پی ایم انڈیا
جمہوریہ کرغیزستان کے صدرمحترم،
معزز شخصیات،
نمسکار!
شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کی 25ویں سالگرہ کے اس خصوصی موقع پر آپ سب کے درمیان موجود ہونا میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔
بشکیک میں ہمارا شاندار استقبال اور مہمان نوازی کرنے پر میں صدر ژاپاروف کا تہہ دل سے خیرمقدم اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔
کل کرغیزستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہمیں یہاں موجود رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں صدرمحترم اور یہاں کے عوام کو ایک بار پھر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اور آج ازبکستان کے یوم آزادی کے موقع پر میں صدر محترم اور ازبکستان کے عوام کو بھی دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ورلڈ نومیڈ گیمز کی شاندار افتتاحی تقریب کے دوران ہم سب کو کرغیزستان کی مالا مال ثقافت اور ہماری مشترکہ وراثت کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ یہی مشترکہ ورثہ اور باہمی ربط ایس سی او خاندان کی ایک بڑی طاقت ہے۔
دوستو !
گزشتہ پچیس برسوں کے دوران ایس سی او نے یوریشیا کے وسیع خطے میں مکالمے اور تعاون کی ایک مضبوط روایت قائم کی ہے۔ ہم نے مل کر اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ انسانیت کی ترقی میں بھی قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ ان پچیس برسوں میں ہم نے تعاون کی ایک مضبوط بنیاد تیار کی ہے۔ اب آنے والے پچیس برسوں میں ہمارا مقصد اس تعاون کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔
آج جب دنیا غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، ہمیں اپنے مشترکہ جغرافیہ کو مشترکہ مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔ اور اپنی کوششوں کے ذریعے اپنے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانی ہے۔
دوستو !
گزشتہ اجلاس میں، میں نے ایس سی او کے حوالے سے ہندوستان کی سوچ کے تین اہم ستونوں کا ذکر کیا تھا:
ایس- سکیورٹی(سلامتی)،
سی- کنکٹی وٹی(رابطہ و مواصلات)، اور
او- اپر چونیٹی( مواقع)
اب وقت آگیا ہے کہ ان تینوں ستونوں کو ویژن (تصور) سے آگے بڑھاتے ہوئے ٹھوس نتائج تک لے جایا جائے۔ اور اس کے لیے پہلی ضرورت ہے – امن اور سلامتی۔دہشت گردی آج بھی پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اس کے خلاف جنگ میں ہم صرف عمل اور ردعمل (ایکشن-ری ایکشن) کی سوچ تک محدود نہیں رہ سکتے۔
ہمیں دہشت گردی کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی کی جانب مائل کرنے اور محفوظ پناہ گاہوں کے پورے نظام کو تباہ کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک آواز میں کہنا ہوگا کہ اس سنگین معاملہ پر دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
جو ممالک دہشت گردی کو اپنی پالیسی کا ذریعہ بناتے ہیں، دہشت گردوں کو پناہ اور حمایت فراہم کرتے ہیں، انہیں سخت پیغام دینا ہوگا کہ دہشت گردی کسی کے لیے بھی اسٹریٹجک اثاثہ نہیں ہو سکتی۔
پرامن اور محفوظ یوریشیا کے لیے ہماری مشترکہ خواہش افغانستان میں امن اور استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ہندوستان افغانستان کے عوام کی ترقی اور انسانی امداد میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
آج کی باہم مربوط دنیا میں سلامتی کا دائرہ مزید وسیع ہو چکا ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کسی ایک خطے کا تنازع صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات پوری دنیا کی توانائی کی سلامتی، بحری تجارت اور سپلائی چینز پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ خمیازہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ تمام کشیدگیوں اور جنگوں کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
منشیات کی اسمگلنگ صرف ایک جرم نہیں بلکہ ہماری نوجوان نسل اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ایس سی او کے تحت سلامتی کے خطرات، منظم جرائم، معلوماتی سلامتی اور منشیات جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز ایک مثبت قدم ہیں۔ ہمیں انہیں عملی رابطہ کاری اور بروقت کارروائی کا مؤثر ذریعہ بنانا چاہیے۔
دوستو !
ہماری مشترکہ ترقی کی دوسری بنیاد مضبوط اور قابلِ اعتماد رابطہ کاری)کنکٹی وٹی)) ہے۔ ہندوستان ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو منڈیوں کو آپس میں جوڑتی ہیں، تجارت کو آسان بناتی ہیں اور ترقی کے نئے راستے کھولتی ہیں۔ تاہم ان کوششوں میں تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی انتہائی ضروری ہے۔ یہی ایس سی او چارٹر کی بنیادی روح بھی ہے۔
آنے والے وقت میں رابطہ کاری کی نوعیت مزید وسیع ہوگی۔ سڑکوں، ریلوے اور فضائی راہداریوں کے ساتھ ساتھ ہمیں کسٹمز کے طریق کار کو آسان، ڈجیٹل دستاویزات کو فروغ اور لاجسٹکس کے نیٹ ورکس کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
دوستو!
تیسرا ستون ہے- اپر چیونیٹی (مواقع)۔
اس کا مطلب ہے کہ ایس سی او کے تعاون کا فائدہ براہ راست ہمارے عوام تک پہنچے۔ ہمارے عوام کے درمیان باہمی روابط ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ہندوستان کے لیے ایس سی او عظیم تہذیبوں، ثقافتوں اور افکار کا سنگم ہے۔ ایس سی او کے اگلے پچیس برسوں میں عوام سے عوام کے روابط (پیپل- ٹو-پیپل ٹائیز) کو ہمارے تعاون کے مرکز میں رکھنا چاہیے۔
ہماری کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری کوششوں سے نوجوانوں کو کتنے نئے مواقع ملے، ہمارے کاروباری افراد کے لیے کتنی نئی منڈیاں کھلیں، ہمارے کسانوں کو ٹیکنالوجی سے کتنا فائدہ پہنچا، اور ہمارے شہریوں کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔
یہی’’ سکیورٹی، کنکٹی وٹی اور اپر چیونیٹی ‘‘ کا حقیقی مفہوم ہے۔
ایس سی او میں ہمارا تعاون صرف حکومت پر مبنی(گورنمنٹ ڈریون) نہیں بلکہ عوام پر مبنی(پیپل ڈریون)) ہونا چاہیے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرغیزستان کی صدارت کے تحت ایس سی او میں نوجوانوں کی شمولیت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ہندوستان نے ایس سی او میں اسٹارٹ اَپ فورم، ینگ آتھرز کانکلیو اور ینگ سائنٹسٹس فورم جیسے اقدامات کیے ہیں۔
گزشتہ سال ہندوستان نے’ ایس سی او سیویلائزیشن ل ڈائیلاگ فورم‘کی تجویز پیش کی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کا پہلا اجلاس اس سال ہندوستان میں منعقد ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سب کی فعال شرکت سے یہ فورم ایس سی او میں بامعنی اور متحرک مکالمے کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنے گا۔
دوستو !
کرغیزستان کے عظیم ادیب چنگیز ایتماتوف نے دنیا کو ایک خوبصورت اور گہرا خیال دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم اکثر ان باتوں کو زیادہ دیکھتے ہیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں، اور ان باتوں کو کم دیکھتے ہیں جو ہمیں آپس میں جوڑتی ہیں۔
آج ایس سی او کے لیے بھی یہی پیغام انتہائی موزوں ہے۔ ہماری تنوع ہماری شناخت ہے۔ ہمارا مشترکہ مقصد ہماری طاقت ہے۔ بشکیک سے ہمیں یہی عزم لے کر آگے بڑھنا چاہیے:
مشترکہ جغرافیہ سے مشترکہ مواقع کی جانب،
ویژن سے سے آؤٹ کمز کی طرف،اور
گورنمنٹ ڈریون کوآپریشن سے پیپل ڈریون پارٹنر شپ کی جانب۔
ہندوستا ن اسی یقین اور اسی عزم کے ساتھ ایس سی او خاندان کے مشترکہ سفر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
بہت بہت شکریہ۔
*****
) ش ح – ظ الف – اش ق )
UR No. 2863
Addressed the SCO Summit in Bishkek.
— Narendra Modi (@narendramodi) September 1, 2026
This Summit is special because we are marking 25 years since the start of SCO.
Here are the points I’ve raised in the Summit pic.twitter.com/oYZLLFvztf
It’s time to look at the SCO agenda for the next 25 years.
— Narendra Modi (@narendramodi) September 1, 2026
India’s position is clear…We must transform our shared geography into shared opportunities.
We must work on the three pillars of Security, Connectivity and Opportunity.
From the SCO Summit in Bishkek. pic.twitter.com/GDlPpVkSLR
— Narendra Modi (@narendramodi) September 1, 2026