Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

80ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کی اہم جھلکیاں


1۔ عام

  • آج ہم 80واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ آج ہر ہندوستانی کی دھڑکن میں ’وندے ماترم‘ کا نعرہ گونج رہا ہے۔
  • آج ’ہر گھر ترنگا ہے، ہر من ترنگا ہے‘۔ جوش و خروش کے ساتھ ملک آج نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
  • آج ملک آزادی کے لیے عظیم قربانی دینے والے ان عظیم سپوتوں اور بیٹیوں کو عقیدت سے یاد کررہا ہے، جنہوں نے اپنی تپسیا، قربانی اور وقف جذبات کے ذریعے اپنی پوری زندگی آزادی کے ایک ہی مقصد کے لیے وقف کردی۔
  • میں قابل احترام باپو سمیت تمام مجاہدین آزادی اور ان عظیم انقلابیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے قربانی کی اس عظیم روایت کو تحریک دی۔
  • آزادی کے بعد پہلی بار 15 اگست کو ’وندے ماترم‘ لال قلعہ کی فصیل سے گونج رہا ہے۔ اور آج جب ہم ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، اس سے زیادہ مبارک موقع اور کیا ہوسکتا ہے؟
  • گزشتہ دنوں ملک کے کئی حصوں میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ہم ان کے درد اور تکلیف کو بخوبی سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ میں متاثرہ خاندانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اور پورا ملک مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
  • کوئی قوم اس وقت عظیم بنتی ہے اور اپنی امنگوں کو حقیقت میں بدلتی ہے جب وہ اپنے خوابوں، اپنے عزم اور اپنی صلاحیتوں کی طاقت پر آگے بڑھتی ہے۔
  • ہماری امنگیں بھی بلند ہونی چاہئیں، کیونکہ جب ہمارے خواب بلند ہوتے ہیں اور عزم مضبوط ہوتا ہے تو ہماری صلاحیتوں کی بلندی بھی بڑھتی ہے، ہماری کوششوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے اور تب ہی ہم اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
  • آج ہندوستان نے بھی ایک بہت بڑا خواب دیکھا ہے۔ اس نے نئے عروج تک پہنچنے کے پختہ عزم کے ساتھ یہ خواب دیکھا ہے، اور وہ خواب یہ ہے کہ 2047 میں جب ملک آزادی کی 100ویں سالگرہ منائے تو ہم ایک ’وکست بھارت‘ تعمیر کریں گے۔
  • ہمیں 140 کروڑ شہریوں کی محنت اور عزم کے ذریعے یہ ہدف حاصل کرنا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ترقی یافتہ قوم بننے کا عزم کرتا ہے تو یہ دنیا کی نظر میں ہماری جرات اور حوصلے کا بھی مظہر بنتا ہے۔ دنیا ہمارے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بدلنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔
  • گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک کے کروڑوں شہریوں، خواہ وہ دلت ہوں، مظلوم و محروم ہوں، قبائلی ہوں، گاؤں یا شہروں میں رہنے والے ہوں، غریب ہوں یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، نوجوان ہوں یا بزرگ، خواتین ہوں یا مرد، شمال یا جنوب، مشرق یا مغرب سے تعلق رکھنے والے ہوں، سب نے عزم اور لگن کے ساتھ ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
  • میں ان کی کوششوں کا احترام اور اعتراف کرتا ہوں۔ اور انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اتنے مختصر عرصے میں 25 کروڑ شہری غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔
  • یہ انہی شہریوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ کبھی ہمیں ’فریجائل فائیو‘یعنی پانچ کمزور معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا، لیکن صرف 12 برسوں میں ہم دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گئے ہیں۔
  • گزشتہ 12 برسوں میں دفاعی پیداوار تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے کی پیداوار تقریباً پانچ گنا، جبکہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ تقریباً سات گنا بڑھ گئی ہے۔
  • جدید ریلوے کوچوں کی پیداوار 21 گنا بڑھ گئی ہے۔ موبائل فون کی پیداوار 35 گنا بڑھ گئی ہے۔ صرف یہی نہیں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں بھی ہم جدید دور کی ضروریات کے مطابق اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
  • انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ منظور کیے جانے والے پیٹنٹس کی تعداد بھی چار گنا ہوگئی ہے۔
  • ڈیجیٹل لین دین 100 گنا بڑھ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہم نے عام شہریوں کی روزمرہ سہولت اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کام کیا ہے۔
  • ہر سال نلکے کے پانی کے کنکشن پہلے کے مقابلے میں اوسطاً 15 گنا تیز رفتاری سے فراہم کیے گئے ہیں۔
  • ہر سال گیس کنکشن اوسطاً چھ گنا تیز رفتاری سے دیے گئے ہیں۔ ہر سال غریبوں کے لیے بیت الخلا کی تعمیر کی رفتار چار گنا تیز رہی ہے۔ اور ہر سال غریبوں کو مکانات فراہم کرنے کی رفتار تین گنا بڑھ گئی ہے۔
  • ملک نے حکمرانی کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ ہزاروں ضوابط اور لازمی تقاضے ختم کیے گئے ہیں۔ سینکڑوں فرسودہ قوانین منسوخ کیے گئے ہیں۔ ہم 21ویں صدی میں پچھلی صدی کے قوانین کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔
  • جدید بنیادی ڈھانچے کے لیے میٹرو نیٹ ورک کو وسعت دی گئی ہے اور عوامی ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ جس رفتار سے ہم نے کام کیا اور جس پیمانے پر کام کیا، یہ رفتار، وسعت اور کامیابیاں آزادی کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے پہلی بار دیکھی ہیں۔
  • اور جب ہمارے سامنے اتنی کامیابیاں موجود ہوں، اتنی تیز رفتار ترقی دکھائی دے رہی ہو اور ہمارے شہریوں کی صلاحیتیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مضبوط ہورہی ہوں، تو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کا ہمارا عزم نامکمل نہیں رہ سکتا۔

2۔ وزارت تجارت و صنعت

  • ہمیں بھی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ اسی لیے ہم ’آتم نربھر بھارت‘ کی تعمیر کے پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ آج ہر ہندوستانی کا دل و دماغ ’میک اِن انڈیا‘، ’سودیشی‘، ’ووکل فار لوکل‘ جیسی مہمات سے جڑ رہا ہے۔
  • 2014 سے اب تک ہم دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کرچکے ہیں۔ ذرا اس سے پیدا ہونے والے بڑے موقع کو دیکھیں۔ یہ تجارتی معاہدے ایک بہت اہم موقع ہیں، اس لیے میں خاص طور پر اپنے ایم ایس ایم ای شعبے سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔
  • ہمیں دنیا تک پہنچنا ہے۔ ہر ہندوستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانی چاہیے۔ چاہے ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات ہوں، مشینری ہو یا ادویات، ہمیں ہر موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ لیکن ہمیں عالمی معیار اور پیمانوں پر پورا اترنا ہی نہیں بلکہ ان سے آگے بھی بڑھنا ہوگا۔ ہمیں دنیا کو اس سے بہتر چیز پیش کرنی ہوگی جو ہم دنیا سے حاصل کرتے ہیں۔
  • ہم ’ریفارم ایکسپریس‘ پر سوار ہوچکے ہیں اور آنے والے دنوں میں اصلاحات کی اگلی سطح کی طرف بڑھیں گے۔ اس لیے حکومت، معاشرہ، صنعت، صنعت کار، کسان، سب کو اپنے روایتی نظام میں اصلاح کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنی سوچ بھی بدلنی ہوگی اور اپنے اہداف میں بھی اصلاح کرنی ہوگی۔
  • جب آنے والے دنوں میں میں ’سپت دھارا‘ یعنی طاقت کی سات دھاراؤں کی بات کروں گا تو ان میں پہلی دھارا مینوفیکچرنگ کی طاقت ہے۔
  • ہمیں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو بہت بلند سطح تک لے جانا ہوگا۔ پیداوار بڑھانے کے ساتھ ہمیں چھوٹے سے چھوٹے پرزے سے لے کر بڑی سے بڑی مصنوعات تک سب کچھ تیار کرنا ہوگا۔
  • پوری ویلیو چین ہماری ہونی چاہیے۔ ہمیں اسی وژن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں پرزے بھی بنانے ہیں اور مکمل مصنوعات بھی تیار کرنی ہیں۔ ڈیزائن سے لے کر مینوفیکچرنگ تک ہندوستان کو عالمی سپلائی چین کا قابل اعتماد مرکز بننا ہوگا۔
  • ہماری فیکٹریاں مسابقت کے قابل ہونی چاہئیں۔ ہماری مصنوعات صارف دوست ہونی چاہئیں۔ ہماری پیکیجنگ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے دلکش اور پرکشش ہونی چاہیے۔ ’زیرو ڈیفیکٹ‘ اور درستگی کے ساتھ مینوفیکچرنگ ہماری شناخت بننی چاہیے۔
  • میں ہر صنعت کار، ہر کاروباری شخص اور ہر ایم ایس ایم ای سے کہنا چاہتا ہوں کہ عالمی منڈی میں ہماری شناخت قابل اعتماد معیار اور عمدگی پر قائم ہونی چاہیے۔ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہمارا منتر ہونا چاہیے: معیار، معیار، معیار۔ یہی ہماری عالمی برانڈ ویلیو کی بنیاد بنے گا۔

3۔ زراعت و کسانوں کی بہبود کی وزارت

  • حکومت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ عالمی منڈی میں 3,000 روپے کی قیمت والی یوریا کی ایک بوری ہمارے کسانوں کو صرف 300 روپے میں فراہم کی جارہی ہے۔
  • یہی نہیں، عالمی منڈی میں ڈی اے پی کی قیمت اب 5,000 روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ہم اب بھی اپنے کسانوں کو 1,350 روپے میں ڈی اے پی فراہم کررہے ہیں تاکہ ملک کے کسانوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
  • ہماری ’سپت دھارا‘ کی دوسری دھارا زراعت اور غذائی پیداوار ہے۔ ہمیں فوڈ پروسیسنگ کی سمت میں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ عالمی منڈیاں اب ہمارے کسانوں کے لیے کھل رہی ہیں۔
  • ایف ٹی اے کی وجہ سے ہمیں بہت بڑی منڈی تک رسائی حاصل ہورہی ہے۔ ہمیں ان منڈیوں تک پہنچنا ہے، وہاں اپنی موجودگی درج کرانی ہے۔ ہمیں کھیت سے لے کر برآمدی منڈی تک کا پورا راستہ طے کرنا ہوگا۔
  • ہمارے کسانوں کو کیمیکل سے پاک زراعت پر زیادہ زور دینا چاہیے، کیونکہ دنیا بھر میں ایسی مصنوعات کی مانگ بڑھنے والی ہے۔ جب ہماری زرعی مصنوعات ہر لحاظ سے عالمی معیار پر پوری اتریں گی تو ہم عالمی منڈیوں تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکیں گے۔

4۔ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت

  • موبائل فون کی پیداوار 35 گنا بڑھ گئی ہے۔ یہی نہیں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں بھی ہم جدید دور کی ضروریات کے مطابق اپنی شناخت قائم کرچکے ہیں۔
  • انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ منظور کیے جانے والے پیٹنٹس کی تعداد بھی چار گنا ہوگئی ہے۔
  • ڈیجیٹل لین دین 100 گنا بڑھ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہم نے عام شہریوں کی سہولت اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی سنجیدگی سے کام کیا ہے۔
  • آج کی ڈیجیٹل دنیا اور ٹیکنالوجی کے دور میں ہم چِپ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ چاہے الیکٹرانک مصنوعات ہوں، طبی آلات ہوں یا ہماری ٹرانسپورٹیشن سسٹم، ہر جگہ چِپس ناگزیر ہیں۔
  • ہم ایسی صورت حال تک پہنچ چکے ہیں کہ چپس کے بغیر پوری دنیا کا نظام رک سکتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں خود انحصاری کی سمت بڑے اقدامات کیے ہیں۔ تین سیمی کنڈکٹر پلانٹس پہلے ہی شروع کیے جاچکے ہیں۔
  • میں ملک کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ آنے والے سات سے آٹھ برسوں میں مزید پانچ سے آٹھ سیمی کنڈکٹر پلانٹس بہت جلد قائم ہونے کی توقع ہے۔ ’آتم نربھر بھارت‘ کا یہ سفر ہمیں ’وکست بھارت‘ بننے کی شاہراہ فراہم کرتا ہے۔
  • میری ’سپت دھارا‘ کی تیسری دھارا ٹیکنالوجی اور اختراع ہے۔ آج اے آئی، کوانٹم ٹیکنالوجی، خلاء، روبوٹکس اور ڈیٹا سینٹرز کا دور ہے۔ ہمارے سامنے ایک مکمل نیا میدان کھل گیا ہے۔
  • ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیاں بھی ہر لمحے ہمیں چیلنج کررہی ہیں۔ اس لیے ہمیں ہندوستان کو صرف دنیا کی منڈی نہیں بنانا بلکہ ہندوستان کو اختراع کا مرکز بنانا ہے۔
  • ہم نے یو پی آئی اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور اپنی ساکھ قائم کی ہے۔ اب ہندوستان کو اپنی ڈیجیٹل عوامی ٹیکنالوجیاں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانی ہیں۔ ہندوستان کو اگلی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجیوں میں قیادت کرنی ہوگی۔
  • ہمارا مقصد ہونا چاہیے کہ ’میک اِن انڈیا‘ 6 جی دنیا کے ہر کونے تک پہنچے۔ ہمیں اس سمت میں کوششیں تیز کرنی ہوں گی اور ہمارا عزم و جدوجہد کمزور نہیں پڑنی چاہیے۔

5۔ کانکنی کی وزارت

  • ہم نے ملک کے لیے اہم معدنیات کی فراہمی یقینی بنانے کے مقصد سے نیشنل کریٹیکل منرلز مشن شروع کیا ہے۔ بجٹ میں ہم نے کریٹیکل منرلز کوریڈور کا بھی اعلان کیا ہے۔
  • ہم متعدد ممالک کے ساتھ معاہدے کررہے ہیں اور دنیا کے کئی ممالک اب اہم معدنیات کے معاملے میں ہندوستان پر اعتماد کرنے لگے ہیں۔

6۔ بجلی  و نئی و قابل تجدید توانائی کی وزارت

  • نئی دنیا کو توانائی کے بغیر چلانا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے۔ چاہے چِپس ہوں، اے آئی ہو یا ڈیٹا سینٹرز، ہمیں بہت بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوگی۔
  • توانائی کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی لیے ہم اس سمت میں پہلے ہی ایک کے بعد ایک مضبوط قدم اٹھاچکے ہیں۔
  • توانائی کی یقینی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ جوہری توانائی ہے۔ پارلیمنٹ میں ’شانتی ایکٹ‘ منظور کرکے ہم نے ایک نئے ہدف کی راہ ہموار کی ہے۔ 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
  • 2014 سے پہلے پائپ لائن گیس بمشکل 20 سے 22 لاکھ گھرانوں تک پہنچ رہی تھی۔ آج ہم تقریباً 1.75 کروڑ گھرانوں کو پائپڈ گیس فراہم کررہے ہیں۔
  • بارہ سال پہلے ملک کی شمسی توانائی کی صلاحیت صرف 2 گیگاواٹ تھی، صرف 2 گیگاواٹ۔ آج ہم 160 گیگاواٹ کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔
  • ہم نے پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا شروع کی، اور مجھے خوشی ہے کہ اتنے مختصر عرصے میں 50 لاکھ سے زیادہ گھرانوں کے شمسی توانائی اختیار کرنے کا ہدف عبور ہوچکا ہے۔ یہ پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں گھرانوں کے بجلی کے بل عملاً صفر ہوگئے ہیں۔
  • ہزاروں گھرانے اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اضافی بجلی فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کررہے ہیں۔ حکومت ہر خاندان کو اس اقدام کے لیے 80 ہزار روپے کی امداد فراہم کررہی ہے اور اسی تعاون سے ہم اس تبدیلی کو مکمل کرنے کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔
  • ہماری ’سپت دھارا‘ کی چھٹی دھارا گرین اکانومی اور بلیو اکانومی ہے، جو گرین روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
  • ہمیں گرین ہائیڈروجن، قابل تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے، گرین موبلٹی اور گرین مینوفیکچرنگ میں عالمی سطح کی قیادت حاصل کرنی ہوگی۔ ہمیں ان تمام شعبوں میں عالمی رہنما کی حیثیت سے خود کو قائم کرنا ہوگا۔

7۔ جوہری توانائی کا محکمہ

  • توانائی کی یقینی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ جوہری توانائی ہے۔ پارلیمنٹ میں ’شانتی ایکٹ‘ منظور کرکے ہم نے ایک نئے ہدف کی راہ ہموار کی ہے۔ 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
  • اسی دہائی کے دوران ہم پانچ نئے جوہری ری ایکٹروں کو شروع کرنے کے ہدف پر بھی کام کررہے ہیں۔ اس سال ہندوستان نے فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جوہری ایندھن کے شعبے میں خود انحصاری کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔

8۔ پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت

  • 2014 سے پہلے یعنی 12 سال قبل ملک کے صرف 70 شہروں میں پائپڈ گیس کی تقسیم دستیاب تھی۔ گزشتہ 12 برسوں میں ہم نے اس نیٹ ورک کو 70 شہروں سے بڑھا کر 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہی رفتار ہے، یہی وسعت ہے۔ ہر سال گیس کنکشن اوسطاً چھ گنا تیز رفتاری سے فراہم کیے گئے ہیں۔
  • 2014 سے پہلے پائپڈ گیس بمشکل 20 سے 22 لاکھ گھرانوں تک پہنچتی تھی۔ آج ہم 1.75 کروڑ گھرانوں کو پائپڈ گیس فراہم کررہے ہیں۔ بارہ سال پہلے ملک کی شمسی توانائی کی صلاحیت صرف 2 گیگاواٹ تھی، آج یہ 160 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

9۔ ریلوے کی وزارت

  • جدید ریلوے کوچوں کی پیداوار 21 گنا بڑھ گئی ہے۔ ہماری ریلوے نیٹ ورک کی بجلی کاری 1925 میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن اس کے بعد 90 برسوں کے دوران، 1925 سے 2015 تک، ریلوے نیٹ ورک کا صرف تقریباً 30 فیصد حصہ بجلی سے منسلک ہوسکا تھا۔
  • ہم نے باقی کام صرف ایک دہائی میں مکمل کرتے ہوئے تقریباً مکمل بجلی کاری حاصل کرلی۔ 90 برس میں 30 فیصد، 10 برس میں 70 فیصد۔ یہی ترقی ہے۔
  • اس کے نتیجے میں ہم نے ڈیزل پر انحصار کم کیا ہے، جسے ہمیں بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ہماری ٹرینیں تیزی سے بجلی پر چل رہی ہیں، جس سے ماحول کو بھی نمایاں فائدہ ہورہا ہے۔
  • ملک نے پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین بھی متعارف کرائی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ سب سے طویل اور طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے، اور ہندوستان نے عالمی سطح پر ہائیڈروجن ٹرینوں کے شعبے میں بھی اپنی قیادت قائم کی ہے۔

10۔ امور داخلہ کی وزارت

  • نکسل ازم اور ماؤ ازم نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل تباہ کیا ہے۔ چار طویل دہائیوں تک نکسل ازم نے ملک کے بڑے حصے اور ایک بڑی آبادی کو اپنے شکنجے میں رکھا اور انہیں بندوق کے سائے میں جینے پر مجبور کیا۔ اس نے آئین کو تار تار کردیا اور عام شہریوں کے تحفظ کی کوشش میں ہمارے 3,500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے عظیم قربانی دی۔
  • آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل ازم اور ماؤ ازم کی پرتشدد سرگرمیاں شاید اپنے آخری سانس تک پہنچ چکی ہیں۔ جہاں کبھی نکسل شدت پسند بندوقیں چلاتے تھے، جہاں زمین کبھی خون سے رنگی ہوتی تھی، آج انہی نکسل متاثرہ علاقوں میں ترقی، اعتماد اور جدوجہد کا ترنگا لہرا رہا ہے، کیونکہ یہ علاقے نکسل ازم سے پاک ہورہے ہیں۔
  • مسلح نکسل شدت پسندوں کو شکست دی جاچکی ہے، لیکن نکسل ذہنیت اب بھی موجود ہے۔ یہ قوتیں مواقع تلاش کررہی ہیں۔ وہ تشدد اور انتشار کے راستے ڈھونڈ رہی ہیں اور معاشرے کو غلط راستے پر لے جانے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہی ہیں۔
  • ہمیں اس نکسل ذہنیت کو شناخت کرنا ہوگا۔ ایسے عناصر کو الگ تھلگ کرنا ہوگا اور ملک کی نوجوان نسل کو ایک ترقی یافتہ قوم کی تعمیر کی مرکزی دھارے کی راہ سے جوڑنا ہوگا۔
  • محفوظ ہندوستان بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ چیلنج ہماری سرحدوں کے اندر سے آئے یا سرحد پار سے، ہندوستان ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔ آج جنگ کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اب یہ ضمانت نہیں کہ جنگ صرف میدانِ جنگ یا سرحد پر ہی ہوگی۔
  • آج میں لال قلعہ سے اعلان کررہا ہوں کہ آنے والے دنوں میں ہم ایک مضبوط سول ڈیفنس نیٹ ورک قائم کریں گے۔ ہم شہریوں اور سول ڈیفنس اہلکاروں کو جدید نظام اور ٹیکنالوجی سے لیس کریں گے اور انہیں جدید دور کی تیاری کے طریقوں سے واقف کرائیں گے۔

11۔ وزارت دفاع

  • ہماری ’سپت دھارا‘ کی پانچویں دھارا دفاعی طاقت ہے۔ ہر اعتبار سے دفاعی قوت کی اہمیت ناقابل تردید ہے۔ ہندوستان نے اب یہ سمجھ لیا ہے اور دنیا نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ دفاع کے شعبے میں خود انحصاری کا کوئی متبادل نہیں۔
  • ہمیں اگلی نسل کی دفاعی ٹیکنالوجیاں تیار کرنے اور عالمی دفاعی سپلائر بننے کی سمت بڑھنے کا ہدف مقرر کرنا ہوگا۔ ہمیں ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون نظام تیار کرنے ہوں گے اور ہائپرسونک دفاعی ٹیکنالوجیوں میں قیادت حاصل کرنی ہوگی۔
  • سائبر سکیورٹی آج ہر گھر کے لیے بھی ایک چیلنج بنتی جارہی ہے۔ یہ بھی دفاع کا ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ہم اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاکر ملک اور دنیا دونوں کے لیے ان کی صلاحیت کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔
  • ہم نے گزشتہ برسوں میں مشن ’سدرشن چکر‘ کا اعلان کیا تھا اور اس پر کام بہت تیزی سے جاری ہے۔ آج ہماری دفاعی برآمدات تقریباً 50 گنا بڑھ گئی ہیں اور ہمارے ہتھیار اور دفاعی سازوسامان دنیا کے تقریباً 100 ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔

12۔ سڑک و نقل و حمل و شاہراہ کی وزارت

  • ’سپت دھارا‘ کی چوتھی طاقت ’گتی شکتی‘ ہے۔ گتی شکتی کے تحت ہمیں ملک کے اندر ہموار اور تیز رفتار رابطے پر توجہ دینی ہوگی۔
  • ہمیں اپنے شہروں کو تیز رفتار ریلوے سے جوڑنا ہوگا۔ ہمیں جدید شاہراہوں، اندرون ملک آبی راستوں، ہوائی اڈوں اور ملٹی موڈل لاجسٹکس نظام کی ضرورت ہے۔

13۔   بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہ کی وزارت

  • ہمیں اپنی بندرگاہوں کو صرف سامان لادنے اور اتارنے کی جگہ یا ایسی جگہ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے جہاں دنیا بھر سے جہاز آکر لنگر انداز ہوں۔ ہمیں بندرگاہوں کو بندرگاہ پر مبنی ترقی اور نمو کی سمت آگے لے جانا ہوگا۔
  • بلیو اکانومی کے شعبے میں ہندوستان کے لیے بھی بہت بڑے مواقع ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی بہت طویل ہے اور بلیو اکانومی میں وسیع امکانات موجود ہیں۔
  • ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری ٹیکنالوجی اور کئی دیگر شعبے ہیں جن میں ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

14۔ ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کی وزارت

  • کیرالہ سے گجرات اور تمل ناڈو سے بنگال تک ہماری ساحلی پٹی کے ساتھ، اس ایف ٹی اے کی بدولت ہمارے ماہی گیروں کے جھینگے کی برآمدات کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری سمندری غذاؤں کے دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچنے کے امکانات بھی بڑھے ہیں۔
  • ہندوستان کے لیے سمندری معیشت میں بھی بہت بڑے مواقع موجود ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی بہت طویل ہے اور سمندری معیشت میں وسیع امکانات ہیں۔ ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری ٹیکنالوجی اور دیگر کئی شعبے اس میں شامل ہیں۔

15۔ وزارت سیاحت

  • ہندوستان کے پاس جنگلی حیات کے وسیع وسائل موجود ہیں۔ ہمارے ملک میں 100 سے زیادہ قومی پارک ہیں۔ امکانات بہت وسیع ہیں، لیکن غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کے معاملے میں ہم اپنی صلاحیت کے مطابق کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا بھر سے سیاحوں کو ہندوستان کی جانب راغب کرنے کے لیے اپنی ’سافٹ پاور‘ استعمال کرنے کا موقع ہے۔ ہمیں دنیا کے سامنے اپنی صلاحیت دکھانی ہوگی۔
  • آج کھیل بھی ہندوستان کی جانب کشش کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ دنیا کے بڑے کھیلوں کے مقابلے ہندوستان میں کیوں نہیں ہونے چاہئیں؟ ’کنسرٹ اکانومی‘ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ ملک کے نوجوانوں کے لیے بھی بڑی کشش کا باعث ہے۔
  • دنیا کا ہر فنکار کبھی نہ کبھی ہندوستان میں پرفارم کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا موقع ہے اور ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ اور نظام تیار کرنا ہوگا۔

16۔ ثقافت  و ٹیکسٹائل کی وزارت

  • ہماری ساتویں دھارا ہندوستان کی ’سافٹ پاور‘ ہے۔ یہی ہندوستان کی نرم طاقت ہے۔ آج یوگا نے پوری دنیا کو ہندوستان سے جوڑ دیا ہے۔ یوگا دنیا کے لیے توانائی کا ذریعہ بنتا جارہا ہے۔
  • ہندوستان میں عقیدت کے مراکز، آیوروید اور جامع صحت کا نظام موجود ہے۔ ’ہیل اِن انڈیا‘ مہم کے ذریعے ہم ہندوستان کی صلاحیتوں کو دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔
  • چاہے دستکاری ہو، ثقافت ہو، ہماری فلمیں ہوں، تخلیقی دنیا، وی ایف ایکس، اینیمیشن، گیمنگ یا ڈیجیٹل مواد ہو، ہندوستان تخلیقی دنیا میں اپنی حیثیت دنیا کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔
  • آج ہندوستان نے ’وَیوز‘ سمٹ کو زبردست طاقت دی ہے۔ بتدریج دنیا ہندوستان کے ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ کی منتظر رہتی ہے، جو ہندوستان کی سافٹ پاور اور تخلیقی دنیا کو عالمی سامعین کے سامنے لے جائے گا۔

17۔ وزارت خزانہ / محکمہ مالیاتی خدمات

  • یہ ہمارے شہریوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ کبھی ’فریجائل فائیو‘یعنی پانچ کمزور معیشتوں میں شمار ہونے والا ملک آج ایک بڑی معیشت بن چکا ہے اور 12 برسوں میں بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گیا ہے۔
  • ملک صرف حکومت سے نہیں بنتا، ہر شہری ملک کا حصہ ہے۔ ہم یہ ہدف کیوں نہ رکھیں کہ اگلی دہائی میں ہندوستان کی 50 کمپنیاں ’فارچون 500‘ میں شامل ہوں؟ یہ ہمارا ہدف کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
  • ہم نے یو پی آئی اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور اپنی ساکھ قائم کی ہے۔ ڈیجیٹل لین دین 100 گنا بڑھ گیا ہے۔ اب ہندوستان کو اپنی ڈیجیٹل عوامی ٹیکنالوجیاں دنیا کے ہر کونے تک پہنچانی ہیں۔ ہندوستان کو اگلی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجیوں میں قیادت کرنی ہوگی۔
  • آج بینکنگ شعبہ تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ دنیا کے ٹاپ بینکوں میں کسی ہندوستانی بینک کا پرچم کیوں نہیں لہرانا چاہیے؟ ہندوستان کا ایک بینک دنیا کے ٹاپ پانچ بینکوں میں بھی شامل ہونا چاہیے۔
  • تقریباً 3.25 کروڑ خاندانوں نے سوامتوا اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس کے نتیجے میں تقریباً 140 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کے اثاثے غیر مقفل ہوئے ہیں۔ اس سے لوگوں کو بینکوں سے قرض حاصل کرنے اور اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

18۔ صحت و خاندانی بہبود کی وزارت

  • ہندوستان میں عقیدت کے مراکز، آیوروید اور جامع صحت کا نظام موجود ہے۔ ’ہیل اِن انڈیا‘ مہم کے ذریعے ہم ہندوستان کی صلاحیتوں کو دنیا تک لے جاسکتے ہیں۔
  • ہم نے دواسازی شعبے میں بہت کام کیا ہے۔ تاہم آج کی ضرورت یہ ہے کہ ہندوستان کی ایک یا دو دوا ساز کمپنیاں دنیا کی پانچ سب سے بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں شامل ہوں۔
  • گزشتہ پانچ سے سات دہائیوں میں صرف 25 کروڑ افراد کو سماجی تحفظ حاصل ہوا تھا، جبکہ صرف ایک دہائی میں ہم نے 100 کروڑ شہریوں کو سماجی تحفظ کے دائرے میں شامل کیا ہے۔
  • آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت اب 70 برس یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگوں کو بھی 5 لاکھ روپے تک کا مفت طبی علاج اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔

19۔ وزارت تعلیم

  • ہم نے خلائی شعبہ کھولا ہے۔ ہم نے قومی ڈرون پالیسی تیار کی ہے۔ ہم نے ’کھیلو انڈیا‘ پالیسی متعارف کرائی ہے۔ 35 برس تک کوئی نئی تعلیمی پالیسی نہیں آئی تھی، ہم نے نئی قومی تعلیمی پالیسی نافذ کی ہے اور اس سے متوسط طبقے کے خاندانوں کو فائدہ ہوا ہے۔
  • 2004 سے 2014 کے درمیان ہمارے ملک میں 350 سے بھی کم یونیورسٹیاں تھیں۔ آج صرف 10 سے 12 برسوں میں تقریباً 650 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ ہم 1,000 یونیورسٹیوں کی تعداد کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
  • 2014 سے پہلے میڈیکل سیٹیں تقریباً 400 تھیں، آج یہ تعداد تقریباً 850 ہوگئی ہے۔ یہی نہیں، غیر ملکی یونیورسٹیاں بھی اب ہندوستان آرہی ہیں۔ ایسے انتظامات کیے گئے ہیں کہ ہمارے نوجوان ہندوستان میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں بھی حاصل کرسکیں۔
  • ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں کہ ہمارے ملک کے نوجوان ذہن بچپن ہی سے ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کریں۔ اسی لیے 10,000 سے زیادہ اٹل ٹنکرنگ لیبز بچوں کے لیے دستیاب کرائی گئی ہیں، تاکہ وہ اختراع اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کرسکیں۔
  • ہم نے اپنے نوجوانوں کو مختلف امتحانات کے لیے مفت آن لائن کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے پاس ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ، بہترین صلاحیتیں اور باصلاحیت اساتذہ موجود ہیں۔ ان وسائل کو یکجا کرکے ہم ملک کے نوجوانوں کو مفت کوچنگ فراہم کرنے کے لیے ایک مکمل نیٹ ورک قائم کرنے جارہے ہیں۔
  • 20۔ نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت
  • ’وکست بھارت‘ کے سفر میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وکست بھارت کے سب سے بڑے مستفید بھی ہمارے ملک کے نوجوان ہی ہوں گے۔
  • اس لیے ہمیں وکست بھارت کے ہدف کو نوجوانوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ نوجوانوں کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
  • گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں اس سمت میں بہت کچھ ہوا ہے۔ ’اسٹارٹ اپ انڈیا‘ مہم کے نتیجے میں آج ملک میں 2.5 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس موجود ہیں۔
  • ہمارے ملک کے نوجوان نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کررہے ہیں بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔
  • حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپے کے ’انوویشن فنڈ‘ کا اعلان کیا ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے خواب ہمارے سامنے لائیں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وسائل کی کوئی کمی نہ ہو۔
  • ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کے تحت تحقیق کے نئے مواقع اور سستے ڈیٹا کی دستیابی نے ہمارے نوجوانوں کو بااختیار بنایا ہے۔
  • نوجوانوں کی اوسط عمر 28 سال ہے اور ان کے قائم کردہ ہندوستانی نجی اسٹارٹ اپس نے پہلے ہی آزمائشی مراحل میں اپنے سیٹلائٹ اور راکٹ خلا میں بھیج کر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
  • آج ملک میں 2.5 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس ہیں۔ حال ہی میں ہم نے اے آئی امپیکٹ سمٹ کا انعقاد کیا۔ مصنوعی ذہانت کی توسیع بہت تیزی سے ہورہی ہے۔
  • میں لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے ایک سال کے دوران ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی کی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی، تاکہ ہمارے نوجوان اے آئی کی دنیا میں بھی عالمی قیادت کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں۔
  • ملک کے نوجوانوں نے بایو اکانومی میں بھی اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ 2014 سے پہلے اس شعبے کا کاروباری حجم 60 ہزار کروڑ روپے تھا، آج ہماری بایو اکانومی 20 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔
  • ٹاپس اسکیم نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ کھیلو انڈیا گیمز، یونیورسٹی گیمز، ونٹر گیمز، بیچ گیمز، کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ، کھیلوں کی کوچنگ، اسپورٹس میڈیسن اور اسپورٹس نیوٹریشن، ان تمام شعبوں میں ہندوستان اب بہترین کارکردگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
  • کھیلوں کی دنیا میں ہندوستان کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے اور ہم 2036 کے اولمپکس کے لیے مضبوط دعویدار کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہندوستان 2030 میں دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی بھی کرے گا۔
  • ہم چاہتے ہیں کہ 2036 کے اولمپکس بھی ہندوستان میں منعقد ہوں۔ لیکن 2036 میں ایسے کھیل بھی ہوں گے جن میں ہندوستان آج حصہ نہیں لیتا، یا کوالیفائی نہیں کرتا، اور کچھ ایسے کھیل بھی ہیں جن میں ہندوستان اب تک موجود نہیں رہا۔
  • اب بھی تقریباً تین چوتھائی مواقع ہمارے منتظر ہیں۔ ہندوستان ان شعبوں پر توجہ دے گا اور اسی مقصد سے ہم ٹیلنٹ ہنٹ مہم شروع کرنا چاہتے ہیں۔
  • گاؤں، شہروں اور اسکولوں میں ٹیلنٹ ہنٹ مہم چلائی جائے گی، جس کے ذریعے 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ ان کی صلاحیت کا جائزہ لے کر انہیں خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ملک کی نمائندگی کرنے والے باصلاحیت کھلاڑی بن سکیں۔
  • ملک اور اس کے نوجوانوں کے لیے منشیات کی لت ایک بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے۔ ’نشہ سے پاک بھارت‘ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
  • 21۔ محکمہ خلاء
  • میری ’سپت دھارا‘ کی تیسری طاقت ٹیکنالوجی اور اختراع ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، خلاء، روبوٹکس اور ڈیٹا سینٹرز کا دور ہے، ہمارے سامنے ایک مکمل نئی سمت کھل گئی ہے۔
  • ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیاں مسلسل ہمیں چیلنج کررہی ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے ملک کو صرف دنیا کی منڈی نہیں بنانا بلکہ اختراع کا مرکز بنانا ہوگا۔
  • ہم نے خلائی شعبے کو کھولا ہے۔ ہم نے قومی ڈرون پالیسی اور ’کھیلو انڈیا‘ پالیسی تیار کی ہے۔ 35 برس تک کوئی نئی تعلیمی پالیسی نہیں آئی تھی، لیکن ہم نے نئی تعلیمی پالیسی متعارف کرائی اور اس سے متوسط طبقے کے خاندانوں کو فائدہ ہوا ہے۔
  • 22۔ خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت
  • آج قوم کی تعمیر میں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کا کردار ہم سب کے لیے تحریک کا بڑا ذریعہ ہے۔ چاہے لڑاکا طیاروں کی پرواز ہو یا شہری ہوابازی، ہماری بیٹیاں ہر شعبے میں آگے ہیں۔
  • ہم نے تین کروڑ بہنوں کو ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف مقرر کیا تھا اور ہم اس ہدف سے آگے نکل چکے ہیں۔ اب ہم چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ مزید تین کروڑ نئی ’لکھ پتی دیدیوں‘ کا قیام دیہی معیشت میں خواتین کی طاقت کے ذریعے ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
  • آج لال قلعہ کی فصیل پر ترنگے کی چھاؤں میں کھڑے ہوکر میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل اور درخواست کرتا ہوں کہ وہ خواتین کے احترام کے لیے آگے آئیں اور جلد از جلد قانون ساز اسمبلیوں اور لوک سبھا میں ہماری ماؤں اور بہنوں کو 33 فیصد نمائندگی یقینی بنائیں، تاکہ وہ ہندوستان کی پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
  • یہ وقت کی ضرورت ہے۔ میں ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرکے خواتین کے احترام کی اس مہم میں شامل ہوں۔ آپ بھی اس کا نام لیں، آپ بھی کریڈٹ حاصل کریں، لیکن میری ماؤں اور بہنوں کو ان کا حق دیں۔
  • 23۔ سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت
  • میں ان کوششوں کا احترام کرتا ہوں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں اتنے مختصر عرصے میں 25 کروڑ شہری غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔
  • گزشتہ پانچ سے سات دہائیوں میں جہاں صرف 25 کروڑ لوگوں کو غربت سے باہر نکالا گیا، وہیں صرف ایک دہائی میں ہم نے 100 کروڑ شہریوں کو سماجی تحفظ کی ڈھال فراہم کی ہے۔
  • ہم نے تین کروڑ بہنوں کو ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف مقرر کیا تھا اور ہم اس سے آگے نکل چکے ہیں۔ اب ہم چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
  • تین کروڑ نئی ’لکھ پتی دیدیوں‘ کا قیام خواتین کی طاقت کے ذریعے دیہی معیشت میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
  • ہر سال غریبوں کے لیے بیت الخلا بنانے کا کام چار گنا تیز رفتاری سے کیا گیا۔
  • ہر سال غریبوں کو مکانات فراہم کرنے کا کام تین گنا تیز رفتار سے کیا گیا۔
  • آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت اب 70 برس یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کو بھی 5 لاکھ روپے تک کا مفت طبی علاج فراہم کیا جارہا ہے۔
  • 24۔ قبائلی امور کی وزارت
  • گزشتہ 12 برسوں میں ملک بھر کے بے شمار شہریوں، خواہ وہ دلت ہوں، مظلوم و محروم ہوں، قبائلی ہوں، گاؤں یا شہروں میں رہنے والے ہوں، غریب ہوں یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، نوجوان ہوں یا بزرگ، خواتین ہوں یا مرد، شمال، جنوب، مشرق یا مغرب سے تعلق رکھتے ہوں، سب نے مشترکہ عزم اور لگن کے ساتھ ملک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
  • 25۔ دیہی ترقی کی وزارت
  • ہم نے ہر سال نل کے پانی کے کنکشن پہلے کے مقابلے میں اوسطاً 15 گنا تیز رفتار سے فراہم کیے ہیں۔ گیس کنکشن بھی ہر سال اوسطاً چھ گنا تیز رفتاری سے فراہم کیے گئے۔
  • ہر سال غریبوں کے لیے بیت الخلا بنانے کا کام چار گنا تیز رفتار سے کیا گیا۔ غریبوں کو مکانات فراہم کرنے کا کام ہر سال تین گنا تیز رفتار سے کیا گیا۔
  • ہم نے تین کروڑ بہنوں کو ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف مقرر کیا تھا اور ہم اس سے آگے نکل چکے ہیں۔ اب ہم چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
  • تین کروڑ نئی ’لکھ پتی دیدیوں‘ کی تقرری خواتین کی طاقت کے ذریعے دیہی معیشت میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
  • 26۔ جل شکتی کی وزارت
  • ہم نے ہر سال اوسطاً 15 گنا تیز رفتاری سے نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے ہیں۔
  • ہر سال غریبوں کے لیے بیت الخلا بنانے کا کام چار گنا تیز رفتاری سے کیا گیا۔
  • 27۔ شہری ہوا بازی کی وزارت
  • ہوا بازی کا شعبہ بھی ہمارے نوجوانوں کے لیے تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ نئے ہوائی اڈے، نئے روٹس اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
  • مرمت اور اوورہالنگ سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے ملک بھر میں بڑی تعداد میں ہنر مند افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
  • ہم نے ’میک اِن انڈیا‘ طیارے تیار کرنے کی سمت میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
  • ’میک اِن انڈیا‘ سی 295 دفاعی ٹرانسپورٹ طیارہ کامیاب پرواز مکمل کرچکا ہے۔
  • 28۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا محکمہ
  • حکومت ہند نے ایک لاکھ کروڑ روپے کے انوویشن فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے خواب لے کر آئیں، ہم وسائل کی کوئی کمی نہیں ہونے دیں گے۔
  • ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں کہ ملک کے نوجوان ذہن بچپن ہی سے ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کریں۔ اسی لیے 10,000 سے زیادہ اٹل ٹنکرنگ لیبز بچوں کے لیے دستیاب کرائی گئی ہیں، تاکہ وہ اختراع اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کرسکیں۔
  • ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کے تحت تحقیق کے نئے مواقع اور سستے ڈیٹا کی دستیابی نے نوجوانوں کو بااختیار بنایا ہے۔
  • 29۔ بایوٹیکنالوجی کا محکمہ
  • ملک کی نوجوان طاقت نے بایو اکانومی میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوستو، بایو اکانومی، جس کا کاروباری حجم 2014 سے پہلے 60 ہزار کروڑ روپے تھا، آج 20 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔
  • 30۔ بھاری صنعتوں کی وزارت
  • 2009-10 میں صرف 1.5 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں، جبکہ 202526 میں 25 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کی گئی ہیں۔
  • 31۔ ہنرمندی کے فروغ اور انترپرینیورشپ کی وزارت
  • میں لال قلعہ سے ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے ایک سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی کی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی، تاکہ ہمارے نوجوان اے آئی کی دنیا میں قیادت کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں۔
  • ہوا بازی کا شعبہ بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جس سے ہمارے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ نئے ہوائی اڈے اور نئے روٹس روزگار کے نئے امکانات پیدا کررہے ہیں۔
  • مرمت اور اوورہالنگ جیسی سرگرمیاں ملک بھر میں بڑی تعداد میں ہنر مند افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کررہی ہیں۔
  • ہم نے ’میک اِن انڈیا‘ طیارہ سازی کے شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ’میک اِن انڈیا‘ سی 295 دفاعی ٹرانسپورٹ طیارہ کامیاب پرواز مکمل کرچکا ہے۔
  • 32۔ قانون و انصاف کی وزارت
  • ملک نے حکمرانی کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ ہزاروں ضابطہ جاتی تقاضے ختم کیے گئے ہیں اور سینکڑوں فرسودہ قوانین منسوخ کیے گئے ہیں۔ پچھلی صدی کے قوانین 21ویں صدی کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتے۔
  • اس سلسلے میں میں ریاستی حکومتوں اور مقامی خود اختیاری اداروں سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور یہ حکومت ہند کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہمیں اصلاحات کی رفتار تیز کرنی ہوگی۔
  • ہمیں 2047 کے وژن کے مطابق اپنے نظام کو تیار کرنا ہوگا۔ ہم ماضی کی پالیسیوں اور قواعد کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتے۔ ہمیں ایسی پالیسیاں اور ضوابط وضع کرنے ہوں گے جو مستقبل کی امنگوں کو پورا کریں۔
  • 33۔ شماریات و پروگرام نفاذ / ہندوستان کی مردم شماری کی وزارت
  • مردم شماری کا عمل جاری ہے، اعداد و شمار جمع کیے جارہے ہیں، لیکن مردم شماری صرف اعداد گننے کا نام نہیں ہے۔
  • انہی اعداد و شمار کی باریکیوں سے پالیسیاں اور منصوبے تشکیل پاتے ہیں اور ملک اپنی ترقی کا لائحہ عمل تیار کرتا ہے، اس لیے درست معلومات کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
  • میں ملک کے نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں اور فارم کو اچھی طرح سمجھیں۔
  • ملک اتنا بڑا کام انجام دے گا اور ملک کا وقت و توانائی درست کام کے لیے استعمال ہوگا، اسی لیے میں ملک کے نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ مردم شماری کے اس کام میں بھرپور حصہ لیں۔
  • 34۔ وزارت تجارت و صنعت و محکمہ ادویات
  • ہم نے دوا سازی کے شعبے میں بہت کام کیا ہے۔ تاہم وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ہندوستان کی ایک یا دو دوا ساز کمپنیاں دنیا کی پانچ بڑی فارما کمپنیوں میں اپنی جگہ بنائیں۔
  • ہماری مشاورتی یا اکاؤنٹنگ کمپنیوں میں سے کوئی عالمی سطح کی ٹاپ کمپنیوں میں کیوں نہ ہو؟ ہمارا ہدف ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دنیا میں قائد بنانا ہونا چاہیے۔
  • ہمارے برانڈ ایسے ہونے چاہئیں جو دنیا کو اپنی جانب متوجہ کریں۔ ہمیں اپنے برانڈز کو ملک کی شناخت اور دنیا کے لیے ایک منزل بنانے کی سمت کام کرنا ہوگا۔
  • 35۔ وکست بھارت
  • ملک صرف حکومت سے نہیں بنتا بلکہ ہر شہری اس کا حصہ ہے۔ ہم ’فارچون 500‘ کا بہت ذکر سنتے ہیں۔ ہم یہ خواب اور ہدف کیوں نہ رکھیں کہ اگلی دہائی میں فارچون 500 کی ان 50 کمپنیوں کا تعلق ہندوستان سے ہو؟
  • ہمارے برانڈ ایسے ہونے چاہئیں جو دنیا کو اپنی جانب متوجہ کریں۔ ہمیں اپنے برانڈز کو ملک کی شناخت اور دنیا کے لیے ایک منزل بنانے کی سمت کام کرنا ہوگا۔
  • اس سلسلے میں میں ریاستی حکومتوں اور مقامی خود اختیاری اداروں سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور یہ حکومت ہند کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہمیں اصلاحات کی رفتار تیز کرنی ہوگی۔
  • ہمیں 2047 کے اہداف کے مطابق اپنے نظام کو تیار کرنا ہوگا۔ ہم ماضی کی پالیسیوں اور قواعد پر انحصار نہیں کرسکتے۔ اس کے بجائے ہمیں ایسی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی جو مستقبل کی ہماری امنگوں کی عکاسی کریں۔
  • میں نے لال قلعہ سے ’پنچ پرن‘ یعنی پانچ عہدوں کی بات کی تھی۔ ان پانچ عہدوں نے ملک کو بے پناہ طاقت دی ہے اور اسے خود اعتمادی اور اپنے اہداف سے آگے نکلنے کی صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے بااختیار بنایا ہے۔ ہمیں ہر لمحہ غلامی کی ذہنیت کو ختم کرتے رہنا ہوگا۔
  • قوم کا مفاد اپنی ذات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ملک کا مفاد ہمارے اپنے مفاد سے بلند ہونا چاہیے اور فرض ہماری شناخت ہونا چاہیے۔ میں اپنے تمام ہم وطنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وقت ہمارا ہے، موقع ہمارا ہے، عزم ہمارا ہے۔ آئیے اپنے خوابوں کو عزم میں، عزم کو طاقت میں اور طاقت کو کامیابی میں تبدیل کریں۔
  • آئیے ہر قدم کو ترقی کی جانب ایک قدم بنائیں، قدم سے قدم ملائیں، دل سے دل جوڑیں، اپنے مقصد سے وابستہ رہیں۔ ایک چراغ ہزاروں چراغ روشن کرے گا۔ آئیے مل کر ایک وکست بھارت تعمیر کریں۔

 

************

 

 

ش ح ۔   م    د۔  م  ص

(U : 2164 )