Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

برکس بزنس فورم 2026 میں وزیراعظم  جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

برکس بزنس فورم 2026 میں وزیراعظم  جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن


 

معزز شخصیات،

برکس بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں،

اختراع کاروں اور دوستوں،

نمسکار!

برکس بزنس فورم میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم ہے۔

اس سال ہم برکس کے قیام کے 20 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ 2006 میں جب اس گروپ کا آغاز ہوا تھا، تو اس میں صرف چار ممالک تھے۔ آج برکس اور برکس پارٹنر ممالک کو ملا کر ہمارا یہ خاندان 21 ممالک پر مشتمل ہے۔

آج برکس ممالک دنیا کی 50 فیصد آبادی، 40 فیصد جی ڈی پی اور 25 فیصد سے زیادہ تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی نہیں، ان برسوں کے دوران جہاں عالمی جی ڈی پی تقریباً ڈھائی گنا بڑھی ہے، وہیں برکس ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی تقریباً ساڑھے چار گنا بڑھی ہے۔ یعنی برکس کی معاشی طاقت دنیا کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھی ہے۔

برکس ممالک عالمی اختراع اور حل پیش کرنے کے اہم مراکز بھی بن رہے ہیں۔ نچلی سطح کی اختراعات سے لے کر جدید ترین ٹیکنالوجیز تک، ہمارے ممالک میں اختراع کے نئے امکانات تشکیل پا رہے ہیں۔ برکس کا بڑھتا ہوا حجم، رفتار اور امید ہمارے درمیان واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ ہندوستان میں منعقد ہونے والا یہ فورم اب تک کا سب سے بڑا برکس بزنس فورم ہے۔

دوستو!

ہندوستان کی برکس صدارت کا موضوع ہے:

’’استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے قیام‘‘۔

گزشتہ 12 برسوں میں ہندوستان نے اس منتر کو اپنی معاشی اور تجارتی پالیسی کی بنیاد بنایا ہے۔

لچک کی بات کریں تو ہندوستان نے توانائی سے لے کر ٹیکنالوجی تک سپلائی چینز کو زیادہ متنوع اور قابلِ اعتماد بنایا ہے۔ اسی لچک کا نتیجہ ہے کہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان آج ترقی اور استحکام کا اعتماد فراہم کر رہا ہے۔

ہم سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جہاز سازی، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم، اہم معدنیات اور بایوٹیکنالوجی جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں نئی صلاحیتیں تیار کر رہے ہیں۔ ان شعبوں میں ہندوستان عالمی کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع کا مرکز بن رہا ہے۔

اس لیے ہمارا پیغام ہے:

’’میک اِن انڈیا، ہندوستان کے ساتھ اختراع کریں اور دنیا کے لیے وسعت دیں۔‘‘

دوستو!

آج ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ انقلاب برپا ہے۔ دو لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اَپس اور 120 سے زیادہ یونیکورنز کے ساتھ ہندوستان آج عالمی حل پیش کرنے کا مرکز بن رہا ہے۔ اس کی ایک جھلک آپ کو ’’برکس بھارت انوویٹس ایکسپو‘‘ میں دیکھنے کو ملے گی۔

ہمارے اسٹارٹ اَپس مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تبدیلی لا رہے ہیں، گرین ہائیڈروجن اور بیٹریوں پر کام کر رہے ہیں اور دفاع اور خلائی شعبوں میں بھی نئی حدود عبور کر رہے ہیں۔ اب ہمیں برکس کے ذریعے بھی ان عالمی معیار کی اختراعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے۔

دوستو!

ہندوستان کی اختراعی کہانی کی ایک اور خاص بات ہے — آبادی کی سطح پر اختراع۔

ہندوستان کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) نے آبادی کی وسیع سطح پر مالی شمولیت اور ڈیجیٹل لین دین کو نئی رفتار دی ہے۔

آج دنیا میں ہونے والی حقیقی وقت کی ادائیگیوں میں 50 فیصد اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اس ڈیجیٹل بنیاد پر نئے حل تیار کرنے کے لیے ہم نے صنعت اور اسٹارٹ اَپس کو ایک کھلا ماحولیاتی نظام فراہم کیا ہے۔

ہمیں فخر ہے کہ ہندوستان کے اس عالمی معیار کے ماحولیاتی نظام کو کئی ممالک اپنا رہے ہیں۔ برکس ممالک کے اختراع کار بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اپنے ممالک کے لیے نئے حل تیار کرسکتے ہیں۔

دوستو!

آج جب دنیا میں تجارتی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان معاشی پل بنا رہا ہے۔ 2014 کے بعد سے ہم نے دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ برکس میں بھی ہمارا نقطۂ نظر یہی ہے کہ رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور کاروبار کے لیے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔

اسی لیے ہماری صدارت میں زراعت، صحت، ہنرمندی اور اسمارٹ گرڈز جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے نیٹ ورک قائم کیے گئے ہیں۔

اسٹارٹ اَپس اور چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کو منڈی اور مالی وسائل سے جوڑنے کے لیے ہم نے برکس انکیوبیٹر نیٹ ورک، برکس ایم ایس ایم ای پورٹل اور برکس اسٹارٹ اَپ انوویشن فنڈ جیسی پہل کی ہیں۔

ان تمام تعاون کے نظام سے آپ سب فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ہمارے ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور صلاحیتوں کے تبادلے کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

دوستو!

عالمی تجارت اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور سمندری جہازوں پر کام کرنے والے افراد محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور سمندری کارکنوں کی سلامتی کا مضبوط حامی ہے۔

برکس ویمنز بزنس الائنس بھی ہمارے وژن کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کاروباری افراد ہماری ترقی کی کہانی کی قیادت کریں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان میں منعقد ہونے والی اس الائنس کی میٹنگ میں تقریباً 200 خواتین کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔

دوستو!

آج جب برکس اپنی تیسری دہائی میں داخل ہو رہا ہے، میں برکس بزنس کونسل سے یہ درخواست کرنا چاہوں گا:

کیا آپ برکس ممالک کے درمیان تجارت کی 10 بڑی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک رپورٹ تیار کرسکتے ہیں؟

کیا ہم ہر سال 100 برکس اسٹارٹ اَپس کو دوسرے برکس ممالک کی منڈیوں میں وسعت دینے کے لیے مدد فراہم کرسکتے ہیں؟

کیا ہم اپنے کاروباری اداروں کے درمیان ایک ہزار نئی شراکت داریاں قائم کرسکتے ہیں؟

ان تینوں پیمانوں پر ہمیں ہر سال اپنی پیش رفت کا جائزہ لینا ہوگا۔

آئیے، برکس کے عزائم کو عمل میں تبدیل کریں اور اپنی اجتماعی طاقت کو عالمی حل میں بدلیں۔

برکس آگے بڑھے اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  3327)