Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم نے ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے تاریخی امدادی اور رسائی کی پہل شروع کی

وزیر اعظم  نے  ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے تاریخی امدادی اور رسائی کی پہل شروع کی

وزیر اعظم  نے  ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے تاریخی امدادی اور رسائی کی پہل شروع کی

وزیر اعظم  نے  ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے تاریخی امدادی اور رسائی کی پہل شروع کی


 

  • وزیر عظم نے بارہ اہم اقدامات کی رونمائی کی
  • ایم ایس ایم ای کے لئے قرض تک آسان رسائی کی غرض سے 59 منٹ کا لون پورٹل
  • سی پی ایس ای کے ذریعے ایم ایس ایم ای سے 25فیصد خریداری کو لازمی قرار دیا
  • کمپنیز ایکٹ کے تحت نابالغان سے متعلق جرائم کے لئے طریقہ کار کو آسان بنانے سے متعلق آرڈیننس

 

 

نئی دہلی،2نومبر 2018؍ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج بہت چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں( ایم ایس ایم ای) سیکٹر کے لئے تاریخی امدادی اور رسائی پروگرام شروع کئے۔اس پروگرام کے حصے کے طورپر وزیر اعظم نے بارہ اہم اقدامات  کی رونمائی کی ہے، جس سے پورے ملک میں ایم ایس ایم ای کی ترقی ، توسیع اور سہولیات میں آسانی ملے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بارہ فیصلے جن کا آج انہوں نے اعلان کیا ہے ، ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے نئے باب ثابت ہوں گے۔ یہ کہتے ہوئے کہ ایم ایس ایم ای ہندوستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے اہم اداروں میں سے ایک ہے، وزیر اعظم نے لدھیانہ کی ہوزیئری اور وارانسی کی ساڑی سمیت چھوٹے پیمانے کی صنعت کی ہندوستان کی شاندار روایتوں کا ذکر کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعے شروع کئی گئی اقتصادی اصلاحات کی کامیابی ہندوستان کی‘‘ایز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگز’’ کو بہتر بناکرحاصل کی جاسکتی ہے۔جو گزشتہ چار برسوں کے دوران 142 سے بڑھ کر 77 مقام پر پہنچ گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کی آسانیوں کے پانچ اہم پہلو ہیں۔ ان پہلوؤں میں قرض تک رسائی، مارکیٹ تک رسائی، ٹیکنالوجی کا اپگریڈیشن، ایز آف ڈوئنگ بزنس اور ملازمین میں سیکورٹی کا احساس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹر کے لئے دیوالی کے گفٹ کے طورپر وہ بارہ اعلانات کر رہے ہیں ، جو ان پانچوں زمروں سے متعلق ہوں گے۔

قرض تک رسائی

پہلے اعلان کے طورپر وزیر اعظم نے ایم ایس ایم ای کو قرض تک آسان رسائی کے قابل بنانے کے لئے 59 منٹ کا قرض پورٹل شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ روپے تک کا قرض اصولی طورپر صرف 59 منٹ میں اس پورٹل کے ذریعے دیئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پورٹل کو جی ایس ٹی پورٹل کی وساطت  سے دستیاب کرایاجائے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ نئے انڈیا میں کسی کو بھی بار بار بینک کی برانچ میں جانے کے لئے مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا دوسرا اعلان نئے یا اضافی قرض  کے لئے تمام جی ایس ٹی درج رجسٹر ایم ایس ایم ای کے لئے 2 فیصد سود کی مالی امداد حاصل ہوگی۔ برآمد کاروں کے لئے جو مالی کی لدائی سے قبل یا بعد کی مدت میں قرض لیتے ہیں ، ان کے لئے وزیر اعظم نے سود میں 3 سے 5فیصد تک کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم کے ذریعے کیا گیا تیسرا اعلان یہ تھا کہ ایسی تمام کمپنیاں جن کا کاروبار 5سو کروڑ روپے سے زائد ہے  انہیں اب لازمی طورپر ٹریڈ ریسیویبل ای-ڈسکاؤنٹنگ سسٹم (ٹی آر ای ڈی ایس) کے تحت لایاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پورٹل میں شامل صنعت کار بینکوں سے قرض تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوں گے، جو ان کے لین دین پر مبنی ہوگی۔ اس سے کیش سائیکل کا مسئلہ حل ہوگا۔

منڈیوں تک رسائی

          وزیر اعظم نے کہا کہ صنعت کاروں کے لئے منڈی تک رسائی فراہم کرانے کی غرض سے مرکزی حکومت نے پہلے ہی متعدد اقدامات کئے ہیں ۔  اس پس منظر میں انہوں نے اپنا چوتھا اعلان یہ کیا کہ سرکاری دائرۂ کار کی کمپنیوں سے اب یہ کہا گیا ہے کہ وہ  اپنی مجموعی خریداری کا سابق 20 فی صد کی بجائے لازمی طور پر 25 فی صد مال ایم ایس ایم ای سے ہی خریدیں ۔

          وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اُن کا پانچواں اعلان خواتین صنعت کاروں سے متعلق ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ای  سے 25 فی صد حصولیابی کو لازمی بنائے جانے کے بعد اس کا تین فی صد خواتین صنعت کاروں کے لئے مخصوص کیا جا سکتا ہے ۔ 

          وزیر اعظم نے کہاکہ 1.5 لاکھ سے زائد سپلائروں کو  جی ای مارکیٹ کے ساتھ درج رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے  ۔ اس میں سے 40000 ایم ایس ایم ای ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ140000 کروڑ روپئے کے بقدر کے سودے  پہلے ہی  جی ای ایم کے توسط سے کئے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چھٹواں اعلان  مرکزی حکومت  کی سرکاری دائرہ کار کی صنعتوں کے لئے ہے اور اب ان کے لئے یہ بات لازم قرار دی گئی ہے کہ وہ اب جی ای ایم کا لازمی حصہ بنیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان صنعتوں کو اپنے تمام تر فروخت کاروں کو  جی ای ایم کے تحت درج رجسٹر کرانا ہو گا ۔

ٹیکنا لوجی میں بہتری

          ٹیکنا لوجی میں بہتری کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں ٹول روم  پروڈکٹ ڈیزائن کے اہم حصے ہوتے ہیں ۔ ساتواں اعلان یہ تھا کہ  ملک بھر میں 100 ہب قائم  کئے جائیں گے اور ٹول روم کی شکل میں 100 اسپوکس بھی  قائم کئے جائیں گے ۔

کاروبار کرنے کو آسان بنانا

          کاروبار کو آسان بنانے کے موضوع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا آٹھواں اعلان فارما کمپنیوں سے متعلق ہے ۔ انہوں  نے کہا کہ فارما ایم ایس ایم ای کے کلسٹر قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ  اس طرح کے کلسٹروں کے قیام کی 70 فی صد لاگت مرکزی حکومت برداشت کرے گی ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ اُن کا نواں اعلان سرکاری ضوابط کو آسان بنانے سے متعلق ہے ۔  انہوں نے کہا کہ نواں اعلان یہ ہے کہ   محنت قوانین  اور  10 مرکزی قواعد و ضوابط  کے تحت  ریٹرن کو  صرف سال میں  ایک مرتبہ داخل کیا  جانا چاہیئے ۔ 

          وزیر  اعظم نے کہا کہ اُن کا دسواں اعلان  یہ ہے کہ تمام ادارے ایسے ہوں گے ، جن کا معائنہ ایک انسپکٹر کریں گے  اور اس کا فیصلہ کمپیوٹر پر مبنی رینڈم الاٹمنٹ یعنی فوری تخصیص کے طور پر کیا جائے گا ۔

          وزیر اعظم نے بطور خاص اس بات کا ذکر کیا کہ ایک یونٹ کے قیام کے ایک حصے کے طور پر ایک صنعت کار کو دو طرح کی منظوریاں حاصل کرنی پڑتی ہیں ، جن میں ماحولیاتی منظوری اور قیام کے لئے اجازت شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا گیارہواں اعلان یہ ہے کہ فضائی اور آبی کثافت کے قوانین  کو  اب باہم ضم کرکے ایک واحد شکل میں لایا گیا ہے اور یہی واحد منظوری درکار ہو گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریٹرن  از خود تصدیق کے ذریعے قبول کیا جا ئے گا ۔

          بارہویں اعلان کے طور پر وزیر اعظم نے کہا کہ ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے  ، جس کے تحت کمپنیز ایکٹ کے تحت معمولی خلاف ورزیوں کے معاملے میں صنعت کاروں کو عدالت  تک جانے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ وہ سادے ضوابط اپناکر اس کی اصلاح کر سکیں گے ۔

ایم ایس ایم ای شعبے کے ملازمین کے لئے سماجی تحفظ

          وزیر اعظم نے ایم ایس ایم ای شعبے کے ملازمین کے سماجی تحفظ کی بات بھی کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنانے کے لئے مشن شروع کیا جائے گا کہ اُن کے پاس جن دھن کھاتے ہوں ، پروویڈنٹ فنڈ  اور بیمے کی سہولتیں بھی انہیں حاصل ہوں ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ ان فیصلوں سے ایم ایس ایم ای شعبے کو بھارت میں عرصۂ دراز میں استحکام حاصل ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس  آؤٹ ریچ پروگرام کے نفاذ کی  باقاعدہ طریقے سے  آئندہ 100 دنوں کے اندر نگرانی بھی کی جائے گی ۔

 

 ( م ن   ۔ ش س  ۔ ن ع  ۔ ع ا  ) 

U. No. 5626