Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

ناروے-بھارت کاروباری اور تحقیقی سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم کا خطاب

ناروے-بھارت کاروباری اور تحقیقی سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم کا خطاب


بادشاہ معظم

عزت مآب وزیر اعظم،

دونوں ممالک کی کاروباری برادری سے وابستہ معزز ساتھیو،

آج ناروے اور بھارت کے کاروباری اور تحقیقی قائدین کے درمیان گفتگو کا موقع ملا ہے۔ اس سربراہی اجلاس کے شاندار انعقاد پر میں ناروے کے وزیرِ اعظم کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آج ناروے اور بھارت کی کاروباری اور تحقیقی برادری کے درمیان موجود ہونا میرے لیے بے حد خوشی کی بات ہے۔ میں نے چند ساتھیوں کی گفتگو سنی، جس سے یہ یقین مزید پختہ ہوا ہے کہ ہماری شراکت داری کی بنیاد انتہائی مستحکم ہے۔

یہ صرف امکانات کی شراکت داری نہیں، بلکہ ایک ثابت شدہ شراکت داری ہے۔ آج جب خوراک، ایندھن اور کھاد کی سلامتی عالمی چیلنج بن چکی ہے، تو بھارت اور ناروے مل کر ان کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ چاہے وہ بھارت کے غذائی شعبے میں سرمایہ کاری ہو، ایکوینور کی جانب سے بھارت کو ایل پی جی اور ایل این جی کی فراہمی ہو، یا یارا کا بھارت کے کھاد کے شعبے میں تعاون۔

مجھے اس بات کی بھی بے حد خوشی ہے کہ آپ میں سے کئی سی ای اوز، بھارت کے وائبرنٹ گجرات اور دیگر سرمایہ کاری سربراہی اجلاسوں میں ہمیشہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے رہے ہیں۔ اب ہمیں اس شراکت داری کی شدت کو مزید بڑھاتے ہوئے اسے نئی سمتوں اور نئے شعبوں تک لے جانا چاہیے۔

اور اب صرف ایک ایک قدم چلنے سے بات نہیں بنے گی۔ ہمیں اپنی رفتار بھی تیز کرنی ہوگی اور اپنے اہداف بھی بہت بلند مقرر کرنے ہوں گے۔

دوستو،

آپ میں سے جو تمام ساتھی بھارت سے وابستہ ہیں اور یہاں بھارت کے ساتھ آپ کی جو گفتگو ہوئی ہے… میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتر وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ آج ایک ایسا موقع ہے جب صحیح وقت پر صحیح فیصلے اور صحیح استعمال کے ذریعے نئی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اکتوبر 2025 میں ہم نے یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ساتھ تجارت اور اقتصادی شراکت داری کے معاہدے، یعنی “ٹیپا” کا نفاذ کیا۔ یہ ایک منفرد اور خصوصی معاہدہ ہے، جو ہمارے درمیان صلاحیت، ٹیکنالوجی اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر قائم شراکت داری کی علامت ہے۔

اس معاہدے کے ذریعے ای ایف ٹی اے ممالک کی جانب سے آئندہ پندرہ برسوں میں بھارت میں ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور دس لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک بلند ہدف ضرور ہے، لیکن مکمل طور پر قابلِ حصول بھی ہے۔ اور میں آپ کو پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ بھارت میں آپ کی سرمایہ کاری کو حقیقی نتائج میں تبدیل کرنا ہماری گارنٹی ہے۔

دوستو،

میں دو ایسے شعبوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جو آپ کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ بھارت کا تیزی سے ابھرتا ہوا متوسط طبقہ غذائیت اور صحت کے شعبوں میں بڑی مانگ پیدا کر رہا ہے۔ ناروے کی خوراک، ماہی گیری اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ کمپنیاں اس بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں بھارت کی مضبوط شراکت دار بن سکتی ہیں۔

اسی طرح ماحول دوست توانائی کے شعبے میں بھارت کے عزائم کا دنیا میں شاید ہی کوئی مقابلہ ہو۔ ہم نے 2030 تک 500 گیگا واٹ ماحولیات کیلئے موزوں توانائی پیدا کرنے اور 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماحول دوست توانائی میں سرمایہ کاری ناروے ویلتھ فنڈ کی بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ میں ناروے کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھارت کے ماحول دوست توانائی کے مستقبل میں ایک اہم شراکت دار بنے۔

دوستو،

ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم — اسی منتر کو لے کر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو گزشتہ بارہ برسوں میں ہم نے بھارت کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔

ہم مسلسل قانونی اور رسمی کارروائیوں میں کمی لا رہے ہیں، اور کاروبار کرنے میں آسانی بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے نہایت فعال اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں ہم نے ٹیکسیشن، لیبر کوڈ اور گورننس جیسے شعبوں میں نئی نسل کی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ اب بھارت میں مینوفیکچرنگ کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے ہم بہترین سے بہترین مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ کئی اہم شعبوں میں مراعات اور ترغیبات بھی دی جا رہی ہیں۔

اس کی ایک روشن مثال ہمارا جہاز بنانے کا شعبہ ہے۔ ہم اس شعبے کو ایک اسٹریٹجک مینوفیکچرنگ سیکٹر کے طور پر تیزی سے فروغ دینے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ ہم جہاز بنانے کے کلسٹرز تیار کر رہے ہیں اور ایک مکمل مربوط ماحولیاتی نظام قائم کر رہے ہیں۔

جہاز بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت ایم آر او، گرین شپنگ اور میری ٹائم سروسز سمیت ہر شعبے میں ایک عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

آج ناروے کے تقریباً دس فیصد بحری جہاز بھارت میں تیار ہوتے ہیں۔ کیا ہم اگلے پانچ برسوں میں اس شرح کو پچیس فیصد تک لے جا سکتے ہیں؟ میرا ماننا ہے کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اب رفتار حاصل ہو چکی ہے۔ ہمیں بڑے اہداف کے ساتھ بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔

میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ بھارت کی پالیسی استحکام اور مختلف مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شعبے میں اہم شراکت دار بنیں۔

دوستو،

آج وزیر اعظم اور میں نے بھارت-ناروے تعلقات کو ایک گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بلند کیا ہے۔ اس اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے ناروے کی کمپنیوں کو اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق اور دفاع جیسے شعبوں میں بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔ ان تمام میدانوں میں میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ بھارت کو اختراع اور مینوفیکچرنگ کا ایک مضبوط مرکز بنائیں۔

دوستو،

آج ہم بھارت-ناروے تعلقات کو لیب سے لیب، یونیورسٹی سے یونیورسٹی اور سائنس دان سے سائنس دان کے درمیان شراکت داری کی شکل بھی دے رہے ہیں۔ بھارت کی سی ایس آئی آر، اسٹارٹ اپ فنڈز اور ناروے کے تحقیقی ادارے باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سے دونوں ممالک کے تحقیقی اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے مزید مضبوطی کے ساتھ جڑیں گے۔

دوستو،

ناروے کے لیے ہم نے انویسٹ انڈیا میں ایک خصوصی تجارتی سہولت ڈیسک قائم کیا ہے، تاکہ آپ کی ضروریات اور مسائل کو خصوصی طور پر حل کیا جا سکے۔ یہ ڈیسک بھارت میں آپ کی سرمایہ کاری کے سفر کو مزید آسان، تیز رفتار اور مؤثر بنائے گا۔

اس قسم کی خصوصی سہولت کے باعث بہت آسانی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر ریاستی حکومتوں کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کی ضرورت ہو تو اس میں بھی آپ کو سہولت حاصل ہوگی۔ اسی طرح اگر فیصلہ سازی کے عمل میں کسی تبدیلی یا تیزی کی ضرورت پیش آئے تو وہ بھی نہایت سرعت کے ساتھ ممکن ہو سکے گی۔ اسی مقصد کے لیے ہم نے یہ خصوصی انتظام کیا ہے۔

اب آپ سب کے لیے میرا بنیادی پیغام یہی ہے کہ آئیے، بھارت میں اپنے مواقع اور اپنے عزائم دونوں کو وسعت دیجیے۔ میں آپ سب کو بھارت آنے کی دعوت دیتا ہوں۔

آپ کو یہاں ان تمام امکانات اور تجربات سے بھی آگاہی حاصل ہوگی۔ میں نے اپنی جانب سے آپ کو مکمل اعتماد دلایا ہے۔ اور ایک طرح سے اب گیند آپ کے پالے میں ہے۔

شکریہ

********

ش ح ۔ ع و ۔ م الف

U NO-7234