پی ایم انڈیا
آپ سبھی کو پرواسی بھارتیہ دیوس کی بہت بہت نیک خواہشات۔ پرواسی دیوس کی اس روایت میں آج پہلے ’’پرواسی سانسد سمیلن‘‘ کا ایک نیا باب جڑ رہا ہے۔میں شمالی امریکہ ، جنوبی امریکہ، افریقہ، یوروپ، ایشیا بحرالکاہل خطہ، وغیرہ دنیا کے ہر کونے سے یہاں آئے سبھی پرواسی دوستوں کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں۔
ویلکم ٹو انڈیا ! ویلکم ہوم!
آپ کی پرانی نسلیں، پرانی یادیں بھارت کے الگ الگ حصوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ آپ کے آباو اجداد میں سے کچھ لوگ تجارت کے لئے، کچھ لوگ تعلیم کے لئے گئے تھے۔ کچھ لوگوں کو جبراً یہاں سے لے جایا گیا، تو کچھ کو بہلا پھسلاکر لے جایا گیا۔ وہ یہاں سے اپنے جسم کے ساتھ بھلے ہی چلے گئے، لیکن اپنے من کا، اپنی روح کا، ایک ٹکڑا اسی مٹی پر چھوڑ گئے تھے۔ اس لئے آج جب آپ بھارت کے کسی ہوائی اڈے پر اترتے ہیں تو آپ کو اس سرزمین پر دیکھ کر روح کا وہی ٹکڑا خوش ہونے لگتا ہے۔
اس وقت گلا کچھ روندھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کچھ جذبات آنکھوں سے نکلنا چاہتے ہیں، آپ انہیں روکنے کی ہرممکنہ کوشش کرتے ہیں لیکن روک نہیں پاتے۔ آپ کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لیکن ان میں بھارت آنے کی چمک بھی محسوس ہوتی ہے۔ آپ کے اس جذبے کو میں سمجھ سکتا ہوں۔ وہ پیار، وہ دلار، وہ احترام، وہ یہاں کی مٹی، یہاں کی ہوا کی خوشبو، جس ٹکڑے کی وجہ سے ہے میں اسے سلام کرتا ہوں۔ آج آپ کو یہاں دیکھ کر آپ کے آبا و اجداد کو کتنی خوشی ہورہی ہوگی اس کا اندازہ ہم سبھی لگا سکتے ہیں۔ وہ جہاں بھی ہوں گے، آپ کو یہاں دیکھ کر سب سے زیادہ خوش ہوں گے، مسرور ہوں گے۔
ساتھیو!
سیکڑوں برسوں کے دوران بھارت سے جو بھی لوگ باہر گئے، بھارت ان کے من سے کبھی بھی باہر نہیں نکلا۔ دنیا کی جس سرزمین میں بھی وہ گئے ، انہوں نے بھارت کی تہذیب اور قدروں کو زندہ رکھا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ بھارت نژاد غیر مقیم جہاں بھی گئے، وہیں پوری طرح ضم ہوکر، اس جگہ کو اپنا گھر بنالیا۔
انہوں نے جہاں ایک طرف خود میں ہندوستانیت کو زندہ رکھا، وہیں دوسری طرف وہاں کی زبان، وہاں کے کھان پان، وہاں کے لباس و پوشاک میں بھی پوری طرح گھل مل گئے۔
کھیل کود، فنون، سنیما میں بھارت نژاد لوگوں نے عالمی پلیٹ فارم پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ سیاست کی بات کروں تو میں دیکھ ہی رہا ہوں کہ کیسے بھارت نژاد لوگوں پر مشتمل ایک منی ورلڈ پارلیمنٹ میرے سامنے موجود ہے۔ آج بھارت نژاد افراد ماریشس، پرتگال اور آئرلینڈ میں وزیراعظم ہیں۔ بھارت نژاد افراد اور بھی بہت سے ملکوں میں سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت رہ چکے ہیں۔
ہمارےلئے یہ خصوصی اعزاز کی بات ہے کہ گویانا کے سابق صدر جناب بھرت جگدیو آج ہمارے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ آپ سبھی اہم لوگ بھی اپنے اپنے ملکوں میں اہم سیاسی کردار ادا کررہے ہیں۔
ساتھیو!
آپ کے آبا و اجداد کے مادر وطن بھارت کو آپ پر فخر ہے۔آپ کی حصولیابیاں اور آپ کی کامیابی ہمارے لئے احترام کا باعث ہیں، اعزاز کا سبب ہیں۔ آپ کے کوئی عہدہ سنبھالنے کی خبر جب میڈیا میں آتی ہے ، کہیں آپ انتخاب کے لئے پرچہ نامزدگی بھی داخل کرتے ہیں تو اس کی ویور شپ اور ریڈر شپ بھارت میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آپ جہاں ہیں، وہاں کس طرح پورے خطے کی جیو۔ پالیٹکس کو متاثر کررہے ہیں، ملک کی پالیسیاں بنا رہے ہیں، اس طرح کی خبروں کو یہاں پر لوگ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ یہ گفتگو بھی کرتے ہیں کہ دیکھو، کوئی اپنا اس اہم عہدے پر پہنچ گیا ہے۔ ہمیں یہ خوشی دینے کے لئے، ہمارے اعزاز میں اضافہ کرنے کے لئے آپ قابل مبارکباد ہیں۔
بھائیو اور بہنو!
آپ لوگ طویل عرصے سے الگ الگ ملکوں میں رہ رہے ہیں۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ گزشتہ تین چار برسوں میں بھارت کے تئیں نظریئے میں تبدیلی آئی ہے۔ ہم پر فوکس بڑھ رہا ہے، دنیا کا ہمارے تئیں نظریہ بدل رہا ہے، تو اس کا اہم سبب یہی ہے کہ بھارت خود بدل رہا ہے، ٹرانسفارم ہورہا ہے، یہ تبدیلی اقتصادی۔ سماجی سطح پر ہونے کے ساتھ ہی فکری سطح پر بھی آئی ہے۔ جیسا پہلے تھا، ویسے ہی چلتا رہے گا، کچھ بدلے گا نہیں۔ کچھ ہونے والا نہیں، اس فکر سے بھارت اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ بھارت کے لوگوں کی امیدیں اور تمنائیں اس وقت اعلی ترین سطح پر ہیں۔ نظاموں میں ہورہی مکمل تبدیلی کا، ایک غیر معکوس تبدیلی کا نتیجہ آپ کو ہر شعبے میں نظر آئے گا۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ سال 17۔2016 میں 60 ملین ڈالر کی غیر معمولی راست بیرونی سرمایہ کاری بھارت میں ہوئی۔
کاروبار کرنے کے آسانی کی درجہ بندی میں گزشتہ 3 برسوں میں 42 مقامات کی بہتری آئی ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں عالمی اقتصادی فورم کے عالمی مسابقتی اشاریئے میں ہم 32 مقام اوپر چڑھے ہیں۔
گزشتہ دو برسوں میں عالمی جدت طرازی اشاریہ میں ہماری درجہ بندی میں 21 مقام کی بہتری آئی ہے۔
لاجسٹکس کارکردگی اشاریئے میں 19 مقام کی بہتری آئی ہے۔
آج عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، موڈیز جیسے ادارے بھارت کی جانب بہت ہی مثبت طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔
تعمیرات، ہوائی نقل و حمل، کانکنی، کمپیوٹر سافٹ ویئر۔ ہارڈ ویئر، الیکٹریکل ساز و سامان جیسے شعبوں میں اب تک ہوئی سرمایہ کاری کے نصف سے زیادہ کی سرمایہ کاری، صرف اور صرف گزشتہ 3 برسوں میں ہی ہوئی ہے۔
یہ سب اس لئے ہوا ہے کیونکہ ہم بھارت کی معیشت کی ہر حصے میں دور رس پالیسی اصلاحات کررہےہیں۔ ’’ریفارم ٹو ٹرانسفارم‘‘ یعنی یکسر تبدیلی کے لئے اصلاحات، ہمارا گائڈنگ پرنسپل یعنی رہنما اصول ہے۔ ہمارا مقصد ہے، پورے نظام کو شفاف اور جواب دہ بنانے کا۔ بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے کا۔
ساتھیو!
اشیا و خدمات ٹیکس۔ جی ایس ٹی کے توسط سے ہم نے ملک میں سیکڑوں ٹیکس کے جال کا خاتمہ کردیا ہے۔ ملک کا اقتصادی انضمام کیا ہے۔ کانکنی، کیمیائی کھاد، ٹیکسٹائلس، ہوابازی، صحت، دفاع، تعمیرات، ریئل اسٹیٹ، فوڈ پروسیسنگ الغرغ کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے، جس میں ہم نے اصلاحات نہ کی ہوں۔
ساتھیو!
بھارت آج دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ نوجوانوں کے لامحدود خواب ہیں، امیدیں ہیں۔ وہ اپنی توانائی صحیح شعبے میں لگائیں، اپنے دم پر روزگار کرسکیں، اس سمت میں حکومت مسلسل کام کررہی ہے۔
اسکل انڈیا مشن، اسٹار اپ اسکیم، مدرا یوجنا کا آغاز اسی لئے کیا گیا ہے۔ مدرا یوجنا کے تحت خود کے روزگار کے لئے تقریباً دس کروڑ لوگ منظور کئے گئے ہیں۔ لوگوں کو چار لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض بغیر بینک گارنٹی کے دیا گیا ہے۔ صرف اس ایک یوجنا نے ملک کو تقریباً 3 کروڑ نئے صنعت کار دیئے ہیں۔ حکومت 21 ویں صدی کے بھارت کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے پر، نقل و حمل کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کررہی ہے۔ پالیسیوں میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جارہا ہے کہ مستقبل کے بھارت کو کس طرح کے لاجسٹکس چاہئیں۔ قومی شاہراہیں، ریلویز، ایئرویز، واٹر ویز اور بندرگاہوں کو اس طرح ترقی دی جارہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو تعاون دے سکیں، ایک دوسرے مربوط ہوسکیں۔
ساتھیو!
آج بھارت میں دوگنی سے زیادہ رفتار سے نئی ریل لائنیں بچھائی جارہی ہیں، دوگنی سے زیادہ رفتار سے ریلوے لائن کو دوہرا کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔ دوگنی رفتار سے قومی شاہراہوں کی تعمیر کی جارہی ہے۔ دوگنی سے زیادہ قابل تجدید توانائی کی نئی صلاحیت کو گرڈ پاور سے جوڑا گیا ہے۔
جہاں پہلے جہاز رانی کی صنعت میں کاربو ہینڈلنگ کا نمو منفی تھا، وہیں اس حکومت میں 11 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ان ساری کوششوں سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں، مقامی سطح پر ۔
چھوٹی چھوٹی صنعتوں کو بھی نیا کام مل رہا ہے۔ جیسے اجولا یوجنا کی ہی بات کریں تو یہ صرف غریب خواتین کو مفت گیس کنکشن دینے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس اسکیم سے اب تک 3 کروڑ سے زیادہ خواتین کو دھوئیں سے آزادی ملی ہے، ریاستوں کو کیروسین سے پاک بنانے میں مدد ملی ہے، لیکن اس کا ایک اور فائدہ ہوا ہے، اجولا یوجنا کے بعد سے ملک میں رسوئی گیس کے نئے ڈیلر بنائے گئے ہیں۔ گھر گھر گیس سلنڈر لیجانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یعنی سماجی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماج کا اقتصادی ایمپاورمینٹ بھی ہورہا ہے۔
بھائیو اور بہنو!
وسودھیو کٹمبکم کی روایت میں یقین رکھنے والی ہماری ثقافت نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔ جب میں پہلی بار اقوام متحدہ گیا تھا، تب میں نے دنیا کے سامنے بین الاقوامی یوم یوگ کی قرار داد پیش کی تھی۔ آپ سبھی کو پتہ ہے کہ نہ صرف 75 دنوں سے بھی کم وقت میں یہ قرارداد اتفاق رائے منظور ہوئی بلکہ اسے ریکارڈ تعداد میں 177 ووٹوں نے مشترکہ طور پر اسپانسر بھی کیا۔ آج جس طرح 21 جون کو پوری دنیا میں کروڑوں لوگ یوم یوگ مناتے ہیں، وہ آپ کے اور ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔
ہالسٹک لیونگ یعنی جامع طرز حیات کا یہ اصول دنیا کو بھارت کی خوشحال روایات کی سوغات ہے۔
ساتھیو!
آب و ہو کی تبدیلی کے موضوع پر پیرس معاہدے کے وقت میں نے فرانس کے صدر کے ساتھ مل کر بین الاقوامی شمسی اتحاد بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اب یہ حقیقت کی شکل لے چکی ہے۔ اس کے توسط سے ہم شمسی توانائی کے اعتبار سے خوشحال ملکوں کے ساتھ مل کر شمسی ٹیکنالوجی اور فائننسنگ کے لئے ایک گلوبل پلیٹ فارم بنارہے ہیں۔
قدرت کے ساتھ توازن بناکر چلنے کا یہ طریقہ بھی زمانہ قدیم سے ہی بھارت کی دین ہے۔
بھائیو اور بہنو!
جب نیپال میں زلزلہ آیا یا سری لنکا میں سیلاب آیا، یا مالدیپ میں پانی کا بحران پیدا ہوا، تو بھارت سب سے پہلے سامنے آنے والے ملک کے طور پر موجود رہا۔
جب یمن میں بحران پیدا ہوا تو ہم نے جہاں اپنے ساڑھے چار ہزار شہریوں کو بحفاظت نکالا، وہیں 48 دیگر ملکوں کے 2000 لوگوں کو بھی ہم بحفاظت باہر نکال کر لائے تھے۔
نامساعد حالات میں بھی انسانی اقدار کے تحفظ کا یہ طریقہ بھارت کی وسودھیو کٹمبکم کی روایت کا حصہ ہے۔
ساتھیو!
سال 2018 میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام کو 200 سال ہوجائیں گے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں کی جان گئی تھی اور یہ تب ہوا جب بھارت کا ان جنگوں سے براہ راست کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ دونوں عالمی جنگوں میں ایک انچ زمین کے برابر بھی بھارت کا مفاد نہیں تھا۔ دنیا کو ماننا پڑے گا کہ بھارت نے کتنی بڑی قربانی دی تھی ۔ آزادی کے بعد بھی یہ روایت جاری رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی امن بردار دستوں میں سب سے بڑا تعاون دینے والے ملکوں میں بھارت شامل ہے۔ انسانی اقدار اور امن کے لئے قربانی کا یہ پیغام دنیا کو بھارت کی دین ہے۔
یہ بے لوث جذبہ، یہ ایثار اور خدمت کا جذبہ ہماری پہچان ہے
انہی انسانی اقدارکے سبب دنیا میں بھارت کی ایک مخصوص قبولیت ہے اور بھارت کے ساتھ بھارت نژاد سماج کی، آپ کی بھی مخصوص قبولیت ہے۔
دوستو!
میں جب بھی کسی ملک کا دورہ کرتا ہوں، تو میری کوشش ہوتی ہے کہ وہاں رہنے والے بھارت نژاد لوگوں سے ضرورت ملاقات کروں۔ انہیں اسفار میں آپ میں سے کئی لوگوں سے مجھے ملنے کا موقع بھی ملا ہے۔ میری اس کوشش کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ میں مانتا ہوں کہ دنیا کے ساتھ بھارت کے رشتوں کے لئے اگر صحیح معنوں میں کوئی مستقل سفیر ہے، تو وہ بھارت نژاد لوگ ہیں۔ ہماری مسلسل کوشش ہے کہ ہم غیر مقیم بھارتیوں سے مسلسل جڑے رہیں، ان کے مسائل کو حل کریں۔
ایک وقت تھا جب غیر مقیم بھارتیوں کے لئے الگ سے وزارت ہوا کرتی تھی لیکن ہمیں غیر مقیم بھارتیوں سے فیڈ بیک ملا کہ وزارت خارجہ کے ساتھ تال میل میں کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ آپ کے رائے کے بعد ہم نے دونوں وزارتوں کو ملاکر ایک کردیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پہلے پی آئی او اور او سی آئی اسکیم الگ الگ ہوتی تھیں اور زیادہ تر لوگوں کو ان کے درمیان فرق تک معلوم نہیں تھا۔ ہم نے اس عمل کو آسان بنایا اور دونوں کو ملاکر ایک اسکیم بنائی۔
ہماری وزیر خارجہ سشما سوراج جی نہ صرف بھارتی شہریوں بلکہ غیر مقیم بھارتیوں کے مسائل پر بھی ہفتے کے ساتوں دن، 24 گھنٹے نظر رکھتی ہیں۔ وہ آپ کو سرگرم نظر آئیں گی۔ ان کی قیادت میں وزارت خارجہ نے قونصلر شکایات کی ریئل ٹائم نگرانی اور رسپانس کے لئے ’’مدد‘‘ پورٹل کا نظام کھڑا کیا ہے۔ پرواسی بھارتیہ دیوس کا انعقاد اب ایک سال چھوڑکر کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ علاقائی پرواسی بھارتیہ دیوس بھی منائے جارہے ہیں۔ سشما جی ابھی ابھی سنگا پور میں ایسی ہی کانفرنس میں شامل ہوکر آئی ہیں۔
بھائیو اور بہنو!
آج یہاں اس عمارت مں ہم سب موجود ہیں، اسے 2016 میں 2 اکتوبر کو، آپ سبھی پرواسی بھارتیوں کے نام منسوب کیا گیا تھا۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اتنے کم وقت میں ہی یہ مرکز غیر مقیم بھارتیوں کے لئے ایک ہب بن کر ابھرا ہے۔ یہاں اس عمارت میں مہاتما گاندھی کی زندگی سے وابستہ ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ اسے ضرور دیکھیں۔
غیر مقیم بھارتیوں کے من سے جڑنے کی ان کوششوں کا نتیجہ ہمیں ’’بھارت کو جانیئے ‘‘ یعنی ’نو انڈیا‘ کوئز کمپٹیشن میں دیکھنے کو ملا ہے۔ اس مسابقے میں تقریباً 100 ملکوں کے 5700 سے زیادہ غیر مقیم بھارتی نوجوانوں نے حصہ لیا ہے۔ بھارت کے تئیں ان کا جوش اور ان کی للک، ہم سبھی کے لئے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ ان سے حوصلہ پاکر ہم اس سال اسے اور بھی بڑے پیمانے پر منعقد کررہے ہیں۔
ساتھیو!
اپنے اپنے میدان عمل میں پیش رفت کے لئے آپ کے تعاون سے بھارت کا نام بھی بلند ہوتا ہے اور بھارت میں ترقی اور پیش رفت سے غیر مقیم بھارتی سماج کے وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ بھارت کی ترقی کے لئے ہماری کوششوں میں ہم غیر مقیم بھارتیوں کو اپنا شراکت دار مانتے ہیں۔ نیتی آیوگ نے بھارت کی ترقی کے لئے 2020 تک کا جو ایکشن ایجنڈا ترتیب دیا ہے، اس میں غیر مقیم بھارتیوں کو خصوصی جگہ دی گئی ہے۔
بھائیو اور بہنو!
بھارت کی ترقی کے سفر میں ہاتھ بٹانے کیلئے غیر مقیم ہندوستانیوں کے سامنے متعدد مواقع ہیں۔ پوری دنیا میں غیر مقیم افراد کا حامل سب سے بڑا ملک بھارت ہے۔ ہندوستان کی معیشت میں اس اہم تعاون کیلئے ہم بیرون ملک میں رہ رہے بھارت نژاد ہر ایک باشندے کے شکر گزار ہیں۔ ملک کی معیشت سے جڑا ایک او راستہ ہے بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کا۔ آج دنیا میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ مقام بھارت اور سب سے زیادہ پسندیدہ معیشت بھارت کی ہے۔ اس کے تئیں بیداری پھیلانے اور اس سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے عمل میں غیر مقیم بھارتیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے اپنے سماج میں آپ کے اہم کردار کو دیکھتے ہوئے اس میں آپ ایک کلیدی کردار نبھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ٹورزم کو بڑھا دینے میں بھی بھارت نژاد افراد کا بہت بڑا تعاون ہو سکتا ہے۔
ساتھیو! دنیا کی متعدد بڑی کمپنیوں کے سی ای او اور سربراہان ہمارے غیر مقیم بھارتی افراد ہیں۔ بھارت کی معیشت کو بہت اچھی طریقے سے سمجھوتے ہیں۔ اس لئے بھارت کی ترقی کے سفر میں ان کے مضبوط اعتماد کیلئے ہم ان کے مرہون منت ہیں۔ آج غیر ملکوں میں بسا ہوابھارتی خود کو ملک کی ترقی کا ایک شراکت دار تسلیم کرتا ہے۔ وہ اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہتے ہیں، اپنی ذمہ داری نبھانا چاہتے ہیں۔
عالمی سطح پر اپنے بھارت کو اور اوپر اٹھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کا تجربہ ملک میں سماجی اور اقتصادی تبدیلی لانے کیلئے کتنا اہم ہے۔ آپ کا تجربہ بھارت کو مدد فراہم کر سکے، اسلئے وی اے جے آر اے یعنی وزٹنگ ایڈجنکٹ جوائنٹ ریسرچ فیسلٹی اسکیم شروع کی گئ ہے ۔ اس اسکیم کے تحت آپ بھارت کے اداروں میں ایک سے تین مہینے تک کام کرسکتے ہیں۔ آج اس اسٹیج سے میں آپ سبھی سےاپیل کرتاہوں کہ اس یوجنا سے جڑیں اور اپنے ملک میں دیگر بھارت نژاد افراد کواس سے جُڑنے کی تلقین کریں۔ آپ کے تجربے کا فائدہ بھارت کی نوجوان نسل کو ملے گا، تو آپ کو بھی بہت خوشی ہوگی۔ بھارت کی ضرورتوں، طاقتوں اور خصوصیات کو پورے عالم تک پہنچانے کی صلاحیت جتنی آپ میں ہےاور کسی میں نہیں ہے۔ دنیا میں عدم استحکام سے بھرے ماحول میں بھارت کی تہذیب اور ثقافتی ورثے پوری دنیا کیلئے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہیلتھ کیئر کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے ۔ آپ دنیا کو اپنی قدیم طرز حیات کی روایت کے بارے میں بتا سکتے ہیں، جہاں دنیا بھر میں سماج الگ الگ طبقوں میں اور نظریات میں بٹ رہا ہے، وہاں آپ بھارت کی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی شمولیت مبنی فلاسفی ‘سب کا ساتھ-سب کاوکاس’ کی مثال پیش کرسکتے ہیں، جہاں دنیا بھر میں کٹرپن اور قدامت پرستی کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، وہاں آپ دنیا کو بھارت کی تہذیب کے ‘‘ سرو پنتھ سوبھاؤ’’ کا پیغام دوہرا سکتے ہیں۔
ساتھیو!
آپ سبھی کی جانکاری میں ہے کہ 2019 میں پریاگ –الہ آباد میں کنبھ میلے کا اہتمام کیا جائے گا ۔ یہ بھی ہم سبھی کیلئے فخر کی بات ہے کہ حال ہی میں کنبھ میلے کو یونیسکو کی ‘‘ اِن ٹینجبل کلچرل ہیریٹیج آ ف ہیومینٹی ’’ کی فہرست میں مقام حاصل ہو اہے۔ اترپردیش سرکار کے ذریعے بڑے پیمانے پر اس کی تیاری شروع کر دی گئی ہے ۔ میری درخواست ہے کہ اگلے برس جب آپ بھارت آئیں، تو اس تیاری کے ساتھ آئیں کہ پریاگ کے درشن بھی ضرور کریں۔ آپ اپنے ملک میں دیگر لوگوں کو اس زبردست پروگرام کے بارے میں بتائیں گے، تو وہ بھی بھارت کی تہذیب کے اس مالا مال قدر سے متعارف ہوں گے۔
بھائیو اور بہنو!
دنیا کے سامنے کئی بڑے چیلنجز ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کیلئے گاندھی جی کے افکار کی معنویت آج بھی برقرار ہے۔عد م تشدد اور ستیہ گرہ کی راہ پر چلتے ہوئے کوئی بھی جھگڑے کوسلجھایا جا سکتا ہے۔ تشدد اور قدامت پرستی کو ختم کرنے والا کوئی نظریہ ہے، تو وہ ہے گاندھی جی کا نظریہ، بھارتی اقدار پر مبنی نظریہ۔
دوستو! ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کیلئے نیو انڈیا کے خواب کو پورا کرنے کیلئے ہم آپ کے ساتھ مل آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس کانفرنس میں ہم آپ کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ نیو انڈیا کے وکاس کے بارے میں آپ کو بتانا چاہتے ہیں۔ آپ سے جڑنا چاہتے ہیں۔ آپ جہاں بھی ہوں، جس دیش میں بھی رہیں، آپ کی ترقی کے سفر میں بھی ہم ساجھے دار بننا چاہتے ہیں۔
ساتھیو! 21ویں صدی کو ایشیاء کی صدی کہا جارہا ہے۔ اس میں یقینی طورسے بھارت کا اہم کردار ہے۔ اس کردار کے اثرت، بھارت کے بڑھتے قد کے اثرات ،آپ جہاں بھی رہیں گے، محسوس کریں گے۔ بھارت کی ترقی پذیر معیشت، بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر، جب آپ کا ذہن اوپر اٹھے گا ، تو ہم اورزیادہ سخت محنت کرنے کیلئے تحریک حاصل کریں گے۔
بھائیو اور بہنو!بھارت وہ ملک ہے، جس نے عالمی سطح پر ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے کسی بھی ملک کے تئیں اپنی پالیسی کو فائدے اور نقصان کے ترازوپرنہیں تولا ہے، بلکہ اسے انسانی اقدار کی عینک سے دیکھا ہے۔
ترقیاتی امداد فراہم کرنے کا ہمارا ماڈل بھی ‘‘دو اور لو’’ پر مبنی نہیں ہے، بلکہ یہ ان ملکوں کی ضرورتوں اور ترجیحات پر منحصر ہوتا ہے۔ہماری نہ کسی کے وسائل کا استحصال کرنے کی خواہش رہی ہے اور نہ ہی کسی کے علاقے پر ہماری نظر ہے۔ ہماری توجہ ہمیشہ صلاحیت سازی اور وسائل کی ترقی پر رہی ہے۔ دوطرفہ کثیر جہتی پلیٹ فارم ، چاہے وہ دولت مشترکہ ہو، ہند-افریقہ فورام سربراہ اجلاس ہو، ہند-بحرالکاہل اشتراک و تعاون کا فورم ہوہم ہر ایک اسٹیج پر سبھی کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کیلئے عہد بند رہے ہیں۔ آسیان ملکوں سے ہمارے مضبوط تعلقات کو ہم نے آسیان تنظیم کے ساتھ تعلقات بڑھا کر اسے اور بھی ٹھوس شکل دی ہے۔ بھارت –آسیان رشتوں کا مستقبل کتنا تابناک ہےاس کی جھلک اب سے کچھ دنوں بعد یوم جمہوریہ کے موقع پر پوری دنیا دیکھ سکے گی۔
ساتھیو!
بھارت پوری دنیا میں امن، شانتی، یگانگت، بھائی چارہ، جمہوری اقدار اور باہمی تعاون کا طرفدار رہا ہے۔ یہ وہی چیزیں،جو عوامی نمائندوں کی شکل میں آپ کواپنے رائے دہندگان سے بھی جوڑتے ہیں۔ بھارت دنیا میں امن و شانتی، ترقی اور شمولیت کیلئے تعاون کرتا رہے۔ یہی ہماری کوشش ہے اور یہی ہمارا عہد بھی ہے۔
دوستو! ہماری دعو ت قبول کرنے کیلئے، آپ نے اپنے مصروف اوقات اورپروگراموں سےوقت نکال کر یہاں آئے۔ میں آپ کا ایک بارپھر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ آپ کی فعال شراکت سے یہ کانفرنس کامیاب ہوگی۔میں امید کرتاہوں کہ اگلے برس پرواسی بھارتی دیوس میں آپ لوگوں سے ایک بار پھر ملنے کا موقع ملے گا۔بہت بہت شکریہ۔
جے ہند!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U- 194
आपको यहां देखकर आपके पूर्वजों को कितनी प्रसन्नता हो रही होगी, इसका अंदाजा हम सभी लगा सकते हैं। वो जहां भी होंगे, आपको यहां देखकर बहुत खुश होंगे।
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
सैकड़ों वर्षों के कालखंड में भारत से जो भी लोग बाहर गए, भारत उनके मन से कभी बाहर नहीं निकला: PM @narendramodi
यह कोई आश्चर्य की बात नहीं कि भारतीय मूल के प्रवासी जहां भी गए, वहीं पूरी तरह integrate हो कर, उस जगह को अपना घर बना लिया।
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
उन्होंने जहां एक तरफ खुद में भारतीयता को जीवित रखा, तो दूसरी तरफ वहां की भाषा, वहां के खान-पान, वहां की वेश-भूषा में भी पूरी तरह घुल-मिल गए: PM
राजनीति की बात करूं तो, मैं देख ही रहा हूं कि कैसे भारतीय मूल की एक Mini World Parliament मेरे सामने उपस्थित है।
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
आज भारतीय मूल के लोग मॉरीशस, पुर्तगाल और आयरलैंड में प्रधानमंत्री हैं। भारतीय मूल के लोग और भी बहुत से देशों में Head of State और Head of Government रह चुके हैं: PM
आप लोग लंबे समय से अलग-अलग देशों में रह रहे हैं। आपने अनुभव किया होगा कि पिछले तीन-चार वर्षों में भारत के प्रति नजरिया बदल गया है। हम पर focus बढ़ रहा है, विश्व का हमारे प्रति नजरिया बदल रहा है, तो इसका मुख्य कारण यही है कि भारत स्वयं बदल रहा है, transform हो रहा है: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
आप लोग लंबे समय से अलग-अलग देशों में रह रहे हैं। आपने अनुभव किया होगा कि पिछले तीन-चार वर्षों में भारत के प्रति नजरिया बदल गया है। हम पर focus बढ़ रहा है, विश्व का हमारे प्रति नजरिया बदल रहा है, तो इसका मुख्य कारण यही है कि भारत स्वयं बदल रहा है, transform हो रहा है: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
जब भी किसी देश की यात्रा करता हूँ, तो मेरा प्रयास होता है कि वहां रहने वाले भारतीय मूल के लोगों से मिलूँ। मेरे इस effort का सबसे बड़ा कारण है कि मैं मानता हूँ कि विश्व के साथ भारत के संबंधों के लिए यदि सही मायने में कोई Permanent Ambassadors हैं तो वो भारतीय मूल के लोग हैं: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
हमारी विदेश मंत्री सुषमा स्वराज जी न सिर्फ़ भारतीय नागरिकों, बल्कि प्रवासी भारतीयों की समस्याओं पर 24*7 नज़र रखती हैं। उनके नेतृत्व में विदेश मंत्रालय ने consular grievances की real time monitoring और response के लिए “मदद” portal की व्यवस्था खड़ी की है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
अपनी-अपनी कर्मभूमि में प्रगति के लिए आपके योगदान से भारत का नाम भी ऊँचा होता है। भारत के विकास के लिए हमारे प्रयासों में हम प्रवासी भारतीयों को अपना partner मानते हैं। नीति आयोग ने 2020 तक का जो Action Agenda बनाया है, उसमें प्रवासी भारतीयों को विशेष स्थान दिया है: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
भारत की आवश्यकताओं, शक्तियों और विशेषताओं को विश्व तक पहुंचाने की जितनी क्षमता आपमें हैं, और किसी में नहीं है। दुनिया के अस्थिरता से भरे वातावरण में भारतीय सभ्यता और संस्कृति के मूल्य, पूरे विश्व का मार्गदर्शन कर सकते हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
जहां वैश्विक समाज अलग-अलग स्तरों और विचारधाराओं में बंट रहा है, वहां आप भारत की 'सबका साथ सबका विकास' का उदाहरण दे सकते हैं। जहां विश्व में Extremism और Radicalization के बारे में चिंता बढ़ रही है,वहां आप दुनिया को भारतीय संस्कृति के “सर्व पंथ समभाव” का संदेश दुहरा सकते हैं: PM
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018
आसियान देशों से हमारे मज़बूत सम्बन्धों को हमने आसियान संगठन के साथ सम्बन्ध बढ़ाकर और भी ठोस रुप प्रदान किया है। भारत-आसियान संबंधों का भविष्य कितना उज्जवल है, इसकी झांकी अब से कुछ दिनों बाद गणतंत्र दिवस पर पूरी दुनिया देख सकेगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) January 9, 2018