Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے زراعت اور اس سے متعلق شعبوں میں امداد باہمی پر


   بھارت اور مصر کےد رمیان   مفاہمت نامے کو منظوری دی

 

نئی دہلی، 12 ستمبر    2018/ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت   مرکزی کابینہ نے    زراعت کے شعبے  اور  متعلقہ شعبوں میں  امداد باہمی کے لئے   بھار ت اور روس کے درمیان ایک مفاہمت نامے  (ایم او یو)  پر دستخط  کرنے کو منظوری دی ہے۔

 اس مفاہمت نامے میں  زرعی فصلوں (خصوصی طور پر گندم اور مکئی) ،  زرعی  بائیو ٹکنالوجی، نینو ٹکنالوجی ،  آبپاشی اور  پانی  کے  بندوبست کی ٹکنالوجی بشمول پانی کا تحفظ اور مائیکرو   -آبپاشی ٹکنالوجی  ، توانائی کی پیداوار کے لئے زرعی   فضلہ  کو ٹھکانے لگانے کا انتظام، غذائی تحفظ    اور معیار ، باغبانی ،  نامیاتی زراعت ، مویشی پالن، مویشیو ں کی افزائش نسل ، دود ھ صنعت   ، ماہی گیری  ،  چارہ پیداوار، جانوروں کی مصنوعات اور قدر میں اضافہ،   پودوں اور جانوروں کی مصنوعات  میں تجارت سے  متعلق   صفائی اور  فائٹو صفائی   مسائل ، چھوٹی سطح پر زرعی   مشینری  ،  زرعی تجارت اور مارکیٹنگ   ، فصلوں کی   کٹائی سے قبل اور بعد کی کارروائیوں ، فوڈ ٹیکنالوجی ، ڈبہ بند اور زراعت میں کیڑے مکوڑوں سے نمٹنے   کے مربوط انتظام کے شعبوں میں    باہمی تعاون شامل ہے۔  اسی طرح    اس مفاہمت نامے میں    زرعی  توسیع اور دیہی ترقی، زرعی تجارت اور سرمایہ کاری    ، دانشورانہ  املاک  کے حقوق کے مسائل ، ٹیکنیکی معلومات  اور بیج کے شعبے میں انسانی وسائل   ، بنیاد ی ڈھانچے کی ترقی  اور زراعت اور متعلقہ شعبوں   اور دلچسپی کے دیگر متعلقہ شعبوں میں صلاحیت سازی  جن پر دونوں فریق  کی رضامندی حاصل ہوجائے ،   ان تمام شعبوں میں بھی امداد باہمی کی گنجائش  رکھی گئی ہے۔

تحقیقی سائنس دانوں  اور ماہرین   کے تبادلے  ،  زرعی معلومات   اور سائنسی اشاعتوں ( روزناموں ، کتابوں ، بلٹین ، زراعت اور متعلقہ شعبوں سے متعلق اعدادوشمار کے ڈیٹا) کے تبادلے ،   زرعی ٹکنالوجی    کے تبادلے    اور مشترکہ سمینار  ، ورکشاپ  ، سپموزیم اور اسی طرح کی دیگر سرگرمیوں  کا انعقاد کرکے     باہمی تعاون کیاجائے گا۔

مفاہمت نامے کے تحت   ایک مشترکہ ورکنگ  گروپ  (جے ڈبلیو جی) کی تشکیل کی جائے گی  تاکہ    دو طرفہ معاملات پر  صلاح و مشورہ سمیت  باہمی مفاد کے امور پر   امداد باہمی کو   بڑھاوا دیا جاسکے۔    یہ گروپ    ابتدائی دو سالوں میں سال میں کم از کم ایک بار    ملاقات کرے گا، کبھی بھارت میں تو کبھی  مصر میں۔ تاکہ    کام کے مشترکہ پروگرام   کو وضع کیا جاسکے   ،  اس کے انعقاد کا   راستہ ہموار کیا جاسکے اور  صلاح و مشورہ کیا جاسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 م ن۔ن ا  ۔ ج۔

U- 4711