Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھارت قابل تجدید توانائی سربراہی اجلاس اور نمائش 2026 کا افتتاح کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت قابل تجدید توانائی سربراہی اجلاس اور نمائش 2026 کا افتتاح کیا۔ ہندوستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے صنعتی شعبے کے سرکردہ رہنماؤں، سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپ کے نمائندوں اور سینیئر عہدیداروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال کا سربراہی اجلاس ایسے غیر معمولی حالات میں منعقد ہو رہا ہے، جب عالمی سطح پر توانائی کے بحرانوں نے روزمرہ زندگی اور قومی ترقی میں قابل تجدید توانائی کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سال کے اجلاس کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہے، کیونکہ اس کا انعقاد بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کی نویں اسمبلی کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس میں گرین ہائیڈروجن سے متعلق چوتھی کانفرنس کے مندوبین بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عالمی معیشت نے کورونا وبا سے لے کر جاری مغربی ایشیا کے بحران تک بے مثال رکاوٹوں کا سامنا کیا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ملک نے ان بحرانی حالات کا نہایت مؤثر انداز میں مقابلہ کیا اور اس کے باوجود اقتصادی ترقی کی بلند شرح برقرار رکھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صاف توانائی کے شعبے میں گزشتہ دس برسوں کے دوران مسلسل گھریلو سرمایہ کاری اور نظامی اصلاحات نے ملک کو بیرونی بحرانوں کے شدید اثرات سے محفوظ رکھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ”اگر ہندوستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران صاف توانائی میں سرمایہ کاری نہ کی ہوتی اور اس کے لیے نئے نظام وضع نہ کیے ہوتے تو ہمارا بحران دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہو سکتا تھا۔“

وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی بحرانوں نے توانائی کے تحفظ اور اقتصادی تحفظ کے درمیان براہ راست تعلق کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوسل ایندھن پر مسلسل حد سے زیادہ انحصار عالمی معیشت کو بار بار متاثر کرتا رہے گا، کیونکہ فوسل ایندھن کے ذخائر محدود ہیں اور چند مخصوص خطوں تک مرتکز ہیں۔ اس کے برعکس صاف توانائی کے وسائل کی صلاحیت لامحدود ہے اور یہ پوری دنیا میں سب کے لیے دستیاب ہیں۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’اور ہم سب جانتے ہیں کہ توانائی کے تحفظ کا مستقبل صاف توانائی میں مضمر ہے۔‘‘

ہندوستان کے گزشتہ 12 برسوں کے صاف توانائی کے سفر کو عہد، جذبے اور کارکردگی سے عبارت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے کوپ-26 میں 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا عہد کیا تھا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ہندوستان نے پیرس معاہدے کے تحت اپنی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا نصف غیر فوسل ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف 2025 میں ہی پورا کر لیا، یعنی مقررہ مدت سے پانچ سال قبل۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب شمسی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں دنیا کے تین سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔ ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں غیر فوسل ذرائع کا حصہ 50 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے اور 500 گیگاواٹ کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 300 گیگاواٹ صلاحیت حاصل کی جا چکی ہے۔ وزیر اعظم نے اگلے 10 سے 11 برسوں کے دوران مزید 500 گیگاواٹ نئی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت شامل کرنے کے ایک پرعزم ہدف کا بھی اعلان کیا۔ وزیر اعظم مودی نے پُرعزم انداز میں کہا، ’’یہ ہدف کسی قدر مشکل ضرور ہے، لیکن مجھے اپنے ملک کی صلاحیت پر بھروسا ہے، اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہم یہ کر کے دکھائیں گے!‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان اپنی اختراعات اور تجربات کے فوائد پوری انسانیت کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ ملک گرین انرجی کے شعبے میں بھی اسی جذبۂ تعاون کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چند مخصوص مثالیں بھی پیش کیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس شعبے میں ہندوستان کی کامیابیاں دنیا کے متعدد ممالک کے لیے بے حد مفید ثابت ہوں گی۔‘‘

فروری 2024 میں شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کی تیز رفتار پیش رفت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے، جس کا مقصد ایک کروڑ گھروں کی چھتوں پر شمسی پینل نصب کرنا ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ 24 سے 25 ماہ کے دوران 65 لاکھ سے زائد گھرانے اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ہر چھ دن میں ایک لاکھ نئے گھرانے شامل ہو رہے ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق اس سے بجلی کے بلوں میں تقریباً 76 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ لاکھوں خاندانوں کے بجلی کے بل صفر ہو گئے ہیں۔ یہ خاندان اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہندوستان کی یہ اسکیم متعدد ممالک میں توانائی کے تحفظ کو بہت زیادہ تقویت فراہم کر سکتی ہے۔‘‘

گزشتہ 12 برسوں کے دوران روزمرہ زندگی، صنعت اور زراعت میں شمسی توانائی کو شامل کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ 44 ہزار سے زائد سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی سے منسلک کرنے کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 700 کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ جبکہ کُسم (KUSUM) اسکیم کے تحت 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام فراہم کیے گئے ہیں اور ہر شمسی پمپ سے مستفید ہونے والا کسان سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت کر رہا ہے۔ انہوں نے پی ایم سوریہ سروور یوجنا کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت آبی ذخائر، تالابوں اور جھیلوں کے اوپر شمسی پینل نصب کیے جاتے ہیں، تاکہ آبی وسائل کا بہتر استعمال کیا جا سکے اور زمین کے حصول پر آنے والی لاگت کو بچایا جا سکے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہندوستان شمسی توانائی کو اپنے شہریوں کی زندگی کا حصہ بنا رہا ہے۔‘‘

یہ بتاتے ہوئے کہ ہندوستان کا صاف توانائی کا نظام پن بجلی، شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور جوہری توانائی تک محدود نہیں ہے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ ملک قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت مشن موڈ میں پیش رفت کر رہا ہے۔ اس مشن کا مقصد اس دہائی کے اختتام تک 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن تیار کرنا اور اسے نقل و حمل کے شعبے میں بھی شامل کرنا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’چند ماہ قبل ہی ہندوستان نے اپنی پہلی گرین ہائیڈروجن ٹرین شروع کی ہے۔‘‘

اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ بجلی کی پیداوار کے ساتھ اس کی مؤثر تقسیم بھی ضروری ہے، تاکہ شمسی اور ہوا سے بجلی کی زیادہ پیداوار والے علاقوں سے کم پیداوار والے خطوں تک بجلی پہنچائی جا سکے اور ملک بھر کے گھروں، کھیتوں اور صنعتوں کو یکساں فائدہ حاصل ہو، وزیر اعظم نے گرین انرجی کوریڈور کی ترقی کو اجاگر کیا۔ ان کوریڈورز میں مخصوص ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن شامل ہیں، جنہیں ون نیشن، ون پاور گرڈ نیٹ ورک کی مدد حاصل ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے پانچ علاقائی گرڈ کو یکساں فریکوئنسی پر ایک متحد گرڈ میں ضم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اب اس ٹرانسمیشن بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جناب مودی نے بتایا، ’’حال ہی میں ہندوستان نے اس مقصد کے لیے تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔‘‘

ہندوستان کی گرین انرجی کے شعبے میں کامیابی کو گھریلو مینوفیکچرنگ میں غیر معمولی اضافے سے منسوب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک شمسی توانائی کے معمولی پرزوں کے لیے بھی مکمل طور پر درآمدات پر منحصر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دہائی قبل شمسی ماڈیول کی مینوفیکچرنگ صلاحیت تقریباً 2 گیگاواٹ تھی، جو آج بڑھ کر 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شمسی سیل کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بھی تقریباً 40 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے اور دیگر پرزوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ گرین انرجی سے متعلق ہندوستان کے عزائم ہماری آتم نربھر بھارت مہم اور میک اِن انڈیا مہم کی کامیابی کا بھی ثبوت ہیں۔‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک کو اپنی کامیابیوں پر مطمئن ہوکر رکنے کے بجائے ترقی کی تیز رفتار برقرار رکھنی چاہیے، وزیر اعظم نے تمام سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور اسٹریٹ لائٹ نیٹ ورکس کو جلد از جلد شمسی توانائی سے منسلک کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ریاستوں اور مقامی بلدیاتی اداروں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی، تاکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور مقامی سطح پر کامیاب اقدامات سے دیگر ادارے بھی سیکھ سکیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہمیں یہ کام تیز رفتاری سے کرنا ہے۔‘‘

زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے ایک خصوصی تجویز پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ لاکھوں شمسی پمپ تقسیم کرنے سے آگے بڑھ کر غیر زیرِ کاشت زرعی زمینوں کو بھی استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ دیہات کے کسانوں کو اپنی خالی زمینوں کے علاوہ کھیتوں کی منڈیر اور حدود کے ساتھ شمسی پینل نصب کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہمیں شمسی پمپوں سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔‘‘

یہ بتاتے ہوئے کہ شمسی انقلاب کا نیا دور شمسی توانائی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اختراعات پر بھی منحصر ہے، وزیر اعظم نے اسٹارٹ اپ، آئی آئی ٹی، اختراع کاروں اور صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ ایسے شمسی توانائی کے ماڈل تیار کریں جو چوبیس گھنٹے اور ہر موسم میں کام کر سکیں اور گھریلو ضروریات کا زیادہ سے زیادہ حصہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان میں چھتوں پر شمسی توانائی سے کھانا پکانے کے نظام شامل ہیں، تاکہ درآمد شدہ گیس پر انحصار کم کیا جا سکے، نیز الیکٹرک دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کے لیے گھروں میں شمسی توانائی سے چارجنگ کی سہولت بھی شامل ہو۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس کے ذریعے ملک کے متوسط طبقے کے خاندان ہر سال ہزاروں روپے کی بچت کر سکتے ہیں۔‘‘

دیہی علاقوں کے متعلقہ شعبوں میں صاف توانائی کے خصوصی استعمال کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ڈیری کے شعبے میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے مخصوص شمسی مصنوعات تیار کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’جانوروں کے چارے کی تیاری، فصلوں کی کٹائی اور کٹائی کے بعد کے مراحل میں انجام دیے جانے والے ہر کام کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے آلات تیار کیے جانے چاہئیں۔‘‘

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے نئی نسل کی اختراعات، مقامی طور پر تیار کردہ توانائی ذخیرہ کرنے کے آلات اور بیٹریوں کی ذخیرہ کرنے کی نئی صلاحیتوں کی ضرورت ہے، اسے ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع قرار دیا اور محققین اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہندوستان میں آپ کے تیار کردہ حل دنیا کے متعدد ممالک کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔‘‘

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ دنیا کے نوجوان ترین ممالک میں سے ایک ہندوستان میں صاف توانائی سے متعلق ہر اقدام کے نتیجے میں سولر پینل اور آلات کی تیاری، تنصیب، دیکھ بھال اور نقل و حمل جیسے شعبوں میں ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ شمسی توانائی کی صلاحیت میں مزید اضافے سے معیشت کے تمام شعبوں میں روزگار کے مواقع کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’باورچی خانے کے چولہے سے لے کر نقل و حمل کے ذرائع تک، جب ہر چیز شمسی توانائی اور صاف توانائی سے چلنے لگے گی تو ایک نئی صنعت وجود میں آئے گی۔‘‘

عالمی سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں بے مثال طلب، وسیع پیمانے، امکانات اور سیاسی و پالیسی استحکام سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 15 لاکھ کروڑ روپے، یعنی 164 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس میں 2024 کے آر ای–انویسٹ سربراہی اجلاس کے بعد صرف دو برسوں کے دوران 6 لاکھ کروڑ روپے، یعنی 63 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دہائی کے اختتام تک سرمایہ کاری کے مواقع 20 لاکھ کروڑ روپے، یعنی 220 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’لہٰذا، آپ سب کے لیے ہندوستان کے صاف توانائی کے شعبے میں مواقع کا ایک نیا افق کھلنے والا ہے۔‘‘

ہندوستان کے عالمی پیغام ’’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، جو ملک کے صاف توانائی کے سفر اور بین الاقوامی شمسی اتحاد (انٹرنیشنل سولر الائنس) دونوں کی بنیاد ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ ضرورت مند ہر ملک تک ضروری مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور مہارت پہنچ سکے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اسی مقصد کے تحت افریقہ کے لیے 20 کروڑ امریکی ڈالر کے افریقہ سولر فنڈ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آنے والی دہائی عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے، وزیر اعظم نے اعتماد ظاہر کیا کہ سربراہی اجلاس میں شریک افراد ہر ملک اور خطے کو اس تبدیلی سے جوڑ کر مستقبل کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اپنی نیک تمناؤں کے اظہار کے ساتھ خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا، ’’اسی صورت میں ہم ایک صاف ستھرا مستقبل، ایک سرسبز مستقبل اور ایک محفوظ مستقبل تعمیر کر سکیں گے۔‘‘

 

 

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 7114