Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم نے بھارت-ناروے کاروباری اور تحقیقی سربراہی اجلاس میں شرکت کی

وزیر اعظم نے بھارت-ناروے کاروباری اور تحقیقی سربراہی اجلاس میں شرکت کی


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اوسلو میں بھارت-ناروے کاروباری اور تحقیقی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناروے کے عزت مآب ولی عہد شہزادہ ہاکون، اور ناروے کے وزیر اعظم عزت مآب جوناس گہر اسٹور بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اس سربراہی اجلاس میں 50 سے زائد کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) اور ناروے و بھارت کی کاروباری اور تحقیقی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 250 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس بھارت-ای ایف ٹی اے تجارت اور اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کے نفاذ کے بعد دوطرفہ اقتصادی تعاون میں تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کی علامت ثابت ہوا۔

اعلیٰ سطحی کاروباری اور تحقیقی اجلاس سے قبل اوسلو کے مختلف مقامات پر چار گول میز اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں صحت کے شعبے میں اختراعات، بحری تعاون، بیٹری اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، ڈیجیٹلائزیشن اور برقی کاری، اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے ٹیپا کے نفاذ کے بعد دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے کی ستائش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ فریقین کو ٹیپا کے تحت 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور بھارت میں 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے بھارت کی مضبوط معاشی ترقی، آبادیاتی فائدے، باصلاحیت اور پُرامید نوجوان نسل، مستحکم کاروباری روایات، سرمایہ کار دوست ضابطہ جاتی نظام اور مسابقتی وفاقیت کے جذبے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ناروے کو نیلگوں معیشت ، جہاز بنانے ، ماحولیاتی طور پر پائیدار توانائی اور معیشت کی طرف منتقلی، قابل تجدید توانائی، ہیلتھ ٹیک، اہم معدنیات اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔

وزیر اعظم مودی نے بھارت کے وسیع ماحولیاتی طور پر پائیدار توانائی اور معیشت کی طرف منتقلی پروگرام پر بھی روشنی ڈالی اور ملک کے بڑے پیمانے، بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات، ماحولیاتی وعدوں اور قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، گرڈ انفراسٹرکچر اور صاف توانائی کے شعبوں میں تیز رفتار توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے ماحول دوست توانائی میں سرمایہ کاری، بحری شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی، سمندری پائیداری اور ماحولیاتی مالیات کے میدان میں ناروے کی عالمی قیادت کو سراہا۔ وزیر اعظم نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں پر زور دیا کہ وہ نئی شراکت داریاں قائم کریں، تعاون کے ابھرتے ہوئے شعبوں کی نشاندہی کریں اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔

اس سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی اور ناروے کی کمپنیوں اور اداروں کے درمیان متعدد کاروباری معاہدوں پربھی دستخط کیے گئے۔

 

********

ش ح ۔ ع و ۔ م الف

U NO-7235