پی ایم انڈیا
نئی دہلی،04ستمبر۔ 1۔ ہم وفاقی جمہوریہ برازیل ، روسی وفاق ، جمہوریہ ہند ،عوامی جمہوریہ چین اور جمہوریہ جنوبی افریقہ کے سربراہوں نے 4ستمبر 2017 کو چین کے ژیامن علاقے میں نویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کی ۔ ہم نے ، برکس : ’’روشن مستقبل کے لئے مضبوط شراکت داری‘‘کے مرکزی خیال پر برکس کی ترقی کے مستقبل کے مشترکہ تصور کے ساتھ حاصل کی جانے والی کامیابیوں پر گفتگو کی ۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے مشترک خطرات سے متعلق علاقائی مسائل اوربین الاقوامی امور پر گفتگو کے بعد اتفاق رائے سے ژیامن اعلامیہ کو منظوری دی ۔
2۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے اپنے اس عہد کا بھی اعادہ کیا کہ ہمارا امن ،سلامتی ، ترقی اور باہمی تعاون ہمارا بنیادی اور اہم ترین مقصد ہے، جس نے اب سے دس برس قبل ہمیں متحد کیا تھا ۔ برکس ممالک نےاس وقت سے اب تک اپنی ترقی کی شاہراہ پر مل کر قابل ذکر اورنمایاں سفر طے کیا ہے ۔ یہ سفر اس لئے اور بھی زیادہ اہم ہے کہ انہوں نے اپنے قومی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ سفرانجام دیا ہے اور اپنی ترقی پذیر معیشتوں نیز اپنے عوام کی روزی روٹی کی بڑھتی ضرورتوں کی تکمیل کے تئیں خود کو وقف کیا ہے۔ ہماری عہد بستہ اورمسلسل کوششوں نے سابق سربراہوں کے پیش کردہ ہمہ جہت تعاون نے ایک ہمہ جہت فعالیت پید ا کی ہے ۔ ترقی اور ہمہ جہتی کی پاسداری کرتے ہوئے ہم مل کر ایک مزید حق بجانب مساوی صاف ستھرے جمہوری اور نمائندہ بین الاقوامی سیاسی اورمعاشی نظام کے قیام کے لئے کام کررہے ہیں ۔
3۔ 2006سے ہمارے باہمی تعاون نے باہمی احترام اور مفاہمت ،مساوات ،یک جہتی ،کشادگی ،اجتماعیت اور باہمی طور سے مفید مطلب برکس کے جذبے کو فروغ دیا ہے جو ہمارے ایک بیش قیمت اوربرکس کے باہمی تعاون کے لئے ایک لامحدود توانائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے مساوات اور یک جہتی کی پاسداری کی ہے ۔ ہم نے ترقی کے اپنے متعلقہ انتخاب کے فروغ کا احترام بحال رکھا ہے اور ایک دوسرے کے مفادات کی مفاہمت اور حمایت کی ہے ۔ہم نے ابھرتے نئے بازاروں اور ترقی پذیر ممالک (ای ایم ڈی سی ) کے ساتھ اپنے تعاون میں اضافہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے اپنے لئے مفید مطلب نتائج اورمشترکہ ترقی برکس ملکوں کے درمیان عملی تعاون میں اضافے کے لئے مل کر کام کیا ہے ، جس سے برکس ممالک ہی نہیں پوری دنیا کو فائدہ پہنچا ہے ۔
4۔ ہمیں ،نیو ڈیولپمنٹ بینک (این ڈی بی ) کے قیام ، کنٹن جنٹ ریزرو ارینجمنٹ (سی آر اے ) کی تشکیل برکس ممالک کی معاشی شراکتداری اور سیاسی اور سلامتی کے تعاون سمیت متعدد امور کے مفید مطلب نتائج سے انتہائی اطمینان اورتشفی حاصل ہوئی ہے ۔
5۔ اپنے اوفا (یو ایس اے ) اورگوا کے اجتماعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اپنے عوام کی فلاح کے لئے برکس کی حکمتی شراکتداری میں مزید اضافے کے لئے مل کر کام کریں گے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم سابقہ مفید مطلب نتائج اور اپنے اجتماعات کے اتفاق رائے کے تئیں عہد بستگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ برکس کے تعاون اوراتحاد کی دوسری سنہری دہائی کو حقیقی بنانے کے لئے مل کر کام کریں گے۔
6۔ اپنے وسیع ترترقیانی تناظر پر یقین رکھتے ہوئے اور اپنے وسیع تر امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں برکس کے روشن مستقبل پر پورا اعتماد ہے اور ہم اپنے بنیادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے تئیں عہد بستہ ہیں۔
– ہم درج ذیل امور کے تئیں اپنی مضبوط عہد بستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہم ترقیات پر اپنے تجربات اوربہتر طریقوں کے باہمی لین دین اور بازار سے متصل رابطوں کو فروغ دینے اور باہمی وابستگی کے ساتھ ترقی کے حصول کے لئے ڈھانچہ جاتی سہولیات اور مالیاتی تال میل کو فروغ دینے کا عہد کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں ہم ای ایم ڈی سی ملکوں کے ساتھ وسیع تر شراکتداری کی سمت میں سرگرمی کے ساتھ کام کریں گے اور اس سلسلے میں مذاکرات اور غیر برکس ممالک کے ساتھ تعاون کی خاطر مذاکرات کی پیش رفت اور لچک دار طریقے اختیار کریں گے ، جو برکس پلس کوآپریشن کے تحت کیا جائے گا ۔
۔ہم عالمی معاشی انتظام وانصرام میں بہتری پیدا کرنے کے لئے روابط اورتال میں اضافہ کریں گے تاکہ حق بجانب مساوی بین الاقوامی معاشی نظام کو فروغ دیا جاسکے ۔ہم عالمی معاشی نظام میں برکس ممالک اور ای ایم ڈی سی ملکوںکی نمائندگی میں اضافے کےلئے کام کریں گے ۔
اورایک کشادہ اجتماعی اورمتوازن معاشی عالمگیریت کے فروغ کے لئے کوششیں کریں گے ،جس سے ای ایم ڈی سی ملکوں کی ترقیاتی سرگرمیوں میں تعاون کیا جاسکے اور شمال جنوب عدم توازن کے سد باب اور عالمی نمو پر توجہ دی جاسکے ۔
۔ہم بین الاقوامی اورعلاقائی امن واستحکام کے تحفظ کے لئے انصاف اور مساوات پر زور دیں گے ۔ ہم ایک صاف ستھرے اور مساوات پر مبنی ایسے بین الاقوامی نظام کی پاسداری کریں گے، جو اقوام متحدہ کے مرکزی کردار ، اقوام متحدہ کے چارٹرڈ میں شامل اصولوں اور مقاصد ،بین الاقوامی قوانین کے احترام ،جمہوریت کے فروغ اور بین الاقوامی مراسم میں قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو اور اس کے لئے مشترکہ روائتی اور غیر روایتی سلامتی خطرات کے سد باب کے لئے مل کر کوششیں کریں گے تاکہ عالمی برادری کے لئے ایک روشن مشترکہ مستقبل کو ممکن بنایا جاسکے ۔
۔ہم ثقافتی تنوع کو فروغ دیں گے اس کے ساتھ ہی روایتی دوستانہ مراسم میں گہرائی پیداکرکے برکس ممالک میں تعاون کے لئے مزید مقبو ل حمایت حاصل کریں گے۔ ہم سبھی سمتوں میں عوام سے عوام کے رابطوں کو وسعت دیں گے ، برکس ممالک میں تعاون میں شراکتداری کے لئے سماج کے سبھی حلقوں کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔ ہماری ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان باہمی درس وتدریس کو فروغ دیا جائے گا اوراپنے عوام میں باہمی مفاہمت اورروابط میں اضافہ کیا جائے گا اس کے ساتھ ہی روایتی دوستانہ مراسم کو فروغ دیا جائے گا تاکہ برکس کی شراکتداری کو عوام کے دلوں سے مزیر قریب کیا جاسکے ۔
۔برکس عملی ،معاشی تعاون
7۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ٹھوس عالمی معاشی نمو کے تناظر کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی ہے اورنئے عوامل وجود میں آئے ہیں ۔ اس لئے برکس ممالک عالمی نمو کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اورموجودہ غیر یقینی صورتحال اور خطرات کو پیش نظررکھتے ہوئے ہم ان داخلی پالیسیوں اور رجحانات کے تئیں خبردار رہیں گے ، جو عالمی نمو کے امکانا ت پر مضراثرات مرتب کررہے ہیں اور بازار کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں ۔ہم دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی ضرورتوں اور ڈھانچہ جاتی پالیسیوں کے تعلق سے ہم سے رابطہ کاری کریں اور پالیسی کے تال میل کے نظام کو مستحکم کریں ۔
8۔ہم نے دیکھا ہے کہ عملی معاشی تعاون نے روایتی طورسے برکس ممالک کے درمیان تعاون کی بنیاد فراہم کی ہے ، جو برکس معاشی شراکتداری اوراس کے ترجیحی شعبوں سے وابستہ اقدامات سے متعلق رہے ہیں جن میں تجارت اورسرمایہ کاری ، سازوسامان کی تیاری اور معدنیات کی افزودگی ،ڈھانچہ جاتی رابطہ کاری ،مالیاتی مربوطیت ،سائنس ، ٹکنالوجی اورجدت طرازی نیز انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹکنالوجی (آئی سی ٹی ) کے شعبوں میں تعاون شامل ہے ۔
ہم برکس معاشی شراکتداری کی حکمت عملی پر عمل آوری کی پہلی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں اور شعبہ جاتی وزارتی اجتماعات کے نتائج کے وسیع تر فوائد کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ہم اپنی معیشتوں کے امکانات اوراستحکام میں فروغ کے لئے ترقیاتی حکمت عملی اورمالی اور ڈھانچہ جاتی تمام تر طریقوں کے تئیں عہد بستہ ہیں تاکہ ایک مضبوط ، پائیدار ،متوازن اورمجموعی عالمی نمو کا وجود ممکن بنایا جاسکے ۔ برکس ممالک کے تما م تر معاشی امکانات کو بروئے کارلاتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کارانہ تعاون کے اضافہ شدہ رول پر زور دیتے ہوئے ہم تجارتی سرمایہ کارانہ تعاون کے نظام میں بہتری پیداکرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کرتے ہیں تاکہ برکس ممالک کی معیشت کو ہمہ جہت اورمتنوع بنایا جاسکے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم ساتویں برکس تجارتی وزارتی اجلاس کے نتائج کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں اور تجارتی اور سرمایہ کارانہ فروغ اور رابطہ کاری کے خطوط معین کئے جانے کی بھی خیر مقدم کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں اضافہ شدہ پالیسی شراکتداری اطلاعات کے باہمی تبادلے ، اہلیت سازی کے ذریعہ تجارتی خدمات ،ای -کامرس ، برکس ممالک کے درمیان آئی پی آر ، معاشی اورتکنیکی تعاون ، ایس ایم ای اور خواتین کو معاشی طور سے بااختیار کئے جانے کے خطوط معین کئے جانے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں ۔ مزید برآں ہم برکس کی ای –پورٹ نیٹ ورک قائم کئے جانے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں، جورضاکارانہ طور پر کا م کرے گا ۔اس کے ساتھ ہی ہم برکس ای- کامرس ورکنگ گروپ کی تشکیل کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم 2018 میں انٹر نیشنل امپورٹ ایکسپو کی میزبانی کی پیش کش کی تجویز کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کے کاروباری سماجوں سے اس میں عملی طور سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتے ہیں۔
10۔ہم حقیقی معیشت کی بہترخدمت اور برکس ممالک کی ترقیاتی ضرورتوں کی تکمیل کرنے کے لئے برکس مالیاتی تعاون میں اضافے پرزوردیتے ہیں ۔ ہم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی ) پر تعاون کے سلسلے میں وزیر مالیات اور مرکزی بینک کے گورنروں کے ذریعہ پی پی پی تجربات اور پی آئی پی کے فریم ورک پر اچھے کاموں کے وسیلے سے اس معاہدے پرتوجہ مرکوز کی ہے ۔ ہم قومی تجربات کو لے کر ایم ڈی بی کی موجودہ کی سہولیات کے استعمال سمیت ایک نیا پی پی پی پروجیکٹ فنڈ اور دیگر متبادل کے قیام اور امکان سمیت تعاون کے مختلف طور طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کی غرض سے ایک عارضی ٹاسک فورس کے قیام کی ضرورت کو قبول کرتے ہیں ۔ ہم اپنے حسابیاتی معیارات کو تیار کرنے والوں اور آڈٹ ریگولیٹروں کے ذریعہ تعاون اور تال میل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی نافذالعمل قومی قوانین اور پالیسیوں کے سلسلے میں بانڈ جاری کرنے کے شعبے میں آڈٹ کی جانچ میں تعاون پرتبادلہ خیال کرنے اور برکس ملکوں کے بیچ بانڈ مارکیٹ رابطہ کاری کی بنیاد رکھنے کو لے کر تبادلہ خیال پر اتفاق کرتے ہیں۔ ہم برکس ملکوں کے مقامی کرنسی بانڈ بازاروں کے فروغ اور برکس مقامی کرنسی بانڈ فنڈ کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کرتے ہیں ۔ اس سے برکس ملکوں میں مالیاتی ضرورتوں کی تکمیل کی خاطر پونجی کے استقلال میں تعاون کے طور پر برکس گھریلو اور علاقائی بانڈ بازاروں کی ترقی میں اضافہ سمیت غیر ملکی پرائیویٹ سیکٹر کی شراکتداری میں اضافے اور برکس ملکوں کے مالیاتی لچیلے پن کو بڑھانے میں بھی اتفاق کرتے ہیں ۔
11۔ برکس ملکوں کی تجارت اور سرمایہ کاری کی تیزی کے ساتھ ترقی کے سبب پیدا ہونے والی مانگوں کو پورا کرنے کے لئے ہم مالیاتی اداروں کے نیٹ ورک میں اضافہ کرنے اور برکس ملکوں کے اندر مالیاتی خدمات کے کوریج کے وسیلے سے مالیاتی بازار وں کو یکجا کرنے کی سہولت پر بھی متفق ہیں ۔ اس کا مقصد ہر ملک کے موجودہ ریگولیٹری ڈھانچے اور عالمی تنظیم تجارت کی ذمہ داریوں کے تحت مالیاتی شعبے کے ریگولیٹروں کے درمیان مزید مواصلت اورتعاون کو یقینی بنانا ہے ۔ منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کی مالی طور سے مدد کرنے اور ایف اے ٹی ایف میں توسیع کے خلاف بین الاقوامی معیارات میں سدھار اور پرورش میں سرگرم طریقی سے حصہ لینا چاہتے ہیں ۔قومی مالیاتی نظام کی یکجائی کے تحفظ ، اے ایم ایل /سی ایف ٹی پر قائم برکس سربراہوں کے درمیان تعاون کے ذریعہ اس کام کو انجام دیا جائے گا۔ہم ہرمرکزی قومی بینک کے قومی عوامی فیصلے کے مطابق مالیاتی تعاون میں اضافے کے لئے قریبی طور سے مذاکرات کرنے پر بھی متفق ہیں ۔ جس میں کرنسی کے تبادلے مقامی کرنسی ادائیگی اور جہاں مناسب ہو مقامی کرنسی کی راست سرمایہ کاری اورکرنسی تعاون کے زیادہ سے زیادہ خاکوں کا پتہ لگانا شامل ہے ۔برکس مالیاتی اورتجارتی تعاون کی حمایت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لئے ہم برکس انٹر بینک کوآپریشن سسٹم کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ہم برکس ملکوں کے قومی ترقیاتی بینکوں میں انٹر بینک ، لوکل کرنسی کریڈٹ لائن پر کریڈٹ ریٹنگ کے تعلق سے انٹر بینک تعاون پر معاہدے کے مفاہمت نامے پر کی جانے والی ترقی کی بھی ستائش کرتے ہیں ۔
12۔ ہم وسطی اورطویل مدتی معاشی ترقی اور مستقل عالمی ترقی کے اہم کنڈکٹروں کی شکل میں نیا پن پیدا کرنے کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں ۔ ہم اپنی پانچ معیشتوں کے لئے نئی ترقی کی رفتار سے استفادہ کرنے کی غرض سے سنرجی بنانے کے لئے سائنس ،ٹکنالوجی اور نئے پن (ایس ٹی آئی ) پر تعاون کو بڑھاوا دینے کے لئے بھی عہد بستہ ہیں ۔ہم ترقی کے ان چیلنجوں کا سامنا کرنا جاری رکھیں گے جو ہمیں راہ میں درپیش ہوں گے ۔ برکس ایس ٹی آئی فریم ورک پروگرام کے تحت ہم برکس تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب کی ستائش کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی منصوبوں کے لئے دیگر طریقے اختیار کرنے پر بھی توجہ دیتے ہیں ۔ ہم برکس ایس ٹی آئی کو آپریشن ایگریمنٹ کے مفاہمت نامے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ ٹکنالوجی کی منتقلی کو بڑھاوا دینے ، محققین ، کاروباریوں ، پیشہ ور افراد اور طلبا کی تیز رفتاری کے ساتھ سائنس اور ٹکنالوجی پارکوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ اسے نئی شکل دینے اورکاروباریت پر بہتر تعاون کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہم اس عمل میں تعلیم، کاروبار ،شہری سماج اور دیگر دعوے داروں کی بڑھتی شراکتداری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ساتھ ہی این ڈی بی سمیت موجودہ مالیاتی امداد اور پلیٹ فارموں کے وسیلے سے ایس ٹی آئی سرمایہ کاری اور سرحد پار سے ہونے والی سرمایہ کاری کی تشہیر کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہم کاروباریت اور نئے پن کی خاطر تعاون کے پلیٹ فارم پر کام کرنا جاری رکھیں گے اور برکس انوویشن کوآپریشن ایکشن پلان 20-2017 پر عمل درآمد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
13۔ ہم صنعتی صلاحیتوں اور پالیسیوں ، نئے صنعتی ڈھانچے اورمعیارات نیز چھوٹے ، بہت چھوٹے اور اوسط درجے کے کاروبار (ایس ایم ایم ای ) میں برکس صنعتی تعاون کے تئیں اپنی عہد بستگی کی تصدیق کرتے ہیں تاکہ نئے صنعتی انقلاب اور ہمارے صنعتی عمل میں تیزرفتاری پید ا کی جاسکے ۔ ہم برکس انسٹی ٹیوٹ آف فیوچر نیٹ ورک کے قیام کے امکانات کی تلاش کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم آئی سی ٹی میں مشترکہ برکس تحقیق ،ترقی اور جدید کاری کو آگے بڑھائیں گے ،جس میں انٹر نیٹ ، کاؤڈ کمپیوٹنگ ، بگ ڈاٹا ، ڈاٹا اینالیٹکس ، نینو ٹکنالوجی ، آرٹی فیشیل انٹیلی جنس اورپانچ جی اور اس کے جدید تجربات کے ساتھ ساتھ ہمارے ملکوں میں آئی سی ٹی بنیادی ڈھانچے پر رابطہ کاری کے معیار میں اضافہ ہوگا ۔ ہم آئی سی ٹی بنیادی ڈھانچے ،ڈاٹا سکیورٹی اور انٹرنیٹ کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی سطح پر نافذ قاعدوں کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہیں جسے سبھی متعلقہ فریقوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر منظور کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک محفوظ نیٹ ورک بنانے کے لئے مشترکہ طور سے بھی محفوظ ہے ۔ہم آئی سی ٹی کی سرمایہ کاری میں اضافہ کریں گے ، آئی سی ٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت کو سمجھیں گے ۔ مال اور خدمات میں جدید کاری کی تیز رفتاری کو اجاگر کریں گے۔ ہم اسمارٹ سٹیز اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں میں نئے حل تلاش کرنے کے لئے آئندہ نسل کی ترقی کے وسیلے سے آئی سی ٹی ہارڈ وئیر ،سافٹ ویئر اور ہنر میں تکمیلی طاقتوں کا فائدہ اٹھاکر اندازہ کاریوں کے ثبوت اور پائیلٹ پروجیکٹوں کی عمل آوری میں اداروں ،تنظیموں اور صنعتوں کے بیچ شراکتداری کی شناخت انرجی ڈیوائس وغیر ہ کی سہولت کو کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ہم برکس آئی سی ٹی ریسرچ ایجنڈہ اور ایکشن پلان کے نفاذ میں سرگرم تعاون کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
14۔ہم حقیقی ترقی کے لئے 2030 کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے اپنی عہد بستگی کی تصدیق کرتے ہیں ۔ہم ایک متوازن اور یکجائی کے طریقے سے اقتصادی ،سماجی اور ماحولیات ، اپنی تین سمتوں میں پائیدار ترقی حاصل کرنے کے لئے حق بجانب ، شفاف ، مجموعی اور جدت طرازی سے چلنے اور مجموعی ترقی کی بھی حمایت کریں گے ۔ ہم 2030 کے ایجنڈے پر عالمی عمل درآمد میں تال میں اورجائزہ کاری میں اعلیٰ سطحی پولیٹکل فورم آن سسٹینیبل ڈیولپمنٹ (ایچ ایل پی ایف ) سمیت اقوام متحدہ کے اہم رول کی حمایت کرتے ہیں ۔اس کےساتھ ہی اقوام متحدہ کے ترقیاتی نظام میں مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ ہم 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ میں ممبر ملکوں کی اہلیت کی حمایت کرتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ملکوں سے بروقت اور پوری طرح اپنی قانونی ترقیاتی مدد کی عہد بستگیوں کا احترام کرنے اور ترقی پذیر ملکوں کے لئے زیادہ ترقیاتی وسائل مہیا کرانے پر زور دیتے ہیں ۔
15۔مالیاتی ترقی کے لئے توانائی کی حکمتی اہمیت کی خاکہ سازی کرتے ہوئے ہم مانتے ہیں کہ توانائی پر برکس باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے تئیں عہد بستہ ہیں ۔ ہم مانتے ہیں کہ کرہ ارض کے آسودہ حال اور مستقبل کے لئے پائیدار ترقی ،توانائی کی رسائی اور توانائی کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ ہم توانائی اور صاف ستھری قابل تجدید توانائی کو سبھی کے لئے کفائتی طور سے دستیاب کرائے جانے کو بھی اہم تصور کرتے ہیں ۔ اس کے لئے ٹکنالوجی کے کھلے ،لچیلے اورشفاف بازاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کریں گے ۔ ہم فاسلز فیوئل ،گیس ،پن بجلی اور ایٹمی توانائی کے سب سے موثر استعمال کو بڑھاواد ینے کے لئے مل کر کام کریں گے ، جو گیسوں کے کم اخراج کی معیشت ،توانائی تک بہتر رسائی اور پائیدار ترقی کی سمت میں تبدیلیوں کے لئے اپنی خدمات پیش کریں گے ۔ اس سلسلے میں ہم غیر فوجی ایٹمی توانائی کی اہلیت میں توسیع کے لئے تکنیک اور مالیہ تک رسائی میں پیشگی اندازہ کاری کی اہمیت کی خاکہ سازی کریں گے ،جو برکس ملکوں میں حقیقی ترقی کے لئے معاون ثابت ہوگا ۔اس کے ساتھ ہی ہم برکس انرجی ریسرچ کوآپریشن پلیٹ فارم کے قیام پر مذاکرات کی بھی مسلسل حوصلہ افزائی کرتے ہیں اورتوانائی معاونت اوراہلیت پر مشترکہ تحقیق کو آگے بڑھانے کے لئے متعلقہ اداروں سے گزارش کرتے ہیں ۔
16۔ ہم حقیقی ترقی اور غریبی کے خاتمے کے حوالے سے ترقی اور کاربن گیسوں کے کم اخراج کی معیشت کو بڑھاوادینے کے تئیں عہد بستہ ہیں ۔ہمیں تبدیلی ماحولیات پر برکس تعاون میں اضافہ کرنے اورگرین فائننشیل اسسٹنس میں توسیع کرنی ہے ۔ ہم سبھی ملکوں سے تبدیلی ماحولیات پر اقوام متحدہ کے یونائٹیڈ نیشن فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے اصولوں کے تحت اختیار کئے گئے معاہدے پر پوری طر ح عمل آوری پر زور دیتے ہیں ۔ اس میں عام لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ اہلیتوں کے اصول شامل ہیں ۔ساتھ ہی ہم ترقی یافتہ ملکوںسے مالیاتی ، تکنیکی اور اہلیت دستیاب کرانے کی گزارش کرتے ہیں ۔
17۔برکس ملکوں کی پائیدار ترقی اور اپنے عوام کی فلاح کے لئے ماحولیاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہم ہوائی اور آبی آلودگی ،کچرے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے نظام و حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے شعبوں میں نتیجہ خیر تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کرتے ہیں ۔ہم ایک ماحولیاتی شوروغل کے انتظا م کی ٹکنالوجی کے پلیٹ فارم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں ۔ساتھ ہی شہری ، ماحولیاتی پائیداری میں سدھار اوراس سلسلے میں برکس مشترکہ کوششوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ برازیل ،روس ، ہندوستان اور جنوبی افریقہ 2020 میں حیاتیاتی تنوع کی کانفرنس کے اہتمام کے لئے چین کی جانب سے کی جانے والی پیش کش کی ستائش کرتے ہیں۔
18۔گزشتہ برسوں کے دوران فائدہ مند زرعی تعاون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم زرعی فروغ میں اور اس شعبے میں برکس کی منفرد خصوصیات اور وسیع تر تعاون کی ستائش کرتے ہیں۔اس سلسلے میں ہم بنیادی شعبوں یعنی غذا ورسد اورتبدیلی ماحولیات کے تئیں زراعت کی مطابقت ،زرعی ٹکنالوجی تعاون اور جدت طرازی ،زرعی تجارت وسرمایہ کاری نیز مستقل عالمی زرعی ترقی میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے زراعت کے شعبے میں آئی سی ٹی تجربات اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے باہمی تعاون میں مزید گہرائی پیداکرنے کے لئے ہم سب متفق ہیں ۔ ہم ہندوستان میں برکس ایگری کلچر ل ریسرچ پلیٹ فارم اور ایک ورچوول نیٹ ورک کے تال میل کے مرکز کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں، جو ان بنیادی اہمیت والے شعبوں کے مسائل کے حل میں مدد کرے گا۔
19۔ہم افریقی براعظم کے ذریعہ آزاد اور مستقل ترقی حاصل کرنے میں جنگلاتی حیاتیات کے تحفظ کو درپیش چیلنجوں کے تئیں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہم جنوبی افریقہ کے ساتھ تعاون کو اور زیادہ مضبوط بنانے اور اس براعظم کو جنگلی جانوروں کی غیرقانونی تجارت کو روکنے ،روزگار میں اضافہ کرنے ، غذائی سلامتی ،بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطہ کاری وترقیاتی پہلوؤں اور منصوبوں سمیت صنعتی عمل میں تعاون کے لئے اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہیں ۔ ہم افریقی وفاق کے ذریعہ امن اور سماجی اقتصادی ترقی کے لئے اس کے براعظمی ایجنڈے پر کام کرنے کی غرض سے ایجنڈہ 2063 کے تحت اس کے مختلف پروگراموں پر عمل آوری کے لئے اپنی پرزور حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں۔
20۔مستقل ترقی پر بدعنوانی کے منفی اثرات سے واقف رہتے ہوئے ہم برکس انسداد بدعنوانی تعاون کو فروغ دینے کے لئے اپنی حمایت پیش کرتے ہیں۔ ہم برکس ملکوں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے ایک کمپینڈئیم کی تشکیل کے لئے مذاکرات اور اپنے تجربات کو آپس میں بانٹنے کے لئے پوری طرح سے عہد بستہ ہیں۔ہم ایک بار پھر اپنی اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ بدعنوانی سے کمائے گئے سرمائے کا غیر قانونی کاروبار ،معاشی ترقی اورمالیاتی استحکام پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے ۔اسی لئے ہم ایسنٹ ریکوری میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہم برکس انسداد بدعنوانی ایکشن گروپ کے وسیلے سے بدعنوانی کے خلاف اور ایسنٹ ریکوری اوربدعنوانیوں سے متعلق مسائل پر بین الاقوامی تعین کو مضبوط بنائے جانے کے لئے اپنی حمایت دیتے ہیں۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ غیر قانونی طریقے سے کمایا گیا سرمایہ اورمالیاتی لین دین اور بیرون ملک جمع غیر قانونی اثاثے ایک عالمی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں جو اقتصادی فروغ اورپائیدار ترقی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے ۔ اس سلسلے میں ہم نہ صرف اپنا تعاون دیتے رہیں گے۔ ہم بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ اعلیٰ سطحی مذاکرات اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی قانونی طریقوں کی بنیاد پر بدعنوانی کو روکنے اور اسے ختم کرنے کے لئے ایک مضبوط عالمی متبادل کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
21۔آج کے ڈجیٹل معاشی نظام کے دورمیں ہم ان مواقع کا فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں جو ہمیں اس سے دستیاب ہوں گے اور عالمی ترقی کے لئے اس سے ابھرنے والے چیلنجوں سے مقابلے کے لئے بھی ہم سب تیار ہیں ۔ ہم جدت طرازی ،شراکتداری ،تعاون ، فلیکسیبلٹی ، بے روک اور فائدے مند تجارتی پس منظر کے اصول کی بنیاد پر کام کریں گے تاکہ پھلتی پھولتی اور فعال ڈجیٹل معیشت کے لئے معقول فضا ہموار کئے جانے کو یقینی بنایا جاسکے ، جس کے نتیجے میں عالمی معاشی ترقی میں مزید اضافہ ہوگا اور سبھی کو اس کا فائدہ حاصل ہوگا۔
22۔ہمارے بنیادی ڈھانچے ، تعمیرات ، توانائی ،زراعت ، مالی خدمات ، ای – کامر س ،تکنیکی معیارات کی یکجائی اورہنر مندی کے فروغ نے ہمارے معاشی تعاون کو مضبوطی فراہم کرائے جانے کی غرض سےہم برکس بزنس کونسل اینڈ بزنس فورم کی کوششوں اور خدمات کی ستائش کرتے ہیں ۔ ہم بزنس کونسل کے فریم ورک میں رہتے ہوئے زونل ایوی ایشن پرایک ایکشن گروپ کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس سلسلے میں زونل ایوی ایشن میں شراکت داری پر برازیل کے ایم اویو کی تجویز کو قبول کرتے ہیں۔ برکس ممالک کے تعاون میں سرگرم طریقے سے شراکت کرنے کی غرض سے ہم بزنس کمیو نٹی اورایسوسی ایشنو ں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور باہمی مفید مطلب تعاون کو برھاوا دینے کے لئے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن اداروں کی شکل میں انہیں اپنا کردار پوری طرح سے نبھانے کا موقع دیتے ہیں ۔
23۔لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان سے دستیاب ہونے والے مواقع اور اس کے چیلنجوں کی اہمیت سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ہم انسانی وسائل ،روزگار اور سماجی سلامتی ، مضبوط لیبر مارکیٹ ،انفارمیشن سسٹم اور برکس لیبر ریسرچ انسٹی ٹیوشن اوربرکس سماجی سلامتی تعاون فریم ورک کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لئے ہم برکس تعاون کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ترقی سے مطمئن ہیں ۔ ہم مستقبل کے کاموں میں انتظامیہ پر برکس کامن پوزیشن کی کامیابیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مکمل روزگار کو یقینی بنانے کی غرض سے قابل ذکر کاموں کو بڑھاوا دینے میں ہنر مندی کے فروغ کے ذریعہ غریبی کے خاتمے ہمہ جہت عالمی اور مستقل سماجی سلامتی نظاموں میں مزید تعاون کرنے اور اپنے نظریات کا باہمی لین دین کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔
24۔جدت طراز اقدامات کو بڑھاوا دینے اور ہمارے صارفین کو معیاری اور مفید مطلب مصنوعات فراہم کرانے کی غرض سے ہمارے ملکوں کی بہترین سماجی اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کی غرض سے ہم کمپٹیشن پروٹیکشن کی اہمیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں ۔ ہمیں اپنے ملکوں کی کمپٹیشن اتھارٹیز کے درمیان انٹریکشن کی اہمیت کا بھی بخوبی احساس ہے ۔ خاص طورسے رسٹریکٹو بزنس پریکٹسیز کی شناخت کے لئے بھی یہ انتہائی اہمیت کی حاصل ہے کیونکہ اس کی نوعیت سرحد پار کے موضو ع کی ہے ۔
25۔ہم برکس کسٹم کوآپریشن کمیٹی اور برکس کسٹم ایکشن گروپ سمیت کسٹم ایڈ منسٹریشن کے ذریعہ تجارت کی سہولت سلامتی، اہلیت سازی کے فروغ اور آپسی مفاد کے موضوعات پر دئے جانے والے تعاون کے نتیجے میں حاصل ترقی سے مطمئن ہیں ۔ ہم اطلاعات کے باہمی لین دین ، کسم کنٹرول کو باہمی طور سے منظور کرنے اور تبدیلی میں باہمی امداد کرنے کے لئے رہنما اصولوں کے تحت وسیع تر تعاون کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ترقی اور عوام الناس کی فلاح کو بڑھاوادیا جاسکے ۔کسٹم سے متعلق موضوعات میں باہمی تعاون کو مزید پختہ کرنے کی غرض سے ہم برکس کسٹم میوچول اسسٹنس ایگریمنٹ کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی عہد بستگی کا اعادہ کرتے ہیں۔
26۔ہم پُر امن مقاصدکے لئے آؤٹراسپیس یوٹلٹی کے اصول کی پابندی کرتے ہیں اور خَلا کی سرگرمیوں می بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ ہم تبدیلی ماحولیات ، ماحولیاتی سلامتی ، آفات ناگہانی کی روک تھام اوربچاؤ کے کاموں اور بنی نوع انسان کو درپیش دیگر چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے اسپیس ٹکنالوجی جا استعمال کیا جاسکے ۔
27۔ہم ناگہانی آفات سے بچاؤ اورراحت کے انتظام کے لئے برکس ملکوں کے وزیروں کی سینٹ پیٹرس برگ اور اودے پور اعلامیوں کو اور ناگہانی آفات کے خطرات کے انتظام پر ایک جوائنٹ برکس ایکشن فورس قائم کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ہم برکس ملکوں کی ہنگامی خدمات میں مشترکہ طور سے کام کرنے کی اہمیت پر زوردیتے ہیں جو کہ قدرتی اور انسانی غلط کاموں سے ہونے والی آفات سے موثرطریقے سے سامان کرنے کے لئے پیشگی اندازہ کاری اور پیشگی انتباہات کے شعبے میں ڈزاسٹر رسک مینجمنٹ اینڈ کوآپریشن سے متعلق بہترین طریقوں پر اطلاعات کے باہمی لین دین کرنے سمیت موجودہ ناگہانی آفات کے خطرات کو کم کرکے ایک محفوط مستقبل کو یقینی بنانے کے نشانے کے تئیں عہد بستہ ہیں ۔
28۔ہم آڈٹ ،اسٹیٹس ٹکس اور ایکسپورٹ کریڈٹ جیسے شعبوں میں برکس تعاون کے فروغ سے مطمئن ہیں اور ان شعبوں میں باہمی تعاون میں مزید اضافہ کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔
عالمی معاشی ذیلی انتظامیہ
29۔ہم ایک عالمی معاشی انتظامیہ کے ڈھانچے یعنی گلوبل اکنامک ایڈ منسٹریشن آر کی ٹیکچر کے قیام کے لئے عہد بستہ ہیں ، جوموجودہ عالمی منظر نامے کے نشانے معین کرنے میں ابھرتے بازاروں اورترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی کی آواز کو بلند کرنے میں انتہائی کارگر ہے ۔ ہم 2019 کے اسپرنگ سیشن کے اجلاس تک سالانہ میٹنگو ں سے پہلے ایک نئے کوٹے کے فارمولے سمیت آئی ایم ایف کے ذریعہ پندرہویں جنرل کوٹہ ریویو کئے جانے کی اپنی عہد بستگی کا اعادہ کرتے ہیں ۔ ہم ورلڈ بینک گروپ شئیر ہولڈنگ پر عمل آوری کو بڑھاوا دیتے رہیں گے۔
30۔ ہم اسٹیبل گروتھ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لئے ایک کشادہ اور بھروسے مند مالیاتی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور پونجی کے بہاؤ یعنی کیپٹل فلو کا بہتر فائدہ حاصل کرنے اور زیادہ سے زیادہ سرحد پار کے کیپٹل فلو اور اتار چڑھاؤ سے پیدا شدہ خطروں سے مقابلوں کے لئے تیار ہیں۔ برکس سی آر اے برکس فائننشیل کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے ،جو عالمی مالیاتی تعاون اور ترقی میں بھی اپنا رول ادا کرتا ہے ۔ ہم مائیکرو اکنامک انفارمیشن (سی ای ایم آئی ) میں سی آر اے کے قیام کا اور سی آر اے کی تحقیقی اہلیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور آئی ایم ایف اور سی آر اے کےدرمیان زبردست تعاون میں اضافے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔
31۔ہم جنوبی افریقہ میں شروع کئے گئے این ڈی بی افریقن زونل سینٹر کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں جو اس کا پہلا علاقائی بینک ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ہم پروجیکٹ پری پریشن فنڈ کے قیام اور پروجیکٹ کے دوسرے بیچ کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ہم بینک کا اپنے مستقل مرکزی دفتر کی تعمیر کے لئے فائدہ مند فیصلہ لینے کے لئے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ہم برکس ملکوں میں زبردست مالیاتی معاہد وں اور شراکتداریوں کو بڑھاوادینے کے لئے بنیادی ڈھانچے سے رابطہ کاری پر زور دیتے ہیں ۔ ہم این ڈی بی کو اس کا رول پوری طرح سے نبھانے اور وسائل کو موبیلائز کرنے میں تعاون قائم کرنے اور برکس ملکوں کی تشکیل وتعمیر اور مستقل ترقی کو بڑھاوادینے کی غرض سے عالمی بینک اورایشین انویسٹمنٹ بینک نیز برکس بزنس کونسل سمیت ہمہ جہت ترقیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے پر زور دیتے ہیں۔
32۔ہم ایک ایسی بے روک اورمجموعی عالمی معیشت کی اہمیت پر زوردیتے ہیں، جس سے کہ سبھی ملک اوران کے عوام عالمی سطح پر اپنے نظریات اورتصورات کا لین دین کرسکیں ۔ ہم اصولوں پرمبنی شفاف اور غیر جانبدار ،بے روک مجموعی اورہمہ جہت ٹریڈنگ سسٹم کے تئیں پوری طرح سے عہد بستہ ہیں ۔جیسا کہ عالمی تنظیم وتجارت میں ذکر کیا گیا ہے ۔ ہم بالی اورنیروبی ایم سی ایم نتائج پر عمل آوری میں رفتار پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں اور اس سال ارجنٹینا میں منعقد کئے جانے والے عالمی تنظیم تجارت کے وزارتی سطح کے اجلاس کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہم تحفظاتی طریقہ کار کا پوری طرح سے بائیکاٹ کرتے رہیں گے اس کے ساتھ ہی ہم تحفظات نواز پالیسیوں کو روکنے اور انہیں ختم کرنے کے لئے ایک بار پھر اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہیں اور دیگر برکس ممالک سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے اس عہد کے تئیں وابستگی کا اظہار کریں۔
33۔ہم بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے لئے ایک انتہائی فعال فورم کے طورسے جی -20 کے مسلسل رول کا احترام کرتے ہوئے ہیمبرگ سربراہ اجلاس اور ہینگزو سربراہ اجلاس سمیت جی -20 کے تما م اعلیٰ سطحی اجتماعات کے نتائج پر عمل آوری کے لئے اپنی عہد بستگی کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں ۔ ہم جی -20 ملکوں سے ای ایم ڈی پر بیرونی حملوں اور منفی اثرات کو کم کرنے کی غرض سے مائیکرو اکنامک پالیسی تال میل کو مزید وسعت دینے کی گزارش کرتے ہیں ۔ جی -20 عمل اورنتائج سے ای ایم ڈی ای ملکوں کے مفادات اورترجیحات کو مستحکم بنانے کی غرض سے ہم 2018 میں ارجنٹینا پریزینڈنسی کے تحت تال اورتعاون میں اضافہ کئے جانے سے اتفاق کرتے ہیں۔
34۔ہم ایک معقول اور جدید عالمی ٹیکس نظام قائم کرنے اورخوش انتظام مساوی ترقی نواز اور ماہر بین الاقوامی ٹیکس کی فضاکو بڑھاوا دینے اور بیس اروژن اینڈ پرافٹ شفٹنگ (بی ای پی ایس) کے مسئلے کے حل سے متعلق ٹیکس اطلاعات کے لین دین کو برھاوا دینے اور ترقی پذیر ملکوں میں اہلیت سازی میں سدھار لانے کے لئے تعاون کو مزید گہرا بنانے کے اپنے عہد پر قائم ہیں۔بین الاقوامی ٹیکس قاعدے مقرر کرنے اور ہرملک کی ترجیحات کے مطابق دیگر ترقی پذیر ملکوں کو مستقل اورموثرتکنیکی امداد دستیاب کرانے کی غرض سے برکس کی خدمات اورتعاون بڑھانے میں ہم برکس کے ٹیکس نظام کو مضبوط بنائیں گے ۔
عالمی امن اور سلامتی :
35۔دنیا میں ہونے والی سنگین تبدیلیوں اور عالمی برادری کے ذریعے محسوس کئے جانے والے خطرات سے بخوبی واقف رہتے ہوئے،
ہم بین الاقوامی امن اور سلامتی سے متعلق مسائل پر بین الاقوامی پلیٹ فارمو ں پر مواصلت اور تعاون بڑھانے کے لئے عہد بستہ ہیں ۔ ہم اپنی اس بات پربھی قائم ہیں جو ہم نے عالمی امن کی حفاظت کے طریقوں کے لئے بین الاقوامی قانون اور دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنےاور ان کی خود مختاری کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے چیپٹر کے ضابطوں اور اصولوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کی گئی تھی ۔
36۔ہم 27-28 جولائی 2017 کے دوران بیجنگ میں منعقد برکس ہائی ری پریذینٹیٹو فار سکیورٹی ایشوز کے ساتویں اجلاس کا احترام کرتے ہیں اور عالمی انتظامیہ وحکمرانی ، کاؤنٹر ٹیررزم ، آئی سی ٹی کے استعمال میں تحفظ ، توانائی کی سلامتی ، اہم بین الاقوامی اورعلاقائی ہاٹ اسپاٹس اورقومی سلامتی وترقی پرمنعقد اجلاس میں تبادلہ خیال کرنے اورمشترکہ سمجھ میں اضافہ کرنے والے اجلاس کی ستائش کرتے ہیں ۔ ہم مندرجہ بالا شعبوں میں منظور کئے گئے عملی سلامتی تعاون کو بڑھانے کی امید کرتے ہیں ۔
37۔ ہم 19-18 جو ن 2017 کے دوران چین کی پہل پر بیجنگ میں برکس منسٹر دی فارن افئیرز / انٹرنیشنل رلیشنز کے وزارتی اجلاس کے انعقاد کے لئے چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اس اجلاس میں برکس وزرا نے اہم عالمی سیاسی ، سلامتی اورسبھی ملکو ں کے عام معاشی اور مالی مسائل پر اوربرکس تعاون کو اور زیادہ مضبوط کرنے پر اپنے اپنے نظریات رکھے۔ ہم یواین جی اے کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس کے اہتمام کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی سال 2018 میں آئندہ اسٹینڈا لون وزرائے خارجہ کے اجلاس کا اہتمام کرنے کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
38۔ہمیں یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ ترقی اورسلامتی دونوں ایک دوسرے سے قریبی طور سے متعلق ہیں اور پائیدار امن کے لئے ان دونوں موضوعات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ہم اپنی اس بات کو دوہراتے ہیں کہ باہمی اعتماد ،باہمی فائدے ،مساوات اور تعاون کی بنیاد پر پائیدار امن قائم رکھے جانے کے لئے ایک مکمل حقیقی اور مضبوط عہد بستہ نظریے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے مزاحمتوں کے اسباب اور ان کےسیاسی ،اقتصادی اورسماجی طور سے قابل قبول بین الاقوامی مراسم کے معیارات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ اورجبراََ گمبھیر اقدامات کرنے کی مخالفت کرتے ہیں ۔ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی ملک دوسرے ملک کی سلامتی کے نام پر اپنی سلامتی کی طاقت میں اضافہ نہ کرے ۔
39۔ہم ایک عالمی ہمہ جہت تنظیم اقوام متحدہ کے اعلیٰ عالمی ترقی کے تئیں حقوق انسانی کو محفوظ کرنے اور انہیں بڑھاوا دینے کےتئیں اپنے عہد کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ اقوام متحدہ ہی وہ عالمی ہمہ جہت ادارہ ہے جسے بین الاقوامی امن اورسلامتی کو قائم رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔
40 ۔ ہم 2005 کے ورلڈ سمٹ آؤٹ کم ڈاکیو منٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کو پوری طرح سے مضبوط بنایا جائے تاکہ اس میں اورمزید ملکو کی نمائندگی بڑھائی جاسکے اوراقوام متحدہ عالمی چیلنجوں اورمسائل کو صحیح طریقے سے حل کرسکے ۔عالمی معاملات میں چین اورروس ، برازیل ، ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے رول کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ میں شامل کئے جانے اور ان کے رول کی اہمیت کے لئے اپنی حمایت کا بار بار اعادہ کرتے ہیں ۔
41۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیریا کے بحران کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2015 کی قرارداد نمبر 2254 کی تعمیل میں سیریا کے لیڈروں اور سیریا کے شہریوں کے سیاسی عمل کو ایک فارمولے میں باندھنا اور سیریا کے شہریوں کے قانونی عزائم کی تکمیل کرنے والے اس عمل کو اختیار کیا جائے اور ہم پُر زور طریقے سے جنیوا امن مذاکرات اور آستانہ اقدامات کی حمایت کرتے ہیں تاکہ سیریا کی خود مختاری ،آزادی اور ریاستی سالمیت کی حفاظت کی جاسکے اس کے ساتھ ہی ہم سیریا کے کشیدگی زدہ علاقوں میں امن بحال کرنے کی مہم کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات کے ذریعہ تشدد میں کمی کی جاسکے اور ایک مثبت ترقی کے لئے فضا ہموار کی جاسکے ۔
42۔ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں ، میڈرڈ اصولوں ، عرب امن پیش رفت اور بات چیت کے ذریعہ ملکوں کے درمیان معاہدوں کی بنیاد پرمشرق وسطیٰ میں امن واستحکام قائم رکھنے کے لئے اسرائیل –فلسطین ٹکراؤ کا ایک منصفانہ مستقل اور مکمل حل کرنے کی ازحد ضرورت ہے تاکہ اسرائیل اور فلسطین کےدرمیان امن بحال ہوسکے اور ان کی صوبائی سرحدیں مضبوط رہیں ۔اس طرح کے حل کے تئیں عہد بستہ رہتے ہوئے ہم مشرقی وسطیٰ کے ٹکراؤ کے منصفانہ اور مستقل حل کے لئے اپنا تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہیں اور خطے میں امن اور استحکام قائم رکھنے کے لئے بین الاقوامی موششوں کی حمایت کرتے ہیں ۔
43۔ موصل کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے اور دہشت گردی کے خلاف ملنے والی کامیوں کے لئے ہم عراق کے لوگوں اور وہاں کی سرکار کو مبارکباد ددیتے ہیں اور عراق کی خود مختاری ،صوبائی سالمیت ،سیاسی آزادی اورعراقی سرکار اور اس کے شہریوں کی مدد کرنے کے لئے عہد بستہ ہیں ۔ ہمیں یمن کے موجودہ حالات پر بھی ازحد تشویش ہے اورنفرت ختم کرنے اوراقوام متحدہ کی حمایت یافتہ گفتگو شروع کرنے کی گزارش کرتے ہیں ۔ہم خلیج کے خطے میں موجودہ سفارتی بحران سے جُڑے تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مذاکرات کے ذریعہ اپنے اختلافات دور کریں اور اس سلسلے میں کویت کے ذریعہ دی جانے والی ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم کریں ۔
44۔ہم ڈی پی آر کے ، کے ذریعہ کئے گئے نیو کلیائی تجربے کی مذمت کرتے ہیں ۔ ہم کوریائی خطے میں موجودہ کشیدگی پر اور کافی عرصے سے جاری نیو کلیائی مسئلے پر اپنی تشویش کا ظہار کرتے ہیں اوراس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس مسئلے کو سبھی متعلقہ فریقوں کے ساتھ راست گفتگو اور پرامن پیش رفت کے ذریعہ سلجھانا چاہئے ۔
45۔ہم ایران کے نیو کلیائی معاملے پر جوائنٹ کمپری ہیسیو پلان آف ایکشن جے سی پی اواے کی حمایت کرتےہیں اور سبھی متعلقہ فریقوں سے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے اور بین الاقوامی وعلاقائی امن واستحکام کو بڑھاوا دینے کی غرض سے جے سی پی او اے پر مکمل اور موثر طریقےسے عمل آوری کرنے کی گزارش کرتے ہیں۔
46۔ہم افریقی خطے کے علاقائی مسائل کے سد باب اور علاقائی امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لئے افریقی ملکوں اور افریقی یونین نیز ذیلی علاقائی تنظیموں کے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان شراکتداری کی اہمیت پر زوردیتے ہیں اس کے ساتھ ہی ہم عوامی جمہوریہ کانگو ، لیبیا ، جنوبی سوڈان ،صومالیہ ،وسطی افریقی جمہوریہ اور مغربی سہارا کے مسائل کے جامع حل کے لئے کی جانے والی کوششوں کی حماحت کرتے ہیں ۔
47۔ہم افغانستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں بے قصور افغان شہریوں کو اپنی جان عزیر سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں ۔آج تشدد کا فوری طور سے خاتمہ کئے جانے کی ازحد ضرورت ہے ۔ ہم ’’افغان سربراہی اور افغان ملکیت ‘‘ کے حصول کے لئے افغان عوام کی امن اورقومی مصالحت کی کوششوں کی زبردست حمایت کرتے ہیں ، جو موجودہ بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہیں اور جس میں افغانستان پر ماسکو فار میٹ آف کنسلٹیشن بھی شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم دہشت گردی اور منشیات کی وبا سے موثر مقابلے اور افغانستان کی تعمیر ِملک وقوم کی کوششوں نیز امن واستحکام کے فروغ کے لئے افغانستان کے ہمہ جہت رابطہ کاری منصوبوں کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ ہم دہشت گرد تنظیموں سے مقابلے میں افغان قومی وسلامتی افواج کی جنگ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
48۔ ہم زیرنظر خطے میں طالبان ،آئی ایس آئی ایل /داعش ،القاعدہ اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ،حقانی نیٹ ورک ،لشکر طیبہ ،جیس محمد ،ٹی ٹی پی اورحزب التحریرجیسی اس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعہ برپا کئے جانے والے تشدد کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں ۔
49۔ ہم برکس ملکوں سمیت دنیا کے تمام خطوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور جہاں بھی اور جس کے ذریعہ بھی برپا کئے جانے والے ہرقسم کے دہشت گردانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کے لئے کوئی جواز یا جگہ نہیں ہے ۔ہم اس امر کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گرد اقدامات کا ارتکاب تنظیم یا حمایت کرنے والوں کو اس کے لئے پوری طرح سے ذمہ دار اورجوابدہ قراردیا جانا چاہئے ۔ دہشت گردی کےتدارک کے لئے سرکاروں کے بنیادی کردار اور ذمہ داری کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ملکوں کی خود مختار مساوات اور ان کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے سمیت بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق ایک بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے ۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کوششوں کے تئیں اپنی یگانگت اور عزم مصمم کی توثیق کرتے ہیں اور 18 مئی 2017 کو بیجنگ میں برکس کاؤنٹر ٹیررزم ورکنگ گروپ کے اجلاس کی زبردست اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
50۔ہم دنیا کے سبھی ملکوں سے اپیل کرتے ہیں کہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے ایک جامع طریقہ اورنظریہ اختیار کیا جائے ، جس میں انتہا پسندی کے تدارک ، دہشت گردوں کی بھرتی ،بیرونی دہشت گردوں سمیت دہشت گردوں کی نقل وحرکت ،دہشت گردی کی سرمایہ کاری کے وسائل ختم کرنے جیسے امور شامل ہونے چاہئیں ۔مثلاََ حوالے کے ذریعہ اسلحہ اورمنشیات کی سپلائی اور منشیات کی غیر قانونی تجارت اور دیگر جرائم کا تدارک شامل ہونا چاہئے اس کے ساتھ ہی دہشت گردوں کے اڈوں کو تباہ کرنا اور دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ مواصلاتی ٹکنالوجی کے جدید ترین استعمال جیسے انٹر نیٹ جیسے وسائل کی بداستعمالی کو روکا جانا بھی شامل ہے ۔ ہم دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وبا کی روک تھام اور اس سے مقابلے تئیں عہد بستہ ہیں اور ایسے تمام وسائل ،تکنیکوں اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری کرنے والے چینلوں کا خاتمہ بھی ان سرگرمیوں میں شامل ہونا چاہئے ۔ہم اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور ایف اے ٹی ایف کی قراردادوں کی موثر اور جامع عمل آوری کی گزارش کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہم ایف اے ٹی ایف اور ایف اے ٹی ایف کی قسم کے علاقائی اداروں (ایف ایس آر بی) کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنے پر زوردیتے ہیں ۔اسکے ساتھ ہی ہم دنیا کے تمام ملکوں کو یہ بات یاددلانا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی ی سرمایہ کاری کی روک تھا م کی جائے اور اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والے دہشت گرد اقدامات کی روک تھا م کی جائے ۔
51۔ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک وسیع تر اور جامع انسداددہشت گردی الحاق قائم کیا جائے ۔اس سلسلے میں ہم اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرتے ہیں ۔ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اقوام متحدہ کے چارٹر ، اوربین الاقوامی قانون کے مطابق ہونی چاہئے ،جس میں انٹر نیشنل ریفیوجی اینڈ ہیومینی ٹیرین لأ ، انسانی حقوق اوربنیادی آزادی شامل ہونا چاہئے ۔ اس کے ساتھ ہی ہم اقوام متحدہ کے انسدادد ہشت گردی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اپنی عہد بستگی کی تصدیق کرتے ہیں جس میں متعلقہ ملکوں کے درمیان تعاون اور تال میل اور اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
52۔ہم قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کے اقدامات کو برکس ممالک کے ذریعہ کی جانے والی امداد ومعاونت کا اعتراف کرتے ہیں اور عالمی امن وسلامتی کے لئے اقوام متحدہ کے قیام امن اقدامات کی اہمیت کی بھی تصدیق کرتے ہیں ، اس کے ساتھ ہی ہم اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ برکس ممالک قیام امن سے متعلق امور پر مواصلت میں مزید اضافہ کریں ۔
53۔ ہم اقوام متحدہ کی ڈرگ کنٹرول قراردادوں پر مبنی عالمی مسئلۂ منشیات کے سد باب کے لئے اپنی عہد بستگی کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں ، جو منشیات کی مانگ اور فراہمی میں کمی کی جامع اور متوازن حکمت عملی پرمبنی ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ہم ایک بار پھر عالمی مسئلہ ٔ معاشیات پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے نتائج کی دستاویز کی اہمیت کی تصدیق کرتے ہیں اور منشیات بالخصوص افیون کی غیر قانونی پیداوار اورتجارت سے عالمی برادری کو درپیش خطرے سے مقابلے کے لئے بین الاقوامی اور علاقائی تعاون اورتال میل کو مستحکم بنایا جائے ۔اس کے ساتھ ہی ہم اس امر پر بھی اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ دنیا کے بعض خطوں میں منشیات کے غیر قانونی تاجروں ، حوالہ کے ذریعہ غیر قانونی طریقے سے پیسہ بھیجنے والوں اور منظم جرائم اور دہشت گردی کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔
54۔ہم سبھی ملکوں کے لئے مساوات اورباہمی احترام کے اصولوں کے تحت انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کو فروغ دینے اور اس کی حفاظت کرنےمیں تعاون کی ضرورت کو دوہراتے ہیں ۔ہم مساوی سطح پر اور یکساں زور کے ساتھ ترقی کے حق سمیت سبھی انسانی حقوق کی غیر جانبدارانہ طریقے سے پاسداری جاری رکھنے پر متفق ہیں ۔ ہم برکس کے داخلی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت ہمہ فریقی پلیٹ فارم پر مشترکہ تعاون کو مضبوط کریں گے اور غیر جانبدار ،غیر سیاسی اور تعمیری طریقے سے دوہرے معیارات اپنائے بغیر انسانی حقوق کو بڑھاواد ینے ، ان کی حفاظت کرنے اور انہیں پورا کرنے کی ضرورت کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں گے۔
55۔ بین الاقوامی بیرون ملک رہائش کے شعبے میں عالمی برادری کو درپیش عالمی سلامتی چیلنجوں سے پوری طرح واقف ہوتے ہوئے ہم نے بین الاقوامی سلامتی اور سماج کے فروغ کے فائدے کے لئے موثر بیرون ملک رہائشی قائدوں کے بڑھتے رول پر زوردیا ہے ۔
56۔ ہم مانتے ہیں کہ پرامن ،محفوظ ،کشادہ ،مستحکم ،سہل اور منصفانہ آئی سی ٹی فضا کو یقینی بنانے کے لئے آئی سی ٹی کے استعمال میں دمہ دار سرکاری عمل کے قابل قبول عالمی معیارات کے فروغ میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہیں ۔ہم اقوام متحدہ کے اعلانیہ میں شامل بین الاقوامی قانون کے اصولوں خاص کر ملک کی خود مختاری ،سیاسی آزادی اور ملکوں کی مطلق العنان مساوات دیگر ملکوں کے داخلی معاملوں میں مداخلت نہ کرنے اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے احترام کی اعلیٰ ترین اہمیت پر زور دیتے ہیں ۔ ہم آئی سی ٹی کی دہشت گردانہ ومجرمانہ بداستعمالی کے خَلاف بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنائے جانے کی ضرورت پر زوردیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ای-تھیکوِنی ، فورٹالیزا ،یو ایف اے اور گوا اعلامیہ میں شامل کئے گئے عام نظریہ کی تصدیق کرتے ہیں اور یو ایف اے میں شامل کئے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آئی سی ٹی کیا مجرمانہ بد استعمالی کی روک تھام میں مطلق العنان ریگولیٹری وسیلے کی ضرورت سے واقف ہیں ۔ ہم آئی سی ٹی کے استعمال میں سلامتی پر برکس ملکوں کے خصوصی ایکشن گروپ کی ترقی پر اطمینان وتشفی کا اظہار کرتےہیں ۔
57۔ ہمارا ماننا ہے کہ سبھی ملکوں کو اپنی حکومت کی ترقی اورکارکردگی نیز انٹر نیٹ سے متعلق امور میں مساوی سطح پر حصہ لینا چاہئے اورمتعلقہ دعوے داروں کو ان کے متعلقہ کردار ،ذمہ داریوں کے ساتھ شامل کرنے کی ضرورت پر توجہ دینی چاہئے ۔ اہم انٹر نیٹ وسائل کی انتظام کاری اوررابطہ بندی کرنے والی تنظیموں کو زیادہ نمائندہ بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ ہم آئی سی ٹی تعاون پر برکس ایکشن گروپ کی ترقی پر اطمینان وتشفی کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہمیں اس شعبے میں اپنے تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت کا احساس ہے ۔ اس کے لئے برکس کی تنظیم اپنی انتظامیہ میں عالمی برادری کی مساوی شراکتداری کی بنیاد پر آئی سی ٹی کی محفوظ ، پر امن اورباہمی تعاون کے ساتھ استعمال میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے موجودہ نظام کے ذریعہ مل کر کام کرنا جاری رکھے گی۔
58۔ ہم ایک بار پھر یہ بات دہراتے ہیں کہ بیرونی خلائی بین الاقوامی قانون کے مطابق مساوات کی بنیاد پر ہر ملک پر امن ایجادات اور استعمال کے لئے آزاد ہوگا ۔ یہ تصدیق کرتے ہوئے کہ بیرونی خلائی علاقہ کسی بھی قسم کے اسلحہ یا طاقت کے استعمال سے پاک رہے گا ۔ ہمارا ماننا ہے کہ بیرونی خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کوروکنے کے لئے ایک بین الاقوامی معاہدہ کیا جانا چاہئے یا معاہدوں کے نتائج پر مذاکرات اورترک اسلحہ سے متعلق امور اقوام متحدہ کی کانفرنس کی اولین ترجیح ہے اور ہم بیرونی خلائی علاقے میں ہتھیاروں کی تنصیب کی روک تھا م اور اس کے خطروں یا بیرونی خلائی علاقے میں واقع مقامات کے خلاف طاقت کے استعمال پر چین اور روس کے ذریعہ پیش کئے جانے والے 16 معاہدے کی مسودے کی بنیاد پر دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ بنیادی کا م شروع کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
59۔ بیرونی خلا ئی سرگرمیوں کے طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ آئندہ نسلوں کے لئے بیرونی خلائی علاقوں کی سلامتی کے طریقوں کو یقینی بنائے جانے کو ترجیح دی جانی چاہئے ۔ ہم مانتے ہیں کہ بیرونی خلائی علاقے کے پر امن استعمال پر اقوام متحدہ کی کمیٹی (یو این سی او پی یو او ایس) کے موجودہ ایجنڈے کا ایک اہم مقصد ہے ۔اس سلسلے میں ہم بیرونی خلائی علاقے کی سرگرمیوں کے طویل مدتی استحکام پر یواین سی اوپی یو اوایس سائنسی وتکنیکی ایکشن کمیٹی کے ذریعہ مذاکرات مکمل کرنے اور 2018 تک بیرونی علاقائی سرگرمیو ں کے طویل مدتی استحکام کے لئے رہنما اصولو ں کا پورا سیٹ تیار کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔
عوام سے عوام کے درمیان باہمی لین دین :
60 ۔ ہم برکس ملکوں کے درمیان باہمی مفاہمت ،دوستی اور تعاون کی ترقی اور اسے بڑھاوا دینے کے لئے لوگوں سے لوگوں کے درمیان لین دین کی اہمیت پر زور دیتے ہیں ۔ ہم ثقافت ،تعلیم ،سائنس وٹکنالوجی ،کھیل کود وصحت جیسے شعبوں کے ساتھ میڈیا تنظیموں اور مقامی سرکاروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنائے جانے پر متفق ہیں تاکہ برکس تعاون کے تیسرے ستون کو مضبوط کیا جاسکے ۔
61۔ ہم برکس تعاون کے ایک بیش قیمت اثاثے کی حیثیت سے تہذیبی تنوع کا احترام کرتے ہیں ۔ ہم حقیقی ترقی کو فروغ دینے میں تہذیبی اور اقتصادی تنوع کے کردار پر زور دیتے ہیں اور برکس ملکوں کی متنوع شراکتداری کی بنیاد پر مشترکہ قدروں کو فروغ دینے کے لئے باہمی ثقافتی تبادلے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم عملی ثقافتی تعاون کو بہتر بنانے اور برکس الائنس آف لائبریریز ، الائنس آف میوزیمس ،الائنس آف آرٹ میوزیمس اور نیشنل گیلریز کے ساتھ ساتھ بچوں اور نوجوانوں کی خاطر الائنس آف تھیئٹر کے قیام کے لئے برکس ایکشن اسکیم مرتب کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ہم 2017 کے وسط میں شیامن میں ہونے والے برکس اقتصادی میلے کی کامیابی کے خواہشمند ہیں ۔ ہم برکس ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو بہتر بنانے کے مقصدسے ضروری پلیٹ فارم دستیاب کرانے کے لئے برکس کلچرل کونسل کے قیام پر کام جاری رکھیں گے ۔
62۔ ہم پائیدار معاشی وسماجی ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اوربرکس ملکوں کی شراکتداری کو مستحکم بنانے اور ہمارے تعلیمی تعاون میں مثبت پیش رفت کی ستائش کے لئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہیں ۔ ہم تعلیمی اور تحقیقی تعاون کے عمل میں برکس یونیورسٹی لیگ اوربرکس نیٹ ورک یونیورسٹی کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اور تعلیمی دانشوروں کے درمیان تعاون کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کے یوتھ سمر کیمپ کے اہتمام سمیت نوجوانوں میں باہمی لین دین کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ہم برکس ملکوں کے طلبا کو وظائف کے مزید مواقع فراہم کرائے جانے کی بھی ستائش کرتے ہیں ۔ ہم تعلیم سے متعلق پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول کے لئے اپنے تجربات اور طریقوں کے باہمی لین دین پر بھی اتفاق کرتے ہیں۔
63۔ہم روائتی کھیل کود کو مقبول بنانے کے لئے کھیل کود کے میدان میں تعاون کی اہمیت اور برکس ممالک کے لوگوں کے درمیان دوستانہ مراسم میں یقین رکھتے ہیں ۔ہم 2016 میں برکس ممالک کے سترہ سال سے کم عمر کے لڑکو ں کے فٹ بال ٹورنامنٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلے برکس ممالک کے کھیلو ں کی زبردست کامیابی کی ستائش کرتے ہیں ،جس کے نتیجے میں عوام سے عوام کے رابطوں اور نظریات کے باہمی تبادلوں کو فروغ حاصل ہوا ہے ۔2016 میں ہندوستان کی ریاست گوا میں سترہ سال سے کم عمر کےلڑکو ں کے فٹ بال مقابلے بھی زبردست طرقے سے کامیاب ہوئے تھے ۔ہم اس سلسلے میں کھیل کود کے شعبے میں تعاون پر مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ ہمارے پانچ ملکوں کے درمیان کھیل کود کے شعبے میں تعاون پر زیادہ سے زیادہ زوردیا جاسکے ۔
64۔ہم صحت کی دیکھ بھال کے عالمی انتظام بالخصوص عالمی تنظیم صحت اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ذریعہ صحت کی دیکھ بھال کے میدان میں برکس ممالک کے رول میں اضافہ کرنے پر متفق ہیں اور اس میں مزیدترقی چاہتے ہیں تاکہ تحقیق وترقی کے فروغ سے جدت طراز طبی سازوسامان کی دستیابی میں بہتری پیدا کی جاسکے اور کفایتی ، معیاری ،موثر دوائیں ، ٹیکہ کاری کی دوائیں ،تشخیص کے ذریعہ بہتر طبی سازوسامان دستیاب کرایا جاسکے ۔اس کے ساتھ ہی صحت کی دیکھ بھال کے بہتر انتظام اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعہ دواؤں کی یہ سہولیات دستیاب ہوسکیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہم ابولا ، ایچ آئی وی / ایڈس ، تپ دق اور ملیریا جیسے چھوت سے پھیلنے والے امراض نیز چھوت کےبغیر پیدا ہونے والی بیماریوں سے مقابلے کے لئے نگرانی کے نظام اور طبی خدمات میں بہتری پیدا کرنے پر بھی اتفاق کرتے ہیں ۔اس کے لئے صحت کی خدمات کی فراہمی کی سطح میں آئی سی ٹی کے وسیع تر اطلاق کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ہم برکس ممالک کے وزرائے صحت اور روایتی دواؤں پر اعلیٰ سطحی اجلاس کے نتائج کی ستائش کرتے ہیں اور روایتی دواؤں کے شعبے میں باہمی لین دین کے طویل مدتی نظام اور تعاون پر ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے نتائج کی ستائش کرتے ہیں جس کا مقصد روایتی دواؤں کے شعبے میں باہمی تدریس اوراس کے نتائج کو مستقبل کی نسلوں کو دستیاب کرانا ہے ۔ہم ٹیوبرکلاسز ریسرچ نیٹ ورک کے قیام کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ،جسے عالمی تنظیم صحت کی پہلی عالمی وزارتی کانفرنس میں پیش کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا مرکزی خیال تب دق کو پائیدر طریقے سے ختم کرنے کے طریقوں کے فروغ کی صدی ۔ ایک ہمہ جہت رد عمل ماسکو، روسی وفاق 17-16 نومبر2017 ہے ۔ہم اس اجلاس کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں اور 2018 میں تپ دق پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے اعلیٰ سطحی اجلاس کے لئے حمایت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہم جی -20 ملکوں سمیت تمام بین الاقوامی فورمو ں میں تعاون میں اضافے کے لئے اپنی عہد بستگی کا اظہار کرتے ہیں ۔
65۔ ہم ایک طویل مدتی اور متوازن جغرافیائی ترقی کے تئیں اپنی عہد بستگی کی تصدیق کرتے ہیں اور 20-2015 کے لئے آبادی سے متعلق امور پر برکس ممالک کے تعاون کے ایجنڈے کے مطابق آبادی سے متعلق امور پر اپنا تعاون جاری رکھنے کی عہد بستگی کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔
66۔ہمیں حکمرانی اور انتظام ،فلم سازی ،میڈیا ،دانشوری ، جوانوں کے شعبے ، پارلیمنٹ ،مقامی انتظامیہ اور مزدوریونینوں کے شعبے میں باہمی لین دین پر تشفی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور اس قسم کے باہمی لین دین اورتعاون میں مزید اضافہ کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔ ہم برکس ممالک کے ذریعہ پہلی مشترکہ فلم سازی کی ستائش کرتے ہیں اور برکس فلم فیسٹول ، دی میڈیا فورم ، فرنٹ شپ سٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ کوآپریشن فورم ،یوتھ فورم ، ینگ ڈپلومیٹ فورم اور ینگ سائنٹسٹ فورم کی کامیابی کی ستائش کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہم برکس فورم آف پولیٹکل پارٹیز ،تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے اجتماع کی کامیاب میزبانی کی ستائش کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں حکمرانی اور انتظام کے موضوع پر منعقد کئے جانے والے سمینار کی کامیابی پر بھی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور مستقبل میں ان اقدامات کو جاری رکھنے کی عہد بستگی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں چین کے ذریعہ برکس ریسرچ اینڈ ایکس چینج فنڈ کے قیام کی تجویز کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔
67۔ ہم برکس ادارہ جاتی ترقیات کے شعبے میں ہونے والی اہم پیش رفت کی ستائش کرتے ہیں اور اسے مزید مستحکم بنانے کے تئیں اپنی عہد بستگی کا اظہار کرتے ہیں تاکہ برکس ممالک کے تعاون میں بدلتی ہوئی صورت حال سے مزید مطابقت پیدا ہوسکے ۔ ہم برکس شعبہ تعاون میں شیرپا تال میں کے رول میں اضافے کے لئے چین کے ذریعہ کئے جانے والے اُن اقدامات کی ستائش کرتے ہیں جو اس کی جانب سے چیئر مین کے منصب پر فائز رہنے کے دورا ن کئے گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ہم شیر پاؤں کو ہدایت کرتے ہیں کہ برکس ادارہ جاتی ترقیات سے متعلق امور پر غوروخوض اورتبادلہ خیال جاری رکھا جائے ۔
68۔ہم بین الاقوامی معاملات میں اقوام متحدہ کے کثیر پہلواور مرکزی رول کے تئیں اپنی عہد بستگی کا ایک بار پھر اظہارکرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ہم نیویارک ،جنیو ا اورویانہ میں اپنے مستقل نمائندوں کے درمیان مستقل میٹنگس سمیت اقوام متحدہ اوردیگر کثیر نوعیتی اداروں میں باہمی اورمشترکہ مفادات کے شعبوں میں تال میں اورتعاون کو مستحکم کرنے کے تئیں اپنی عہد بستگی کا اظہار کرتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں میں برکس کی آواز کو مزید موثر بنانے کا عہد کرتے ہیں ۔
69۔ ڈربن اعلی ٰ سطحی اجلاس سے، رسائی حاصل کرنے کی برکس ممالک کے روایت کو جاری رکھتے ہوئے پائیدار ترقی کے لئے 2030 کے ایجنڈے پر عمل آوری کی غرض سے ابھرتے بازارو ں اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیان مذاکرات جاری رکھے جائیں گے اور برکس پلس کوآپریشن کے فروغ میں’’ مشترکہ ترقی کے لئے باہمی طور سے فائدے مند تعاون کے نظام ‘‘ پر وسیع تر شراکتداریو ں کے فروغ کے عمل کو جاری رکھیں گے ۔
70۔ جنوبی افریقہ ،برازیل ،روس اورہندوستان 2017 میں برکس ممالک کی تنظیم کی ستائش کرتے ہیں اور ژیامن میں برکس ممالک کے نویں اعلیٰ سطحی اجلاس کی میز بانی کے لئے چین کی سرکار اورچین کے عوام کے انتہائی شکر گزار ہیں۔
71۔ چین ،برازیل ،روس اور ہندوستان 2018میں برکس ممالک کے دسویں سربراہ اجلاس کی میزبانی کرنے کے لئے جنوبی افریقہ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
ضمیمہ -1 برکس ممالک کے تعاون کے تنائج کی دستاویزات:
نتائج پر مبنی تسلیم شدہ دستاویزات
ہیمبرگ میں برکس ممالک کے لیڈروں کے غیر رسمی اجتماع پر پریس کمیونیکے
سیاسی اورسلامتی تعاون :
معاشی تعاون :
عوام سے عوام کے رابطے اورباہمی تبادلہ :
درج ذیل دستاویزات پر جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا:
معاشی تعاون :
عوام سے عوام کے رابطے اور باہمی تبادلے :
ضمیمہ -2 ژیامن منصوبہ ٔ عمل :
چین کی سربراہی میں ہونے والے برکس کے ژیامن سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والے درج ذیل اجتماعات اور تقریبات کا بھی جائزہ لیا۔
وزارتی اجلاس اور متعلقہ اجتماعات :
سینئیر افسران /ورکنگ گروپس /ایکسپرٹز کی میٹنگز :
عوام سے عوام کے باہمی تبادلے کی تقریبات اور دیگر میٹنگز :
چین کی سربراہی میں برکس ملکوں کی تنظیم کے آئندہ اجلاس اورتقریبات:
دیگر امکانات پرعمل آوری کی تجاویز :
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔س ش۔ رم
U-4355
BRICS leaders at the Summit in Xiamen. pic.twitter.com/QBhB2fdY3O
— PMO India (@PMOIndia) September 4, 2017