پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ممبئی میں گلوبل فن ٹیک فیسٹ 2026 کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دنیا بھر سے آنے والے اختراع کاروں، رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں مسلسل تیسری مدت کے بعد اس تقریب میں مسلسل تیسری مرتبہ شرکت کرنا قومی اہمیت کے لحاظ سے شاندار ہیٹ ٹرک محسوس ہوتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’یہ ہیٹ ٹرک ظاہر کرتا ہے کہ وکست بھارت کے لیے آپ کتنے اہم ہیں اور آپ کا کام کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے فن ٹیک کے منظرنامے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بڑھتی ہوئی توانائی، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اور خطرات مول لینے کی جرات مندانہ صلاحیت نے امکانات کے افق کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ اس شعبے کا سرگرم اور پختہ ماحولیاتی نظام مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جس سے ملک کے مستقبل کے حوالے سے ان کا اعتماد مزید پختہ ہو رہا ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اسی لیے وکست بھارت کے مستقبل کے حوالے سے میرا یقین مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے تکنیکی جدت طرازی اور ثقافتی جشن کے درمیان خوبصورت مماثلت پیش کرتے ہوئے مہاراشٹر اور ملک بھر میں انتہائی جوش و خروش سے منائے جانے والے گنیش اتسو سے قبل ممبئی کے تہواری جذبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے نیک کاموں کے آغاز سے قبل آشیرواد حاصل کرنے کی روایت کے مطابق بھگوان گنیش کے سامنے ماتھا ٹیکا۔ جناب نریندرمودی نے کہا، ’’گنپتی بپّا کے سامنے سر جھکاتے ہوئے، میں آپ سب کو گلوبل فن ٹیک فیسٹ 2026 کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے دنیا بھر میں جاری تنازعات، تجارتی کشیدگی اور توانائی و مصنوعات کی رسد کے نظام پر شدید دباؤ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجوداپریل سے جون کی مشکل سہ ماہی کے دوران بھارت کی 7.8 فیصد کی مضبوط اقتصادی ترقی کاذکر کیا۔ انہوں نے ہندوستانی معیشت کی مضبوط قوت استحکام کی ستائش کی، جو عالمی برادری کے لیے نئے اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اور اس اعتماد کو میں یہاں آپ سب کے چہروں پر واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں۔‘‘
بھارت کی اقتصادی سمت کی حالیہ اہم توثیق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جاپان کی ایک معروف کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے تین دہائیوں بعد بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ کو ’اے مائنس‘ زمرے میں اپ گریڈ کیے جانے پر ستائش کی۔ انہوں نے اس تاریخی پیش رفت کا سہرا بنیادی اصلاحات اور معاشی استحکام کو دیا، جن کی بدولت ملک کی ترقی کی رفتار ناقابلِ تسخیر بنی ہوئی ہے۔ جناب نریندرمودی نے کہا، ’’میں ایک بار پھر کہنا چاہوں گا کہ بھارت کی یہ ریفارم ایکسپریس اب مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھے گی۔‘‘
وزیر اعظم نے ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت کی شاندار ترقی کو سراہتے ہوئے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کو اس تبدیلی کا بلامقابلہ بڑا علمبردار قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پرزور دے کر کہا کہ ملک میں جاری فن ٹیک کے انقلاب کی بات یو پی آئی کے اثرات کا ذکر کیے بغیر بنیادی طور پر نامکمل ہے، جیسا کہ انہوں نے گزشتہ سال کی تقریب میں بھی اس موضوع پر گفتگو کی تھی۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’یہ اتنی بڑی تبدیلی ہے کہ جب بھی فن ٹیک کی بات ہوگی، یو پی آئی کا ذکر کیے بغیر یہ بات مکمل نہیں ہوگی۔‘‘
وزیر اعظم نے 25 اگست کو یو پی آئی کے قیام کے دسویں سال کی تکمیل کا ذکر کرتے ہوئے مالیاتی شعبے کے ماہرین کی ابتدائی شکوک و شبہات اور موجودہ صورتحال کے درمیان فرق کو واضح کیا، جہاں کبھی بینکاری نظام سے محروم رہنے والے لاکھوں شہری اب ڈیجیٹل معیشت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد کیا کہ بینکاری کی سہولت ہاتھوں کی انگلیوں تک پہنچانے کا ان کا ابتدائی تصور اُس وقت باخبر حلقوں کی جانب سے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’وہی لاکھوں لوگ، جو نسلوں سے بینکاری نظام سے باہر تھے، آج بھارت میں فن ٹیک کی ترقی کے بڑے محرک بن چکے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے اس سلسلے میں حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف اگست کے مہینے میں یو پی آئی کے ذریعے 24 ارب سے زیادہ لین دین ہوئے، جس کا مطلب ہے کہ پروگرام کے پہلے دس منٹ میں ہی تقریباً 50 لاکھ لین دین انجام دیے گئے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یو پی آئی کو حاصل ہونے والی یہ غیر معمولی مقبولیت محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے۔ جناب نریندرمودی نے کہا، ’’اسی تاثیر کی وجہ سے صدر میکرون نے کہا تھا کہ یو پی آئی صرف ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی داستان ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے بھارت کے اہم ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کو اجاگر کرتے ہوئے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ یو پی آئی اب 11 ممالک میں فعال ہو چکا ہے، جس سے کبھی ناممکن نظر آنے والی بات بین الاقوامی ادائیگیوں کی روزمرہ حقیقت بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیرت انگیز اعداد و شمار اس غیر معمولی سفر کی عکاسی کرتے ہیں جو ملک نے طے کیا ہے۔ جناب نریندرمودی نے کہا، ’’یہ حیرت انگیز اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم نے کتنا طویل سفر طے کیا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے مستقبل کے عزائم کی بنیاد طے کرتےہوئے صنعت سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ موجودہ حصولیابیوں کو حتمی منزل کے بجائے محض ایک نقطۂ آغاز سمجھیں۔ پالیسی سازی اور حکمرانی کے شعبے میں اپنے 25 سالہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مسلسل پیش رفت کے اپنے نظریے کی وضاحت کی۔ جناب نریندرمودی نے کہا، ’’جب ایک ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو میں اس سے بھی بڑے ہدف کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے بین الاقوامی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اگلے مرحلے کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے شراکت دار ممالک کے ملکی ادائیگی کےنظام کے ساتھ یو پی آئی کو مربوط کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا، جیسا کہ سنگاپور کے ساتھ پہلے ہی بلارکاوٹ سرحد پار رابطے کا نظام قائم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت دی کہ جہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی باشندے رہتے ہیں یا بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے، وہاں مالیاتی نیٹ ورکس کو باہم مربوط کرنے کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں۔ جناب نریندرمودی نے ہدایت دی، ’’جہاں کہیں بھی بڑی تعداد میں بھارتی رہتے ہیں، جہاں کہیں بھی بھارت بڑے پیمانے پر تجارت کرتا ہے، دنیا کا جو بھی ملک ہمارے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، ہمیں ان سب کو آپس میں جوڑنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔‘‘
بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی باشندوں کے لیے اقتصادی فوائد پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجنے والی آبادی کے لیے لین دین کی لاگت کم کرنا ایک اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو باہم مربوط کرنے سے وطن میں اپنے اہلِ خانہ کو رقم بھیجنے کا عمل نمایاں طور پر تیز ہو جائے گا۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اس سلسلے میں بھی یو پی آئی ہندوستانیوں کی بچت میں مدد کر سکتا ہے اور رقم اپنے خاندانوں تک زیادہ تیزی سے پہنچ سکتی ہے۔‘‘
مالیاتی بنیادی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے غیر ملکی طرز پر تیار کردہ کارڈ سے ادائیگی کے معیارات پر روایتی انحصار کی نکتہ چینی کی اور مقامی طور پر وضع کردہ قواعد و ضوابط اور پروٹوکول تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا کہ ملکی صنعت عالمی معیار کے ضوابط وضع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اب ہم اپنے ضوابط اور معیارات خود وضع کر سکتے ہیں اور انہیں دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے تکنیکی بااختیاری کے اپنے بنیادی نظریے کو دہراتے ہوئے یو پی آئی کو مالی شمولیت کا ایک مؤثر ترین وسیلہ قرار دیا، جس نے کامیابی کے ساتھ ان علاقوں تک رسائی حاصل کی ہے جہاں روایتی بینکاری کا نظام نہیں پہنچ سکا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدت طرازی کی حقیقی پہچان یہ ہے کہ خدمات براہِ راست ہر فرد تک پہنچائی جائیں۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’جہاں روایتی بینک نہیں پہنچ سکے، جہاں بینک کی شاخیں نہیں پہنچ سکیں، وہاں یو پی آئی نے بینکاری نظام کو اس جگہ اور اس شخص تک پہنچا دیا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے ملک کی فن ٹیک مارکیٹ کے مستقبل کا لائحۂ عمل بیان کرتے ہوئے ادائیگیوں تک محدود رہنے کے بجائے تیزی سے آگے بڑھنے اور قرض، بیمہ، بچت، سرمایہ کاری اور پنشن کی مصنوعات کی رسائی کو فعال طور پر وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو اپنی خدمات کو تیزی سے اگلی سطح تک لے جانا ہوگا۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اب فن ٹیک مارکیٹ میں ادائیگیوں کے ساتھ بھی قرض سے متعلق لین دین کا حصہ بھی بڑھنا چاہیے۔‘‘
حاشیے پر موجود اور محروم طبقات کی سربستہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجی میں یہ منفرد صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان طبقات کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے جنہیں روایتی معاشی نظام اب تک نظر انداز کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پوشیدہ قوت کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’وکست بھارت کے لیے اس قوت کا ابھرنا بہت ضروری ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے جامع مالیاتی نظام کے ٹھوس اثرات کی مثال پیش کرتے ہوئے پی ایم سواندھی اسکیم کا تذکرہ کیا، جس کے ذریعے لاکھوں ریڑھی پٹری والوں، جنہیں انہوں نے شہروں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا، کو باضابطہ قرض کے نظام سے کامیابی کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس کے نتیجے میں ان کی اوسط سالانہ آمدنی میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ مالیاتی طور پر بااختیار ہونے سے ان افراد کی رہائش، تغذیہ، صحت کی سہولیات اور بچوں کی تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی، جس کے پیش نظر حکومت نے اس اسکیم کو 2030 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جناب نریندرمودی نے کہا، ’’اس کا مطلب ہے کہ اب ان کے پاس رسمی قرض تک رسائی کا ایک ذریعہ موجود ہے۔‘‘
ان سماجی پروگراموں کے لیے ٹیکنالوجی کے ناگزیر بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پی ایم سواندھی اسکیم کی غیر معمولی کامیابی میں یو پی آئی کو اہم محرک قرار دیا۔ انہوں نے صنعت پر زور دیا کہ وہ اس تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ دے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اس تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں فن ٹیک کی طاقت سے معاشی سرگرمیوں کو مزید بڑھانا ہوگا۔‘‘
چھوٹے کاروبار کی سطح پر قرض کی کمی کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک چھوٹی دکان چلانے والی خاتون کی مثال پیش کی، جس کے ڈیجیٹل لین دین کا ریکارڈ اس کے کاروبار کی مضبوطی اور قابلِ عمل ہونے کا ثبوت ہے، لیکن اس کا کاروبار روایتی بینکوں سے قرض حاصل کرنے کے لیے ابھی بہت چھوٹا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کامیابی سے چلنے والے اس کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اسے سامان اور آلات کی خریداری کے لیے کچھ مزید سرمایہ درکار ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اس نوعیت کے کاروبار موجود ہیں جن کی ضروریات کا تجزیہ، پیشگی اندازہ اور ازالہ فن ٹیک کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔‘‘
قرض کی اس ساختیاتی نقص کو دور کرنے کے لیے صنعت کو چیلنج دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال چھوٹی سطح کی معاشی سرگرمیوں کا مطالعہ کرنے اور بڑی تعداد میں چھوٹے کاروباروں کے لیے انتہائی موزوں مالیاتی ماڈل تیار کرنے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس خلا کو پُر کرنا ہی فن ٹیک کے شعبے کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ فن ٹیک کا اگلا باب یہیں لکھا جائے گا۔‘‘
وزیر اعظم نے جامع مالیاتی خدمات کو عام آدمی تک پہنچانے پر زور دیتے ہوئے صنعت سے اپیل کی کہ ڈیلیوری پارٹنر اور مختلف چھوٹے موٹے کام کرنے والے افراد جیسے ذاتی روزگاروالے افراد کو بچت، پنشن اور بیمہ کی سہولیات تک بلارکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ ادائیگی کے علاوہ دیگر مالیاتی لین دین بھی اتنے ہی آسان ہونے چاہئیں جتنا آج کیو آر کوڈ اسکین کرکے ادائیگی کرنا آسان ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’یہ تمام سہولیات آج کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے کی طرح آسان، سہل اور قابلِ رسائی بن سکتی ہیں۔‘‘
اکیسویں صدی کی دوسری سہ ماہی میں ہونے والی تکنیکی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایجنٹک اے آئی ، ٹوکنائزیشن اور کوانٹم کمپیوٹنگ کو ایسی انقلاب آفریں قوتیں قرار دیا جو مالیاتی شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔ انہوں نے صنعت سے مطالبہ کیا کہ ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو معاشرے کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل کیا جائے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اب ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ ان امکانات کو حقیقی اثرات میں کیسے تبدیل کیا جائے۔‘‘
صنعت کے لیے چار نکاتی اسٹریٹجک روڈ میپ پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فن ٹیک کمپنیوں کو اعلیٰ معیار کی سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ کے اخلاقی معیارات، ضابطہ کار اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط اختراعاتی ماحولیاتی نظام، اور شفاف فن ٹیک صارفین کے تحفظ کا اشاریہ قائم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ ان معیارات پر سختی سے عمل درآمد سے عالمی سطح پر بے شمار مواقع کے دروازے کھل جائیں گے۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’اگر ہم ان معیارات پر خود کو پرکھیں تو بھارت کا فن ٹیک شعبہ بے شمار امکانات کا دروازہ بن سکتا ہے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام میں مستقبل رخی پیغام دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے شعبے پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی کی داستان رقم کرنے والی بنیادی اقدار یعنی بڑے پیمانے پر رسائی، وسیع دائرۂ کار، محفوظ نظام، مالیاتی خدمات کی عام آدمی تک رسائی اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے نئےاختراعات کی جانب پیش قدمی کرے۔ انہوں نے فن ٹیک شعبے کے مسلسل ارتقا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جناب نریندر مودی نے کہا، ’’ان بنیادی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے فن ٹیک شعبے کو نئے اختراعات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘‘
India is taking its fintech journey to new heights, with innovation and inclusion at its core. Addressing the Global Fintech Fest 2026 in Mumbai. https://t.co/pMhokoCBjG
— Narendra Modi (@narendramodi) September 8, 2026
India’s growth gives the world renewed confidence. pic.twitter.com/lPYEwHMPzW
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
UPI is a major champion of India’s FinTech story. pic.twitter.com/2ppzcyb7ZF
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
Technologies like Agentic AI, tokenisation and quantum are opening new possibilities in the financial sector. pic.twitter.com/BDIKrCivZK
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
FinTech companies should work together on a few key goals… pic.twitter.com/0iifCfffdS
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ش ع۔ع ن)
U. No. 3182
India is taking its fintech journey to new heights, with innovation and inclusion at its core. Addressing the Global Fintech Fest 2026 in Mumbai. https://t.co/pMhokoCBjG
— Narendra Modi (@narendramodi) September 8, 2026
India's growth gives the world renewed confidence. pic.twitter.com/lPYEwHMPzW
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
UPI is a major champion of India's FinTech story. pic.twitter.com/2ppzcyb7ZF
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
Technologies like Agentic AI, tokenisation and quantum are opening new possibilities in the financial sector. pic.twitter.com/BDIKrCivZK
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026
FinTech companies should work together on a few key goals... pic.twitter.com/0iifCfffdS
— PMO India (@PMOIndia) September 8, 2026