Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کولکاتہ میں پروفیسر ایس این بوس کے 125ویں یوم پیدائش کی یادگاری افتتاحی تقریب سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ وزیراعظم کے خطاب کا متن

کولکاتہ میں پروفیسر ایس این بوس کے 125ویں یوم پیدائش   کی یادگاری افتتاحی تقریب سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ وزیراعظم کے خطاب کا متن


نئی دہلی، 1جنوری 2018/ آج ایک بہت اچھا موقع ہے جب ہم ملک کے لئےاپنی زندگی وقف کردینے والے ملک کے  عظیم سپوت  کو یاد کر رہے ہیں یہ  ملک کے لئے مسلسل کام  کرنے کا ، خود کو کھپا دینے کا جذبہ ہے ، جوہمیں دین  ، وقت، پہر،  کی فکر مندیوں سے ماورہ   ، اس طرح ساتھ لاتا ہے۔

آچاریہ  ستیندر ناتھ بوس کے 125ویں   یوم پیدائش پر  میں  آپ سبھی  اور خاص طور پر   سائنس داں برداری کو   بہت بہت  مبارک باد دیتا ہوں۔ 

دوستو! ہر سال   کے  آغاز میں  مجھے  معروف  سائنس دانو ں کے ساتھ بات چیت کرکے خوشی ہوتی ہے ۔  مجھے خوشی ہے کہ آج  آپ کے ساتھ  اپنے کچھ خیالات مشترک کرنے کا  ایک مبارک موقع ملا ہے۔ 

آج ہم  سال بھر تک  جاری رہنے والے   آچاریہ  ستیندر ناتھ بوس کے 125ویں  یوم پیدائش  سے متعلق   تقریبات کا آغاز کررہے ہیں۔   ان کی پیدائش آج ہی کے دن 1894 میں ہوئی تھی۔    اپنے وقت اور سماج سے بہت آگے  کی ان کی فکر کے تعلق سے میرے دل میں   بے پناہ  احترام   ہے۔

ساتھیو! دیش بندھو چترنجن داس نے   اپنی   ایک  شاعری میں  کہا تھا

‘‘بنگال  کے پانی اور بنگال کی مٹی میں  ایک ابدی   حقیقت  پنہاں ہے’’۔

یہ وہ حقیقت ہے جو بنگال کے لوگوں کو  غور و فکر کی اس سطح پر لے جاتی ہے جہاں پہنچنا مشکل ہوتا ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے بنگال نے   صدیوں تک  ملک  کا محور بن کر ملک کو  تھامے رکھا ہے۔

تحریک آزادی  کی بات ہو ، اد  ب ہو،  سائنس ہو ، کھیل ہو، ہر شعبہ میں بنگال کے پانی   اور بنگال کی مٹی کا اثر واضح نظر آتا ہے ۔  سوامی  رام کرشن  پرم ہنس   ، سوامی وویکا نند ،  گرو ور   رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس، شیاما پرساد مکھرجی،  بنکم چندر، شرت چندر ،ستیہ جیت رائے،  آپ کسی بھی شعبہ کا نام لیجئے ، بنگا ل کا کوئی نہ کوئی ستارہ    وہاں چمکتا ہوا  نظر آئے گا۔

ہندستان کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ  اس سرزمین میں ایک سے بڑھ کر ایک  سائنس دا ں بھی  پوری دنیا کو  دیئے۔ آچاریہ ایس این بوس کے علاوہ    جے سی بوس، میگھ ناد ساہا  ، کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے  ملک میں جدید سائنس کی بنیاد مضبو ط کی۔

بہت کم وسائل  اور بہت زیادہ  جدوجہد  کے دوران  انہوں نے اپنےافکار و ایجادا ت سے  لوگوں کی  خدمت کی۔  آج بھی ہم   ان کی  عہد بستگی اور  تخلیقیت سے  سیکھ رہے ہیں۔

دوستو! ہم آچاریہ  ایس این بوس  کی حیات و خدمات سے  بہت کچھ  سیکھ سکتے ہیں۔ وہ ایک خود آگاہ     اسکالر تھے۔   انہوں نے  بہت سی رکاوٹوں کے باوجود کامیابی حاصل کی   ان میں  باقاعدہ  تحقیقی تعلیم کا فقدان  اور  عالمی سائنسی  برادری کے ساتھ   معمولی   رابطہ  شامل ہیں۔ 1924 میں انہوں نے جو غیر معمولی  کارنامہ انجام دیا  وہ  سائنس کے تئیں   اپنے آپ کو   وقف کردینے کی  ا ن کی   تنہا  کوشش  کا نتیجہ تھا۔   ان کے اس کارنامے نے  کوائنٹم اسٹیٹسٹکس   کی بنیادیں  رکھیں  اور جدید  آٹومک تھیوری   کی بنیاد  بھی رکھی۔   آئنسٹائن کے  سوانح نگار   ابراہم  پیس نے   ان کے   کام کو  قدیم  کوانٹم تھیوری سے متعلق    آخری چار    انقلابی   پیپرز میں سے ایک قرار دیا   ہے۔ سائنس کی تاریخ میں  بوس اسٹیٹسٹکس، بوس آئنسٹائن  کنڈینشیشن   اور ہگز بوسن  جیسے  کنسیپٹ اور ٹرم  کے لئے  ستیندر ناتھ بوس  کے نام کو  ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  ان کے کام کی  بنیادی  اہمیت کا اندازہ   اس حقیقت سے لگایا جاسکتا کہ بعد میں  علم طبعیات کے شعبے میں متعدد  نوبل  انعامات   ان کے تصورات کو   آگے بڑھانے والے   ریسرچ اسکالروں کو دیا گیا ہے۔

پروفیسر بوس   مقامی زبانوں  میں سائنس کی تعلیم  دیئے   جانے  کے مجاہد تھے۔ انہوں نے   بنگالی  سائنس میگزین  گیان و بگیان شروع کیا ۔

نوجوانوں کے اندر سائنس کی سمجھ   اور  محبت کو فروغ دینے کے لئے  یہ بات  بہت اہم ہے کہ   ہم سائنس کمیونی کیشن کو  بڑے پیمانے پر  فروغ دیں ۔ اس کام  میں زبان رکاوٹ نہیں بلکہ ایک وسیلہ  ہونی چاہئے۔

ساتھیو!  ہندستان کا  سائنسی  تحقیق سے متعلق   ماحول  بہت مضبوط  رہا ہے۔   ہمارے یہاں نہ  صلاحیت کی کمی ہے ، نہ  محنت کی اور نہ ہی  مقصد کی۔

گزشتہ   چند دہائیوں میں   ہندستان   سائنس اور ٹکنالوجی  کے شعبےمیں تیزی سے  ابھرا ہے۔  اطلاعاتی ٹکنالوجی کا شعبہ ہو، خلائی ٹکنالوجی ہو ، میزائل ٹکنالوجی ہو  ، ہندستان نے  اپنی دھاک پوری دنیا   پر  جمائی ہے۔  ہمارے  سائنس دانوں ، ہمارے  ٹکنالوجی ماہرین  کی  یہ حصولیابیاں پورے ملک کے لئے  باعث فخر ہیں۔ 

جب   اسرو   کے راکٹ سے  ایک بار میں  سو سے زیادہ    سیارچےداغے جاتے ہیں تو  پوری دنیا    آنکھیں پھاڑ کر کے  دیکھتی ہے۔   اس وقت ہم ہندستا ن کے لوگ اپنا سر اونچا کرکے  اپنے  سائنس دانوں کی  اس کامیابی   سے خوش ہوتے ہیں۔

ساتھیو!   آپ  لیب میں جو محنت کرتے ہیں  ،  اپنی زندگی کھپاتے ہیں  ، وہ صرف  لیب میں ہی رہ جائے تو یہ  ملک کے ساتھ  ،  آپ کے ساتھ بہت بڑی بے انصافی ہوگی۔ ملک کی سائنسی  صلاحیت میں  اضافہ کرنے کے لئے  آپ کی محنت  تب  اور رنگ لائے گی  جب آپ اپنے   بنیادی معلومات کو  ، آج کے   دور کے حساب سے  ملک کے عوام تک  پہنچاپائیں ۔  اس لئے آج  بہت ضروری ہے کہ   ہماری جائیداد  ، ہماری ریسرچ کا   حتمی  نتیجہ  طے ہو۔ کیا آپ کی  ایجادات سے کسی غریب کی زندگی  آسان ہورہی ہے ، متوسط طبقے کے   کسی  شخص کی  مشکلیں کم ہورہی ہیں؟

جب ہمارے  سائنسی تجربات کی بنیاد  ہمارے سماجی  اقتصادی  مسائل کا  حل ہوگا  ، تو آپ کو حتمی نتیجہ ، اپنا ہدف   طے کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔

مجھے یقین ہے کہ    ہمارے ملک کے سائنس داں    روایت سے ہٹ کر اپنی  سوچ سے  ملک کو ایسے   تخلیقی تکنیکی حل دیتے رہیں گے  ، جس کا فائدہ   عام لوگوں کو  ہوگا، جو ان کی زندگی کو  اور آسان  بنائے گا۔ 

مجھے بتایا گیا ہے کہ    الگ الگ  سائنسی  اداروں میں  ، شمسی  توانائی  ،   صاف ستھری توانائی،    پانی کے تحفظ   ، کچرا بندوبست  جیسے موضوعات کو  ذہن میں رکھتے ہوئے    تحقیق و ترقی سے متعلق    پروجیکٹ  شروع کئے ہیں۔    ا سطرح ک  پروجیکٹوں اور  ان کے نتائج   لیب میں   نہ رہ جائیں   یہ بھی ہماری    اجتماعی  ذمہ داری ہے۔  

معزز سائنس داں اور طلبا  ، آپ  سب نے  کوائنٹم میکنکس کا مطالعہ کیا ہے   اور  شاید آپ اس کے  ماہر بھی ہوں ۔  میں نے اس کا مطالعہ نہیں کیا ہے     لیکن میرا خیال ہے کہ  کئی اسباق ہیں    جن کی تعلیم    روزمرہ کی زندگی میں  فزکس ہمیں  دیتا ہے۔     کوئی کلاسیکل   پارٹیکل   کسی  گہرے  کنویں  کے اندر سے آسانی کے ساتھ   نہیں نکل سکتی لیکن کوائنٹم پارٹیکل  ایسا   کرسکتا ہے۔ 

کسی نہ کسی وجہ سے  ہم   اپنے آپ کو   تنہائی کا   قیدی   بنا لیتے ہیں ۔  ہم  مشکل سے ہی    تعاون کرتے ہیں ،  اشتراک کرتے ہیں ا ور   دوسرے  اداروں اور  قومی   تجربہ گاہوں کے  سائنس داں  دوستوں کے ساتھ   انکا اشتراک  کرتے ہیں۔ 

 اپنے حقیقی    امکانات تک رسائی    اور ہندستانی سائنس کو    اس کا  واجب مقام   دلانے کے لئے   ہمیں   کوائنٹم   پارٹیکل کی طرح ہونا چاہئے جو   اپنی  قیود سے  نکل جاتا ہے۔   یہ چیز  آج زیادہ ہی   اہم ہے   کیونکہ  سائنس   بڑی حد تک  کثیر  موضوعاتی  ہوگئی  ہے اور اس کے لئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔  مجھے   بتایا گیا ہے کہ   ہمارے  سائنس کے شعبے   اب  کثیر رخی   نقطہ نظر  پر  کام کررہے ہیں ۔   میرا خیال ہے کہ     سائنس سے متعلق  بنیادی ڈھانچے   کے   اشتراک کے لئے   ایک پورٹل  تیار کیا جانا چاہئے    جس میں    وسائل کے شفاف اور موثر   ٹیگنگ   اور شیئرنگ  کی سہولت ہو۔

اکیڈمک اور آر این ڈی اداروں کے درمیان مضبوط اشراک کے لئے ایک میکانزم تیار کیا جارہا ہے۔ شہر وار آر این ڈی کلسٹرز بنائے جارہے ہیں تاکہ  اکیڈمیاں، اداروں، صنعتوں سے تعلق رکھنے والے سبھی سائنس و ٹکنالوجی کے شراکت داروں کو ایک ساتھ لایا جاسکے۔

اس کوشش کی کامیابی کا انحصار سبھی تعلیمی اداروں اور تجربہ گاہوں کو اس حکمت عملی کے تحت لانے کی ہماری لیاقت پر ہے۔ اس کے لئے سبھی کی دل کی گہرائیوں کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہوگی۔ یہ میکانزم اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ملک کے کسی دور دراز علاقے میں رہنے والا سائنس داں بھی آئی آئی ٹی دہلی یا دہرادون میں واقع سی ایس آئی آر لیب  وغیرہ میں موجود وسائل تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکے۔ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ ہماری سبھی کوششیں اور سرگرمیاں ہمیشہ مختلف اجزا کے جوڑ سے کہیں زیادہ ہو۔

 ساتھیو! ترقی، نمو اور یکسر تبدیلی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی ایک غیر معمولی انجن کی طرح کام کرتی ہے۔ میں آپ لوگوں سے، ملک کی سائنس داں برادری سے پھر درخواست کروں گا کہ اپنی ایجادات کی سمت ہمارے سماجی ۔ اقتصادی چیلنجوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے طے کریں۔

آپ کے علم میں ہے کہ ملک میں لاکھوں لوگ بالخصوص آدی واسی برادری میں ہزاروں بچے سکل سیل انیمیا کے شکار ہیں۔ اس پر دہائیوں سے ریسرچ ہورہی ہے لیکن  کیا ہم ٹھان سکتے ہیں کہ اس بیماری کا سستا اور آسان علاج ہم پوری دنیا کو دیں گے؟

کیا سوء تغذیہ کے چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لئے اور زیادہ سستی اور پروٹین  والی دالوں کی نئی اقسام تیار کی جاسکتی ہیں۔ کیا سبزیوں اور ہمارے اناج کی کوالیٹی کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ کیا ندیوں کی صفائی کے لئے، ندیوں کو خس و خاشاک سے آزادی دلانے کے لئے، ندیوں کو  آلودگی سے پاک کرنے کے لئے نئی ٹکنالوجی پر کام اور تیز کیا جاسکتا ہے؟

کیا ملیریا، ٹی بی ، جاپانی بخار جیسی بیماریوں کی روک تھام کے لئے نئی دوائیاں، نئے ٹیکے تیار کئے جاسکتے ہیں؟ کیا ہم ایسے شعبوں کا انتخاب کرسکتے ہیں جہاں ہمارے روایتی علوم اور جدید سائنس کو تخلیقی طریقے سے  مخلوط کیا جاسکتا ہے؟

دوستو! متعدد وجوہات سے ہم  پہلے صنعتی انقلاب سے چوک گئے۔ آج ہم ایسے ہی مواقع کو نہیں کھو سکتے۔ مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ، سائبر فزیکل سسٹمز، جینومکس اور الیکٹرک وہیکلس جیسے شعبے، نئے چیلنج ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ براہ کرم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایک ملک کے طور پر ہم ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں اور اختراعات کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چل سکیں۔

ان چیلنجوں سے ہماری سائنس برادری جس طرح نمٹے گی ان سے اسمارٹ مینوفیکچرنگ، اسمارٹ سٹیز، انڈسٹری 4.0 اور انٹرنٹ آف تھنگز جیسے شعبوں میں ہماری کامیابی کا تعین ہوگا۔ ہمارا سائنسی ماحول موجدوں اور صنعت کاروں کے براہ راست رابطے میں ہونا چاہیے تاکہ ہم انہیں پروان چڑھا سکیں، انہیں ترتیب دے سکیں اور انہیں مضبوط بناسکیں۔

ساتھیو! ہمارے ملک کے پاس آبادی سے متعلق جتنی طاقت ہے، اس سے پوری دنیا کو حسد ہوسکتی ہے۔ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت اسٹینڈ اپ انڈیا، اسٹار اپ انڈیا، اسکل ڈیولپمنٹ مشن، پردھان منتری مدرا یوجنا جیسے پروگرام چلا رہی ہے۔ اسی کڑی میں ہم ملک میں 20 ایسے اداروں  کی تعمیر کی  کوشش کررہے ہیں جو دنیا میں اپنی دھاک جمائے، جن کی پہچان عالمی معیار کے طور پر ہو۔

انسٹی ٹیوٹ آف ایمیننس یعنی شہرت کے حامل ادارے، مشن میں شامل ہونے کے لئے حکومت اعلی تعلیم سے وابستہ نجی اور سرکاری اداروں کو خود کنٹرول کررہی ہے۔ ہم نے ضابطوں میں تبدیلی کی ہے، قوانین بدلے ہیں۔ پبلک سیکٹر کے جو ادارے منتخب ہوں گے، انہیں ایک مقررہ وقت میں ایک ہزار کروڑ روپے کی اقتصادی مدد بھی دی جائے گی۔

میری ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز اور ایسے ہی دیگر اداروں سے  درخواست ہے کہ وہ بھی اپنے ادارے کو ٹاپ رینکنگ والا ادارہ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کریں، اس پر کام کریں۔ آج میری ایک درخواست آپ سے یہ بھی ہے کہ اپنے اداروں میں اس طرح کا ماحولیاتی نظام بنائیں جس سے طلبا اور نوجوان ریسرچ کے لئے مزید راغب ہوسکیں۔

اگر ہر سائنس داں صرف ایک بچے کی سائنس کی تعلیم، ریسرچ کے تئیں اس کا رجحان بڑھانے کےلئے اپنا تھوڑا سا وقت دینے لگے تو ملک میں لاکھوں طلبا کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ آچاریہ ایس این بوس کے 125 ویں یوم پیدائش کے سال میں یہ انہیں سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا۔ ساتھیو! 2017 میں ہم سبھی نے ،سوا سو کروڑ ہندوستانیوں نے مل کر ایک عہد کیا ہے۔ یہ عہد ہے نیو انڈیا کا۔ یہ عہد ہے 2022 تک اپنے ملک کو داخلی برائیوں سے آزاد کرنے کا۔ یہ عہد ہے اس ہندوستان کی تعمیر کا جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا۔

سال 2018کا یہ سال اس عہد کے لئے بہت اہم ہے۔ یہی وہ سال ہے جب ہمیں اپنی ساری قوت، اپنی ساری توانائی اس عہد کی تکمیل کے لئے مرکوز کرنی ہے۔

ملک کے ہر شخص، ہر کنبے، ہر ادارے، ہر تنظیم، ہر محکمے، ہر وزارت کو اپنا تعاون دینا ہے۔ جیسے کسی اسٹیشن سے ٹرین چلتی ہے تو وہ 5 ، 10 منٹ کے بعد اپنی پوری رفتار میں آتی ہے، ویسے ہی 2018 کا یہ سال ہمیں اپنی پوری رفتار میں لانے کے لئے ہے۔ ملک کی سائنس داں برادری کو بھی ، سائنس اور ٹکنالوجی سے وابستہ ہر شخص کو اپنی ایجادات اور ریسرچ کا محور نیو انڈیا کی تعمیر کو بنانا ہوگا۔

آپ کی ایجادات ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو مضبوط کریں گی۔ملک کو مضبوط کریں گی۔ آخر آدھار ہو، ڈائرکٹر بنیفٹ ٹرانسفر ہو، سوائل ہیلتھ کارڈ ہو، اسکیموں کی سیٹلائٹ اور ڈرون سے نگرانی ہو، یہ سارے نظام آپ کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔

 ایسا اور کیا کیا کیا جاسکتا ہے، کیسے روزگار پیدا کرنے والی اقتصادی ترقی میں مدد کی جاسکتی ہے، اس بارے میں سائنسی ادارے بہت تعاون دے سکتے ہیں، خاص طور پر ملک کے دیہی علاقوں میں ان کی ضرورت کے حساب سے نئی ٹکنالوجی کی دریافت کرنے، نئی ٹکنالوجی کو گاؤں تک پہنچانے میں آپ کا تعاون بہت اہم ہے۔

ساتھیو! ہاؤسنگ، پینے کے پانی، توانائی، ریلویز، ندیوں، سڑکوں، ہوائی اڈوں، سینچائی، مواصلات، ڈیجیٹل انفرااسٹریکچر جیسے متعدد شعبوں میں نئی نئی ایجادات آپ کی منتظر ہیں۔

حکومت آپ کے ساتھ ہے، وسائل آپ کے ساتھ ہیں، لیاقت آپ میں کسی سے کم نہیں ہے، اس لئے کامیابی کو بھی آپ تک آنا ہی ہوگا۔ آپ کامیاب ہوں گے تو ملک کامیاب ہوگا۔ آپ کے عزائم حقیقت کی شکل لیں گے تو ملک کے عزائم کی بھی تکمیل ہوگی۔

دوستو! کسی چیز کا افتتاح تبھی نتیجہ خیز ہوتا ہے جب آپ اس کے لئے تیار کئے گئےلائحہ عمل پر قدم بڑھائیں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہے کہ آج جس چیز کا آغاز کیا گیا ہے، اس کو آگے بڑھانے کے لئے اقدامات کا ایک سلسلہ بھی وضع کیا گیا ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ  اسکولوں اور کالجوں میں 100 آؤٹ ریچ لیکچر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنس اور سائنسی نکتہ نظر سے چیلجنگ مسائل  کے 125 حل  سے متعلق مسابقہ بھی ایجنڈے پر ہے۔

بہترین افکار کی معنویت وقت گزرنے کے ساتھ بھی برقرار رہتی ہے۔ آج بھی آچاریہ بورس کا کام سائنس دانوں کے لئے باعث ترغیب ہے۔

سائنسی تحقیق کے ابھرتی ہوئے گوشوں میں آپ کی کامیابی کے لئے آپ کی محنت کے تئیں میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔مجھے پوری امید ہے کہ آپ کی انتھک کوششوں سے ملک کا مستقبل مزید بہتر اور تابناک ہوگا۔

میری دعا ہے کہ نئے سال میں  آپ کی آرزوؤں اور آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کی تکمیل ہو۔

جے ہند!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 م ن۔م م  ۔ ج۔ن ا۔

U- 11