پی ایم انڈیا
نئی دہلی،29 اکتوبر /
وزیر اعظم اور میرے گہرے دوست آبے جی ،
ممتاز مندوبین ،
دوستو ،
نمستے ،
کوناّ چیوا !
یہاں ٹوکیو میں، اور اس سے پہلے یمانا شی میں اور اپنے گھر میں جس اپنے پن کے ساتھ آبے سان نے میرا خیر مقدم کیا ، اس نے میرے اس جاپان دورے کی کامیابی کو نا قابل فراموش بنا دیا ہے ۔ جاپان مشرق اور مغرب کی تہذیبوں کے سرکردہ پہلوؤں کا ملاپ ہے ۔ یہ وہی عظیم ملک ہے ، جس نے سکھایا ہے کہ بنی نوع انسان کی ترقی کا راستہ قدیم اور جدید کے مابین تصادم کا نہیں بلکہ ان کے پُر امن بقائے باہمی اور خلاقیت کا ہے ۔ نئے کا خیر مقدم اور قدیم کا احترام ۔ یہ جاپان کی عالمی تہذیب کو خاص عطیہ ہے اور ساتھ ہی بھارت اور جاپان کی ایک بڑی مماثلت بھی ہے ۔
حضرات ،
جاپان اور بھارت کے تعلقات کو بحر ہند اور بحر الکاہل سی گہرائی اور وسعت حاصل ہے ۔ یہ تعلقات جمہوری اقدار اور آزادی کے تئیں نیز قانون کی حکمرانی کے تئیں مشترکہ وابستگی پر منحصر ہیں ۔ اپنے تعلقات کے آئندہ کے فروغ کے لئے ایک وسیع ویژن پر کل اور آج آبے سان کے ساتھ میری مفید گفت و شنید ہوئی ہے ۔ آج اس مشترکہ ویژن پر ہم نے دستخط کئے ہیں اور کل یہ ہمارے مستقبل کو نئی روشنی دے گا ۔ ہمارے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ہم اپنے تعاون کو ڈجیٹل شراکت داری سے سائبر اسپیس تک ، صحت سے دفاع اور سلامتی تک اور سمندر سے خلاء تک ہر شعبے میں بلا روک ٹوک رفتار بخشیں گے ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آج جاپان کے سرمایہ کاروں نے بھارت میں 2.5 بلین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے ۔ اس سے بھارت میں لگ بھگ 30000 لوگوں کو روز گار ملے گا ۔ اسی سفر کے دوران دو طرفہ کرنسی سے متعلق انتظام پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔ اس سے ہمارا باہمی اعتماد اور ہماری اقتصادی شراکت داری کی افزوں طور پر ترقی سے ہمکنار ہوتی ہوئی قربت صاف طور پر ظاہر ہوتے ہیں ۔
دوستو ،
21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہے لیکن اس کی ہیئت پر سوال ہیں ۔ اس کا فائدہ ہو گا ، کیا کرنا ہو گا ۔ ایسے بہت سے سوال ہیں ۔ لیکن ایک بات صاف ہے ، بھارت اور جاپان کے تعاون کے بغیر 21 ویں ایشیا کی صدی نہیں ہو سکتی ۔ آبے سان اور میں ہمارے غیر ملکی اور وزرائے دفاع کے مابین 2 + 2 گفت و شنید کے لئے متفق ہوئے ہیں ۔ اس کا مقصد دنیا میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے ۔ بین الاقوامی شمسی اتحاد میں جاپان کا داخلہ دنیا کے مفاد میں ایسے تعاون کی ایک روشن مثال بنے گا ۔
دوستو ،
اگلے سال جاپان اوساکا میں جی 20 سربراہ ملاقات کی میز بانی کرے گا ۔ اگلے سال رگبی عالمی کپ بھی جاپان میں منعقد کیا جائے گا ۔ پہلی بار یہ ٹورنامنٹ ایشیا میں منعقد ہو گا اور پھر 2020 ء میں اولمپکس کا انعقاد ٹوکیو میں ہو گا ۔ ان تمام اہم عالمی تقریبات کے لئے میری جانب سے اور پورے بھارت کی جانب سے ہماری دِلی نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ بھارت – جاپان کے تعلقات میں پیش رفت ، جاپان کے کائیزن فلسفے کی طرح لامتناہی ہیں ۔ وزیر اعظم آبے کے ساتھ مل کر ان تعلقات کو اور زیادہ مستحکم بنانے کے لئے میں پابندِ عہد ہوں ۔ میں ایک بار پھر آبے سان کو ، جاپان کی حکومت اور آپ سب کا دِلی شکریہ ادا کرتا ہوں اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں ۔
دومو اریگاتو گوزائی مس
( م ن ۔ ع ا ) ( 29 – 10 – 2018 )
U. No.5541
जापान पूरब और पश्चिम की सभ्यताओं के सर्वश्रेष्ठ पहलुओं का संगम है।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
यह वही महान देश है जिसने सिखाया है कि मानव जाति के विकास का रास्ता पुरातन और नूतन के बीच टकराव का नहीं, बल्कि उनके सह-अस्तित्व और सृजन का है: PM
जापान और भारत के सम्बन्धों को हिन्द और प्रशांत महासागरों सी गहराई और विस्तार प्राप्त हैं।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
ये सम्बन्ध लोकतांत्रिक मूल्यों और स्वतंत्रताओं के प्रति और Rule of Law के प्रति साझा प्रतिबद्धता पर आधारित हैं: PM
हमारे बीच पूरी सहमति है कि हम अपने सहयोग को digital partnership से cyber space तक, स्वास्थ्य से रक्षा-सुरक्षा तक और सागर से अंतरिक्ष तक, हर क्षेत्र में अबाध गति देंगे।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
मुझे बताया गया है कि आज जापान के निवेशकों ने भारत में 2.5 बिलियन यू एस डॉलर के नए निवेश की घोषणा की है: PM
इसी यात्रा के दौरान द्विपक्षीय करेन्सी स्वाप व्यवस्था पर हुई सहमति में हमारा आपसी विश्वास और हमारी आर्थिक साझेदारी की निरन्तर बढ़ती हुई नज़दीकी साफ़ तौर पर झलकते हैं: PM
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
भारत और जापान के सहयोग के बिना 21वीं सदी एशिया की सदी नहीं हो सकती।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
आबे सान और मैं हमारे विदेश और रक्षा मंत्रियों के बीच 2+2 Dialogue के लिए सहमत हुए हैं।
इसका उद्देश्य विश्व में शांति और स्थिरता को बढ़ावा देना है: PM
Held fruitful and extensive talks with PM @AbeShinzo.
— Narendra Modi (@narendramodi) October 29, 2018
Today’s discussions focused on aspects relating to better economic ties, stronger cooperation in areas of defence and security. pic.twitter.com/jCXrx4QX7I