Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کگالی کنوینشن مرکز، روانڈا میں منعقدہ بھارت ۔ روانڈا کاروباری فورم سے وزیر اعظم کا خطاب


ڈھانچہ جاتی سہولتیں ہوں، معیاری زندگی ہو، حکمرانی ہو، معاشی فعالیت ہو، خود کفیل کنبہ بھی ہو، ان سارے پہلوں کو ایک ساتھ سمیٹ کر ترقی کیسے کی جا سکتی ہے اس کا بہت خوبصورت ماڈل میں نے دیکھا۔ میرا دل بھی اس میں اتنا لگ گیا کہ ہمیں یہاں پہنچنے میں دیر ہو گئی۔

میں ہندوستان کا پہلا وزیر اعظم ہوں جسے یہاں آنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہندوستان سے ایک بڑا تجارتی وفد میرے ساتھ آیا ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن ہمارا اصول تو سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے۔ اس لئے ہم تو ترقی کریں، لیکن ہمارے ساتھ جڑ کر چلنے والے بھی سب کو ترقی کرنے میں مدد کریں۔ ہم ساتھ مل کر چلیں گے۔ ہمارا یہ بنیادی خواب ہے۔

میں خاص طور سے یہاں انڈین بزنس فورم کے جو لوگ آئے ہیں ان سے کہنا چاہوں گا آپ یہ مت سوچیں کہ آپ صرف روانڈا آئے ہیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ روانڈا آنے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ پر پورے افریقہ کے دروازے کھل چکے ہیں کیونکہ اس کی چابی یہاں پر ہے۔ پورے افریقہ میں روانڈا کے ماڈل پر گفتگو ہوتی ہے، ان کی ترقی پر گفتگو کی جاتی ہے۔ ان کی حکمرانی پر گفتگو کی جاتی ہے۔ ایک طرح سے افریقہ میں نیا مزاج بنا ہے اور صدرِ محترم اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ آپ کے یہاں آنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک ملک کی سرحد سے بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ مان کر چلیں تو آپ کو مزید امکانات بھی نظر آئیں گے، مزید چیلنج بھی درپیش ہوں گے اور مزید مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔

میں کل سے دیکھ رہا ہوں کہ صدر محترم انتہائی جذباتی ہو رہے ہیں۔ اچھی حکمرانی، ترقی اور پیش رفت و خوشحالی، سماج میں امن و استحکام، یہی سارے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ہندوستان کے لوگوں کے لئے ساری چیزیں مطابقت رکھتی ہیں۔ یہ ہماری عادت و فطرت کے لئے بہت معقول ہے۔

اب یہ ملک ایسا ہے کہ یہاں پہلے دنیا کا دھیان افریقہ کی طرف نہیں تھا۔ اس وقت یہاں آنے کے لئے کسی کا جی بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت ہندوستان اس دھرتی پر آنا پسند کیا۔ اب گجرات کا ہی جودھپور کا کنبہ ہے، میرے خیال سے وہ انیسویں صدی کے اواخر میں یہاں آئے تھے۔ اس وقت سے بھارت کے لوگ یہاں آتے رہے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔ یہاں کے سفر ترقی کے شراکت دار بن گئے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ساری دنیا کی توجہ مرکوز ہے۔ پوری دنیا یہاں آنا چاہتی ہے۔ لیکن ہم اس وقت یہاں آئے تھے جب حقیقتاً ہمارا یہاں آنا یہاں کی ضرورت تھی۔ آج ہم اس لئے اس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں کہ ہم مل بیٹھ کر دنیا کے کام آئیں۔ دنیا میں ابھی بھی جو پسماندہ ہیں، جن کو مواقع نہیں حاصل ہوئے ہیں ان کے لئے کچھ کریں۔ اس ارادے سے ہم دنیا میں جا رہے ہیں۔ دنیا کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے رہے ہیں۔ دنیا کے ساتھ مل کر ہم اس خطہ ارض کی فلاح کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔

صدر محترم گجرات آئے تھے۔ انہوں نے گجرات میں کافی چیزیں دیکھیں، سمجھیں۔ ہندوستان میں انہوں نے ترقی پذیر چیزیں انتہائی ذوق و شوق سے دیکھیں۔ وہ چیزوں کو راست طور سے دیکھتے ہیں اور لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔

جس ملک کی سربراہ کی ترقی کے تئیں اتنی عہد بستگی ہو، نئی نئی چیزوں کو سمجھنا انہیں قبول کرنا اور جنہیں ثابت کرنا ان کی فطرت ہو، میں سمجھتا ہوں ایسے ملک میں کام کرنے کے لئے کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ لاتعداد مواقع ہوتے ہیں۔ آپ ایک کھڑکی کھولیں گے تو دوسری نظر آئے گی۔ دوسری کھولیں گے تو دوسرا محل نظر آئے گا۔ آپ آگے جائیں گے، بڑھتے چلے جائیں گے اور کامیابی حاصل کر لیں گے۔ ایسے امکانات میں یہاں صریحی طور سے دیکھ رہا ہوں۔ اس لئے ہندوستان میں اتنے ہی امکانات موجود ہیں۔ روانڈا کے ایسے کاروباری لوگ اگر ہندوستان میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کو ہر طرح کی سہولت دینے کے لئے تیار ہیں۔ میں ان کو دعوت دیتا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں ہندوستان کے لوگوں سے بھی گذارش کروں گا کہ روانڈا جدیدیت کی جس سمت میں جا رہا ہے، خواہ ڈھانچہ جاتی سہولیات ہوں، یا دیہی ترقی، معاشی سرگرمی ہو یا چھوٹی صنعتوں کا نیٹ ورک قائم کرنا چاہتے ہوں۔ کاٹیج انڈسٹری کا نیٹ ورک کھڑا کرنا چاہتے ہوں۔ یہاں جو چیزیں تیار ہوں عالمی بازار میں ان کی مانگ ہو، یہ سارے موضوعات ایسے ہیں جن میں ہندوستان کے کاروبار، تجارت اور صنعتی دنیا کے لوگ مل کر بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

بھارت میں میک ان انڈیا تحریک چلائی گئی ہے، اس میک ان انڈیا تحریک کو ہم روانڈا کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ جڑ سکتے ہیں۔ عالمی شمسی اتحاد کے وسیلے سے ہم تبدیلی ماحولیات کے مسائل کا تدارک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن زندگی آسان ہو اس کے لئے شمسی توانائی کیسے کام آئے۔ اس موضوع پر ایک بہت تحریک چلائی جا رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ روانڈا کے لوگ آگے آئیں۔ آج جم میں صدر محترم کے ساتھ سفر کر رہا تھا تو میں نے ایل ای ڈی بلب کا پروگرام انہیں بتایا۔

ہندوستان میں ایل ای ڈی بلب نے درمیانہ درجے کے لوگوں اور کنبوں کو معاشی طور پر زبردست فائدہ پہنچایا ہے۔ بجلی کا بل جو پہلے آتا تھا، اب اس سے ایک تہائی آنے لگا ہے۔ اگر روانڈا میں بھی ایل ای ڈی بلب کی یہ مہم چلائی جائے تو یہاں کے لوگوں کی توانائی میں بچت ہوگی، یہاں غریب اور درمیانہ درجے کے لوگوں کو فائدہ ہوگا اور توانائی کی مانگ کم ہونے کی وجہ سے توانائی کے لئے پلانٹ تعمیر کرنے میں جو سرمایہ صرف ہوتا ہے اس میں بھی کمی کی جا سکتی ہے۔ توانائی میں جو بچت ہوگی اس کا استعمال صنعتوں میں بھی کیا جا سکتاہے جو کہ آج گھریلو کام کے لئے چلایا جاتا ہے۔ یعنی ایک چھوٹی سی چیز بھی اتنی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اس سمت میں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ڈیری کی صنعت کے بہت امکانات موجود ہیں۔ دودھ کے انقلاب کا امکان ہے۔ ہندوستان کو اس میں مہارت حاصل ہے۔ ہم اس کے ساتھ جڑ کر ان کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے گاؤں سے لے کر قومی سطح تک ہندوستان کے پاس جو بھی وسائل ہیں، ہندوستان میں جو بھی صنعتی طاقت ہے، ہندوستان کے کاروباری سماج میں جتنی سکت ہےاس کا استعمال روانڈا کی ترقی میں ہم بھرپور طریقے سے کر سکتے ہیں۔ روانڈا ہمارا ایک دوست ملک ہے۔ اگر آپ باریکی سے دیکھیں تو یہاں کی ہر چیز وہ ہندوستان کے لوگوں کی طرز زندگی سے ملتی جلتی ہے۔ ہر چیز میں آپ کو اپنا پن سا نظر آئے گا۔ جہاں اپنا پن ہو، جمہوری قدریں ہوں، شفاف حکمرانی ہو اور عہد بستہ قیادت ہو، اس ملک میں کام کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ اسے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

میں کل ایئر پورٹ سے اترا ہوں تب سے اب تک انہوں نے پورا وقت ہمارے لیے دیا ہے۔ ایسی باتیں شاز شاز ہی ہوتی ہیں۔ ان کی پوری سرکار میرے ساتھ ہے، دنیا کے دیگر ملکوں میں تو آنا جانا ہوتا رہتا ہے، لیکن اپنے وقت کے ایک ایک منٹ کا کیسے بہتر استعمال کیا جائے، یہ بات صدر محترم سے سیکھنی چاہئے۔ بڑا لطف آیا۔ میں ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔