Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے بھارت اور استوائی گوئنیا کے مابین ادویہ جاتی پودوں کے شعبے میں مفاہمتی عرضداشت کو منظوری دی


مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت اور استوائی گوئنیا کے مابین ادویہ جاتی پودوں کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمتی عرضداشت کو استقدامی منظوری دے دی ہے۔

مذکورہ مفاہمتی عرضداشت ادویہ جاتی پودوں کے شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دے گی۔

تحقیق ، تربیتی کورس، کانفرنسوں کے اہتمام، میٹنگوں کے اہتمام کے سلسلے میں درکار مالی وسائل موجودہ مختص کردہ بجٹ اور قومی ادویہ جاتی پودوں کے بورڈ، وزارتِ آیوش کی موجودہ منصوبہ جاتی اسکیموں سے بہم پہنچائے جائیں گے۔

پس منظر :

بھارت حیاتیاتی گوناں گونی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے مالامال ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں پندرہ زرعی ۔ موسمیاتی زون موجود ہیں۔ 17000-18000 پھولوں والے پودوں کی اقسام میں 7000 کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان کا استعمال ادویہ کے لوک دستاویزات کے مطابق، طبی مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے، یعنی آیوروید، یونانی ، سدھ اور ہومیو پیتھی (آیوش نظامِ ادویہ) میں ان کا استعمال ہوتا ہے۔ تقریباً 1178 ادویہ جاتی پودوں کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان کی تجارت کی جاتی ہے اوران میں سے 242 اقسام ایسی ہیں، جن کی سالانہ کھپت 100 میٹرک ٹن کے بقدر ہے۔ ادویہ جاتی پودے نہ صرف یہ کہ روایتی ادویہ اور جڑی بوٹی صنعت کے لئے اہم وسیلہ بنیاد ہیں بلکہ روزی روٹی بھی فراہم کرتے ہیں اور بھارتی آبادی کے بڑے حصے کو صحتی تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ عالمی پیمانے پر روایتی اور متبادل حفظانِ صحت نظام کے از سر نو فروغ کے نتیجے میں ان پودوں کی عالمی سطح پر جڑی بوٹی کے طور پر تجارت، 120 ملین امریکی ڈالر کے بقدر ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ 2050 تک یہ تجارت بڑھ کر 7 کھرب امریکی ڈالر کے بقدر تک پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ، بڑی تعداد میں ایسے طبی پودے خصوصاً حاراتی خطے میں پائے جانے والے ایسے پودے ہیں جو یکساں جغرافیائی ۔ موسمیاتی حالات والے دو ممالک میں پائے جاتے ہیں۔