Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

24اپریل ،2018کو مانڈلا، مدھیہ پردیش میں یوم قومی پنچایتی راج کے سلسلے میں راشٹریہ گرام سوراج ابھیان کے آغاز کے موقع پروزیراعظم کی تقریرکا متن

24اپریل ،2018کو مانڈلا، مدھیہ پردیش میں یوم قومی پنچایتی راج کے سلسلے میں راشٹریہ گرام سوراج ابھیان کے آغاز کے موقع پروزیراعظم کی تقریرکا متن

24اپریل ،2018کو مانڈلا، مدھیہ پردیش میں یوم قومی پنچایتی راج کے سلسلے میں راشٹریہ گرام سوراج ابھیان کے آغاز کے موقع پروزیراعظم کی تقریرکا متن

24اپریل ،2018کو مانڈلا، مدھیہ پردیش میں یوم قومی پنچایتی راج کے سلسلے میں راشٹریہ گرام سوراج ابھیان کے آغاز کے موقع پروزیراعظم کی تقریرکا متن


نئی دہلی ،25؍اپریل : یوم قومی پنچایتی راج کے سلسلے میں راشٹریہ گرام سوراج ابھیان کے موقع پرمانڈلا، مدھیہ پردیش میں 24اپریل ، 2018کووزیراعظم نے جو تقریرکی ہے ، اس تقریرکے بعض اہم اقتباسات درج ذیل ہیں :

اسٹیج پرتشریف فرماں مدھیہ پردیش کی گورنر،آنندی بین پٹیل ، ریاست کے وزیراعلیٰ،جناب شیوراج سنگھ ، مرکز میں کابینہ کے میرے ساتھی ،جناب نریندرسنگھ جی تومر، جناب پروشوتم روپالا، ، ریاستی سرکارکے وزیرگوپال جی ، اوم پرکاش جی ، سنجے جی ، سنسد میں میرے ساتھی، جناب فگن سنگھ کلستے جی ، محترمہ سمپتیاوی کے جی او ر اب بھارتیہ جنتاپارٹی کے جو صدربنے ہیں اورہمارے جبل پورکے ایم پی ہیں ، جناب راکیش سنگھ جی ، منڈلاضلع پنچایت کی صدرمحترمہ سرسوتی مراوی جی اور آج بڑے فخرکے ساتھ ایک اورتعارف بھی کرواناچاہتاہوں ،ہمارے درمیان تشریف فرماں تریپورہ کے نائب وزیراعلیٰ ۔گذشتہ دنوں تریپورہ کے انتخاب نے ایک تاریخی کام انجام دیا۔ وہاں کی عوام نے ایک تاریخی فیصلہ کیا اور زبردست اکثریت سے بھارتیہ جنتاپارٹی کی سرکاربنائی ۔

تریپورہ میں زیادہ ترجن جاتیہ سمودائے رہتاہے ۔ آپ کے یہاں جیسے گونڈروایت کی تاریخ ہے ویسے ہی تریپورہ میں آدی جاتی کے لوگوں کا ، جن جاتیہ سمودایوں کا ، وہاں کے راج شاسن کی ایک بہت بڑی لمبی تاریخ ہے ۔ اورمجھے خوشی ہے کہ آج اس تریپورہ کے نومنتخب نائب وزیراعلیٰ، جناب جشنو دیوورما جی میرے درمیان میں ہیں اوروہ تریپورہ کے اس جن جاتیہ سمودائے سے آتے ہیں اوراس راج پریوار سے آتے ہیں ، جنھوں نے انگریز سلطنت کے سامنے لوہا لیاتھا ، آج میں یہاں مدھیہ پردیش کی سرزمین پران کا استقبال کرتے ہوئے فخرمحسوس کررہاہوں ۔

بھائیو، بہنو،ہم سب آج ماں نرمداکی گود میں اکھٹے ہوئے ہیں ۔ میں سب سے پہلے قریب قریب 1300کلومیٹرلمبے پٹ والی ماں نرمدا ، یہاں سے شروع ہوکرگجرات میں سمندری تٹ تک جانے والی ماں نرمدا ، ہمارے کروڑوں لوگوں کی زندگی کوسنبھالنے ۔سنوارنے والی ماں نرمدا ، ہماری پشوپالن ہو ، ہماری کرشی ہو ، ہمارا گرامین جیون ہو ، صدیوں سے ماں نرمدا نے ہمیں نئی زندگی دینے کاکام کیاہے ۔ میں اس ماں نرمدا کوپرنام کرتاہوں ۔

آج میری خوش قسمتی ہے ، مجھے اس علاقے میں پہلے بھی آنے کی خوش نصیبی ملتی رہی ہے ۔ رانی درگاوتی ، پراکرم کی گاتھائیں ، تیاگ اور بلیدان کی گاتھائیں ہم سب کو پریرنا دیتی رہی ہیں ۔ اوریہ ہمارے ملک کی خصوصیت رہی ہے چاہے رانی درگاوتی ہو، چاہے رانی اونتی بائی ہو، سماج کے لئے جدوجہدکرتے رہنا، بیرونی سلطنت کے سامنے کبھی نہیں جھکنا، جینا توشان سے جینا ، مرنا تو سنکلپ کو لے کرکے مرنا، اس روایت کے ساتھ آج ہم اس سرزمین پراپنی آدی جاتی کے قابل فخرپروگرام کا آغاز کررہے ہیں ۔

لیکن ساتھ ساتھ آج یوم پنچایت بھی ہے ۔ لائق احترام باپوکے خوابوں کو شرمندہ ٔ تعبیرکرنے کا یہ ایک بہت اہم موقع ہے کیونکہ مہاتماگاندھی کی پہچان بھارت کے دیہاتوں سے ہے ، اس عہد کو بارباردوہرایاتھا ۔ مہاتماگاندھی نے گرام سوراج کی کلپنادی تھی ۔ مہاتماگاندھی نے گرام اودیے سے راشٹراودیے ، اس راستے پرچلنے کے لئے ہمیں ترغیب دی تھی ۔ اورآج یوم پنچایت راج پرمیں ملک کی قریب دولاکھ چالیس ہزارپنچایتوں کو ، ان پنچایتوں میں رہنے والے کوٹی کوٹی میرے بھارت واسیوں کو ، ان پنچایتوں کے عوامی نمائندوں کے طورپربیٹھے ہوئے 30لاکھ سے زیادہ عوامی نمائندوں کو اور اس میں بھی ایک تہائی سے زیادہ ہماری ماں بہنیں ، جو آج دیہی زندگی کی قیادت کررہی ہیں ، ایسے سب کو آج یوم پنچایتی راج پرپرنام کرتاہوں ، بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتاہوں ۔

اورمیں ان کو یقین دلاناچاہتاہوں آپ کواپنے گاوں کی ترقی کے لئے ، آپ کو اپنے گاوں کے لوگوں کو مستحکم بنانے کے لئے ، آپ کواپنے گاوں کے مسائل سے نجات دلانے کے لئے آپ جوبھی عہد کریں گے ان وعدوں کو پوراکرنے کے لئے ہم بھی ، بھارت سرکاربھی کندھے سے کندھا ملاکرآپ کے ساتھ چلے گی ۔آپ کے خوابوں کے ساتھ ہمارے خواب بھی جڑیں گے ، اورہم سب کے خوابوں کومل کرکے سواسوکروڑدیش واسیوں کے خوابوں کو ہم پورا کرکے رہیں گے۔ اسی جذبے کے ساتھ یوم پنچایت راج پرگاوں کے لئے کچھ کرنے کا عہدکریں ۔

پرانے زمانے میں کبھی کبھی ہم جب یہاں منڈلامیں آتے ہیں تواسی قلعے کی پہچان ہوتی ہے ، اس شاہی کنبے کے انتظام کی پہچان ہوتی ہے اورہم سب بڑاسینہ تان کرکہتے ہیں کہ صدیوں پہلے گونڈ بادشاہوں نے کتبا بڑاکام کیاتھا، کیسا زبردست انتظام کیاتھا۔ اس وقت شاہی انتظامات تھے ، شاہی روایات تھیں اور شاہی روایات سے جڑے ہوئے لوگ اپنے علاقے کے عوام کی بھلائی کے لئے کچھ ایسا کام کرنے کی کوشش کرتے تھے، جس کو آج صدیوں کے بعد بھی ہم تاریخ کے ذرائع سے تصورکرتے ہیں ، فخرکرتے ہیں اور ہم آنے والی پیڑھیوں کو بتاتے ہیں ۔ اس زمانے میں جوانتظام تھا ، اسی انتظام کے تحت ایس ہوتاتھا۔

اب جمہوریت ہے ، ایک معینہ مدت کے لئے دیہات کے لوگوں نے ہمیں ذمہ داری سونپی ہے ، گاوں کے لوگوں نے ہم پربھروسہ کیاہے ۔ایسا کون پنچایت کا پردھان ہوگا ، ایسا کون پنچایت کا نمائندہ ہوگا جس کے دل میں یہ خواہش نہ ہو کہ یہ پانچ سال جواسے ملے ہیں ، ان پانچ سالوں کے دوران گاوں کے لئے یہ 5اچھے کام ، 10اچھے کام ، 15اچھے کام اس کی مدت کے دوران ہی مکمل کیے جائیں ۔ یہ عہد اورتب جاکرکے 20سال ، 25سال کے بعد ، جب آپ بوڑھاپے سے گزرتے ہوں گے ، گھرمیں پوتے پوتیوں کولے کرکے کبھی راستے میں نکلیں گے ، توآپ بھی اپنے پوتے پوتیوں کوبتائیں گے کہ 25سال پہلے میں پنچایت کا پردھان تھا ، 25سال پہلے میں پنچایت میں چن کرکے آیاتھااوردیکھواپنے وقت میں ، میں نے یہ تالاب کاکام کیاتھا، میرے زمانے میں یہ اسکول قائم ہواتھا ، یہ پیڑمیں نے لگوائے تھے ، اپنے زمانے میں میں نے یہ کام کیاتھا ، اپنے وقت میں میں نے کنواں کھدوایاتھا ، گاوں کوپانی ملاتھا۔ آپ بھی ضرورچاہیں گے کہ کچھ ایسا کام کرکے جائیں کہ جب اپنے پوتے پوتیوں کوآپ کہیں کہ جنتا نے آپ کو منتخب کرکے بٹھایاتھا اورآپنے 25سال ، 30سال پہلے یہ کام کیاتھا اور جس کا ہمیں سنتوش ہے ۔ کون پنچایت کانمائندہ ہوگا جس کے دل میں یہ تمنانہ ہوگی ؟

میں آپ کے دل میں وہ خواہش پیداکرناچاہتاہوں ۔ میں آپ کوعزم مصمم والا انسان بناناچاہتاہوں ۔ اپنے گاوں کے لئے کچھ کرگزرنے کاارادہ اور اس کے لئے جو پانچ سال ملتے ہیں ، وہ پانچ سال پل پل جنتاجناردن کے لئے کھپادینے کااگرعہد لے کرچلیں تودنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے ، دنیا کی کوئی چنوتی نہیں ہے ، کوئی ایسی مصیبت نہیں ہے ، جس پرہم غالب آکرہم اپنے گاوں کی زندگی میں تبدیلی نہ لاسکیں ۔

کبھی کبھی گاوں کی ترقی کی بات آتی ہے تو زیادہ ترلوگ بجٹ کی باتیں کرتے ہیں ۔ کبھی زمانہ تھا جب بجٹ کی وجہ سے شاید مصبتیں رہی ہوں ، لیکن آج بجٹ کی فکرکم ہے ، آج فکرہے کہ بجٹ کے فنڈ کے پیسے کاصحیح استعمال ہو؟صحیح وقت پرکیسے ہو؟صحیح کام کے لئے کیسے ہو؟صحیح لوگوں کے لئے کیسے ہو؟اورجوہواس میں ایمانداری بھی ہو، شفافیت بھی ہواور گاوں میں ہرکسی کو پتاہوناچاہیے کہ یہ کام ہوا، اتنے پیسوں سے ہو ا اوریہ گاوں کو میں حساب دے رہاہوں ۔ یہ عادت ، مسئلہ پیسے کا نہیں ہے ، لیکن مسئلہ اولین ترجیح کاہوتاہے ۔

آپ مجھے بتائیے ، گاوں میں اسکول ہیں ، اسکول کی اچھی عمارت ہے ، گاوں میں ماسٹرصاحب کا تقررکیاگیاہے ، ماسٹرصاحب کو تنخواہ مستقل مل رہی ہے ، اسکول اپنے وقت پرکھل رہاہے ، لیکن اگراس کے باوجود بھی میرے گاوں کے 25-5بچے اسکول نہیں جاتے ہیں ، کھیت میں جاکرچھپ جاتے ہیں ، پیڑپرجاکربیٹھ جاتے ہیں ، اور 25-5بچے ان پڑھ رہ جاتے ہیں ، مجھے بتائیے یہ 25-5بچے انپڑھ رہ گئے ، کیایہ بجٹ کامسئلہ تھا؟جی نہیں ، ماسٹرکا مسئلہ تھا؟ جی نہیں ۔ہم گاوں کے لوگوں نے ہمارے گاوں واسیوں کو یہ جو بات سمجھانی چاہیئے کہ بھئی اسکول ہے ، ماسٹرصاحب ہیں ، سرکارفیس دیتی ہے ، سرکاریونیفارم دیتی ہے ، سرکار دوپہرکاکھانا دیتی ہے۔ آؤ ،ہمارے گاوں میں ایک بھی بچہ اسکول سے چھوٹ نہ جائے ۔ہمارے گاوں کا ایک بھی بچہ انپڑھ نہ رہ جائے ، کیا ہم یہ عہد نہیں کرسکتے ؟

ہمارے والدین ناخواندہ رہے ہوں گے ، ان کو شاید وہ خوش قسمتی نہیں ملی ہوگی ۔ اس وقت کی سرکاروں کے رہتے ہوئے وہ تعلیم حاصل نہیں کرسکے ہوں گے لیکن ہم اگرپنچایت میں منتخب ہوکرآئے ہیں ، ریاست میں بھی سرکار، مرکز میں بھی سرکار،بچوں کی تعلیم کے لئے مواقع ہیں ، بیٹیوں کی تعلیم کے لئے خصوصی مواقع ہیں ، توکیاہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے پانچ میں ایسا کام کریں کہ اسکول جانے کی عمرمیں ایک بھی بچہ انپڑھ نہ رہے ۔ آپ دیکھیئے وہ بچہ جب بڑاہوگا، اچھی پڑھائی کرکے آگے نکلے گا ، وہ بچہ بڑاہوکرکے کہے گا کہ میں توغریب ماں کا بیٹاتھا، کبھی ماں کے ساتھ کھیت میں کام کرنے جاتاتھا، لیکن میرے گاوں کے پردھان جی تھے ، وہ کھیت میں سے مجھے پکڑکر لے گئے تھے اورمجھے کہابیٹے ابھی تیری عمرکھیت میں کام کرنے کی نہیں ہے ، چل اسکول چل ، پڑھائی کر، اورپردھان جی مجھے لے گئے تھے ۔ اسی کی بدولت آج میں ڈاکٹربن گیا ، آج میں انجینئر بن گیا ، آج میں IASافسربن گیا ، میرے کنبے کے افراد کی زندگی بدل گئی ۔ ایک پردھان جی کی وجہ سے ایک زندگی بھی بدل جاتی ہے توپورا ہندوستان بدلنے کے لئے صحیح سمت میں چل پڑتاہے ۔

اوراس لئے میرے پیارے سبھی نمائندوں ، یہ یوم پنچایت راج ، یہ ہمارے عہد کا دن ہوناچاہیئے ۔ آپ مجھے بتائیے اورآج کے زمانے میں صحت شعبے میں اتنے اچھے سدھارہوئے ہیں ۔ اگرپولیوکی خوراک صحیح وقت پربچوں کو پلادی جائے توہمارے گاوں میں بچوں کوپولیوہونے کا امکان نہیں ہے ، بچ جاتاہے ۔ آپ مجھے بتائیے آج بھی آپ کے گاوں میں کوئی 40سال کا، کوئی 50سال کا شخص پولیوکی وجہ سے پریشانی کی زندگی جیتاہوگا، معذوری کی حالت میں آپ دیکھتے ہوں گے ، آپ کے من میں پیڑاہوتی ہوگی کہ نہیں ہوتی ہوگی ؟آپ کو لگتاہوگا کہ نہیں لگتاہوگا ، ارے بھگوان نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کردیا ، بیچارہ چل بھی نہیں پاتاہے ۔ آپ کے من میں ضروریہ جذبہ پیداہوتاہوگا۔

میرے بھائیو، بہنو، 50-40سال کی عمرمیں اس شخص کو خوش قسمتی نصیب نہیں ہوئی ۔ لیکن آج ، آج پولیو کا خوراک ، آپ کے گاوں کے کسی بھی بچے کو اپاہج نہیں ہونے دیتاہے ، معذورنہیں ہونے دیتاہے ، اس کو پولیوکی بیماری نہیں آسکتی ہے ۔ کیاپولیوکا خوراک ، اس کے لئے بجٹ لگے گا کیا؟ڈاکٹرآتے ہیں ، سرکارآتی ہے ، پیسے خرچ کئے جاتے ہیں ، پولیو کی خوراک کی تاریخ کی ٹی وی میں ، اخبارمیں لگاتاراعلان ہوتاہے ۔ کیامیں پنچایت میں سے منتخب شخص ، میں میرے گاوں میں پولیو کے خوراک کے اندرکبھی بھی کوتاہی نہیں برتوں ، کیا یہ فیصلہ میں کرسکتاہوں کہ نہیں کرسکتا؟کیا یہ کام میں کرسکتاہوں کہ نہیں کرسکتاہوں ؟

لیکن کبھی کبھی نمائندوں کومحسوس ہوتاہے کہ یہ کام توسرکاری بابووں کا ہے ، ہمارا کام نہیں ہے ۔ جی نہیں ، میرے پیارے بھائیو، بہنو، ہم عوام کے خادم ہیں ، ہم سرکارکے خادم نہیں ہیں ۔ ہم عوامی نمائندگی عوام کو راحت پہنچانے کے لئے آتے ہیں اوراس لئے ہماری طاقت ، ہمارا وقت اگراسی کام کے لئے لگتاہے تو ہم اپنے گاوں کی زندگی بدل سکتے ہیں ۔

آپ مجھے بتائیے ، میں چھوٹی چھوٹی باتیں اس لئے بتاتاہوں ، کہ کبھی کبھی بڑی باتیں کرنے کے لئے تو بہت صحیح جگہ ہوتی ہے اوربڑے بڑے لوگ بڑی بڑی باتیں بتاتے بھی رہتے ہیں ۔ لیکن ہمیں اپنے گاوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی تبدیلی آتی ہے ۔

ہمیں معلوم ہے ہمارے گاوں کا کسان ، کیااس کویہ پتہ ہے کہ اگرجس کھیت میں اس کاپیٹ بھرتا ہے ، جس کھیت سے وہ سماج کا پیٹ بھرتا ہے ،اگراس مٹی کی صحت اچھی نہیں ہوگی ، توکبھی نہ کبھی وہ دھرتی ماتاروٹھ جائےگی کہ نہیں جائیگی ؟دھرتی ماتا آج جتنی فصل دیتی ہے ، وہ دینا بند کریگی کہ نہیں کریگی ؟ہم بھی بھوکھے مریں گے اوربھی بھوکھے مریں گے ۔ہماری آنے والی پیڑھی بھی غریبی میں گذارا کرنے کے لئے مجبور ہوجائیگی ۔ کیاکبھی سوچا ہے ہم کبھی گاوں کے لوگوں کو بٹھائے ، بٹھا کرکے طے کریں کہ بھائی بتاو ، ہم جلدی جلدی فصل ، زیادہ زیادہ فصل دکھائی دے اس لئے اتنی بڑی مقدارمیں یوریاڈالتے ہیں ۔ بغل والے نے ایک تھیلا یوریا ڈال دیا تو میں بھی ایک تھیلا ڈال دیتاہوں ۔ بغل والے نو دوتھیلے ڈال دیئے تو میں بھی دوتھیلے ڈال دیتاہوں ۔ بغل والے نے لال ڈبے والی دوائی ڈال دی تو میں بھی لال ڈبے والی دواڈال دوں اوراس کی وجہ سے میں میری زمین کوبربادکرتاہوں ۔

کیاگاوں کے لوگ مل کرکے طے کریں کہ ہم اگرپہلے پورے گاوں میں 50تھیلایوریا آتاتھا ، اب ہم 40تھیلے سے چلائیں گے ، 40بیگ سے چلائیں گے ۔ یہ بتایئے ، گاوں کے 10بیگ کا پیسہ بچے گا کہ نہیں بچے گا ؟گاوں کے اندریوریا کی وجہ سے جوہماری مٹی کی صحت خراب ہورہی ہے ، ہماری زمین برباد ہورہی ہے ، اس کو بچانے کی تھوڑی سی بھی ہماری کوئی بنیاد بنے گی کہ نہیں بنے گی ؟پیسے بھی بچیں گے ، دھیرے دھیرے فصل بھی اچھی لگنے لگے گی ۔ ہماری ماں ، دھرتی ماتاہم پرخوش ہوجائےگی، وہ بھی ہمیں آشیرواد برسائیگی کہ دوائیاں پلا پلا کرمجھے ماررہاتھا۔ اب میرابیٹا سدھرگیاہے ، اب میں بھی ایک دھرتی ماں کی طرح اس کا پیٹ بھرنے کے لئے زیادہ کروں گی ۔ آپ مجھے بتایئے کرسکتے ہیں کہ نہیں کرسکتے ؟

میں آپ سے ، میرے آدی واسی بھائیوں سے پوچھنا چاہتاہوں ، میں جن جاتی کے بھائیوں سے پوچھناچاہتاہوں کیایہ کام ہم کرسکتے ہیں کہ نہیں کرسکتے ؟کرسکتے ہیں کہ نہیں کرسکتے ہیں ؟

بھائیو، بہنو ، سرکارنے ایک بہت اہم کام کے بارے میں سوچاہواہے ۔ ہمارے ملک کی بدنصیبی رہی ہے کہ آزادی کی لڑائی کچھ ہی لوگوں کے آس پاس، کچھ ہی کنبوں کے آس پاس سمٹ گئی ۔سچے شہدا کی کہانیوں کی تاریخ کے صفحوں پربھی درج ہونے سے پتہ نہیں کیا مصیبت آئی ، میں نہیں جانتا۔

اگر1857سے دیکھیں ، اس کے پہلے بھی سیکڑوں سالوں کی غلامی کے کال کھنڈ میں کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں گیاہے کہ ہندوستان کے کسی نہ کسی علاقے میں عزت نفس کے لئے ، تہذیب کے لئے ، آزادی کے لئے ہمارے بزرگوں نے قربانیوں نہ دی ہوں ۔ سیکڑوں سالوں تک لگاتاردی ہیں ۔ لیکن مانو1857کے بعد بھی دیکھیں ، بہت کم لوگوں کو پتہ ہے اورہمیں بھلادیاگیاہے کہ میرے جن جاتی کے بھائیو۔بہنونے بھارت کی آزادی کے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں ۔ بھارت کی شان کے لئے کتنی بڑی بڑی لڑائیاں لڑی ہیں ۔ درگاوتی ، آونتی بائی کوتویاد کرتے ہیں ، برسامنڈا کو یاد کرتے ہیں ، کتنے لوگوں نے دیئے ہیں ۔

میراخواب ہے کہ ہندوستان کے ہرصوبے میں ، جہاں جہاں جن جاتیہ سمودائے کے ہمارے بزرگوں نے آزادی کی لڑائی لڑی ہے ، ان کا ہرصوبے میں ایک جدید میوزیم قائم کیاجائے گا۔ اسکول کے بچوں کووہاں لے جایاجائے گااوران کو بتایا جائےگا کہ یہ ہمارے جنگلوں میں رہنے والے ہمارے جن جاتیہ بھائیوں نے ہمارے ملک کی تہذیب اورتاریخ کے لئے کتنی قربانیاں دی تھیں اورآنے والے دنوں میں مدھیہ پردیش میں بھی یہ کام ہونے والا ہے ۔

اوراس لئے میرے بھائیو، بہنو، آج ہم منڈلا کی سرزمین سے ماں درگاوتی کاتصورکرتے ہوئے آدی میلہ کررہے ہیں ، تب پنچایت راج کے بھی اس اہم تیوہارپرہمارا پنچایت راج میں مضبوطی آئے ، ہماری جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں ، ہمارے عوامی نمائندگان ماں بھارتی کے مفاد کے لئے ، اپنے گاوں کے مفاد کے لئے اپنے آپ کو کھپادیں ۔ اسی ایک بھاونا کے ساتھ میں آپ سب کودلی بہت بہت نیک خواہشات دیتاہوں ۔ جناب تومرجی ، روپالا جی اور ان کے محکمہ کے سبھی افسران کو بھی میں دل سے مبارکباد پیش کرتاہوں ۔ کیونکہ انھوں نے ملک بھر میں گرام سوراج ابھیان چلایاہے ۔

آنے والی 30اپریل کوآیوش مان بھارت کا لوک جاگرن ہونے والاہے ۔ 2مئی کو کسانوں کے لئے کاریہ شالائیں ہونے والی ہیں ۔ گاوں کے جیون سے جڑی ہوئی باتیں جڑنے والی ہیں ۔ آپ سب بڑے جوش اورامنگ کے ساتھ اس کے ساتھ جڑیں ۔

ان ہی توقعات کے ساتھ بہت بہت نیک خواہشات ، بہت بہت مبارکباد ۔

(م ن ۔ ع آ۔)

U-2255