Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

امر کنٹک مدھیہ پردیش میں ‘‘نمامی نرمدے- نرمدا سیوا یاترا’’ کی اختتامی تقریب سے وزیر اعظم کے خطاب کے چیدہ چیدہ اقتباسات

امر کنٹک مدھیہ پردیش میں ‘‘نمامی نرمدے- نرمدا سیوا یاترا’’ کی اختتامی تقریب سے وزیر اعظم کے خطاب کے چیدہ چیدہ اقتباسات

امر کنٹک مدھیہ پردیش میں ‘‘نمامی نرمدے- نرمدا سیوا یاترا’’ کی اختتامی تقریب سے وزیر اعظم کے خطاب کے چیدہ چیدہ اقتباسات

امر کنٹک مدھیہ پردیش میں ‘‘نمامی نرمدے- نرمدا سیوا یاترا’’ کی اختتامی تقریب سے وزیر اعظم کے خطاب کے چیدہ چیدہ اقتباسات


نئی دہلی  ، 16 مئی؛   وزیر اعظم نریندر نے  امرکنٹک مدھیہ پردیش میں‘‘نمامی نرمدے- نرمدا سیوا یاترا’’ کی اختتامی تقریب میں تقریر کی تھی،اس کے چیدہ چیدہ  اقتباسات درج ذیل ہیں:

بڑی تعداد میں یہاں آنے والے میرے پیارے بھائیوں اور بہنو! ، ہمارے شاستروں میں یہ اصول درج ہے کہ اگر ہم کوئی تیرتھ یاترا  نہیں کرسکتے تو کم از کم کسی تیرتھ یاتری کو سلام کرلیں، تو ہمیں اس یاترا کا پونیہ حاصل ہوجاتا ہے۔ میں بھی آپ سبھی تیرتھ یاتریوں کو سلام کرکے آپ کے کمائے ہوئے پونیہ میں سے کچھ حصہ مانگ رہا ہوں، لیکن وہ میں اپنے لیے نہیں مانگ رہا ہوں، بلکہ مہا بھارتی کے کام کے لیے مانگ رہا ہوں، سواسو کروڑ  بھارتی شہریوں کی بھلائی اور غریبوں کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے مانگ رہا ہوں۔

مجھے یقین ہے کہ نرمدا یاترا ہی  وہ سفر ہے جس کو نرمدا پریکرما سے جوڑا گیا ہے، میں اس شاستر سے پوری طرح واقف ہوں ، میں نے اس دنیا کو جینے کی کافی کوششیں کی تھیں اور مجھے معلوم ہے کہ جب نرمدا پریکرما کی  جاتی ہے تو گھمنڈ چور چور ہوکر مٹی میں مل جاتا ہے اور پریکرما کرنے والے یاتری کو بھی نجات حاصل ہوجاتی ہے یا موکش مل جاتا ہے۔  پریکرما کرنے والے شخص کو ماں نرمدا زمین پر لاکر کھڑا کردیتی ہے، سارے بندھنوں سے نجات دلادیتی ہے۔ ماں نرمدا اور نرمدا کے خادم کے درمیان کوئی دوری نہیں ہوتی۔ آپ میں بھی آج جب ماں نرمدا کی اس عظیم خدمت کا عہد کیا ہے تو آپ کو بھی اس خدمات کا احساس ہوا ہوگا۔

بدلتا وقت کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے اور جب گھمنڈ کا جذبہ بڑھ جاتا ہے تو فرض کا جذبہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس وقت ہمیں وہ مسائل درپیش ہوتے ہیں، جو آج ہمیں درپیش ہیں۔  یہی تو ماں نرمدا ہیں جو ہمیں ہزاروں سال سے بچاتی رہی ہیں۔  ہمیں زندگی دیتی رہی ہیں، ہمارے اجداد کی خدمت کرتی رہی ہیں۔، لیکن اسے ہم نے اپنا حق مان لیا اور اپنے فرض سے منھ موڑ لیا۔ ماں نرمدا سے جتنا لوٹ سکتے تھے لوٹ لیا۔ اپنے مفاد کے مطابق، اپنی ضرورت کے مطابق ہم نے ماں نرمدا کی تو پرواہ ہی نہیں کی۔ ہم نے صرف اپنی پرواہ کی ، دل میں یہ جذبہ تھا کہ ماں نرمدا پر تو میرا حق ہے، میں جیسے چاہوں اس کا استعمال کرسکتا ہوں  اور اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں جس ماں نرمدا نے بچایا تھا، کہ آج اسی ماں نرمدا کو بچانے کے لیے  پسینہ بہانے کی نوبت آگئی ہے۔ اگر فرض کے جذبے سے ہم  نے منھ نہ موڑا ہوتا ، ماں کے تئیں اپنے فرائض کو نبھایا ہوتا تو ماں نرمدا کو  بچانے ک نوبت انسان کے ذمہ نہ ہوتی۔

ہندوستان میں کئی ندیاں ہیں، نوشے پر نشان ہیں، لیکن پانی کا نام و نشان نہیں۔ کئی ندیاں تاریخ کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ ہمارے ملک کی ریاست کیرل میں ایک ندی ہے اور شاید وہی ایک ندی ہے جس کا نام بھارت پر بھارت پوجا ہے۔  تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ ندی بچے گی یا نہیں بچے گی۔ ایسا تو نہیں کہ پانی کے استعمال کی وجہ سے یہ ندی ختم ہورہی ہے۔  ندی کی حفاظت کے لیے جن عناصر کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ ہم نہیں نباہیں گے تو بنی نوع انسان کو کتنے عظیم نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ماں نرمدا، برفیلی پہاڑیوں سے نہیں آتی، برف کی چٹانوں سے پگھل کر نہیں آتی ہے۔ ماں نرمدا ایک ایک پودے کے پرساد سے ظاہر ہوتی ہے اور ہماری زندگیوں کو خوشیوں سے مالا مال کرتی ہے۔ اسی لئے مدھیہ پردیش سرکار نے ماں نرمدا کے روشن مستقبل کے لیے سب سے اہم کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے وہ ہے شجرکاری کا ۔ ہم جب شجر کاری کریں گے، تب ہمیں بھی یہ اندازہ ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کتنی بڑی خدمت کررہے ہیں۔ ہمارے اجدا د نے جو ریاضت کی تھی یہ اسی کا نتیجہ کہ آج ہم نرمدا ماں سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ آج ہم جو دشوار گزار خدمات انجام دیں گے، اس کے لیے کئی آئندہ نسلیں ہمیں یاد کریں گی۔ کہ کیا وقت تھا جب ماں نرمدا کو بچانے کے لیے پیڑ پودوں کی مدد سے ماں نرمدا کو ایک بار پھر زندہ کردیا گیا تھا۔

بھائیوں اور بہنو!

2022 میں آزادی کے 75 برس پورے ہورہے ہیں۔ کیا ہندوستان کے سواسو کروڑ لوگ ہر لمحہ 2022 کو یاد نہیں کرسکتے ، ہر پل آزادی کے 75 سال کو یاد نہیں کرسکتے۔ جن عظیم شخصیات نے ملک کے لیے  قربانی دی، پوری زندگی  اور جوانی جیلوں میں کھپا دی، کچھ تختہ دار پر چڑھ گئے۔ جنھوں نے اپنی زندگی، اپنے خاندان کو تباہ کردیا صرف ماں بھارتی کی آزادی کے لیے ، کیا ان کے سپنوں کو یاد کرتے ہوئے یہ عہد نہیں کرسکتے کہ 2022 تک فرض کی حیثیت سے نہیں بلکہ ملک کے رشتے سے، اپنے کنبے کے رشتے سے کام کریں گے۔ ہم گاؤں کے لوگ مل کر ، ہم شہر کے لوگ مل کر  کام کریں گے۔

 2022 میں نئے ہندوستان کا خواب لے کر چلنا ہے۔ ہر ہندوستانی کو جوڑنا ہے۔ جیسے تحریک آزادی میں پورا ملک جڑ گیا تا۔ ملک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ، نیا ہندوستان بنانے کے لیے تمام بھارت کے شہریوں کو جوڑنا ہے۔ اس لئے  میں تمام اہلیان وطن سے گزرش کروں گا کہ  آپ بھی مل بیٹھ کر طے کریں کہ 2022 تک آپ کا ادارہ کیا کرے گا۔ آپ کا سماج ، آپ کی تنظیم، آپ کی ٹیم کیا کرے گی۔ آج میں محترمہ اودھیشانند جی کا خاص طور پر ممنون ہوں ۔ انھوں نے جو خوبصورت الفاظ میرے  لیے کہے ہیں، جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں دعا کروں گا کہ ہم سب میں وہ اہلیت پیدا ہوجائے ، خود کو وقف کرنے کا وہ جذبہ پیدا ہوجائے، تاکہ ملک کی خدمت کرنے کے لیے خود کو تیار کرپائیں۔

میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں اور جیسا کہ شیوراج جی نے کہا ہے کہ یہاں پر یہ یاترا تما م  ہورہی ہے۔ لیکن اس یاترا میں جو دیکھا ، جو سوچا، اس پر عمل کرنے کا مبارک وقت شروع ہورہا ہے۔ تمام خواہشوں اور آرزؤوں کو ملک اور سماج کے لیے قربان ہونا پڑتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نرمدا کے روشن مستقبل کے لیے آپ سب کی کامیاب کوششوں سے  نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔ اسی جذبے کے ساتھ آپ سب میرے ساتھ بولیں گے، دونوں مٹھیا ں بند کرکے، ہاتھ اوپر کرکے، میں کہوں گا نرمدے، آپ کہیں گے سرودے، آپ کی آواز ماں نرمدا کے اس کنارے تک پہنچنی چاہئے،  خلیج کھمباد تک۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(م ن ۔ س ش۔ ن ر۔ 16.05.2017 )

U – 2269