مرکزی کابینہ میں میرے رفقائے کار جناب پرہلاد جوشی جی، جناب شری پد نائک جی، ملک اور بیرونِ ملک سے تشریف لائے صنعتوں کے تمام قائدین، سرمایہ کار حضرات، اسٹارٹ اَپ کی دنیا سے وابستہ ساتھیوں، تمام سینئر افسران، دیگر معزز خواتین و حضرات!
’بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ‘ میں آپ تمام ساتھیوں کا میں خیرمقدم کرتا ہوں اور آپ کا استقبال کرتا ہوں۔ اس بار کی یہ سمٹ خاص ہے، کیونکہ یہ غیر معمولی حالات میں منعقد ہو رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سال توانائی کے بحران پر مسلسل گفتگو ہوتی رہی ہے۔ ہماری زندگی اور ہماری ترقی کے سفر میں قابلِ تجدید توانائی کی کیا اہمیت ہے، یہ بات اس سال مزید واضح ہو گئی ہے۔ یہ بھی خوش آئند اتفاق ہے کہ اس سمٹ کے ساتھ انٹرنیشنل سولر الائنس کی 9ویں اسمبلی بھی منعقد ہو رہی ہے۔ گرین ہائیڈروجن پر چوتھی کانفرنس کے مندوبین بھی یہاں موجود ہیں۔ یعنی اس سال کے اس پروگرام کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ میں آپ سب کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
دوستو!
گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی معیشت نے بے مثال بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ کورونا وبا سے لے کر مغربی ایشیا کے بحران تک، دنیا کو کئی بڑے بحرانوں سے گزرنا پڑا ہے اور مغربی ایشیا کا بحران تو اب بھی جاری ہے۔ لیکن 140 کروڑ ہندوستانیوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے اب تک اس بحران کا بہتر انداز میں سامنا کیا ہے اور اس کے باوجود ہندوستان کی ترقی کی رفتار بلند رہی ہے۔ اگر ہندوستان نے صاف توانائی میں سرمایہ کاری نہ کی ہوتی اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس کے لیے نئے نظام اور انتظامات قائم نہ کیے ہوتے تو ہمارا بحران باقی دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا تھا۔
ساتھیو!
اس عالمی بحران نے ہر ملک کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ توانائی کا تحفظ براہِ راست اقتصادی تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ توانائی کے تحفظ کا مستقبل صاف توانائی میں ہے۔ اگر ہم آئندہ بھی رکازی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتے رہے تو عالمی معیشت بار بار متاثر ہوتی رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رکازی ایندھن کے ذخائر محدود ہیں اور وہ صرف چند مخصوص خطوں میں پائے جاتے ہیں، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت لامحدود ہے اور ہر خطہ، ہر ملک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ساتھیو!
اس شعبے میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستان کا سفر وعدوں، جذبے اور کارکردگی کا سفر رہا ہے۔ اس کا ثبوت سی او پی-26 سے وابستہ ہمارا عہد ہے۔ سال 2021 کی سمٹ میں ہندوستان نے یہ عزم کیا تھا کہ ہم 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر رکازی ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت حاصل کریں گے۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم یہ کرکے دکھائیں گے! پیرس میں کیے گئے وعدے کے تحت بھی ہندوستان نے اپنی نصف نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت غیر رکازی ایندھن کے ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا اور ہندوستان نے یہ ہدف 2025 میں ہی حاصل کرکے دکھا دیا۔ یعنی مقررہ مدت سے پانچ سال پہلے ہم نے یہ کامیابی حاصل کر لی۔ آج ہماری نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غیر رکازی ایندھن کے ذرائع پر مبنی ہے۔ ہندوستان 500 گیگاواٹ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بھی پوری مضبوطی کے ساتھ کوششیں کر رہا ہے۔ ہم تقریباً 300 گیگاواٹ کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ اور شمسی توانائی اور قابلِ تجدید توانائی کے معاملے میں ہندوستان آج دنیا کے تین سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔ اب آنے والے 10 سے 11 برسوں کے دوران ہماری کوشش ہوگی کہ غیر رکازی ایندھن پر مبنی 500 گیگاواٹ کی نئی توانائی صلاحیت کا اضافہ کیا جائے۔ یہ ہدف قدرے مشکل ضرور ہے، لیکن مجھے اپنے ملک کی صلاحیت اور قوت پر پورا بھروسہ ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ ہم یہ کرکے دکھائیں گے!
دوستو!
ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی اختراعات اور تجربات سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے۔ سبز توانائی کے معاملے میں بھی ہمارا یہی جذبہ ہے۔ اس شعبے میں ہندوستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ میں چند مثالوں کے ذریعے اپنی بات واضح کروں گا۔
ساتھیو!
ہم نے فروری 2024 میں پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا شروع کی تھی۔ اس کے تحت ایک کروڑ گھروں میں چھتوں پر شمسی پینل لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 سے 25 ماہ کے دوران ہی 65 لاکھ سے زیادہ گھر اس مہم سے جڑ چکے ہیں۔ ابھی ہمارے وزیر جناب پرہلاد جوشی جی نے بتایا کہ ہر 6 دن میں ایک لاکھ نئے گھر اس شمسی توانائی کی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس کا اثر بجلی کے بلوں پر بھی نظر آ رہا ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق ان 65 لاکھ گھروں کے بجلی کے بلوں میں تقریباً 76 فیصد تک کمی آئی ہے۔ لاکھوں خاندان ایسے بھی ہیں جن کے بجلی کے بل صفر ہو گئے ہیں۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے پاس بجلی بچ بھی جاتی ہے اور وہ اسے بجلی کے گرڈ کو فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان کی یہ اسکیم بہت سے ممالک، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں توانائی کے تحفظ کو بہت زیادہ تقویت پہنچا سکتی ہے۔
دوستو!
ہندوستان شمسی توانائی کو اپنے شہریوں کی زندگی کا حصہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہم نے صنعتوں اور کھیتوں کو بھی شمسی توانائی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستان میں 44 ہزار سے زیادہ سرکاری عمارتیں شمسی توانائی سے منسلک ہو چکی ہیں۔ اس سے ہر سال تقریباً 700 کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے کسانوں کو کسم یوجنا سے بھی بہت فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ذریعے 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے لیے شمسی توانائی سے آب پاشی کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شمسی پمپ کی سہولت سے فائدہ اٹھانے والے ہر کسان کو سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ میں آپ کو پی ایم سوریہ سروور یوجنا کی مثال بھی دینا چاہوں گا۔ اس کا تصور یہ ہے کہ آبی ذخائر، تالابوں اور جھیلوں کے اوپر شمسی پینل لگا کر بجلی پیدا کی جائے۔ اس سے آبی ذخائر کا بہتر استعمال ممکن ہو رہا ہے۔ اس طرح کے منصوبوں سے زمین کے استعمال پر ہونے والے اخراجات میں بھی کمی آ رہی ہے۔
دوستو!
ہمارا صاف توانائی کا یہ نظام صرف پن بجلی، شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی اور جوہری توانائی تک محدود نہیں ہے۔ ہندوستان گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں بڑی پیش رفت کے لیے مشن موڈ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت اس دہائی کے اختتام تک 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ہم اپنے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی گرین ہائیڈروجن سے جوڑ رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے ہی ہندوستان نے پہلی گرین ہائیڈروجن ٹرین شروع کی ہے۔
ساتھیو!
آپ تمام ماہرین جانتے ہیں کہ صرف بجلی پیدا کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسے مؤثر طریقے سے تقسیم کرنا اور جہاں ضرورت ہو وہاں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ ہمارے یہاں ملک کے بعض حصوں میں شمسی اور ہوائی توانائی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ملک کے جن حصوں میں بجلی کی پیداوار نسبتاً کم ہوتی ہے، وہاں کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور وہاں کے گھر، کھیت اور صنعتیں بھی اس توانائی سے چل سکیں۔ اسی مقصد کے تحت گرین انرجی کوریڈورز تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کوریڈورز کے تحت خصوصی ٹرانسمیشن لائنوں اور سب اسٹیشنوں کا نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے۔ اس سے شمسی اور ہوائی توانائی کو پیداوار کے مقامات سے ان علاقوں تک پہنچانا آسان ہو رہا ہے جہاں اس کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ’ون نیشن، ون پاور گرڈ‘ کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ہم نے 5 علاقائی گرڈز کو ایک مربوط نیٹ ورک میں جوڑا ہے۔ اب پورا ملک ایک ہی فریکوئنسی والے پاور گرڈ سے منسلک ہے۔ گرین انرجی کوریڈور کے اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اب ہم اگلے مرحلے کی جانب بھی قدم بڑھا چکے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان نے اس مقصد کے لیے تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔
دوستو!
گرین انرجی کے شعبے میں ہماری کامیابی کے پیچھے ایک بڑی وجہ ہماری بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ صلاحیت بھی ہے۔ چند سال پہلے تک ہم شمسی توانائی سے متعلق چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بھی مکمل طور پر درآمدات پر منحصر تھے۔ ایک دہائی پہلے ہماری سولر ماڈیولز کی مینوفیکچرنگ صلاحیت صرف 2 گیگاواٹ کے آس پاس تھی۔ آج یہ 200 گیگاواٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ سولر سیلز کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بھی تقریباً 40 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اب ہم دیگر اجزا کی مینوفیکچرنگ کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔ یعنی گرین انرجی سے وابستہ ہندوستان کے بلند عزائم ہماری آتم نربھر بھارت مہم اور میک اِن انڈیا مہم کی کامیابی کا بھی ثبوت ہیں۔
دوستو!
ہندوستان بہت کم وقت میں بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں یہیں نہیں رکنا ہے، بلکہ ہر سرکاری عمارت، ہر اسکول، کالج، اسپتال اور اسٹریٹ لائٹس کے پورے نظام کو شمسی توانائی سے جوڑنا ہے اور یہ کام تیز رفتاری سے کرنا ہے۔ میں تجویز کروں گا کہ اس مقصد کے لیے ریاستوں اور مقامی اداروں کے درمیان صحت مند مسابقت ہونی چاہیے، تاکہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور ایک جگہ کی کامیابی کی کہانی سے دوسری جگہ کے لوگ بھی سیکھ سکیں۔
ساتھیو!
میری ایک تجویز زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال سے بھی متعلق ہے۔ ہم لاکھوں شمسی پمپ تقسیم کر چکے ہیں، لیکن ہمیں شمسی پمپ سے آگے بڑھنا ہے۔ میرا تصور یہ ہے کہ ہمارا اَنّ داتا، اُرجا داتا بھی بنے۔ کسان اپنی خالی زمین پر شمسی پینل لگائیں، کھیتوں کے کناروں پر بنی منڈیریں بھی خالی نہ رہیں، بلکہ وہاں بھی شمسی پینل لگائے جائیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ گاؤں میں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا۔
ساتھیو!
شمسی توانائی کے انقلاب کا یہ نیا دور صرف اسے اپنانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا انحصار اختراعات پر بھی ہے۔ اسی لیے میں اپنے اسٹارٹ اَپس، آئی آئی ٹیز، اختراع کاروں اور کاروباری حضرات سے خصوصی اپیل کروں گا کہ وہ آگے آئیں اور ایسے ماڈل تیار کریں جن کے ذریعے ایک خاندان کی زیادہ سے زیادہ ضروریات شمسی توانائی سے پوری ہو سکیں۔ اس طرح شمسی توانائی 24 گھنٹے اور ہر موسم میں دستیاب رہ سکے گی۔
ہمیں ایسی صورتِ حال کی جانب بڑھنا ہے جہاں ایک خاندان اپنی چھت پر نصب شمسی پلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کے ذریعے کھانا پکا سکے۔ ہمیں صاف ستھری کھانا پکانے کی تحریک (کلین کوکنگ موومنٹ) کو آگے بڑھانا ہے، تاکہ درآمد شدہ گیس پر اس کا انحصار کم سے کم ہو۔ ہمیں ایسی صورتِ حال پیدا کرنی ہے جب ملک کے زیادہ سے زیادہ متوسط طبقے کے خاندانوں کے پاس الیکٹرک گاڑی کا متبادل موجود ہو اور وہ اپنے گھر میں ہی شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کے ذریعے اپنی اسکوٹی، موٹر سائیکل اور کار چارج کر سکیں۔ اس سے ملک کے متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہر سال ہزاروں روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
ساتھیو!
ہمیں ایسی مصنوعات بھی درکار ہیں جو ڈیری کے شعبے میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیں۔ مویشیوں کے چارے، فصلوں کی کٹائی اور فصل کی کٹائی کے بعد کے تمام مراحل سے متعلق کاموں کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے آلات تیار کیے جانے چاہئیں۔
ساتھیو!
یہ سب کچھ نئی نسل کی اختراعات کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ملک کو ضروری ہارڈویئر درکار ہے اور ہمیں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ حل بھی چاہیے۔ ہمیں بیٹری اسٹوریج کی نئی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔ یہ آپ سب کے لیے اور ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ میں تحقیق کے شعبے سے وابستہ تمام ساتھیوں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کروں گا کہ وہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ آپ ہندوستان میں جو حل تیار کریں گے، وہ دنیا کے بہت سے ممالک کے کام آئیں گے۔
ساتھیو!
ہندوستان دنیا کے سب سے نوجوان ممالک میں سے ایک ہے اور صاف توانائی کے شعبے میں ہندوستان کی ہر کوشش بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ آج بھی اس شعبے میں ہزاروں افراد کو روزگار مل رہا ہے اور گرین جابز کے لیے بہت وسیع امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ روزگار مختلف شعبوں میں پیدا ہو رہے ہیں، جن میں پینلز اور دیگر ہارڈویئر کی تیاری سے لے کر ان کی تنصیب، دیکھ بھال اور نقل و حمل تک کے کام شامل ہیں۔
مستقبل میں بھی جب شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت مزید بڑھے گی تو آپ تصور کیجیے کہ اس سے کتنے زیادہ روزگار پیدا ہوں گے۔ جب باورچی خانے کے چولہے سے لے کر آمد و رفت کے ذرائع تک ہر چیز شمسی توانائی اور صاف توانائی سے چلنے لگے گی تو ایک نئی صنعت وجود میں آئے گی۔
ساتھیو!
آپ سب کے لیے اور دنیا بھر کے تمام سرمایہ کاروں کے لیے ہندوستان بہت بڑے مواقع لے کر آ رہا ہے۔ ہندوستان جیسی مانگ ، اتنا بڑا پیمانہ اور اتنا وسیع دائرۂ کار آپ کو شاید ہی کہیں اور ملے۔ ہندوستان جیسا سیاسی اور پالیسی استحکام بھی آپ کو بہت کم دوسری جگہوں پر دیکھنے کو ملے گا۔ اس کے نتائج بھی ہمیں نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 15 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ، یعنی 164 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ سال 2024 کی آر ای-انویسٹ سمٹ سے لے کر آج تک، یعنی صرف دو برسوں میں تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے، یعنی 63 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری آئی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک اس شعبے میں 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ، یعنی تقریباً 220 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس لیے ہندوستان کے صاف توانائی کے شعبے میں آپ سب کے لیے مواقع کا ایک نیا آسمان کھلنے جا رہا ہے۔
دوستو!
ہندوستان نے دنیا کو ’ایک کرہ ارض ، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کا پیغام دیا ہے۔ یہی سوچ ہمارے صاف توانائی کے سفر میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ انٹرنیشنل سولر الائنس کے قیام کے پیچھے بھی یہی تصور کارفرما ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے لیے ضروری مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور مہارت ہر ضرورت مند ملک تک پہنچے۔ اسی مقصد کے تحت افریقہ کے لیے 200 ملین ڈالر کی ’افریقہ سولر فیسلٹی‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
دوستو!
آنے والی دہائی ہمارے ماحولیاتی اہداف کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس سمٹ میں موجود تمام لوگ اس مستقبل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ہمیں ہر ملک کو اس مہم سے جوڑنا ہوگا۔ ہر شعبے کو اس تبدیلی میں شریک بنانا ہوگا۔ اسی صورت میں ہم صاف ستھرا مستقبل، سرسبز مستقبل اور محفوظ مستقبل تعمیر کر سکیں گے۔ انھی الفاظ کے ساتھ میں آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
*****
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 7113
Speaking at the Bharat Renewable Energy Summit in Delhi. Watch my speech. https://t.co/09hT8k2qmU
— Narendra Modi (@narendramodi) November 2, 2026
पिछले कुछ वर्षों से Global Economy ने अभूतपूर्व संकट देखे हैं। कोरोना की महामारी से लेकर West Asia Crisis तक...दुनिया ने कई बड़े संकटों का सामना किया है। और West Asia का संकट तो अभी भी जारी है...लेकिन 140 करोड़ भारतीयों को इस बात का गर्व है कि हमने अब तक इस संकट को बेहतर तरीके से संभाला है और इस संकट के बावजूद भी भारत की growth high रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 2, 2026
Energy Security का future Clean Energy में है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 2, 2026
सौर क्रांति का ये नया दौर केवल adoption का नहीं है...ये innovation पर भी निर्भर है। इसलिए मैं अपने Startups से, IITs, innovators और Entrepreneurs से विशेष आग्रह करुंगा...आप आगे आएं...आप ऐसे model बनाएं जहां एक परिवार की ज्यादा से ज्यादा जरूरतें solar power से पूरी हों: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 2, 2026