Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے زرعی برآمداتی پالیسی 2018 کو منظوری دی


 

نئی دہلی ،06دسمبر2018؍     وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہنےزرعیبرآمداتیپالیسی 2018 کومنظوری دے دی ہے۔کابینہ نے مرکز میں ایک نگرانی کے فریم ورک کو قائم کرنے کی ایک تجویز کو بھی منظوری دے دی ہے جس میں کامرس کی وزارت  بااختیار محکمہ ہوگا اور اس میں مرکز کی وزارتیں ؍ محکمے اور ایجنسیوں کے نمائندے اور متعلقہ ریاستی حکومت کے نمائندے شامل ہوں گے جو زرعی برآمداتی پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کریں گے۔

حکومت نے 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کی خاطر ایک پالیسی پیش کی ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے زرعی اشیاء کی برآمدات اہم رول ادا کریں گی۔ زرعی برآمدات میں تیزی لانے کی خاطر حکومت نے ’ایک جامع زرعی برآمداتی پالیسی ‘پیش کی ہے جس کا مقصد زرعی برآمدات کو دوگنا کرنا اور ہندوستانی کسانوں اور زرعی اشیاء کو عالمی ویلوچین کے ساتھ  مضبوط کرنا ہے۔زرعی آمداتی پالیسی کا مندرجہ ذیل ویژن ہے۔

’’مناسب پالیسی اور وسائل کے ذریعے ہندوستان کی زرعی برآمداتی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ہندوستان کو زراعت کا ایک عالمی مرکز بنانا اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنا ‘‘

مقاصد:

زرعی برآمداتی پالیسی کے مقاصد مندرجہ ذیل ہیں:

  • زرعی برآمدات کو موجودہ 30 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 2022 تک 60 ارب امریکی ڈالر کے برابر دوگنا کرنا اور اگلے چند برسوں میں ایک مستحکم تجارتی پالیسی نظام کے ساتھ 100 ارب امریکی ڈالر تک کی برآمدات کو حاصل کرنا ۔
  • اپنی برآمداتی اشیاء ، مندروں کو متنوع بنانا اور جلد خراب ہونے والی اشیاء سمیت زرعی برآمدات کے لئے قدر میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنا۔
  • نئی ، ملک میں تیار کردہ ، نامیاتی ، نسلی ، روایتی اور غیر روایتی اشیاء کی برآمدات کو فروغ دینا ۔
  • مارکیٹ تک رسائی کے حصول ، رکاوٹوں کو دور کرنے اور صفائی ستھرائی جیسے امور سے نمٹنے کے لئے ایک ادارہ جاتی نظام فراہم کرنا ۔
  • جتنی جلد ممکن ہو سکے عالمی ویلیو چن کے ساتھ مربوط کر کے دنیا میں زرعی برآمدات میں بھارت کی حصہ داری کو دوگنا کرنے کی کوشش کرنا ۔
  • کسانوں کو سمندر پار مارکیٹ میں برآمداتی مواقعے کا فائدہ اٹھاے کے قابل بنانا۔

زرعی برآمداتی پالیسی کے عناصر:

          زرعی برآمداتی پالیسی کے لئے دو زمروں ، اسٹریٹجک اور آپریشنل کے لئے سفارش کی گئی ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

 

بنیادی ڈھانچہ اور لاجسٹک امداد

برآمدات کو فروغ دینے کے لئے جامع طریقۂ  کار

زرعی برآمدات میں ریاستی حکومتوں کی زیادہ شمولیت

 

کلسٹروں پر توجہ

 

اضافی قدر والی برآمدات کا فروغ

 

برانڈ انڈیاکی مارکیٹنگ اور فروغ

آپریشنل

پیداوار اور ڈبہ بندی میں پرائیویٹ سرمایہ کاری کو راغب کرنا

 

معیار کے لئے مضبوط نظام کا قیام

 

تحقیق و ترقی

 

دیگر

اسٹریٹجک

 

پالیسی اقدامات

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

U. No. 6126