پی ایم انڈیا
وزیر اعظم – میرے یہاں، اسی مکان میں رہتے ہوئے مجھے تقریباً 12سے 13 سال ہو گئے ہیں۔ اگر میں نے باقاعدگی سے اور ہر بار کسی کو خوش آمدید کہا ہے، کسی سے ملاقات کی ہے، تو وہ کھلاڑی ہیں۔ گزشتہ 10سے 12 برسوں سے آپ لوگوں کی محنت ہندوستان کو مسلسل کامیابیاں دلانے کی آپ کی کوششوں اور ہر کامیابی کے ساتھ نئی بلندیوں کو عبور کرنے کی روایت نے وہ کام کیا ہے جو شاید ہم اسکولوں میں جا کر بچوں سے کہتے کہ کھیلنا چاہیے، یہ کرنا چاہیے، وہ کرنا چاہیے۔ لیکن آپ کا تمغہ بچوں کو اس سے کہیں زیادہ متاثر اور کھیلوں کے لیے ترغیب دیتا ہے۔
وزیر اعظم – تم نے پچھلی بار مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری دونوں بیٹیاں کھلاڑی بنیں گی؟
کھلاڑی – جی ہاں، ابھی وہ کم عمر ہیں۔ اگلے دولت مشترکہ کھیلوں میں ایک ہی گھر سے تین تمغے لا کر دکھائیں گی۔
وزیر اعظم – پکا؟
کھلاڑی – جی ہاں۔
کھلاڑی – جب میں دوڑ رہا تھا، میرا مقابلہ 29 تاریخ کو تھا، تو اس دن گرو پورنیما تھی۔ اس لیے میں نے اسی دن اپنے گرو کو ایک تحفہ دیا۔
وزیرِاعظم – آپ نے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ آپ کی آنکھوں سے اتنے آنسو بہہ رہے تھے، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے آنسوؤں کا ہر قطرہ سونے کا تمغہ بن کر ٹپک رہا ہو۔
کھلاڑی – میں بہت زیادہ خوش تھی اور اسی دن جذباتی بھی تھی۔ خوشی زیادہ تھی اور میں اس لیے روئی کہ پیرس اولمپکس میں ایک کلوگرام زمرے میں میرا تمغہ رہ گیا تھا۔ ایک کھلاڑی کی زندگی میں ہمیں نہ جانے کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان چار برسوں کے دوران میں نے بہت کچھ برداشت کیا۔ ہر وقت چوٹوں کا سلسلہ جاری رہا، خاندانی مسائل بھی تھے اور بہت کچھ ہو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے میں نے یہ چار سال گزارے۔ جب میں پوڈیم پر کھڑی تھی، سر، اور ہمارا پرچم بلند ہو رہا تھا اور ہمارا قومی ترانہ بج رہا تھا، تو سر، ہم خود کو روک نہیں سکتے۔ آنسو خود بخود نکل آتے ہیں۔
وزیر اعظم – بہت بہت خوب!
وزیر اعظم – میں آپ کی اس کامیابی کو صرف آپ کی کامیابی نہیں سمجھتا۔ آپ کی یہ فتح آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہت بڑی تحریک بن جاتی ہے۔
کھلاڑی – سب ہم سے ڈر رہے تھے کہ اگر ہندوستان کے ساتھ مقابلہ ہو گیا تو اب تو ہم پہلی ہی لڑائی ہار جائیں گے اور ہمارا تمغہ بھی نہیں آئے گا۔
وزیر اعظم – یعنی وہ پہلے ہی یہ مان کر چل رہے تھے؟
کھلاڑی – جی سر۔
وزیر اعظم – کیا ہوا، وہ ریستوران والوں سے جھگڑ رہی تھی؟
کھلاڑی – ہماری کارکردگی بہت اچھی رہی تھی، آخری دن تھا، ہم سب جیت کر آئے تھے اور پورا ہندوستان ہمارے ساتھ تھا۔ تو مجھے تھوڑا برا لگ رہا تھا۔ میں نے ان سے اچھی طرح درخواست کی تھی، سر، پھر انہوں نے میری بات مان بھی لی اور اب تبدیلی بھی کر دی گئی ہے۔
وزیر اعظم – اس کامیابی کے ماحول میں خوشی، مسرت، اپنے ساتھیوں کے ساتھ جشن اور چونکہ مقابلے مکمل ہو چکے ہیں، تو ایسے وقت میں ہنسی مذاق اور تفریح کا ماحول ہوتا ہے۔ ایسے میں اس نقشے پر نظر پڑنا، اسے ذہن میں رکھنا اور پھر فوراً اس کا اظہار کرنا… ایسا نہیں ہے کہ صرف تمغہ لیتے وقت ہی ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ سچ بتاؤں تو ملک کا جذبہ دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے۔ آپ کی یہ ویڈیو معمولی ویڈیو نہیں ہے، لوگ اسے طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔ اب تو دنیا کے کھلاڑی باکسنگ میں ہندوستان کے کھلاڑیوں سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔
کھلاڑی – ضرور سر، سبھی ہم سے ڈرے ہوئے تھے۔ ایک کے بعد ایک سونے کے تمغے آ رہے تھے اور آخر میں تو جیسے زبردست دھماکا ہو گیا۔ جس طرح ہمیں تعاون مل رہا ہے، مسلسل مقابلوں میں شرکت کے مواقع مل رہے ہیں، یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے جتنے بھی نوجوان کھلاڑی ہیں، ان میں سے زیادہ تر کھیلو انڈیا اسکیم کے ذریعے سامنے آئے ہیں اور اس سے پورے کھیل کے شعبے میں بہت بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
وزیراعظم – اگر آپ لوگ کھیلو انڈیا کی ساکھ بڑھاتے ہیں تو یہ ساکھ صرف وہاں جا کر فیتہ کاٹنے سے نہیں بڑھے گی۔ آپ کو اسی طرح کھیلنا ہوگا جیسے ایک چھوٹا طالب علم، ایک نوجوان اور ایک ابھرتا ہوا کھلاڑی کھیلتا ہے۔ یہ بہت بڑا تعاون ہوگا۔ کیونکہ ہمیں ابھی بہت آگے جانا ہے اور بہت سے تمغے جیتنے ہیں۔ کارگل وجے دیوس کے موقع پر فتح کس کی ہوئی تھی؟
کھلاڑی – اس دن کارگل ڈے بھی تھا اور جس دن میرا پاکستان کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا، وہ بھی اسی دن تھا۔ چونکہ میں ہندوستانی فوج سے ہوں، اس لیے پہلے ہی میرے دل میں یہ جذبہ تھا کہ سر، پاکستان کو ہرانا ہے۔ میں نے پاکستان کے کھلاڑی کو 5-0 سے شکست دی اور اپنا یہ تمغہ ہندوستانی فوج کے کارگل کے ہیروز کے نام وقف کیا تھا، سر۔
وزیر اعظم – آپ کو یہ بات یاد رہی اور چونکہ آپ خود بھی فوج سے وابستہ ہیں، اس لیے میں ضرور مانتا ہوں کہ ملک کے بہادر جوانوں کے لیے آپ نے جو جذبات ظاہر کیے کہ‘‘میں اپنا تمغہ کارگل کے فاتحین کے نام وقف کرتا ہوں’’، اس نے اس فتح کو مزید شاندار بنا دیااور جسے شکست دینی تھی، آپ نے اسی کو شکست دی۔
کھلاڑی – پاکستان کی بات چل رہی ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا، سر۔ 2015 میں عالمی فوجی کھیلوں کا انعقاد ہوا تھا اور میرا پہلا مقابلہ پاکستان کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ چونکہ یہ عالمی فوجی کھیل تھے، اس لیے فوج کی طرف سے فون آیا کہ بھئی، پاکستان سے ہارنا نہیں ہے۔ پھر میں نے پہلے راؤنڈ میں 4-1 سے کامیابی حاصل کی اور دوسرے راؤنڈ میں 3-2 سے جیتا۔ لیکن دونوں کے سر آپس میں ٹکرا گئے، اس لیے دونوں کے سر پر چوٹیں آئیں اور کٹ لگ گئے، لیکن مقابلہ میں جیت گیا۔
وزیر اعظم – ہاں۔
کھلاڑی – اس کے بعد ہم دونوں اسپتال چلے گئے تاکہ ٹانکے لگوائیں۔ پھر 2014 میں آپ پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے اور جو فوج کی طرف سے ہمارے ساتھ کوچ گئے تھے، ان کا نام نریندر رانا تھا۔ پھر وہ کافی دیر تک سوچنے کے بعد مجھ سے بولے، ’’بھائی جان، ایک بات کہوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں، بولیے۔‘‘ انہوں نے کہا، ‘‘بھائی جان، آپ کا نام نریندر ہے، آپ کے کوچ کا نام نریندر ہے اور آپ کے وزیرِ اعظم کا نام بھی نریندر ہے، تو مجھے نریندر نام سے ہی نفرت ہو گئی ہے۔’’
وزیر اعظم – آپ نے صرف تمغوں کی تعداد نہیں بڑھائی، بلکہ آپ نے ایک پوری نسل تیار کی ہے۔
کھلاڑی – میرے دل میں بھی دھک دھک، دھک دھک ہو رہا ہے، سر۔
وزیر اعظم – آپ فکر نہ کریں۔
کھلاڑی – لیکن…
وزیر اعظم – اگر آپ چاہیں تو بولنے پر بھی آپ کو تمغہ ملنے والا ہے۔
کھلاڑی – میرے دوستوں میں سے کسی نے ایک بار کہا تھا کہ میں انہیں اکثر یہ کہتی تھی کہ ‘‘بھئی، تمہاری بھلائی کے لیے کہہ رہی ہوں، یہ کام کرو۔’’ تو وہ اکثر مجھ سے کہتے تھے، ‘‘تو کیا مودی سے ملی ہوئی ہے؟’’
وزیر اعظم – ہاں۔
کھلاڑی – ہریانوی میں کہتے تھے، سر، ‘‘کیا تو مودی سے ملی ہوئی ہے کہ وہ تیری بات مانیں؟’’ تو آج میں آپ سے مل لی ہوں، سر۔ اب میں انہیں بتا سکوں گی کہ ہاں، میں مودی جی سے ملی ہوں۔
کھلاڑی – دولتِ مشترکہ کھیلوں میں جب میں نے چاندی کا تمغہ جیتا تو میں نے اس کا سہرا آپ کو دیا۔ میرا خواب تھا کہ ایک بار تمغہ جیت کر لاؤں، لیکن تربیت کا کوئی مرکز نہیں تھا۔ جب میں اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا آئی تو مجھے بہت زیادہ تربیت ملی اور میں تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اسی لیے میں نے بہت خوشی کے ساتھ آپ کو اس کا سہرا دیا، کیونکہ میری کارکردگی میں بہت بہتری آئی۔
وزیر اعظم – میرے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ محنت آپ نے کی اور مجھے یاد کیا۔ میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں، دوست۔
وزیر اعظم – تم وارانسی میں کھیل کی مشق کر رہی تھیں نا؟
کھلاڑی – جی سر۔
وزیر اعظم – اسٹیڈیم کیسا بنا ہے؟
کھلاڑی – سر، بہت اچھا بنا ہے۔ میں وہاں 10 سے 12 دن کے لیے تربیت کرنے گئی تھی۔ چونکہ میں مندر بھی گئی تھی، اس لیے وہیں تربیت بھی کر کے آئی اور میں وہاں مستقل طور پر رہنا بھی چاہتی ہوں، کیونکہ مجھے کاشی وشوناتھ بہت پسند ہے، سر۔
وزیر اعظم – تم بھوپال میں تربیت کر رہی تھیں نا؟
کھلاڑی – جی سر۔
وزیر اعظم – تو اجین بھی جاتی تھیں یا نہیں؟
کھلاڑی – جی سر، اجین بھی گئی تھی۔
وزیر اعظم – اچھا، مہاکال کے پاس بھی گئی تھیں؟
کھلاڑی – جی سر۔
وزیر اعظم – کاشی وشوناتھ کے درشن بھی کر لیے ایک بار؟
کھلاڑی – جی سر۔
وزیر اعظم – ساون کا مہینہ تو ابھی چل رہا ہے۔
کھلاڑی – گھر جا کر پھر اس کے بعد جاؤں گی، سر۔
وزیراعظم – ٹھیک ہے۔
کھلاڑی – اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے بھی سر، میری بہت مدد کی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں آج یہاں تک پہنچ پائی ہوں۔ میں 2018 میں کھیلو انڈیا اسکیم کا حصہ بھی تھی۔ جب پہلی مرتبہ کھیلو انڈیا کا انعقاد ہوا تھا، اس میں میں نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہاں بھی میں نے افتتاحی تقریب میں آپ کو دیکھا تھا۔ اس مقابلے میں میرا تمغہ آیا تھا، مجھے اسکیم کا فائدہ بھی ملا اور میں آج یہاں تک پہنچ پائی ہوں، سر۔
وزیر اعظم – کھیلوں کا نظام اپنی جگہ ایک اہم چیز ہے، لیکن ملک اس وقت تمغے حاصل کرتا ہے جب ملک میں کھیلوں کا ماحول اور ثقافت پیدا ہوتی ہے۔ دوستو، آپ نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ ملک کا نام روشن کیا ہے۔ میں آپ کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں اور یقین رکھیے، آپ آئندہ بھی کامیاب ہوں گے اور ایک بار پھر ہم یہیں ملیں گے۔ بہت بہت شکریہ، بہت بہت نیک خواہشات۔
وزیر اعظم – آپ نے مسلسل تیسری مرتبہ ملک کے لیے تمغہ جیتا ہے۔
کھلاڑی – شکریہ سر۔
وزیراعظم – بہت دعائیں بیٹا۔
کھلاڑی – اور بہت بہت شکریہ۔ میں سر کے ہاتھ سے لڈو کھا رہی ہوں۔ کل میری سالگرہ تھی، تو آج سر کے ہاتھ سے…
وزیر اعظم – بہت بہت مبارک ہو، واہ!
وزیراعظم – مسکراؤ یار۔
وزیر اعظم – جو کھیلے گا، وہی کھلے گا۔
***
ش ح۔ م م ع۔ش ب ن
U-1711