پی ایم انڈیا
نئیدہل۔26؍جنوری۔وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج اپنی من کی بات میں ’کھیلو انڈیا گیمس‘ کی کامیاب تکمیل پر آسام کی حکومت اور کھیلوں میں شرکت کرنے والوں کو مبارکباد دی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کھیلو انڈیا گیمس میں مختلف ریاستوں کے تقریباً 6 ہزار کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی۔ 80 ریکارڈ توڑے گئے اور ان 81 ریکارڈ میں سے 56 ریکارڈ ہماری بیٹیوں نے توڑے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں جب ’کھیلو انڈیا گیمس‘ کی شروعات ہوئی تھی تو 3500 کھلاڑیوں نے اس میں شرکت کی تھی لیکن صرف تین برسوں میں کھلاڑیوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ یہ تعداد تقریباً دوگنی ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے آج ’من کی بات‘ میں کھیلوں میں شرکت کرنے والے بچوں اور ان کے والدین کے فیضان بخش واقعات بیان کیے۔ ان میں سے ایک تملناڈو کے یوگا ننتھن کی کہانی بھی تھی۔ وزیراعظم نے بتایا ’’یوگاننتھن تملناڈو میں بیڑیاں بنایا کرتا تھالیکن اس کی بیٹی پُرناشری نے ویٹ لفٹنگ میں سونے کا تمغہ جیت کر ہر ایک کا دل موہ لیا‘‘۔
انہوں نے ڈیویڈ کا بھی تذکرہ کیا جس نے گوہاٹی میں یوتھ گیمس میں سائیکلنگ میں200 میٹر کے اسپرنٹ مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا۔ ڈیویڈ جس کا تعلق کارنیکوبار سے ہے ، بہت بچپن میں ہی اپنے والدین سے محروم ہوگیا تھا۔ اس کے چچا اسے ایک فٹبالر بنانا چاہتے تھے اور اسی لئے انہوں نے اس کا نام مشہور فٹبالر ڈیویڈ بیکھم کے نام پر رکھا لیکن ڈیویڈ کو بچپن ہی سے سائیکلنگ کا شو ق تھا، اسے ’کھیلو انڈیا ‘ اسکیم کے تحت منتخب کیا گیا اور آج اس نے سائیکلنگ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
انہوں نے ممبئی کی کرینہ شنکتا کی ترغیب دلانے والی کہانی سنائی ۔ کرینہ نے تیراکی میں 100 میٹر کے بریسٹ اسٹروک مقابلہ مکمل کیا اور 17 سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کے زمرے میں سونے کا تمغہ جیتا۔ اس طرح اس نے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا لیکن ایک زمانہ تھا جب کرینہ جو اس وقت دسویں کلاس کی طالب علم تھیں، اسے اپنے گھٹنے میں چوٹ آنے کی وجہ سے اپنی ٹریننگ ترک کرنی پڑی تھی لیکن کرینہ اور اس کی ماں نے ہمت نہیں ہاری اور نتیجہ آج اس کی کامیابی کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے۔
وزیراعظم نے کہا ’’ہم سب جانتے ہیں کہ قومی کھیل کود مقابلے ایسے مقابلے ہوتے ہیں جن میں کھلاڑیوں کو دوسری ریاستوں کے کلچر سے واقف ہونے کے علاوہ اپنی صلاحیت کے اظہار کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ’کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمس‘ ہر سال ’کھیلو انڈیا یوتھ گیمس ‘ کے طرز پر کرائے جائیں‘‘۔
اگلے مہینے ’کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمس‘ کا پہلا ایڈیشن 22فروری سے یکم مارچ تک کٹک اور بھوبنیشور، اڈیشہ میں منعقد ہوگا۔ ان مقابلوں میں شرکت کے لئے 3000 سے زیادہ کھلاڑیوں نے کوالیفائی کیا ہے۔
فٹ انڈیا
وزیراعظم نے ’فٹ انڈیا اسکول‘ مہم کے اچھے نتائج کیلئے اس کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ 65000 سے زیادہ اسکولوں نے آن لائن رجسٹریشن کے ذریعے ’فٹ انڈیا اسکول‘ سرٹیفکیٹ حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے ملک کے باقی اسکولوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو جسمانی ورزش اور کھیل کود سے جوڑیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ’فٹ اسکول‘ بن جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔ج۔ع ن
U-363