پی ایم انڈیا
نئی دہلی،20؍فروری،سرمایہ کاروں کی بچت کا تحفظ کرنے کی خاطر ایک بڑے پالیسی اقدام میں وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں منعقد مرکزی کابینہ نے پارلیمنٹ میں مندرجہ ذیل دو بلوں کو پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
1-غیر منضبط ڈپازٹ اسکیموں پر پابندی کا بل – 2018۔
2-چٹ فنڈ (ترمیمی) بل – 2018
غیر منضبط ڈپازٹ اسکیموں پر پابندی بل – 2018
وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں منعقد مرکزی کابینہ نے غیر منضبط ڈپازٹ اسکیموں پر پابندی عائد کرنے کے بل – 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظور دے دی ہے۔ اس بل کا مقصد ملک میں ناجائز طریقے سے ڈپازٹ (جمع بچت) حاصل کرنے کی سرگرمیوں کی لعنت سے نمٹنا ہے۔ اس طرح کی اسکیمیں چلانے والی کمپنیاں ؍ ادارے موجودہ ضابطوں میں خامیوں کے استحصال اور سخت انتظامی اقدامات کی کمی کا فائدہ اٹھاکر غریب اور سادہ لوح عوام کو دھوکہ دے کر ان کی محنت کی کمائی اُڑالیتی ہے۔
تفصیلات:
غیر منضبط ڈپازٹ اسکیموں پر پابندی کا بل -2018 ملک میں مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے ناجائز ڈپازٹ اسکیموں سے نمٹنے کے لئے جامع قانون فراہم کرے گا۔
الف-غیر منضبط ڈپازٹ لینے کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی۔
ب-غیر منضبط ڈپازٹ حاصل کرنے کی اسکیموں کو چلانے یا فروغ دینے پر سزا۔
ج-جمع کرنے والوں کو ادائیگی میں دھوکہ دیہی اور نادہندگی کے لئے سخت سزا۔
د-ڈپازٹ جمع کرنے والے کسی ادارے کے ذریعے نادہندگی کی صورت میں رقم جمع کرنے والوں کو ادائیگی کو یقینی بنانے کی خاطر ریاستی حکومت کے ذریعے ایک بااختیار اتھارٹی کا قیام۔
ہ-بااختیار اتھارٹی کے اختیارات اور اس کے فرائض کے ساتھ ساتھ نادہندہ ادارے کے اثاثوں کو قُرق کرنے کا اختیار۔
و-رقم جمع کرنے والوں کو ادائیگی کی نگرانی اور قانون کے تحت قصورواروں پر مقدمہ چلانے کے لئے مخصوص عدالتوں کی نشاندہی۔
ز-بل میں منضط ڈپازٹ اسکیموں کی فہرست کی شمولیت کے ساتھ ایک شق کے تحت مرکزی حکومت کو اس فہرست میں کمی یا بیشی کرنے کا اختیار۔
چٹ فنڈ (ترمیمی) بل- 2018
وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے چٹ فنڈ (ترمیمی) بل- 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔چٹ فنڈ سیکٹر کے منضبط فروغ میں سہولت فراہم کرنے اور چٹ فنڈ صنعت کو درپیش خامیوں کو دور کرکے لوگوں کو دیگر مالی مصنوعات تک زیادہ رسائی فراہم کرنے کی خاطر چٹ فنڈ قانون 1982 میں مندرجہ ذیل ترامیم کی تجویز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن-و ا- ق ر)
(20-02-2018)
U-983