Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

بنگلورو میں ’’دی آرٹ آف لیونگ‘‘ کی 45ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران وزیرِاعظم کی تقریر کا اردو ترجمہ

بنگلورو میں ’’دی آرٹ آف لیونگ‘‘ کی 45ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران وزیرِاعظم کی تقریر کا اردو ترجمہ


قابلِ احترام شری شری روی شنکر جی، یہاں موجود تمام سنت حضرات، بھائیو اور بہنو، ایلاریگو نمسکار۔

آج کی یہ صبح ایک نہایت خاص احساس لے کر آئی ہے۔ بچوں کی جانب سے ویدک منتروں کے ساتھ استقبال، بھگوان شری گنیش کے درشن، شری شری روی شنکر جی کی عمرِ مبارک کے 70 برس، اور ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کے 45 سال — یہ سب ایسے لمحات ہیں جو ہمیشہ میری یادوں میں محفوظ رہیں گے۔ اس عظیم الشان تقریب میں مدعو کرنے پر میں آپ سب کا دل سے شکر گزار ہوں۔

ابھی گُرو دیو نے بہت سی باتیں کہیں۔ آپ کو محسوس ہوا ہوگا کہ وہ میری تعریف کر رہے تھے، لیکن مجھے ایسا لگا کہ وہ مجھے مزید ذمہ داریاں سونپ رہے ہیں۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ مجھے شکریہ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ میں آپ ہی کا ہوں، آپ ہی کے درمیان آیا ہوں اور آپ ہی کے لیے آیا ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں، آپ ہی کی بدولت ہوں۔ آج کا یہ پروگرام گُرو دیو کی عمر کے 70 برس مکمل ہونے کا جشن ہے، لیکن چونکہ میں اس خاندان کا حصہ ہوں، اس لیے میں کھلے دل سے کہتا ہوں کہ جب آپ کی صد سالہ تقریبات ہوں گی تو میں دوبارہ حاضر ہوں گا۔

آج اس عظیم اور روح پرور مراقبہ مندر کا افتتاح بھی عمل میں آیا ہے۔ جب ارادے واضح ہوں اور کام خدمت کے جذبے کے ساتھ کیا جائے تو ہر کوشش خوشگوار نتائج لاتی ہے۔ باقی کچھ ہو یا نہ ہو، ہم سب کنول کے سائے تلے ہیں۔ جوں جوں سمجھ بڑھتی جائے، تالیاں بجاتے رہیے اور گُرو دیو کی دعاؤں سے کنول کا یہ سایہ ملک کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ میں اس مراقبہ مندر کے لیے ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کے پورے خاندان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

دوستو،

بنگلورو کی فضا ہمیشہ منفرد رہی ہے۔ یہ شہر دنیا بھر میں سافٹ ویئر اور خدمات کے لیے مشہور ہے، لیکن اسی شہر نے ہندوستان کی تہذیبی شناخت، روحانیت اور معنوی شعور کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ یوگ، مراقبہ اور پرانایام ہمیشہ سے ہندوستانی روایت کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں اور جیسا کہ گُرو دیو نے فرمایا: آج دنیا بھر کے لوگ ہندوستان کی ان روحانی روایات سے متاثر ہو رہے ہیں، اور ہندوستان کے بے شمار اداروں نے انہی قدیم روایات سے رہنمائی حاصل کی ہے۔

دوستو،

اسی الہام اور تحریک سے شری شری روی شنکر جی نے پینتالیس برس قبل ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کا ایک ننھا سا بیج بویا تھا۔ آج وہ ایک تناور برگد کے درخت کی صورت ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اس برگد کی ہزاروں شاخیں دنیا بھر میں بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو چھو رہی ہیں اور جب بھی میں سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں بیرونِ ملک جاتا ہوں تو وہاں آپ سے وابستہ کسی نہ کسی فرد سے ضرور ملاقات ہوتی ہے۔

دوستو،

ہندوستان بے پناہ تنوع سے بھرا ہوا ملک ہے۔ یہاں بے شمار زبانیں، مختلف روایات، جداگانہ رسم و رواج اور عبادت کے الگ الگ طریقے ہیں۔ جب ہم یہ سب دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک فطری سوال ابھرتا ہے کہ آخر وہ بنیادی عنصر کیا ہے جو ان تمام خوبصورت تنوعات کو ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے؟ اس کا جواب ہے — اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا۔

ہمارے شاستروں میں فرمایا گیا ہے:

Ashtadasha Purāṇeṣu Vyāsasya Vacanadvayam. Paropakāraḥ Puṇyāya Pāpāya Parapīḍanam.

یعنی دوسروں کی بھلائی کرنا نیکی ہے اور دوسروں کو تکلیف پہنچانا گناہ۔ خدمت ہی سب سے بڑا دھرم ہے، یہی ہمارے معاشرے کی فطرت اور پہچان ہے۔ نسل در نسل یہی اقدار کی دھارا ہمیں سنوارتی رہی ہے، ہمیں تحریک دیتی رہی ہے اور توانائی بخشتی رہی ہے۔ ہندوستان کی بے شمار روحانی تحریکوں نے بالآخر انسانیت کی خدمت ہی کو اپنا اظہار بنایا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کی ہر کاوش میں خدمت کا یہی جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ ابھی جو ویڈیو دکھائی گئی، وہ سراسر خدمت اور عوامی فلاح و بہبود کے جذبے سے لبریز تھی۔ میں ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کے اس سفر سے وابستہ ہر رضاکار کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

دوستو،

کوئی بھی مہم اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک سماج کی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اسی لیے ہر اہم مشن میں سماجی قوت کو بیدار کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ سماج، سیاست اور حکومتوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی حکومت اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب خود معاشرہ قوم کی تعمیر میں سرگرمی کے ساتھ شریک ہو۔ مثال کے طور پر ’’سوچھ بھارت ابھیان‘‘ کو ہی لے لیجیے۔ یہ صرف ایک سرکاری پروگرام نہیں رہا بلکہ لوگوں کی زندگی کا ایک فطری حصہ بن چکا ہے۔ یہ سماج کی طاقت کے سہارے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

دوستو،

جب سماج بیدار اور فعال ہو جاتا ہے تو ملک کے بڑے سے بڑے مسائل کا اجتماعی حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔ یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ تنظیم نے ہمیشہ سماجی طاقت کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کا کام کیا ہے۔ آپ نے ترقی سے متعلق پروگراموں میں سماجی نقطۂ نظر کو بڑی اہمیت دی ہے۔ چاہے شجرکاری کی مہمات ہوں، دیہی اسمارٹ ولیج مراکز، خواتین اور قبائلی طبقات کو بااختیار بنانے کے منصوبے یا قیدیوں کی ذہنی صحت بہتر بنانے کی کوششیں — یہ تمام اقدامات ملک اور سماج کی ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوستو،

میں یہاں موجود تمام لوگوں کی ایک اور بات کے لیے بھی دل کھول کر تعریف کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہے نوجوانوں کی طاقت پر خصوصی توجہ۔ آج کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں نہایت تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ ہر روز سائنس امکانات کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ نئی اختراعات پوری کی پوری معیشتوں کو بدل رہی ہیں۔ ہندوستان نہ صرف اس تبدیلی میں شریک ہے بلکہ کئی میدانوں میں قیادت بھی کر رہا ہے۔ ہمارے ڈیجیٹل انقلاب نے بھارت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں عالمی رہنما بنا دیا ہے۔ آج بنیادی ڈھانچہ بھی بے مثال رفتار اور مستقبل بین ویژن کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ بھارت تیزی سے دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ نظام بن چکا ہے۔ ہمارے نوجوان خلا میں سیٹلائٹ بھیج رہے ہیں۔ ملک کی ان تمام کامیابیوں کی سب سے بڑی وجہ ہماری نوجوان نسل ہے اور ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ بھی۔ گُرو دیو اور ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ آج کے جدید دور کے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے میں نوجوانوں کی بڑی رہنمائی کر رہے ہیں۔

دوستو،

آج ٹیکنالوجی کی بدولت دور بیٹھے لوگ ایک لمحے میں ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ چاہے ہم دنیا سے جڑیں یا نہ جڑیں، خود اپنے آپ سے ضرور جڑیں اور انسان کو اپنے باطن سے جوڑنے، اس تعلق کا بیج بونے، اسے پروان چڑھانے اور مضبوط بنانے کی صلاحیت اسی عظیم روایت کے ذریعے ممکن ہے۔ ایک ترقی یافتہ بھارت ایسے ہی نوجوانوں کے ذریعے تعمیر ہوگا جو ذہنی طور پر پُرسکون، سماجی طور پر ذمہ دار اور معاشرے کے تئیں حساس ہوں۔ اسی لیے روحانی فلاح، ذہنی صحت، یوگ، دھیان اور اس نوعیت کی سرگرمیوں پر کام کرنے والے ادارے نہایت اہم ہیں۔ ایسے ادارے لوگوں کے درمیان تعلق، اپنائیت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بناتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ادارے عوام کو اپنی تہذیب و ثقافت کو جاننے اور سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آج افتتاح کیا گیا یہ دھیان مندر آنے والی نسلوں تک ہزاروں لوگوں کے لیے سکون، اطمینان اور شفا کا مرکز بنے گا۔

دوستو،

آپ سب ملک اور سماج کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ لیکن جب بھی میں آپ کے درمیان آتا ہوں تو خود کو کچھ گزارشات کرنے سے روک نہیں پاتا۔ گُرو دیو نے تو میری تقریر سے پہلے ہی کہہ دیا کہ آپ کی 9 گزارشات منظور ہیں، اس لیے اب کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا، مگر عادتیں آسانی سے نہیں جاتیں۔ بھارت کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ جیسی تنظیمیں اس تبدیلی کی مضبوط محافظ بن کر نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ کسانوں اور دیہی برادریوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں دکھائی گئی فلم میں بھی پیش کیا گیا، کسانوں کو قدرتی کھیتی سے جوڑنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ آج لوگ بیماری میں بھی قدرتی علاج تلاش کر رہے ہیں، تو ہماری دھرتی ماں کو بھی قدرتی شفا کی ضرورت ہے۔ کیمیائی کھادوں نے ہماری زمینوں اور دھرتی ماں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی دھرتی ماں کو کیمیائی مادّوں سے بچانا بھی ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ ہی ہے۔ آپ ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کو وسعت دینے میں بڑی طاقت فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ ماحولیات کا تحفظ بھی ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ ہے۔ معیشت اور ماحولیات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ مہم کے ذریعے کسانوں کو پانی کے بہتر استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے۔ آپ کے تعاون سے اس میں مزید بہتر نتائج حاصل ہوں گے، کیونکہ پانی کے ہر قطرے کو بچانا بھی ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ ہے۔ چند ہی ہفتوں میں مانسون کا موسم آنے والا ہے۔ یہ پانی کے تحفظ کے بارے میں وسیع بیداری پھیلانے کا بہترین وقت ہے۔ اسی طرح بجلی کی بچت، سنگل یوز پلاسٹک سے پرہیز، مقامی مصنوعات کو فروغ دینا — یہ سب بھی ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کا حصہ ہیں۔

آج ملک ’’مشن لائف‘‘ پر بھی زور دے رہا ہے۔ یہ ایک ایسی مہم ہے جو زیادہ ذمہ داری اور بیداری کے ساتھ زندگی گزارنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ انسان کو ایسی طرزِ زندگی اپنانے کی دعوت دیتی ہے جو فطرت کے ساتھ توازن میں ہو۔ اور میری نظر میں ’’مشن لائف‘‘ بھی ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ ہی کا ایک مظہر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں آپ ہمیشہ کی طرح ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ کے مختلف پہلوؤں کو مزید وسعت اور ترقی دیتے رہیں گے۔ آپ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقات کو جوڑنے کو مزید ترجیح دیں گے اور جب ہم گُرو دیو کی صد سالہ تقریبات منائیں گے تو ہم ان تمام مقاصد کو حاصل کر چکے ہوں گے۔ ایک بار پھر میں شری شری روی شنکر جی، گُرو دیو کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ’’آرٹ آف لیونگ‘‘ خاندان کے ہر رضاکار کو ان کی خدمت، لگن اور ایثار کے جذبے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ ایک مرتبہ پھر آپ نے مجھے اپنے درمیان آنے، اس مقدس فضا میں چند لمحے گزارنے اور کنول کے سائے تلے غور و فکر کرنے کا موقع دیا۔ اس کے لیے میں آپ سب کا دل سے بے حد شکر گزار ہوں۔

جے گُرو دیو۔

نوٹ: یہ وزیرِاعظم کی تقریر کا تخمینی ترجمہ ہے۔ اصل تقریر ہندی زبان میں دی گئی تھی۔

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-6869