پی ایم انڈیا
عزت مآب چانسلر اسٹاکر
دونوں ممالک کے مندوبین ،
میڈیا کے دوستو ،
نمسکار!
گروس گاٹ
چانسلر اسٹاکر، آپ کے پہلے بھارت کے دورے پر میں آپ کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ آپ نے یورپ سے باہر اپنے پہلے دورے کے لیے بھارت کا انتخاب کیا۔ یہ آپ کے وژن اور بھارت-آسٹریا تعلقات کے لیے آپ کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
چار دہائیوں کے بعد آسٹریا کے چانسلر کا بھارت کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سال 2026 کے تاریخی بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ معاہدے کے بعد، بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات میں ایک نئے سنہرے باب کا آغاز ہوا ہے۔ چانسلر اسٹاکر کے دورے کے ساتھ، ہم بھارت-آسٹریا تعلقات کو بھی ایک نئے دور میں لے جا رہے ہیں۔
دوستو ،
انفراسٹرکچر، انویشن اور سسٹینیبلٹی کے میدان میں بھارت اور آسٹریا قابلِ اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ چاہے دہلی میٹرو ہو یا ہمالیہ میں دس ہزار فٹ کی بلندی پر بنی اٹل ٹنل، آسٹریا کی سرنگ سازی (ٹنلنگ) کی مہارت نے اپنی مضبوط چھاپ چھوڑی ہے۔
اتناہی نہیں، ریلوے پروجیکٹوں سے لے کر گجرات کے گِرنار روپ وے تک، صاف توانائی (کلین انرجی) سے لے کر شہری ترقی (اربن ڈیولپمنٹ) تک، بھارت کے کئی انجینئرنگ منصوبوں میں آسٹریا کی کمپنیاں فعال شراکت دار رہی ہیں۔
دوستو،
چانسلر اسٹاکر کا یہ دورہ تجارت اور سرمایہ کاری میں نئی توانائی لائے گا۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ وہ ایک بڑے وژن اور بڑے کاروباری وفد کے ساتھ بھارت آئے ہیں۔
ہم آسٹریا کی مہارت (ایکسپرٹائز) اور بھارت کی رفتار اور وسعت کو ملا کر پوری دنیا کے لیے قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے۔ ہم دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بائیو ٹیکنالوجی میں بھی اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کریں گے۔
ساتھ ہی ہم انجینئرنگ اور تکنیکی تعلیم میں تعاون کو بھی مزید مضبوط کریں گے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آسٹریا کی مونٹان یونیورسٹی کے درمیان آج دستخط ہونے والا مفاہمتی معاہدہ (ایم او یو) اس علمی تبادلے کی ایک روشن مثال ہے۔
دوستو،
بھارت کی صلاحیت آسٹریا کی انوویشن اور پروڈکٹیویٹی کو بڑھانے کی طاقت رکھتی ہے۔
سال 2023 میں ہم نے آسٹریا کے ساتھ ایک جامع مائیگریشن اینڈ موبیلیٹی معاہدہ کیا تھا۔ اب اس معاہدے کے تحت ہم نرسنگ کے شعبے میں بھی موبیلیٹی کو آگے بڑھائیں گے۔
ہم مشترکہ تحقیق (جوائنٹ ریسرچ) اور اسٹارٹ اپ تعاون کو بھی مزید مضبوط کریں گے۔ نوجوانوں کے تبادلے (یوتھ ایکسچینج) کو فروغ دینے کے لیے ہم آج بھارت-آسٹریا ورکنگ ہالیڈے پروگرام کا بھی آغاز کر رہے ہیں۔
دوستو ،
آج پوری دنیا ایک نہایت سنگین اور کشیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے، اور اس کا اثر ہم سب پر پڑ رہا ہے۔ ایسے تناؤ بھرے عالمی ماحول میں بھارت اور آسٹریا اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی تنازعوں سے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ چاہے یوکرین ہو یا مغربی ایشیا، ہم ایک مستحکم، پائیدار اور دیرپا امن کی حمایت کرتے ہیں۔
ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا ہماری مشترکہ وابستگی ہے۔
عزت مآب ،
سال2024 میں میرا آسٹریا کا دورہ بھی چار دہائیوں بعد ہوا تھا۔ اس دورے کے بعد آج بھارت میں آپ کا خیرمقدم کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر اور خوشی کی بات ہے۔ آئیے ہم بھارت-آسٹریا شراکت داری کو انوویشن پر مبنی اور مستقبل کے لیے تیار بنائیں۔
بہت بہت شکریہ ۔
******
ش ح ۔ ش آ۔ج ا
U. No.5897
Addressing the joint press meet with Austrian Chancellor Christian Stocker.@_CStocker https://t.co/p3HZhwjbjz
— Narendra Modi (@narendramodi) April 16, 2026
वर्ष 2026 के ऐतिहासिक भारत-यूरोपियन यूनियन फ्री ट्रेड अग्रीमन्ट के बाद, भारत और यूरोपियन यूनियन के बीच संबंधों में एक नए सुनहरे अध्याय की शुरुआत हुई है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) April 16, 2026
चांसलर स्टॉकर की यह यात्रा ट्रेड और इनवेस्टमेंट में नई ऊर्जा लाएगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) April 16, 2026
आज पूरा विश्व एक बहुत ही गंभीर और तनावपूर्ण स्थिति से गुजर रहा हैऔर इसका प्रभाव हम सभी पर पड़ रहा है।
— PMO India (@PMOIndia) April 16, 2026
ऐसे तनावपूर्ण वैश्विक माहौल में, भारत और ऑस्ट्रिया, हम एकमत हैं कि, मिलिटरी कॉन्फ्लिक्ट से समस्याओं का समाधान नहीं निकल सकता।
यूक्रेन हो या वेस्ट एशिया, हम एक stable,…