پی ایم انڈیا

یونیورسٹی کے پروگرام میں شریک ہو رہا ہوں۔ میں اسے اعزاز مانتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ پہلے جتنے وزیراعظم ہوئے وہ کئی اچھے کام میرے لیے باقی چھوڑ کر گئے ہیں۔ اور ویسے ہی اچھا کام کرنے کا مجھے آج موقع ملا ہے۔
میں سب سے پہلے اس مقدس سرزمین کو نمن کرتا ہوں، کیونکہ آج ہمارا ملک جہاں بھی ہے، اسے یہاں تک پہنچانے میں اس یونیورسٹی کیمپس کا بڑا رول ہے۔ چین میں ایک کہاوت ہے کہ اگر آپ سال بھر کا سوچتے ہیں، تو اناج بویئے، اگر آپ 10-20 سال کا سوچتے ہیں تو پھل کا درخت بویئے، لیکن اگر آپ نسلوں کی سوچتے ہیں تو آپ انسان کو بویئے۔ یہ پٹنہ یونیورسٹی اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ 100 سال پہلے جو بیج بویا گیا، 100 سال کے اندر اندر کئی نسلیں یہاں آکر، ماں سرسوتی کی سادھنا کرکے آگے نکل گئیں، لیکن وہ ساتھ ساتھ ملک کو بھی آگے لے گئی۔ یہاں پر کچھ سیاستدانوں کا ذکر ہوا ہے جو اسی یونیورسٹی سے نکل کر کے کس طرح سے مختلف مقامات پر انہوں نے خدمات انجام دی ہیں، لیکن میں آج تجربے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج ہندوستان کا شاید ہی کوئی ریاست ایسا ہوگا جہاں سول سروس کی قیادت کرنے والے پہلے 5 لوگوں میں بہار کے پٹنہ یونیورسٹی کا طالب علم نہ ہو، یہ ہو نہیں سکتا ہے۔
ایک دن میں میں ہندوستان کی ریاستوں سے آئے ہوئے ہر چھوٹے موٹے افسروں کے ساتھ میں تبادلۂ خیال کر رہا ہوں۔ روزانہ 80-90-100 لوگوں سے بات کرنے کے لیے میں بیٹھتا ہوں، ڈیڑھ-دو گھنٹے میں گفتگو کرتا ہوں اور میں تجربہ حاصل کرتا ہوں کہ اس میں سب سے بڑا گروپ بہار کا ہوتا ہے۔ انہوں نے سرسوتی کی اُوپاسنا میں اپنے آپ کو کھپا دیا ہے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے، اب ہمیں سرسوتی اور لکشمی دونوں کو ساتھ ساتھ چلانا ہے۔ بہار کے پاس فن کی دیوی کی کرپا ہے، بہار کے پاس لکشمی کی مہربانی بھی ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے یہ حکومت ہند کی سوچ یہ سرسوتی اور لکشمی کا ملن کرتے ہوئے بہار کو نئی اونچائیوں پر لے جانا ہے۔
نتیش جی کا جو عزم ہے، بہار کی ترقی کے تئیں ان کا جو عزم ہے اور حکومت ہند مشرقی ہندوستان کی ترقی کے تئیں عہدبستہ ہے، یہ دونوں تصورات 2022 جب ملک آزادی کے 75 سال منائے، تو میرا بہار بھی ہندوستان کے امیر ریاستوں کی برابری میں آکر کھڑا رہے، یہ عہد لے کر آگے بڑھنا ہے۔
ہمارا یہ پٹنہ شہر گنگا جی کے کنارے پر ہے اورجتنی پرانی گنگا دھارا ہے بہار اتنی ہی پرانی گیان دھارا کا، وراثت کا مالک ہے۔ جتنی قدیم گیان گنگا کی وراثت ہے، جیسے جتنی گنگا کے بہار کی وراثت آپ کے پاس ہے۔ ہندوستان میں جب بھی ذکر آتا ہے تو نالندہ، وکرم شیلا کو کون بھول سکتا ہے۔ انسانی زندگی کی تبدیلی شعبے کے شاید ہی کوئی ایسے شعبہ رہا ہوگا جس میں صدیوں سے اس سرزمین کا تعاون نہ رہا ہو، اس سرزمین کی قیادت نہ رہی ہو۔ جس کے پاس اتنی اہم وراثت ہو، وہ وراثت اپنے آپ میں ایک بہت بڑی رہنمائی ہوتی ہے اور جو اپنے وسیع تاریخ کو یاد رکھتا ہےاسی کے بطن میں مستقبل کی تاریخ پیدا ہوتی ہے۔ جو تاریخ کو بھول جاتا ہے اس کا بطن بانجھ رہ جاتی ہے۔
ایک وقت تھا، جب ہم اسکول – کالج میں سیکھنے کے لیے جاتے تھے، لیکن وہ وقت ختم ہو چکا ہے۔ آج دنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے، انسان کی سوچ جس طرح سے بدل رہی ہے ، سوچنے کا دائرہ جس طرح سے بدل رہا ہے، ٹکنالوجی، اختراعات، زندی کی سوچ کو، زندگی کے سلوک کو ، زندگی کے راستوں کو تبدیل کر رہا ہے تب ہماری یونیورسٹیز بھی، یونیورسٹیز میں آنے والے طلبا کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے ، چیلنج یہ نہیں کہ نیا کیا سکھائیں، چیلنج یہ ہے کہ پرانی جو سیکھ کر کے آیا ہے اسے کیسے بھولائیں۔ ان لرن کرنا، ڈی لرن کرنا اور بعد میں ری لرن کرنا یہ آج کے وقت کی ایک بہت بری ضرورت ہے۔
فوربس میگزین کے جناب فوربس نے ایک بار کہا تھا، تعلیم کی ایک بڑی مزیدار وضاحت انہوں نے پیش کی تھی، انہوں نے کہا کہ تعلیم کا کام دماغ کو خالی کرنا۔ ہماری سوچ کیا رہی دماغ کو بھرنا، رٹتے رہنا، نئی نئی چیزیں کرتے رہنا، بھرتے رہنا۔ فوربس کا کہنا ہے تعلیم کا مقصد ہے دماغ کو خالی کرنا اور آگے کہا دماغ کو کھلا رکھنا۔ اگر صحیح معنی میں وقت کے حساب سے تبدیلی لانا ہے تو ہم سب کو ہماری یونیورسٹیز میں ذہن خالی کرنے کی مہم چلانا ہوگا، دماغ کھولنے کی مہم چلانا ہوگا، جب کھلے گا تو چاروں طر سے نئے خیالات کے داخل ہونے کی امکانات بنیں گی، جب خالی ہوگا تو نئے بھرنے کی جگہ بنے گی۔ اور اس لیے آج یہ یونیورسٹیز اسے لرننگ دیں ٹیچنگ نہیں، لرننگ کو قوت دیتے ہوئے آگے چلنا ہے اور وقت کا مطالبہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو اس سمت میں کیسے لے کر جائیں؟
انسانی ثقافت کی ترقی کے سفر کو دیکھا جائے تو ایک بات جس میں مستقل مزاجی ہےاور وہ ہے اختراع، نیا کرنا۔ ہر دور میں انسان کوئی نہ کوئی اختراع کرتے ہوئے اپنی طرز زندگی میں اسے جوڑتے چلے گئے۔ آج اختراع ایک بہت بڑے کمپٹیشن کے دور سے گزر رہی ہے۔ دنیا میں وہی ملک ترقی کر سکتے ہیں تو ملک اختراع کو اہمیت دیتے ہیں۔ملک کو اگر آگے بڑھنا ہے ، نئی اونچائیوں پر لے جانا ہے، بدلتے ہوئے عالم میں اہمیں اپنی جگہ قوت کے ساتھ کھری کرنی ہے تو ہماری نوجوان نسل کے ذریعے اختراع کو جتنا بدل دیا جائے گا ہم دنیا کے اندر ایک قوت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
جب آئی ٹی انقلاب آیا تو کس طرح سے دنیا کا ہندوستان کے بارے میں سوچنے کا طریقہ بدلنا شروع ہوا، ورنہ دنیا ہمیں ہمیشہ سانپ – سپیروں والا ملک مانتی تھی۔ دنیا کی یہی سوچ تھی کہ ہندوستانیوں نے کالا جادو، بھوت پریت، غیر یقینی، سانپ اور سپیروں کی دنیا، لیکن جب آئی ٹی انقلاب میں جب ہمارے ملک کے 18-20 سال کے بچے انگلیوں پر دنیا کو ایک نئی دنیا دکھانا شروع کر دیا تو دنیا تعجب کرنے لگ گئی کہ یہ کیا چیز ہے جو بچے بتا رہے ہیں۔ ہندوستان کی جانب دیکھنے کا نظریہ تبدل ہو گیا۔
مجھے مسلسل یاد ہے جب میں کئی سال پہلے ایک بار تائیوان گیا تھا۔ تب تو میں وزیراعلیٰ بھی نہیں تھا، کہیں انتخاب کی دنیا سے میرا واسطہ نہیں تھا، وہاں کی حکومت کی دعوت پر گیا تھا۔ تو میرے ساتھ ایک مترجم تھا۔ دس دن کا میرا وہاں کا سفر تھا۔ وہ مترجم مجھے بات چیت کے ذریعے میرے ساتھ رہتا تھا۔ اب دس دن ساتھ رہے تو تھوڑی بہت تعرف ہو گیا، تھوڑی دوستی ہو گئی۔ تو چھ – آٹھ دن کے بعداس نے مجھ سے ایک دن پوچھا، بولے صاحب آپ کو برا نہ لگے تو مجھے کچھ جانکاری چاہیے۔ میں نے کہا ضرور پوچھیے۔ وہ بولے آپ کو برا تو نہیں لگے گا نہ؟ میں نے کہا نہیں نہیں لگے گا، بتایئے نہ کیا بات ہے؟ ٹھیک ہے صاحب پھر بعد میں بات کرتا ہوں۔ شرم سے وہ بول نہیں سکا۔ پھر دوبارہ جب ہم سفر پر ہم ساتھ تھے، تو میں نے پھر سے نکالا، میں نے کہا کہ بھائی وہ تم پوچھ رہے تھے ، کیا تھا؟ بولے، صاحب مجھے بڑی شرم محسوس ہوتی ہے۔ میں نے کہا فکر نہ کرو تیرے من میں جو ہے ، پوچھو مجھ سے۔ وہ کمپیوٹر انجینئر تھا۔ وہ اس نے پوچھا صاحب کہ یہ ہندوستان ابھی بھی ویسا ہی ہے، سانپ سپیروں والا، جادو ٹونے والا۔ وہ میری طرف دیکھتا رہا۔ پھر میں نے اس سے بولا کہ مجھے دیکھ کر کیا لگتا ہے؟ تو تھوڑی وہ شرمندگی محسوس کرنے لگا۔ بولا سوری سوری سر میں نے کچھ غلط پوچھ لیا۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بھائی، تم نے ٹھیک پوچھا ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے من میں یہ جو تمہاری جانکاری ہے لیکن اب ہمارا تھوڑا پہلے جیسا نہیں رہا ہے۔ تھوڑا ڈی ویلیویشن ہوا ہے۔ بولے وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ پہلے ہمارے جو آبا و اجداد تھے وہ سانپ سے کھیلا کرتے تھے، ہماری جو نئی نسل ہے وہ ماؤس سے کھیلا کرتی ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ میں کس ماؤس کی بات کر رہا ہوں۔ وہ گنیش جی والا چوہا نہیں، وہ کمپیوٹر والا چوہا تھا۔
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں ہے جو ملک کی طاقت میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن کبھی کبھار ہم اصولوں کی بنیاد پر ایک آدھ پروجیکٹ لے کر کے ایک آدھ اختراعی چیز بنا کر شاید انعام بھی جیت لیتے ہیں، لیکن آج ہندوستان کے سامنے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے اور میں 100 سال قدیم پٹنہ یونیورسٹی جس نے ملک کو بہت کچھ دیا ہے، اس مقدس سر زمین سے ملک بھر کے نوجوانوں کو آج کہتا ہوں ، طلبا سے کہتا ہوں، فیکلٹیز کو کہتا ہوں، یونیورسٹیز کو کہتا ہوں کہ ہم ہمارے آس پاس جو مسائل دیکھتے ہیں، عام انسانی جو مشکلات دیکھتے ہیں، ان کے حل کے لیے کوئی اختراعی راستہ ڈھونڈھ سکتے ہیں کیا؟ اس کے لیے کوئی نئی ٹکنالوجی تلاش کر سکتے ہیں کیا؟ اس کے لیے ٹکنالوجی سستی ہو، آسان ہو ، قابل استطاعت ہو، عام فہم ہو۔ اگر ایک بار ایسے چھوٹے چھوٹے پروجیکٹس کی اختراع پر ہم زور دیں گے تو وہ آگے چل کر کے اسٹارٹ اپ میں تبدیل ہوگا۔ ہندوستان کے نوجوان اسٹارٹ اپ کے ذریعے یونیورسٹیز کی تعلیم و تربیت کی اختراع ، حکومت ہند کی بینکوں کی ‘کرنسی منصوبہ ‘سے بینکنگ میں مدد اور اسٹارٹ اپ کی سمت میں قدم آپ سوچ بھی نہیں سکتے، آج ہندوستان اسٹارٹ اپ کی دنیا میں چوتھے نمبر پر کھڑا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان اسٹار ٹ اپ کی دنیا میں آگے کی قطار میں آ سکتا ہے۔ اور اگر وہ اقتصادی ترقی کی ایک نئی دنیا ہندوستان کے ہر کونے میں ہر نوجوان کے ہاتھ میں اسٹارٹ اپ کو لے کر کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو کتنی بڑا تبدیلی اور نتائج حاصل کر سکتے ہیں اس کا میں اچھی طرح اندازہ کر سکتا ہوں۔ لہذا، میں ملک کی یونیورسٹیوں کو مدعو کرتا ہوں، میں پٹنہ یونیورسیٹی کو خاص طور سے مدعو کرتا ہوں کہ آیئے اختراع کو بڑھاوا دیں۔ ہم دنیا سے آگے نکلنے کے لیے اپنی ایک مہارت حاصل کریں۔
اور ہندوستان کے پاس صلاحیت کی کمی نہیں ہے اور ہندوستان خوش قسمت ہے کہ آج ہمارے پاس 800 ملین ملک کی 65 فیصد آبادی، 35 سال سے کم عمر کی ہے۔ میرا ہندوستان جوان ہے، میرے ہندوستان کے خواب بھی جوان ہیں۔ جس ملک کے پاس یہ قوت ہو وہ دنیا کو کیا نہیں دے سکتا ہے۔ وہ ملک اپنے خوابوں کو کیوں پورا نہیں کر سکتا ہے، میرا یقین ہے کہ ضرور کر سکتا ہے۔
اور اسی لیے ، نتیش جی نے بہت سے وسیع طور پر ایک موضوع کو بڑی گزارش سے رکھا اور آپ نے بھی اسکو قوت دی تالیاں بجا بجاکر کے۔ لیکن میں مانتا ہوں کہ سینٹرل یونیورسٹی، یہ گزرے ہوئے کل کی بات ہے۔ میں اسے ایک قدم آگے لے جانا چاہتا ہوں اور میں آج یہی دعوت دینے کے لیے آج اس یونیورسٹی پروگرام میں خاص طور سے آیا ہوں۔ ہمارے ملک میں تعلیم کے شعبے میں ری فارم بہت سست رفتاری سے چل رہی ہیں۔ ہمارے تعلیمی ماہرین میں بھی آپس میں اختلافات بڑے شدید رہے ہیں اور ریفارم کے ہر قدم ریفارم سے زیادہ مشکلات سے ابھرنے کی وجہ سے بنے ہیں اور اسی کا نتیجہ رہا ہے کہ لمبے عرصے تک ہماری تعلیمی نظام میں اور خاص طور سے اعلی تعلیم میں بدلتی ہوئی دنیا کی برابری کرنےکے لیے جو اختراع چاہیے ریفارم چاہیے حکومت اس میں کچھ کم پڑ گئی ہے۔ اس حکومت نے کچھ قدم اٹھائے ہیں، کچھ ہمت دکھائی ہے۔
جو میں بات کر رہا تھا کہ سینٹرل یونیورسٹی سے ایک قدم آگے جانا چاہتے ہیں اور مین پٹنہ یونیورسٹی کی اس ایک قدم آگے لے جانے کے لیے دعوت دینے آیا ہوں۔ ہندوستانی حکومت نے ایک خواب ملک کی یونیورسٹیز کے سامنے پیش کیا ہے۔ ملک کے 500 اعلی یونیورسٹیز میں ہندوستان کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ جس سرزمین پر نالندہ، وکرم شیلا، تکش شیلا، بلّبھی جیسی یونیورسٹیز کوئی 1300 سال پہلے، کوئی 1500 سال پہلے ، کوئی 1700 سال پہلے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرتی تھی کیا وہ ہندوستان دنیا کی پہلی 500 یونیورسٹیز میں کہیں نہ ہو؟ یہ محاصرہ ختم کرنی چاہیے کہ نہیں کرنی چاہیے، یہ حالات تبدیل کرنی چاہیے کہ نہیں کرنی چاہے۔ کیا کوئی باہر والا آکر بدلے گا؟ ہمیں تو بدلنا ہوگا، خواب بھی تو ہمارے ہونے چاہیے، عزم بھی تو ہمارا ہونا چاہیے اور کامیابی کے لیے تیاری بھی تو ہماری ہونی چاہیے۔
اسی مزاج سے ایک منصوبہ حکومت ہند لائی ہے اور وہ منصوبہ بندی یہ ہے کہ ملک کہ 10 پرائیویٹ یونیورسٹیز اور ملک کی 10 پبلک یونیورسٹیز، کل 20 یونیورسٹیز ان کو عالمی معیار کا بنانے کے لیے ایک آج جو حکومت کے سارے بندھن ہیں، حکومت کے جو قانون و شرائط ہیں، اس سے ان کو آزادی دینا۔ دوسرے آنے والے 5 سال میں ان یونیورسٹیز کو 10 ہزار کروڑ روپیے دینا۔ لیکن یہ یونیورسٹیوں کا انتخاب کسی لیڈر کی خواہش پر نہیں ہوگا، وزیراعظم کی خواہش پر نہیں ہوگا، کسی وزیراعلیٰ کےخط اور سفارش سے نہیں ہوگا۔ پورے ملک کی یونیورسٹیز کو چیلنج کے طور پر دعوت دیا گیا ہے، اس چیلنج کے طور پر ہر کسی کو آنا ہوگا، اپنی قابلیت کو ثابت کرنا ہوگا ور چیلنج کے طور پر جو ٹاپ 10 پرائیویٹ آئے گی ، ٹاپ 10 پبلک آئے گی، اس کا ایک تھرڈ پارٹی پروفیشنل ایجنسی کے ذریعے چیلنج گروپ میں سلیکشن ہوگا۔ اس چیلنج گروپ میں ریاستی حکومتوں کی بھی زمہ داری ہوگی، جس شہر میں یہ یونیورسٹی ہوگی ان کی ذمہ داری ہوگی، جو لوگ یونیورسٹیز چلاتے ہوں گے ان کی ذمہ داری ہوگی، ان کے تاریخ کو دیکھا جائے گا ان کے کارکردگی کو دیکھا جائے گا۔ عالمی سطح پر ضروری تبدیلی کا ان کا روڈ میپ دیکھا جائے گا اور یہ جو یونیورسٹیز ٹاپ 10-10 آئیں گی، کل 20 ان کو حکومت کی شرائط ، و بندشوں سے آزاد کر کے آزادی دی جائے گی۔ ان کو جس سمت میں جیسے آگے بڑھنا ہے آگے بڑھنے کے لیے مواقع دیے جائیں گے۔ اس کام کے لیے 5 سال کے اندر اندر ان یونیورسٹیز کو 10 ہزار کروڑ روپیہ دیا جائے گا۔ یہ سینٹرل یونیورسٹیز سے کئی گنا آگے ہیں۔ بہت بڑا فیصلہ ہے اور پٹنہ کو اس میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے یہ دعوت دینے کے لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ پٹنہ یونیورسٹی آگے آئے، اس کی فیکلٹیز آگے آئیں اور اس اہم منصوبہ اور پٹنہ یونیورسٹی ہندوستان کی آن بان اور شان جو پٹنہ کی قوت ہے وہ دنیا میں بھی پٹنہ یونیورسٹی کی قوت بنے اس کو آگے لے کر چلنے کی سمت میں آپ میرے ساتھ چلیے ، اسی ایک اچھے اعتماد کے ساتھ میری طرف سے آپ کو بہت بہت مبارکباد۔
اس صد سالہ تقریب میں آپ نے عزم کیے ہیں ان سبھی عزائم کو آپ مکمل کریں، اسی ایک خواہش کے ساتھ میری طرف سے آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
I consider it my honour to visit Patna University and be among the students. I bow to this land of Bihar. This university has nurtured students who have contributed greatly to the nation: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
In every state, the top levels of the civil services has people who have studied in Patna University. In Delhi, I interact with so many officials, many of whom belong to Bihar: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
The commitment of Shri @NitishKumar towards the progress of Bihar is commendable. We in the Centre attach topmost importance to the development of eastern India: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
Bihar is blessed with both 'Gyaan' and 'Ganga.' This land has a legacy that is unique: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
From conventional teaching, our universities need to move towards innovative learning: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
Living in an era of globalisation, we need to understand the changing trends across the world and the increased spirit of competitiveness. In that context India has to make its place in the world: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
A nation seen as a land of snake charmers has distinguished itself in the IT sector: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
As youngsters, I urge you to think about innovative solutions to the problems faced by people around you. Through what you learnt and the Start up sector there is a lot you can do for society: PM @narendramodi at Patna University
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017
India is a youthful nation, blessed with youthful aspirations. Our youngsters can do a lot for the nation and the world: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 14, 2017