Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیراعظم کی صدارت میں 52ویں پرگتی میٹنگ کاانعقاد


وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج سیوا تیرتھ میں پرگتی کے 52ویں اجلاس کی صدارت کی۔پرگتی ایک انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) پر مبنی کثیرجہتی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرکے فعال طرزِ حکمرانی اور منصوبوں پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے سڑک، بجلی، صنعتی راہداری اور میٹرو ریل کے شعبوں سے متعلق چار اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیا، جو چار ریاستوں میں جاری ہیں اور جن کی مجموعی لاگت تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کو اقتصادی ترقی، علاقائی رابطے، صنعتی فروغ اور عوامی فلاح کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے ان کی تکمیل کے اوقات کی پابندی، مختلف اداروں کے باہمی تعاون، مسائل کے حل اور بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافے کا سبب بنتی ہے بلکہ عوام اور صنعتوں کو ان کے متوقع فوائد سے بھی بروقت محروم رکھتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ تمام زیرِ التوا مسائل کو مشن موڈ میں حل کیا جائے اور اعلیٰ سطح پر مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت تکمیل کے لیے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورٹل پر منصوبوں کی تفصیلات، یوٹیلیٹی سروسز، بنیادی ڈھانچے کے مختلف مراحل، منظوریوں اور زمینی سطح کی دیگر معلومات کو باقاعدگی سے اور بروقت اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پورٹل پر تازہ ترین زمینی حقائق کی نمائندگی ہونی چاہیے تاکہ رکاوٹوں کی پیشگی نشاندہی، اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور حقیقی وقت کے قابلِ اعتماد ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے ممکن ہو سکیں۔

وزیراعظم نے ’’ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے ٹی بی کے بارے میں آگاہی، مریضوں کی مسلسل نگہداشت اور سماجی شمولیت کے لیے این سی سی کیڈٹس اور ‘‘مائی بھارت’’ کے رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔

وزیراعظم نے سائبر جرائم اور ‘‘ڈیجیٹل گرفتاری’’ سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تال میل، حساسیت اور مقررہ وقت کے اندر کارروائی کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو انصاف اور مدد کے حصول کے لیے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا چکر نہ لگاناپڑے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ سائبر فراڈ کے معاملات میں فوری کارروائی نہایت ضروری ہے تاکہ مالی نقصان کو روکا جا سکے اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو ہدایت دی کہ وہ سائبر جرائم کی روک تھام، رپورٹنگ، تحقیقات اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قریبی تال میل سے کام کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستیں سائبر فراڈ کے مقدمات کے اندراج اور فوری کارروائی کے لیے ای- زیرو ایف آئی آر نظام کو نافذ کرنے کی سمت میں عملی اقدامات کریں۔

 

PM India

***

ش  ح۔م ش ع– ف ر

Uno-9150