پی ایم انڈیا
ملک کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے ملک سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت، تعلیم، کھیل، سول ڈیفنس، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، جوہری توانائی اور خواتین کی قیادت میں ترقی سمیت مختلف شعبوں سے متعلق متعدد اقدامات اور اہداف کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم کی تقریر کے اہم اعلانات میں شامل ہیں:
ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت: وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ آئندہ ایک سال کے دوران ایک کروڑ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ہندوستان کے نوجوانوں کو اے آئی کی دنیا میں قیادت کرنے کی صلاحیت سے لیس کرنے میں مدد ملے گی۔
مختلف امتحانات کے لیے مفت آن لائن کوچنگ: وزیر اعظم نے مختلف امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا۔ غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر کوچنگ کلاسز کے مالی بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، دستیاب باصلاحیت افراد اور اساتذہ کو یکجا کرکے ملک کے نوجوانوں کو مفت کوچنگ فراہم کرنے کے لیے ایک مکمل نیٹ ورک تشکیل دیا جائے گا۔
5 سے 15 سال کے بچوں کے لیے ملک گیر کھیلوں کا ٹیلنٹ ہنٹ: وزیر اعظم نے پانچ سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی شناخت کے لیے گاؤں، شہروں اور اسکولوں میں ملک گیر ٹیلنٹ ہنٹ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ شناخت کیے گئے بچوں کو خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں ایسے کھلاڑیوں کے طور پر تیار کیا جا سکے جو ملک کی نمائندگی کرنے کے قابل ہوں۔ ان اولمپک کھیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں ہندوستان فی الحال حصہ نہیں لیتا یا کوالیفائی نہیں کرتا، وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے کھیلوں میں صلاحیتیں پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
جدید چیلنجز کے لیے مؤثر سول ڈیفنس نیٹ ورک: جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ملک میں ایک مؤثر اور متحرک سول ڈیفنس نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اب ضروری نہیں کہ صرف سرحدوں تک محدود رہے بلکہ اس سے ریفائنریز، بینکنگ سیکٹر، ڈیٹا سینٹرز، فیکٹریاں اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ صدی کی جنگوں کے مطابق تیار کیے گئے سول ڈیفنس کے انتظامات اب فرسودہ ہو چکے ہیں۔ لہٰذا شہریوں کو جدید نظام سے واقف کرایا جائے گا اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک بڑی رضاکارانہ سول ڈیفنس فورس تیار کی جائے گی۔
خود انحصاری کو مضبوط بنانے کے لیے مزید سیمی کنڈکٹر پلانٹس: وزیر اعظم نے ڈجیٹل اور تکنیکی دنیا میں سیمی کنڈکٹر چپس کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اس شعبے میں خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سیمی کنڈکٹر پلانٹس پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں اور ان پلانٹس سے پیداوار برآمد بھی کی جانے لگی ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آئندہ سات سے آٹھ برسوں میں مزید پانچ، سات یا آٹھ سیمی کنڈکٹر پلانٹس قائم کیے جائیں گے، اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں خود انحصاری کو انہوں نےء ’وکست بھارت‘ کی جانب ایک اہم راستہ قرار دیا۔
2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت کا ہدف: چپس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے توانائی کے تحفظ اور جوہری توانائی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اس دہائی کے دوران پانچ نئے جوہری ری ایکٹرز شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے رواں سال فاسٹ بریڈر جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے، جو جوہری ایندھن کے معاملے میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کا ہدف: ملک کی تعمیر میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تین کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کا پہلے مقرر کیا گیا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھارت چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مزید تین کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کی تشکیل سے خواتین کی طاقت کے ذریعے دیہی معیشت میں بڑی تبدیلی آئے گی۔
*******
2152UR No.
ش ح- ظ الف