Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے شری رام کالج آف کامرس کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے شری رام کالج آف کامرس کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ موقع کالج اور ملک کے تعلیمی شعبے، دونوں کے لیے تاریخی ہے، کیونکہ متعدد نسلیں ایک ساتھ جمع ہوئی ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’میں بانی شری رام جی کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے وژن کو سلام کرتا ہوں۔‘‘

کالج اور ملک کے تعلیمی شعبے، دونوں کے لیے 100 سال کے اس اہم سنگِ میل کی گہری اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بانی شری رام جی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے دیرپا وژن کو سلام کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’جب کوئی ادارہ 100 سال کا ہوجاتا ہے تو وہ کامیابیوں اور تحریکوں کا سمندر بن جاتا ہے۔‘‘

دریا گنج میں ایک معمولی ادارے سے ایک عظیم تعلیمی ادارے تک کالج کے شاندار ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس نے نسلوں کی تشکیل کی ہے۔ انہوں نے آج اس ادارے کے نام سے وابستہ بے پناہ فخر کو تسلیم کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’آج بھی ڈی یو میں یہ کہنا کہ آپ ایس آر سی سی سے ہیں، بذاتِ خود ایک  فخر کی بات  ہے۔‘‘

کالج کی شاندار وراثت کی تعریف کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ایس آر سی سی کے سابق طلبہ کو حقیقی پیش رو قرار دیا، جنہوں نے مختلف شعبوں میں ادارے کو عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم ارون جیٹلی اور سنجیو سانیال جیسی ممتاز شخصیات کے ساتھ کام کرنے کے اپنے ذاتی تجربات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فارغ التحصیل طلبہ نے فن کاروں، سیاست دانوں اور ججوں کی حیثیت سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’یعنی ایس آر سی سی کے سابق طلبہ نے ہر شعبے میں اپنی شناخت بنائی ہے۔‘‘

موجودہ تقریب کے حوالے سے بڑے پیمانے پر پائی جانے والی پرانی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ لوگ کالج میں 2013 میں ان کی سابقہ تقریر کو محبت سے یاد کررہے ہیں اور اسے دوبارہ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریر نے ایک دیرپا لہر پیدا کی تھی، جس کا مثبت اثر 13 سے 14 سال گزرنے کے باوجود آج بھی پوری طرح برقرار ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’خود کو پوری طرح ملک کے لیے وقف کرنا وہ اندرونی جذبہ ہے جو اس دن میرے الفاظ میں ظاہر ہوا تھا۔‘‘

ماضی کی مشکلات کا آج کی کامیابیوں سے موازنہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کو شکست دی جاچکی ہے، مسلح افواج پورے اعتماد کے ساتھ دشمنوں کے گھروں میں گھس کر انہیں نشانہ بنا رہی ہیں اور جموں و کشمیر سے شمال مشرق تک امن بحال ہوچکا ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ اب دنیا بھارت کی متحرک  پالیسی  اور سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کی حیثیت کو سراہ رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’مغربی ایشیا کی جنگ اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے درمیان سہ ماہی شرحِ نمو کا 7.8 فیصد حاصل کرنا بھارت کی اندرونی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔‘‘

مسلسل تنقید کرنے والوں کی بات کاٹنے کے لیے ٹھوس معاشی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ اپریل سے جون کے درمیان بجلی کی پیداوار میں 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی گاڑیوں کی فروخت میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس میں دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں 20 فیصد اور تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل اور سیمنٹ کی کھپت میں 8 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تعمیرات، رہائش اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی سے وسعت آرہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’اس کے باوجود، 2013 میں جن لوگوں نے گلاس کو آدھا خالی دیکھا تھا، ان کی سوچ آج بھی بالکل ویسی ہی ہے۔‘‘

2013 میں عوام دوست اچھی حکمرانی (پی ٹو جی ٹو) کے اپنے وعدے کو یاد کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے سابقہ حکومتوں کے ردِعمل پر مبنی طریقۂ کار کو مستقل طور پر ترک کردیا ہے۔ انہوں نے جن دھن یوجنا کی 12 سالہ کامیابی کو اس کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ مارچ 2014 تک بھارت کی 1.25 ارب آبادی میں 50 فیصد سے زیادہ لوگوں کے بینک کھاتے نہیں تھے، جبکہ اب اس اسکیم نے تقریباً 60 کروڑ شہریوں کو بینکاری نظام سے جوڑ دیا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’آج ملک کا تقریباً ہر خاندان بینکاری نظام سے جڑا ہوا ہے، جس نے بھارت کے فن ٹیک انقلاب کی بنیاد رکھی ہے۔‘‘

ابتدائی دور میں ’میک اِن انڈیا‘ پہل کا مذاق اڑائے جانے کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ملک کو ایک بڑے درآمد کنندہ سے ایک سرکردہ برآمد کنندہ میں تبدیل کرنے میں اس کی شاندار کامیابی کو سراہا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ اسمارٹ فون کی برآمدات اب 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرچکی ہیں، جبکہ دفاعی سازوسامان کی ملکی پیداوار تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے 2013-14 کی محض 600-700 کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات کو آج 40,000 کروڑ روپے کی ایک بڑی صنعت میں تبدیل کردیا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’میں چھوٹے اور آسان اہداف کے ساتھ چلنے والا شخص نہیں ہوں؛ میں ملک کے لیے بڑے اہداف مقرر کرتا ہوں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے اپنا دل و جان لگا دیتا ہوں۔‘‘

نوجوانوں اور 140 کروڑ بھارتیوں کی صلاحیت پر بے پناہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے خود کفیل اور مکمل طور پر وکست  بھارت کے لیے ایک پُرعزم وژن پیش کیا۔ انہوں نے مستقبل کے بلند حوصلہ سنگِ میل کا خاکہ پیش کیا، جن میں زرعی برآمدات کے شعبے میں عالمی طاقت بننا، بھارتی خلائی اسٹیشن قائم کرنا اور بالآخر اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنا شامل ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اور یہ محض باتیں نہیں ہیں، یہ ہمارے پختہ عزم ہیں۔‘‘

کیمپس کی رونق ،کو-آپ کی چائے ، کراس روڈزجشن اور بزنس کانکلیو  کے دنوں سے نکل کر بیرونی دنیا کی حقیقتوں کی طرف بڑھتے ہوئے، وزیرِ اعظم نے طلبہ کو ان مایوس ذہنیت رکھنے والے افراد سے خبردار کیا جو عادتاً قومی ترقی کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایسے ناقدین دنیا کے سب سے بلند قامت مجسمے، ہائی اسپیڈ ٹرینوں، یو پی آئی اور نئی پارلیمنٹ کی عمارت جیسے اہم منصوبوں پر بھی مسلسل سوال اٹھاتے رہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’لیکن بھارت نے جواب دے دیا: ملک کے لیے جو ضروری ہے، اسے کرنے سے بھارت کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘

بنیادی ڈھانچے اور پالیسیوں کے نفاذ کی غیر معمولی رفتار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ جن منصوبوں کو پہلے مکمل ہونے میں کئی دہائیاں لگ جاتی تھیں، اب وہ صرف چند برسوں میں مکمل کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں پہلی برقی ٹرین 1925 میں چلنے کے باوجود 2014 تک 30 فیصد سے بھی کم ریلوے لائنیوں کی  برق  کاری ہوپائی تھی، جبکہ ان کی حکومت نے صرف 12 برسوں میں تقریباً 100 فیصد ریلوے لائنوں کی برق  کاری مکمل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چمڑے، ٹیکسٹائل اور تیار شدہ غذائی اشیا کے شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس سے بھارت کے نوجوانوں کے لیے مواقع کا ایک نیا آسمان  کھل  رہا ہے۔‘‘

جناب مودی نے اپنی حکومت کی جانب سے کووِڈ-19 عالمی وبا اور روس۔یوکرین جنگ جیسے  بڑے  بحرانوں سے مضبوطی کے ساتھ نمٹنے کا ذکر کیا۔ جناب مودی نے پُراعتماد انداز میں کہا، ’’میرے ملک کے عوام کی دعاؤں میں اتنی طاقت ہے کہ ہندوستان کا برا چاہنے والوں کی ہر خواہش خاک میں مل رہی ہے۔‘‘

21ویں صدی کے نوجوانوں کے بلند حوصلہ جذبے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے یونی کورن کمپنیاں قائم کرنے، ڈرون ٹیکنالوجی میں جدت لانے اور جدید ترین مصنوعی ذہانت کے حل تیار کرنے کے ان کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پچھلی نسلوں سے بھی بڑے خواب دیکھیں اور انہیں چیلنج دیا کہ وہ عالمی سطح کی ایسی مشاورتی، اکاؤنٹنگ، مالیاتی اور قانونی کمپنیاں قائم کریں جو دنیا کی قیادت کرسکیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’آج ہندوستانی دنیا کی سرکردہ کمپنیوں کی قیادت کررہے ہیں، تو پھر بھارتیوں کی قائم کردہ کمپنیاں دنیا کی قیادت کیوں نہیں کرسکتیں؟‘‘

ایس آر سی سی  کے علامتی نشان سے تحریک حاصل کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے نوجوانوں کے سفر کا خوبصورت موازنہ ایک ایسے بحری جہاز سے کیا جو رہنمائی کرنے والے سورج کی جانب آگے بڑھ رہا ہو۔ انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ خود انحصاری کی ایک نئی راہ اختیار کریں، جہاں حوصلہ، خواب اور آخری فتح مکمل طور پر بھارت کی اپنی ہو۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’ وکست  بھارت کی جانب سفر میں تیزی سے اٹھنے والا ہر قدم ہمارا اپنا ہونا چاہیے۔‘‘

 

 

******

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 3070