پی ایم انڈیا
تیل اور گیس کے لئے شفاف اور لچیلے بازاروں کے ساتھ ذمہ دارانہ طریقے سے قیمتوں کے تعین کی ضرورت ہے:پی ایم
توانائی کے منصفانہ نظام پر مبنی دور کے آغاز میں ہندوستان کا تعاون اہم ہے:پی ایم
وزیراعظم نے کہا:‘ بیلو فلیم، انقلاب جاری ہے۔ ایل پی جی کوریج 90 فیصد سے زیادہ ہے
نئی دہلی، 11 فروری 2019،ہندوستان کی اہم ہائیڈورکاربن کانفرنس پیٹروٹیک 2019 تیرہویں ایڈیشن کا افتتاح آج وزیراعظم نریندرکیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد اترپردیش میں گریٹر نوئیڈا کے انڈیا ایکسپو سینٹر میں کیاگیا ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں وزیراعظم نے سماجی، اقتصادی ترقی کے ایک اہم ڈرائیور کے طور پر توانائی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ‘‘معیشت کی تیز رفتار ترقی کے لئے توانائی کی مناسب قیمت پر استحکام کے ساتھ مسلسل سپلائی ضروری ہے۔ اس سے سماج کے غریب اور محروم طبقات کو بھی اقتصادی فائدوں میں شریک ہونے میں مدد ملتی ہے۔
توانائی کی کھپت کی مشرق سے مغرب میں منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معدنی تیل کے انقلاب کے بعد امریکہ دنیا میں سب سے بڑا تیل اور گیس کا پروڈیوسر بن گیا ہے لیکن سستی قابل تجدید توانائی ،ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ایپلی کیشن کے آجانے سے پائیدار ترقی کے بہت سے مقاصد کے حصول میں تیزی آجانے کے اشارے مل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ وقت کی ضرورت ہے کہ‘‘ قیمتوں کا ذمہ داری کے ساتھ تعین کرنے کی سمت میں آگے بڑھے تاکہ پیدا کرنے والے اور صارفین کے مفادات میں توازن قائم کیا جاسکے۔ہمیں تیل اور گیس دونوں کے لئے شفاف اورلچیکے بازار کی جانب بڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔اسی وقت ہم بہترین طریقے سے انسانیت کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرسکیں گے۔’’
آب وہوا کی تبدیلی کے چیلنج کا سامنے کرنے میں ساتھ دینے کے لئے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیرس میں سی او پی۔21 میں ہم نے جو نشانے طے کئے تھے انہیں پورا کیاجاسکتا ہے۔اس معاملے میں ہندوستان کے ذریعہ اپنی عہد بندی کو پورے کرنے کی سمت میں کئے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے توانائی کے شعبے میں تعاون کرنے اور مستقبل کے لئے ان کے نظریے کے لئے عزت مآب ڈاکٹر سلطان الجابر کو مبارک باد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ صنعت 4.0 سے نئی ٹیکنالوجی اور طریقے کار کے ساتھ صنعتیں چلانے کی طریقے میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنیاں اپنی کارگزاری کو بہتر بنانے ، تحفظ میں اضافہ کرنے اور لاگت کو کم کرنے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی اختیار کررہی ہیں۔
وزیراعظم نے صاف ستھری ، سستی پائیدار توانائی کی منصفانہ سپلائی کی سبھی لوگوں تک رسائی پر زور دیا۔انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ‘‘ ہم ایسے دور میں آگئے ہیں جہاں بہت زیادہ توانائی دستیاب ہے ۔ اس کے باوجود دنیا میں ایک بلین سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جنہیں بجلی کی سہولت حاصل نہیں ہے۔اس سے بھی زیادہ لوگوں کی صاف ستھری رسوئی گیس تک رسائی نہیں ہے’’انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں توانائی تک رسائی میں ان مسائل کو حل کرنے میں سبقت حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان دنیا میں سب سے تیز ترقی کرنے والی بڑی معیشت بن گیا ہے اور 2030 تک یہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے اور دنیا میں توانائی کی سب سے زیادہ کھپت کرنے والا تیسرا ملک بن سکتا ہے۔2040 تک ہندوستان میں توانائی کی مانگ دوگنی ہوجانے کی توقع ہے اور ہندوستان توانائی کی کمپنیوں کے لئے ایک پسندیدہ بازار بنا رہے گا۔
وزیراعظم نے دسمبر 2016 میں منعقدہ گزشتہ پیٹرو ٹیک کانفرنس کو یاد کیا جس میں انہوں نے ہندوستان کی توانائی کے مستقبل کے چار ستونوں کا ذکر کیا:توانائی تک رسائی، توانائی کی صلاحیت، توانائی کا استحکام اور توانائی کاتحفظ۔ توانائی کا انصاف بھی ایک اہم مقصد ہے اور اب ہندوستان میں اسے اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا‘‘اس مقصد کے حصول کے لئے ہم نے بہت سی پالیسیاں تیار کی ہے اور ان کا نفاذ کیا ہے۔اب ان کوششوں کے نتیجے سامنے آگئے ہیں۔ بجلی ہمارے سبھی دیہی علاقوں تک پہنچ گئی ہے’’وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کاانصاف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لوگ اپنی اجتماعی طاقت میں یقین کریں۔
اس بات کااعلان کرتے ہوئے کہ بلیو فلیم انقلاب جاری ہے، ایل پی جی کوریج پانچ سال قبل 55 فیصد تک تھا جو کہ بڑھ کر اب 90 فیصد سے زیادہ ہوگیا ہےوزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ہندوستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں بڑی اصلاحات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا ‘‘ آج دنیا میں ہندوستان کے پاس چوتھی سب سے بڑی ریفائن کرنے کی صلاحیت ہے۔ 2030 تک اس میں تقریباً 200 ملین میٹرک ٹن تک کا مزید اضافہ ہوگا’’۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان گیس پر مبنی معیشت بننے کی سمت میں تیزی سے اقدامات کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘تقریباً16ہزار کلو میٹر گیس پائپ لائن تعمیر کی جاچکی ہے اور مزید 11 ہزار کلو میٹر زیر تعمیر ہے۔سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کے لئے دسویں کوشش میں 400 سو اضلاع کو کور کیا گیا ہے اور ہماری آبادی کے 7فیصد سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کےے کوریج میں اضافہ کیا گیا ۔’’
تیل اور گیس شعبے کی اہم کمپنیاں پیٹرو ٹیک2019 میں شرکت کررہی ہیں۔گزشتہ چوتھائی صدی میں پیٹروٹیک میں توانائی کے شعبوں کو در پیش مسائل اور چیلنجوں کے حل کے لئے با ت چیت کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا ہے۔ پیٹروٹیک توانائی کے شعبے کے مستقبل کے بارے میں غوروخوض کے لئے ایک بہترین موقع فراہم کراتا ہے اور اس بات پر غور کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کراتا ہے کہ کس طرح دنیا میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کس طرح بازار کے استحکام اور شعبے میں مستقبل کی سرمایہ کاری کو متاثر کریں گی۔
U- 858
Winds of change are evident in the global energy arena.
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2019
Energy supply, energy sources & energy consumption patterns are changing. Perhaps, this could be a historic transition.
There is a shift in energy consumption from West to East: PM
There are signs of convergence between cheaper renewable energy, technologies & digital applications. This may expedite the achievement of sustainable development goals.
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2019
Nations are coming together to tackle climate change: PM
Energy justice is also a key objective for me and a top priority for India. Towards this end, we have developed and implemented many policies. The results of these efforts are now evident.
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2019
Electricity has reached all our rural areas: PM
LPG connections have been given to over 64 million house-holds in just under three years under the Ujjwala Scheme.
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2019
A ‘Blue Flame Revolution’ is under-way. LPG coverage has reached more than 90% percent, from 55% five years ago: PM
We need to move to responsible pricing, which balances the interests of both the producer and consumer.
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2019
We also need to move towards transparent and flexible markets for both oil and gas.
Only then can we serve the energy needs of humanity in an optimal manner: PM