پی ایم انڈیا
صدر میکرون!
عزت مآب!
نمسکار!
جی-7 سمٹ میں ہمارے پُرجوش استقبال کے لیے میں صدر میکرون کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
دوستو!
آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ باہم مربوط (inter-connected) اور باہم انحصار (inter-dependent) ہے۔ کسی بھی ملک کی توانائی سلامتی، غذائی سلامتی، صحت سلامتی، سائبر سلامتی اور معاشی خوشحالی صرف اس کی سرحدوں کے اندر طے نہیں ہوتی۔ نقل و حرکت، ڈیٹا، سرمایہ اور ٹیکنالوجی—یہ سب ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
ایسے وقت میں شراکت داریوں کی اہمیت قدرتی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ لیکن شراکت داری اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب اس کے مرکز میں اعتماد ہو۔ آج سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ کوئی معدنیات، ٹیکنالوجی یا منڈی نہیں بلکہ باہمی اعتماد ہے۔
یہ اعتماد کہ ٹیکنالوجی اور سپلائی چینز کو ہتھیار کے طور پر نہیں بلکہ عالمی فالح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ اعتماد کہ ترقی کے مواقع چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ اعتماد کہ عالمی ادارے تمام ممالک کی امنگوں کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے۔
دوستو!
گزشتہ صدی میں انسانیت کو دو عالمی جنگوں سے گزرنا پڑا۔ بے شمار قربانیوں کے بعد عالمی برادری نے امن، استحکام اور خوشحالی کی طرف بڑھنے کے لیے نظام وضع کیے۔ ان نظاموں کی بنیاد بھی اعتماد ہی تھا۔
لیکن کئی دہائیوں سے، کئی نسلوں کی محنت سے قائم کیا گیا یہ اعتماد آج متاثر ہو رہا ہے۔ کووڈ-19 نے ہمیں آئینہ دکھایا کہ اعتماد اور یکجہتی کے دعوے کتنے کمزور تھے۔
آج دنیا کو وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ اعتماد کی کمی کا سامنا ہے۔ اور ہماری شراکت داریوں کا مستقبل اسی اعتماد کی تعمیر پر منحصر ہے۔
امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن نے کہا تھا:‘‘Trust but Verify’’(بھروسہ کریں لیکن تصدیق کریں۔)۔ یہ آج بھی اتنا ہی متعلقہ ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک نئے دور کے مطابق ایک قابلِ اعتماد، قواعد پر مبنی عالمی نظام تشکیل دیں۔
دوستو!
ہندوستان نے ہمیشہ دنیا کو ایک خاندان کے طور پر دیکھا ہے۔ ہماری تمام کوششیں “سروجن ہِتائے، سروجن سکھائے”—یعنی سب کی بھلائی اور خوشی—کے اصول پر مبنی رہی ہیں۔
ہندوستان کا تجربہ دکھاتا ہے کہ ترقی سب سے زیادہ مؤثر تب ہوتی ہے جب وہ عوام کی امنگوں سے جڑی ہو۔ اسی اصول کے تحت ہندوستان نے انٹرنیشنل سولر الائنس، کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر، گلوبل بایو فیولز الائنس، مشن لائف، اور “ایک پیڑ ماں کے نام” جیسی عالمی پہلوں کو آگے بڑھایا ہے۔
بحران کے وقت ہندوستان نے پہلے جواب دہندہ (فرسٹ ریسپانڈر) کے طور پر مختلف ممالک کی مدد کو اپنا فرض سمجھا ہے۔ کووڈ وبا کے دوران ہندوستان نے 150 سے زائد ممالک کو ادویات اور ویکسین فراہم کیں۔
سری لنکا میں طوفان ہو، افغانستان میں زلزلہ، موزمبیق میں سیلاب، یا کیوبا اور جمیکا میں ہریکین— ہندوستان نے ہمیشہ “Humanity First” کے اصول پر کام کیا ہے۔ ہماری ترقیاتی شراکت داری بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتی ہے اور صلاحیت سازی اور مہارتوں کی ترقی پر مرکوز ہے۔
ہندوستان کا ماننا ہے: شراکت داری کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم دوسروں کے لیے کیا بناتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو خود اپنے لیے کیا بنانے کے قابل بناتے ہیں۔
دوستو!
آج گلوبل ساؤتھ کی عالمی برادری سے بہت توقعات ہیں، لیکن ان کی توقع سہارا نہیں بلکہ ساتھ کی ہے۔ وہ عالمی ترقی کے محض فائدہ اٹھانے والے نہیں بلکہ اس کے شراکت دار بننا چاہتے ہیں۔
ہمیں‘‘donor–recipient ’’کی سوچ سے آگے بڑھ کر مساوی شراکت داروں کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ ساتھ ساتھ چلنا ہوگا، نہ کہ ایک دوسرے کے پیچھے یا آگے۔ شراکت داری کو انحصار کے بجائے وقار سے جوڑنا ہوگا۔ان کوششوں سے ہم آنے والی نسلوں کے پائیدار ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
دوستو!
بین الاقوامی شراکت داریاں اور عالمی یکجہتی اسی وقت بامعنی بن سکتی ہیں جب ہم مشترکہ چیلنجوں کا مل کر حل تلاش کریں۔ ہندوستان کا پختہ یقین ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات اور جنگوں کا مستقل حل صرف مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ہم مغربی ایشیا میں امن کی کوششوں میں پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس تنازعے سے وہاں ہمارے دوست ممالک کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز میں سمندری تجارت میں رکاوٹ سے عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ ہندوستان کے کئی شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ عالمی سمندری تجارت سے جڑے ملاحوں کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سمندری راستہ محفوظ رہیں اور سی فیررز بغیر خوف کے اپنا کام انجام دے سکیں۔
دوستو!
ہندوستان ان تمام امور پر اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بہت بہت شکریہ۔
*******
ش ح- ظ الف- ش ب ن
UR-8728
Shared my thoughts at the Outreach Session on ‘Forging New Partnerships and Rebuilding International Solidarity’ at the G7 Summit in Evian. In a world that is getting more interconnected and interdependent than ever before, this subject becomes all the more vital. But,… pic.twitter.com/NjNddWGtFF
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
Mutual trust is the most important strategic asset today.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
But, sadly, today, the world does not suffer from a shortage of resources…it suffers from a shortage of trust.
And the future of our partnerships depends on re-building this trust.
We, in India, view the world as one family.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
Our experience shows that development is most effective when it is connected to the aspirations of people.
This principle also forms the basis of our international partnerships like the International Solar Alliance, Coalition for…
India believes that the true test of partnership is not what we build for others, but what we enable others to build for themselves.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
Our development partnerships reflect the same spirit.
Our efforts have focused on capacity building and skill development in partner countries.
Emphasised that the Global South has immense expectations from the world. More than support, it seeks partnership.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026
We must move beyond the donor-recipient mindset and work as equal partners!
We must walk together and not merely alongside one another.
Partnerships must be…
Highlighted India’s efforts in Africa, including the focus on training, capacity building, water resources, agriculture and energy. These are strengthening the capacities of African nations and helping them provide solutions to pressing global challenges.
— Narendra Modi (@narendramodi) June 16, 2026