Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کھیلو انڈیا ڈائیلاگ میں شرکت کی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کھیلو انڈیا ڈائیلاگ میں شرکت کی


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کھیلو انڈیا ڈائیلاگ میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نے اس شاندار پروگرام کے انعقاد پر منتظمین، مرکزی کابینہ کے ارکان، وزرائے اعلیٰ اور لاکھوں ‘مائی بھارت’ رضاکاروں کو دلی مبارک باد پیش کی۔ 29 اگست کو آنے والے قومی یومِ کھیل کے پیش نظر انہوں نے ملک بھر کے نوجوانوں اور کھیلوں سے وابستہ پوری برادری کو پیشگی نیک خواہشات پیش کیں۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یہ دن مادرِ وطن کے عظیم سپوت میجر دھیان چند جی کو یاد کرنے کا دن بھی ہے۔’’

وزیر اعظم نے ایک صدی قبل بھارتی فوج کی ہاکی ٹیم کے نیوزی لینڈ کے تاریخی دورے کو یاد کرتے ہوئے دو طرفہ کھیلوں کے تعلقات کے قیام میں میجر دھیان چند کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں انہوں نے اس عظیم کھلاڑی کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت ان تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم اورمالا مال بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘میجر دھیان چند جی نے جن تعلقات کی بنیاد رکھی تھی، آج بھارت ان تعلقات کی ترقی اور استحکام کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔’’

وزیر اعظم نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے سے پیش کیے گئے اپنے حالیہ کھیلوں کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کی اہمیت صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کھیلوں کو ایک اہم مہم قرار دیا، جس کا مقصد ملک کی کھیلوں کی طاقت اور نوجوانوں کی توانائی کو باہم مربوط کرتے ہوئے ایک وکست بھارت کی تعمیر کرنا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ جو کھیلیں گے، وہی نکھریں گے۔’’

کھیلوں میں کامیابی کے وسیع تر مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کھیلوں میں کامیابی بنیادی طور پر فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے، خاندان کے لیے فخر کا باعث بنتی ہے اور ملک کے وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی کی کامیابی سے اس کے اسکول، ضلع اور ریاست کا وقار بھی بلند ہوتا ہے اور مقامی علاقوں کو عالمی نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہوتا ہے۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘ہر ضلع میں عالمی کھیلوں کے نقشے پر اپنی شناخت بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی بے پناہ صلاحیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں اس سمواد پروگرام کو آگے بڑھانا ہے۔’’

وزیر اعظم نے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران اجاگر کیے گئے ایک اہم چیلنج کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت تاریخی طور پر اولمپک کے تقریباً نصف کھیلوں میں حصہ نہیں لیتا رہا ہے۔ 2012 کے اولمپکس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت نے محض 13 کھیلوں میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 20 سے زائد عالمی کھیلوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ملک تمغوں کی مجموعی تعداد کے ایک بڑے حصے سے محروم رہ جاتا ہے۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘اپنے تمغوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ہمیں ان کھیلوں میں بھی لازماً مہارت حاصل کرنی ہوگی۔’’

بے پناہ پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ بھارت کے پاس وسیع ساحلی علاقے اور پہاڑی خطے موجود ہیں، جو سرفنگ، اسپورٹس کلائمبنگ اور سرمائی کھیلوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں، لیکن اس کے باوجود ان شعبوں میں بھارت کی عالمی سطح پر کوئی نمایاں موجودگی نہیں ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے مختلف اضلاع میں مخصوص کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو تلاش کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی ہدف بنداور مرکوز حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔

2036 کے اولمپکس کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف کھیلوں میں اولمپک کے لیے کوالیفائی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کھلاڑیوں کی فوری طور پر شناخت کرکے انہیں تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو ہدف بنا کر ملک گیر سطح پر بڑے پیمانے پر ٹیلنٹ ہنٹ شروع کرنے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کے عمل میں بچوں کی کھیلوں میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ متعلقہ کھیل کے لیے درکار مخصوص جسمانی صلاحیت کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔ جناب مودی نے یقین دلایا، ‘‘اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے جس بھی تعاون کی ضرورت ہوگی، حکومت آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔’’

21ویں صدی کے جدید کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خصوصی کھیل یونیورسٹیوں اور جدید تربیتی مراکز کے قیام کے لیے جاری اقدامات کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کھیلوں کی سائنس، تربیت اور کوچنگ کے شعبوں میں عالمی بہترین طریقۂ کار سے استفادہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘ملک میں ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جس میں کھلاڑیوں کی صلاحیت کی شناخت سے لے کر انہیں عالمی سطح پر پہنچانے تک ہر مرحلے پر ضروری تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔’’

کھیلوں کی ترقی کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کھیلو انڈیا سمواد کو محض ایک گفت و شنید کا پروگرام نہیں بلکہ ملک کے کھیلوں کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس سمواد کے ذریعے اپنی ذاتی امنگوں کو قومی خوابوں سے جوڑیں اور یقین دلایا کہ ٹیلنٹ کی نشوونما اور کھیلوں کے نظم و نسق سے متعلق ان کی تجاویز براہِ راست پالیسی سازی پر اثرانداز ہوں گی۔ جناب مودی نے کہا،‘‘نوجوان طاقت کے یہی نئے خیالات ایک وکست بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قوت بنیں گے۔’’

کھیلوں کے گہرے سماجی فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صحت مند معاشرے، مضبوط خاندانی نظام اور بہتر کام کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے کھیلوں کے حقیقی جذبے کا ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کھیل کا میدان انسان کو صرف چیمپئن بننا ہی نہیں سکھاتا بلکہ ناکامیوں کا حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ سامنا کرنا اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونا بھی سکھاتا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘کھیل ہمیں صرف چیمپئن بننا نہیں سکھاتے بلکہ ہمیں ایک بہتر مدّمقابل بننا بھی سکھاتے ہیں۔’’

کھیلوں کی حیرت انگیز تبدیلی لانے والی طاقت کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے ملک کے پیرا ایتھلیٹس کی خصوصی طور پر تعریف کی اور کہا کہ ان میں زندگی اور مشکلات کے بارے میں معاشرے کے نقطۂ نظر کو بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی خصوصی صلاحیت کے حامل کھلاڑی کی کامیابی پورے خاندان میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے اور ان کے والدین اور بہن بھائیوں کے حوصلے اور خوابوں کو نئی بلندی عطا کرتی ہے، جنہوں نے ان کی ابتدائی جدوجہد کے دوران ان کا ساتھ دیا۔

اپنی گہری ذاتی تحریک کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تیرانداز شیتل، دو بار پیرالمپک تمغہ جیتنے والی اَوانی لیکھرا، سُمت انٹل، نِتیش کمار اور جھندو کمار جیسے پیرا ایتھلیٹس کی شاندار کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فتوحات ان کی آبائی ریاستوں اور پورے ملک کے لیے بے حد فخر کا باعث ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘جب میں اَوانی سے ملتا ہوں تو مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے؛ ایسے ہر ساتھی سے ہمیں تحریک ملتی ہے۔’’

کھیلوں کو بہتر معیارِ زندگی کی بنیادی ضمانت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے صدی سے زائد عمر کے لیجنڈری ایتھلیٹ فوجا سنگھ کو زندگی بھر کی جسمانی تندرستی اور کھیلوں سے لگاؤ کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ فوجا سنگھ کی زندگی اس بات کی بہترین عکاسی کرتی ہے کہ جسمانی سرگرمی اور مجموعی صحت و تندرستی ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’ان کی زندگی اس بات کی ایک بہت بڑی مثال ہے کہ کھیل اور معیارِ زندگی کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

جناب مودی نے منشیات کے استعمال کے سنگین سماجی مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں سے حقیقی وابستگی انسان کے اندر وہ قوتِ ارادی پیدا کرتی ہے جو اسے منشیات سے دور رہنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں میں نشے کی لت کے خلاف جدوجہد میں کھیلوں کے نہایت مؤثر اور بامعنی کردار کو سراہا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا،‘‘آج جب نوجوانوں کے سامنے نشے کی لت کا چیلنج بہت بڑا ہے، ایسے میں کھیل اس کے تدارک میں بھی ایک نہایت بامعنی کردار ادا کرتے ہیں۔’’

بھارت میں کھیلوں کے ایک باوقار پیشے کے طور پر ابھرنے کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ایک ثقافتی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جس کے تحت شہری ٹرائیتھلون، 5 کلو میٹر اور 10 کلو میٹر کی دوڑوں کے ساتھ ساتھ ہائروکس جیسے فٹنس چیلنجز میں بھی سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سر کے بل کھڑے ہونے کی مشق میں مہارت حاصل کرنے سے لے کر شوقیہ طور پر پکلبال کھیلنے تک، کھیل تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ساتھ روزمرہ زندگی میں بھی اپنی جگہ مضبوطی سے بنا رہے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘یہی وہ تبدیلی اور انقلاب ہے، جس کی وجہ سے بھارت کے کھیلوں کے مستقبل پر اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔’’

نچلی سطح پر کھیلوں سے وابستگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کھیلوں کی حقیقی ثقافت اسی وقت تشکیل پاتی ہے جب اسکول جسمانی تعلیم کو محض غیر نصابی سرگرمی کے بجائے زندگی کے ایک بنیادی حصے کے طور پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دینے سے ملک میں کھیلوں کے لیے دستیاب صلاحیتوں کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور ساتھ ہی نوجوان کھلاڑیوں کو خاندان کی ضروری حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘کھیلوں کے مراکز اسکرینوں سے زیادہ اہم ہیں۔ کھیل کے میدان پلے اسٹیشن سے زیادہ اہم ہیں۔’’

بھارت کے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوانوں کی فعال شرکت، خواہ وہ کھیل کے میدان میں ہو یا معاشرے میں، ملک کی حقیقی طاقت ہے۔ انہوں نے کھیلوں کے شعبے میں روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بڑے پیمانے پر ہونے والے اضافے کو اجاگر کیا، جو کھیلوں کے نئے آلات کے ڈیزائن، جدید کھیلوں کی ٹیکنالوجی، کھیلوں کی طب، غذائیت، نفسیات اور تجزیات جیسے شعبوں میں ترقی کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘آپ کو ان مواقع سے محروم نہیں ہونا چاہیے؛ اس لیے اس سمواد میں اپنے خیالات کھل کر پیش کریں۔’’

******

ش ح۔ا ک۔اش ق

U. No. 2649