Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم نے پرگتی میٹنگ کی صدارت کی

وزیر اعظم نے پرگتی میٹنگ کی صدارت کی


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج پرگتی میٹنگ کی صدارت کی، جو کہ ایک آئی سی ٹی پر مبنی کثیر النوع پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد فعال حکمرانی اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس میٹنگ میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نمائندے شامل ہوئے۔

میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے تین بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا جائزہ لیا جن کی مجموعی لاگت 62,000 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ یہ منصوبے سڑکوں، توانائی اور آبی وسائل کے شعبوں سے متعلق ہیں اور مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں واقع ہیں۔

وزیر اعظم نے ان منصوبوں کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں اور انہیں بروقت مکمل کیا جائے۔

منصوبوں میں تاخیر کے منفی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایسی تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے بلکہ عوام کو بنیادی خدمات اور انفراسٹرکچر سے بھی محروم کر دیتی ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ کارکردگی اور جوابدہی کو ترجیح دیں، اور بروقت تکمیل کو سماجی و اقتصادی فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ریرا) سے متعلق عوامی شکایات کے جائزے کے دوران، وزیر اعظم نے گھر خریداروں کے لیے انصاف اور برابری کو یقینی بنانے کے لیے شکایات کے ازالے کے معیار اور بروقت تکمیل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ریاستی حکومتوں سے کہا کہ تمام اہل رئیل اسٹیٹ منصوبوں کی ریرا ایکٹ کے تحت لازمی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ریرا کے قوانین کی سختی سے پابندی ہاؤسنگ مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

وزیر اعظم نے بھارت میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کی ترقی سے متعلق نمایاں بہترین عملی نمونوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسی پہلیں دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں رہنمائی کا ماڈل بن سکتی ہیں اور وسیع پیمانے پر اپنانے کی ترغیب دے سکتی ہیں، جس سے قومی سیمی کنڈکٹر مشن مضبوط ہوگا۔

اب تک کی پرگتی میٹنگز میں تقریباً 20.64 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 373 منصوبوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح –اس ک۔ م ش)

U. No.1211