم جناب سے ملاقات کی تھی۔ اس وفد میں مرکزی وزیر صحت وخاندانی بہبود جناب جے پی نڈا ،چلی کے سابق صدر جناب مشیل بیشلٹ ،پی ایم سی ایچ کی سابق بورڈ چیئر مین ،معروف اداکارہ اور یونیسیف (یواین آئی سی ای ایف )کی خیر سگالی سفیر پرینکا چوپڑہ شامل تھیں۔ اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے انتہائی کشادہ دلی کے ساتھ پی ایم این سی ایچ فورم کی سرپرستی قبول کرلی ۔
واضح ہوکہ پارٹنر س فورم ستمبر 2005 میں بچوں اور شیر خواروں کی اموات میں کمی ،نوخیزی میں بہتری ، بچوں ، نوزائدہ اور نوخیز بچوں کی صحت میں بہتری کے مقصدسے ایک عالمی صحت شراکتداری کے طور پر آغاز کیا گیا تھا۔ یہ شراکتداری دنیابھر کے 92 ملکوں کے 10 منتخبہ حلقوں کے ایک ہزار سے زائد افراد کے اتحاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان ایک ہزار افراد میں ماہرین تعلیم ،محققین ،تعلیمی ادارے ،عطیہ دہندگان اورفاؤڈیشنز شامل ہیں ۔اس کے ساتھ ہی اس میں حفظان صحت کے میدان کے پیشہ ور افراد ، ہمہ جہت ایجنسیاں ،رضا کار تنظیمیں ،شراکتدار ممالک ،عالمی مالیہ کاری کے نظام اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندگان شامل ہیں۔اس سلسلے کے سابقہ اجلاس 2014میں جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سال 2010 میں ہندوستان کے شہر نئی دہلی اور 2007 میں تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں اہتمام کئے جاچکے ہیں ۔ ہندوستان دوسری بار پارٹنر فورم کی میزبانی کررہا ہے ۔
پی ایم این سی ایچ کا مشن عالمی صحت سماج کی حمایت ومعاونت کرنا ہے تاکہ پائیدار ترقی کے نشانوں (ایس ڈی جی ) کے حصول کے اور بالخصوص صحت سے متعلق پائیدار ترقی کے نشانے حاصل کرنے کے لئے کامیابی کے ساتھ مددکرنا ہے ۔ یہ وہ ایس ڈی جی ہیں ،جن کا تعین اسٹریٹجی فار ویمنس ،چلڈرنس اینڈ ایڈولیسینٹس ہیلتھ میں کیا گیا ہے اور جن کا مقصد ’’ہرخاتون ،ہربچے ‘‘ (ای ڈبلیو ای سی ) کی تحریک کی معاونت کرنا ہے۔
پارٹنر فورم کے پروگرام کی چہرہ کاری گلوبل اسٹریٹجی آف سروائو ۔تھرائیو ۔ٹرانسفارم کے مقاصد سے ہم آہنگی کے ساتھ معین کئے جائیں گے ۔ اس پروگرام میں چار اعلیٰ سطحی امور شامل کئے جائیں گے ،جن میں سیاسی قیادت ، ہمہ جہت شعبہ جاتی اقدامات ،جوابدہی اور شرارکتداری کی طاقت جیسے امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ایسے ہر اعلیٰ سطحی امر کے بعد 6 اجلاس کا اہتمام کیا جائے گا ،جن میں فورم کے کلیدی مرکزی خیالات پر مزید تفصیل سے گفتگو اور بحث کی جاسکے گی۔
یہ فورم ان 12 سکسیز فیکٹرز کے معاملات کے مطالعے کے وہ نتائج پیش کرے گا ، جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح دنیا کے ممالک خواتین ،بچوں اور نوخیز بچوں کی صحت میں بہتری پرشعبہ جاتی تفریق سے بالاتر ہوکر شراکتداری کررہے ہیں ۔ یہ مطالعات برٹش میڈیکل جنرل (بی ایم جے )کے فورم ایڈیشن کے ایک خصوصی شمارے میں شائع کئے جائیں گے اور ان کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی۔
پارٹنرفورم کے اجلاس میں افریقہ ، مشرقی بحیرہ روم ،یورپ ، امریکہ ،جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی اور اوقیانوس سمیت 6 خطوں سے حاصل کی جانے والی درج ذیل معلومات پیش کی جائیں گی۔
6171U-