پی ایم انڈیا
نئی دہلی،19مئی 2018؍اسٹیج پر موجود جمو ں و کشمیر کے گورنر جناب این این ووہرا صاحب ، وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی صاحبہ، کابینہ کے میرے رفقاءجناب نتن گڈکری صاحب، ڈاکٹر جتندر سنگھ صاحب، آر کے سنگھ صاحب، جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ جناب کویندر گپتا صاحب، ریاست کے وزیر توانائی جناب سنیل کمار شرما صاحب، اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب نظیر احمد خان صاحب، رکن پارلیمنٹ اور ملک کے سینئر لیڈر قابل احترام ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب، رکن پارلیمنٹ جناب مظفر حسین بیگ صاحب اور یہاں موجود سبھی دیگر معزز حضرات اور جموں و کشمیر کے میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں!
ایک بار پھر جموں وکشمیر میں آپ سبھی کے درمیان آنے کا موقع مجھے ملا ہے۔ آپ کا اپنا پن ، آپ کی محبت ہی ہے جو مجھے بار بار یہاں کھینچ لاتی ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں ایسا کوئی سال نہیں رہا جب میرا یہاں آنا نہیں ہوا۔ جب سری نگر میں سیلاب کے بعد ہی دیوالی تھی، میں نے یہاں متاثرین کے درمیان ہی اپنی دیوالی منائی تھی۔اس کے علاوہ سرحد پر تعینات جوانوں کے ساتھ دیوالی منانے کا مجھے موقع ملا اور آج جب رمضان کا مبارک مہینہ جاری ہے تب بھی میں آپ کے درمیان ہوں۔ یہ مہینہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کے پیغامات کو یاد کرنے کا موقع ہے۔ان کی سیرت سے ملنے والی مساوات اور بھائی چارے کی تعلیم صحیح معنوں میں ملک اور دنیا کو آگے لے جاسکتی ہے۔یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ رمضان کے اس مبارک مہینے میں ہم یہاں ایک بہت بڑے خواب کی تکمیل ہونے پر جمع ہوئے ہیں۔ آج مجھے کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کو ملک کے نام وقف کرنے کی خوش بختی حاصل ہورہی ہے۔ متعدد طرح کی مشکلات سے گزرنے کے بعد یہ پروجیکٹ جموں و کشمیر کے ترقی کے سفر میں نئی جہت کو جوڑنے کے لئے تیار ہے۔ اس موقع پر میں آپ سبھی کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ اس سے ریاست کو نہ صرف مفت بلکہ خاطر خواہ مقدار میں بجلی بھی ملے گی۔ ابھی جموں و کشمیر کو جتنی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا ایک بڑا حصہ ملک کے دوسرے حصے کی بجلی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ 330 میگاواٹ کے اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے بجلی کی کمی کا مسئلہ بہت حد تک دور کیا جاسکے گا۔
بھائیو اور بہنو!یہ پروجیکٹ انجینئرنگ کی بے جوڑ مثال ہے۔ اسے پورا کرنے کے لئے مختلف لوگوں نے تپسیا کی ہے۔ پہاڑ کے سینے کو چیر کرکے کشن گنگا کے پانی کو سرنگ کے ذریعے باندی پورہ کے بونار نالے میں پہنچا یاگیا۔اس پروجیکٹ سے وابستہ ہر کارکن ، ہر ملازم، ہر انجینئر سبھی خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ آپ کے ہی فیصلے کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم اس مشکل پروجیکٹ کو مکمل کرپائے ہیں۔ابھی یہاں اس اسٹیج سے مجھے سری نگر روڈ کے رنگ روڈ کے سنگ بنیاد کا بھی موقع ملا ہے۔ 42 کلو میٹر کی اس سڑک پر 500 کروڑ روپے سے زیادہ کا صرفہ آئے گا۔ یہ رنگ روڈ سری نگر شہر کے اندرونی علاقوں میں جام کا جو مسئلہ ہے اس کو کافی حد تک کم کرنے کا کام کرے گی، آپ کی زندگی آسان بنائے گی۔
ساتھ میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ریاست کو تینوں حصوں کشمیر، جموں اور لداخ کی متوازن ترقی بہت ہی ضروری ہے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے ڈھائی سال قبل 80ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ اتنے کم وقت میں تقریباً 63ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی جاچکی ہے اور 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ بھی ہوچکے ہیں۔ اس رقم سے جموں وکشمیر میں آئی آئی ٹی بنانے کا کام ، آئی آئی ایم بنانے کا کام، دو ایمس بنانے کا کام، پرائمری صحت مراکز سے لے کر ضلع اسپتالوں کی جدید کاری کا کام بھی جاری ہے۔
نئے نیشنل ہائی وے ، آل ویدر روڈ ، نئی سرنگیں، پاور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائن، ندیوں اور جھیلوں کا تحفظ، کسانوں کے لئے منصوبے، کولڈ اسٹوریج، ویئر ہاؤسنگ، نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع جیسے متعدد نئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اکیسویں صدی کا جموں و کشمیر یہاں کے لوگوں کی امیدوں اور امنگوں کے مطابق ہو اس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے۔
ساتھیوں!جب میں پہاڑ پر جاتا ہوں ایک کہاوت ضرور یاد آتی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ پہاڑ کی جوانی اور پہاڑ کا پانی کبھی پہاڑ کے کام نہیں آتا ہے۔ یہ کہاوت تب کی ہے، جب جدید تکنیک کی اتنی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔ انسان قدرت کے سامنے مجبور تھا، لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ اس کہاوت کو آپ سبھی کے تعاون سے ہم بدلنے میں مصروف ہیں۔ جموں و کشمیر کا پانی اور یہاں کی جوانی، دونوں ہی اس دھرتی کے کام آنے والے ہیں۔
جموں وکشمیر میں کئی ندیاں ہیں، جہاں پن بجلی کے لامحدود امکانات ہیں۔ یہ ملک کا وہ حصہ ہے، جو نہ صرف اپنی ضرورتوں، بلکہ ملک کے لئے بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے گزشتہ چار برسوں سے ہم یہاں متعدد پروجیکٹوں پر کام کررہے ہیں۔ کشتواڑ میں 8ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے بننے والے ہائیڈرو پاور پلانٹ پر بھی کام جلد ہی شروع ہوجائے گا۔
جموں وکشمیر کے ہر گھر تک بے روک ٹوک بجلی پہنچانے کے لئے بھی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسمارٹ گرڈ اور اسمارٹ میٹر جیسی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اسٹریٹ لائٹ کی جدید کاری کی جارہی ہے۔ جموں وکشمیر کے گاؤں سے لے کر قصبوں تک کو روشن کرنے کے لئے، ریاست کے بجلی ڈسٹری بیوشن سسٹم کو سدھارنے کے لئے تقریباً 4ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
ساتھیوں! صرف گاوؤں اور گھروں تک بجلی پہنچانا ہی مقصد نہیں ہے، بلکہ جن گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے، ان میں بجلی کا بل بوجھ نہ بنے اس کے لئے بھی کوشش کی جارہی ہے۔ اجالا یوجنا کے تحت جموں و کشمیر میں بھی 78 لاکھ سے بھی زیادہ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ اس سے یہاں کے عوام کو بجلی کے بل میں ہر سال تقریباً 400 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہورہی ہے۔ حکومت ریاست کے ہر گھر تک بجلی پہنچانے کی مہم میں مصروف ہے۔ سوبھاگیہ یوجنا ک تحت اب جموں و کشمیر کے ہر اس گھر میں مفت بجلی کنکشن دینے کا کام چل رہا ہے، جہاں اب تک بجلی نہیں پہنچی ہے۔
ساتھیوں! جموں و کشمیر میں ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ اگر کوئی شعبہ ہے تو وہ ہے سیاحت۔ یہ دہائیوں سے ہم دیکھتے آرہے ہیں۔ کم سرمایہ کاری پر سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والا یہ شعبہ جموں و کشمیر کی تقدیر بدلتا رہا ہے، لیکن اب یہ شعبہ پرانے طور طریقوں پر نہیں چلتا۔ آج کا سیاح ، آج کے دور کی سہولتیں چاہتا ہے۔ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے گھنٹوں تک انتظار نہیں کرنا چاہتا، وہ تنگ راستوں میں پھنسنا نہیں چاہتا، وہ مسلسل بجلی چاہتا ہے، وہ صاف صفائی چاہتا ہے، وہ اچھی ہوائی سروس چاہتا ہے۔
سیاحت کے لئے جس جدید ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے، اسے ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری حکومت مختلف پروجیکٹوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ جتنا ہی یہ ماحولیاتی نظام مضبوط ہوگا اتنا ہی جموں و کشمیر میں سیاحوں کی تعداد بڑھے گی۔ اتنا ہی نہیں، جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے، اتنی ہی آپ کی کمائی بڑھے گی۔
ساتھیوں! پوری دنیا میں متعدد ایسے علاقے ہیں، جہاں کی پوری معیشت سیاحت پر مرکوز ہے، پورے ملک کی معیشت۔ اکیلے جموں وکشمیر میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ بھارت کی معیشت کی رفتار کو اور بڑھا سکنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اگر میں صرف سیاحت کی بات کروں تو تقریباً 2000کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 12 ڈیولپمنٹ اتھارٹیز ، 3ٹورزم سرکٹ، 50 ٹورسٹ ویلیج بنانے کا کام کیا جائے گا، لیکن جیسا کہ میں پہلے کہا، سیاحت کے ساتھ ہی اس کے پورے ایکو سسٹم کو مضبوط کیا جانا بہت ضروری ہے۔
اس ایکو سسٹم کی بہت بڑی بنیاد ہے کنکٹی وٹی۔ یہی وجہ ہے کہ کنکٹی وٹی کے لئے جموں و کشمیر میں بہت بڑے پیمانے پر کوشش کی جارہی ہے۔ ریاست کو دیئے گئے پیکیج کا تقریباً نصف حصہ روڈ سیکٹر پر ہی خرچ کیا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر میں نیشنل ہائی وے کا جال بچھایا جارہا ہے۔
یہاں آنے سے پہلے میں نے ملک کی سب سے لمبی زوجیلا سرنگ کے کام کا افتتاح کیا ہے۔ یہ سرنگ جموں و کشمیر میں ترقی کی نئی کہانی رقم کرنے والی ہے۔ آپ سوچئے، کنکٹی وٹی بڑھے گی تو اکثر پڑھائی کے لئے جاتے ہوئے، رشتہ داروں سے ملنے جانے کے لئے، علاج کے لئے جاتے ہوئے، تجارت کے لئے آتے جاتے وقت، سامان کی خریدو فروخت کے وقت آپ کو کم پریشان ہونا پڑے گا۔ راستے میں تاخیر کے سبب جو ہمارے سیب خراب ہوجاتے ہیں، ہماری سبزیاں خراب ہوجاتی ہیں، یہاں کے کسانوں کا جو نقصان ہوتا ہے اسے بھی ہم بہت حد تک کم کرسکیں گے۔
یہاں سری نگر میں بننے والی رنگ روڈ ہو ، سری نگر-شوپیاں-قاضی گُنڈ نیشنل ہائی وے ہو یا پھر چینائی –سُدھ مہادیو-گوہا روڈ ہو، ان کے مکمل ہونے پر آپ لوگوں کا وقت بھی بچے گا اور وسائل کی بربادی بھی کم ہوگی۔ ریاست کے ایسے علاقے جو برف باری میں مہینوں تک کٹ جاتے ہیں، انہیں بھی جوڑا جارہا ہے۔ان کے لئے ہیلی کاپٹر سروس دستیاب کرائی جارہی ہے۔ یہ بھی آپ کی جانکاری میں ہے۔حکومت کے ذریعے سری نگر اور جموں کو اسمارٹ سٹی بنانے کا کام بھی تیزی پر ہے۔
شہروں میں پانی کی سپلائی اور سیویج کے نظام کو درست کرنے کے لئے امرت یوجنا کے تحت تقریباً 550 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ جب جدید سہولتیں ہوں گی، جدید سڑکیں ہوں گی، تو آپ کی زندگی تو آسان بنے گی ہی، جموں و کشمیر میں، اس کی خوبصورتی میں بھی اور نئے چار چاند لگنے والے ہیں۔
بھائیو اور بہنو! جب ہم گاؤں اور شہروں کو اسمارٹ بنانے کی بات کرتے ہیں تو سووچھتا اس کا ایک اہم حصہ ہے۔مجھے خوشی ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام بھی اس مہم کو پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
حال میں یہاں کی ایک بٹیا کا ویڈیو میں نے سوشل میڈیا میں دیکھا تھا۔ 5سا ل کی جنت ڈل لیک کو صاف کرنے کے لئے جاری مشن میں جٹی ہے۔ جب ملک کا مستقبل اتنا پاکیزہ اور سووچھ سوچتا ہے، تب مجھے اس مہم کا ایک رکن ہونے کے ناطے اور بھی خوشی ہوتی ہے۔ ساتھیوں!ایسے متعدد لوگ ہیں جو اپنی سطح پر اس طرح کے کام کررہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو! مجھے اس بات کا احساس ہے کہ خوفناک سیلاب میں یہاں جو تباہی پھیلائی اس نے آپ کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہماری یہ ہر ممکن کوشش ہے کہ جہاں جہاں نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی ہو اور اس کے لئے ریاستی حکومت کی مسلسل مدد کی جارہی ہے۔
ساتھیو!ایک اور بہت سنجیدہ موضوع پر ہے، جس پر پی ڈی پی –بی جے پی اتحاد کی حکومت اور مرکزی حکومت مل کر کام کررہی ہے۔ یہ مسئلہ ہے نقل مکانی کرنے والوں کا ۔ جو لوگ سرحد پار کے حالات سے تنگ آ کر یہاں آئے ہیں، جنہیں مقامی مسائل کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا ہے، الگ الگ جگہوں پر ان کی باز آباد کاری کے لئے تقریباً 350 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جارہےہیں۔
ساتھیوں! آج جموں و کشمیر کے کئی نوجوان ملک کی دوسری ریاستوں کے نوجوانوں کے لئے رول ماڈل بن رہے ہیں۔ سول سروسز میں جب یہاں کے نوجوانوں کا نام دیکھتا ہوں، ان سے ملاقات کرتا ہوں تو میری خوشی دوگنی ہوجاتی ہے۔ مجھے یاد ہے ملک کا سینہ تب فخر سے چوڑا ہوگیا تھا، جب یہاں باندی پورہ کی بٹیا نے کِک باکسنگ میں ہندوستان کا نام روشن کیا ۔ تجمل جیسے ٹیلنٹ کو ملک بے کار نہیں جانے دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے اسپورٹنگ ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لئے ریاستی حکومت کے ساتھ مل کرکے کوشش کررہی ہے۔ اسی جذبے کے تحت یہاں اسپورٹس انفرااسٹرکچر ڈیولپ کرنے کی بھی پوری کوشش کی جارہی ہے۔
بھائیو اور بہنو! جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع دستیاب کرانے کے تعلق سے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ ریاستی حکومت کے ساتھ ملک کر متعدد نئے پروجیکٹوں کو عملی شکل دی گئی ہے۔ حمایت اسکیم کے تحت یہاں کے ایک لاکھ نوجوانوں کو تربیت دینے کے پروجیکٹ پر کام چل رہا ہے۔ 16ہزار سے زیادہ بچوں کو وزیر اعظم خصوصی اسکالر شپ اسکیم کا فائدہ ملا ہے۔ انہیں ملک کے بہترین کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع دیا گیا ہے۔ الگ الگ وجہوں سے کالج اور اسکول بیچ میں ہی چھوڑ دینے والے تقریباً 60 ہزار طلباء کو نوکریوں کا آفر دیا گیا ہے۔
یہاں کے نوجوان ملک اور ریاست کے شہریوں کے تحفظ کے کام آسکیں، اس کے لئے بھی نئے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں۔جموں و کشمیر پولس کو بااختیار بنانے کے لئے 5 انڈین ریزرو بٹالین منظور کی گئی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ بھرتی کا عمل آخری مرحلے میں ہے، جس کے بعد یہاں کے 5ہزار نوجوانوں کو سیکورٹی کے شعبے میں روزگار ملے گا۔
بھائیو اور بہنو! ہماری حکومت کے لئے شہریوں اور ملک کا تحفظ ، سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ہمارے سلامتی دستی مسلسل ڈٹے ہوئے ہیں۔یہاں جموں و کشمیر کی پولس ہو، پیرا ملٹری فورسز اور فوج کے جوان ہو، آپ سبھی سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ مشکل حالات میں بھی آپ شاندار کام کررہے ہیں۔ آپ کے درمیان جو میل جول ہے، کوآرڈینشن ، اس کے لئے یہ سب بہت بہت مبارکباد کے مستحق ہیں۔ چاہے سیلاب ہو یا برفیلے طوفان ہوں، یا پھر آگ جیسی آفت ہو، مشکل میں پھنسے ہر جموں و کشمیر کے باشندے کے لئے سیکورٹی دستوں کا تعاون بے مثال ہے۔ یہاں کے عوام کے لئے وہ جو کچھ بھی کررہے ہیں، جو بھی تکلیف جھیل رہے ہیں، اس کی ایک ایک تصویر ملک کے عوام کے دل و دماغ میں نقش ہے۔
بھائیو اور بہنو! ملک کے سوا سو کروڑ لوگ آج نیو انڈیا کے عزم پر کام کررہے ہیں۔جموں و کشمیر اس نیو انڈیا کا سب سے روشن ستارہ بن سکتا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ جموں وکشمیر میں ملک کے سب سے اچھے تعلیمی ادارے ، سب سے اچھے اسپتال، سب سے اچھی سڑکیں، سب سے جدید ہوائی اڈے نہ ہوں۔ کوئی وجہ نہیں کہ یہاں کے ہمارے بچے اچھے ڈاکٹر نہ بنیں، اچھے انجینئر نہ بنیں، اچھے پروفیسر اور اچھے افسر نہ بنیں۔ کوئی وجہ نہیں ہے ۔
ساتھیوں!بہت ساری طاقتیں ہیں جو نہیں چاہتی ہیں کہ جمو ں و کشمیر کی ترقی ہو، یہاں کے لوگوں کی زندگی خوشحال ہو، لیکن ساتھیو! ہمیں ان بیرونی طاقتوں کو جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا ہے۔
یہاں محبوبہ مفتی صاحبہ کی قیادت میں چل رہی پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد حکومت اور مرکز کی این ڈی اے حکومت مسلسل ایسے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کررہی ہے، جو بیرونی پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اپنی ہی پاک سرزمین پر حملہ کررہے ہیں۔
ساتھیو! امن اور استحکام کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ میری گزارش ہے کہ جو نوجوان راہ بھٹک گئے ہیں، وہ قومی دھارے میں واپس لوٹیں۔ یہ قومی دھارا ہے، ان کا خاندان ، ان کے والدین۔ یہ قومی دھارا ہے جموں و کشمیر کی ترقی میں ان کا سرگرم تعاون ۔ اس نوجوان نسل پر ہی ذمہ داری ہے جموں و کشمیر کا اقبال بلند کرنےکی۔ جموں و کشمیر میں اتنے ذرائع ہیں، اتنے وسائل ہیں، اتنی اہلیت ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کے اپنے دوسرے علاقوں سے رتی بھر بھی پیچھے رہے۔بھٹکے ہوئے نوجوانوں کے ذریعے اٹھایا گیا ہر پتھر ، ہر ہتھیار ان کے اپنے جموں وکشمیر کو غیر مستحکم کرتا ہے۔
ریاست کو اب استحکام کے اس ماحول سے باہر نکلنا ہی ہوگا۔ مستقبل کے لئے ، اپنی آنے والی نسلوں کے لئے، انہیں صرف کشمیر ہی نہیں، ہندوستان کی ترقی کے قومی دھارے سے بھی جڑنا ہوگا۔ ہزاروں سالوں سے ، ہم ایک بھارت ماں کی اولاد ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو بھائی سے بھائی کو دور کرسکتی ہے۔ماں کے دودھ میں کبھی دراڑ ہوسکتی۔ جو لوگ دہائیوں سے اس کوشش میں لگے ہوئے تھے ، وہ اب خود بکھرنے کی دہلیز پر ہیں۔
بھائیو او ربہنو! میں پھر کہوں گا، گزشتہ برس میں دیوالی گریز میں جوانوں کے ساتھ منائی تھی تو اس سال رمضان کے موقع پر یہاں آپ سب کے درمیان ہوں۔ یہی تو کشمیر کا جذبہ ہے، یہی تو اس دھرتی کی دیش اور دنیا کو دین ہے۔ یہاں سب کا خیر مقدم ہے، یہاں سب کی قدر دانی ہے۔ یہ اس روایت کی دھرتی ہے جو دیش دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اسی دھرتی کو مذہب اور فرقوں سے زیادہ روایتوں نے سینچا ہے۔ اس لئے
کشمیریت کے اٹل جی بھی قائل رہے ہیں اور اسی کشمیریت کا مودی بھی مرید ہے۔
اور میں نے تو لال قلعے کی فصیل سے بھی کہا تھا:
نہ گالی سے مسئلہ سلجھنے والا ہے، نہ گولی سے مسئلہ سلجھے گا، ہر کشمیری کو گلے لگانے سے مسئلہ سلجھے گا۔
جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے ریاستی اور مرکزی حکومت کے پاس نیتی بھی ہے، نیت بھی ہے اور فیصلہ لینے میں ہم کبھی پیچھے نہیں رہتے ہیں۔ طلباء پر ہزاروں مقدمات کو واپس لینے کا عمل ہو یا پھر ابھی رمضان کے اس مبارک مہینے میں لیا گیا جنگ بندی کا فیصلہ ، اس کے پس پردہ فکر یہی ہے کہ کشمیر کے ہر نوجوان کو یہاں کے ہر شخص کو استحکام ملے اور ان کی ترقی ہو۔
ساتھیو! یہ صرف جنگ بندی نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام کی آڑ میں دہشت گردی پھیلانے والوں کو بے نقاب کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس بات کو دیکھ رہے ہیں کہ کیسے انہیں گو مگو کی حالت میں رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ استحکام کے اسی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے حکومت نے ایک نمائندہ بھی مقرر کیا ہے۔ وہ عوام کے ذریعے منتخب نمائندوں سے، یہاں کی الگ الگ تنظیموں اور اداروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جو اپنی بات ہے ان سے جاکر بتائیں۔ ہر شخص سے بات چیت کرکے وہ امن کے عمل کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو! حکومت اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے، لیکن کشمیریت اور جمہوریت کے اتحاد کو قائم رکھنے میں آپ سبھی لوگوں کا بھی رول ہے او رمیں جموں و کشمیر کے سبھی شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ سب کا بھی ، یہاں کے ہر والدین ، یہاں کے نوجوان، دانشور اور مذہبی رہنا سبھی کی ذمہ داری ، سبھی کا بڑا رول ہے، لہٰذا وہ اپنا رول نبھائیں۔
میں چاہوں گا کہ آپ ، ہم سبھی اپنی پوری طاقت صرف اور صرف جموں و کشمیر کی ترقی پر لگائیں، ہر مسئلہ اور ہر تنازع ، ہر اختلاف سب کا حل ایک ہی ہے، ترقی ، ترقی اور صرف ترقی۔
نیو انڈیا کے ساتھ ہی نیو جموں وکشمیر ، پرسکون اور خوشحال جموں کشمیر ، بدلتے بھارت کی ترقی کی کہانی کو اور مضبوط کرے گا، اور ایسا مجھے پورا یقین ہے۔ اور میں اسی اعتماد کے ساتھ آپ لوگوں کے درمیان میں بھی اپنے جذبات کو میں کھول کر ظاہر کرتا ہوں۔ اپنی بات کو کھول کرکے بتاتاہوں۔ اور میں دنیا کے لوگوں کو بھی کہتا ہوں، ساری دنیا کے ملک جو بھی ان راستوں پر چل پڑے ہیں، سبھی پچھتا رہے ہیں، سبھی واپس لوٹ رہے ہیں، وہ واپس لوٹنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں اور اس لئے امن چین کی زندگی ، بھائی چارے کی زندگی، امن اور خوشحالی کی زندگی، سکھ چین کی زندگی ، اسی وراثت کو ہمیں آگے بڑھا نا ہے اور اس کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی کمی نہیں رہے گی۔ جہاں ضرورت ہوگی، سارے قدم اٹھاتے چلے جائیں گے، آپ کا ساتھ اور تعاون رہے گا، ہم جس چاہ کو لے کر نکلے ہیں، وہ چاہ ہم پوری کرکے رہیں گے اور پھر ایک بار ہمارا یہ کشمیر، ہمارا یہ جموں کشمیر، لیہہ لداخ ، پورا علاقہ سارے ہندوستانیوں کے لئے وہی تاج کے نگینے کی شکل میں ہر کسی کو پیار سے گلے لگانے کا موقع دے گا۔
م ن۔م م ۔ن ع
U: 2694
एक बार फिर जम्मू कश्मीर में आप सभी के बीच आने का अवसर मुझे मिला है। आपका अपनापन, आपका स्नेह ही है जो मुझे बार-बार यहां खींच लाता है। बीते चार वर्ष में ऐसा कोई साल नहीं रहा जब मेरा यहां आना ना हुआ हो: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
श्रीनगर में बाढ़ के बाद की दीवाली मैंने यहां पीड़ितों के बीच बिताई थी। इसके अलावा सीमा पर तैनात जवानों के साथ दीवाली मनाने का भी मुझे सौभाग्य मिला था। और आज जब रमज़ान का पवित्र महीना चल रहा है तब भी मैं आपके बीच में हूं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
ये महीना पैगम्बर मोहम्मद साहब की शिक्षा और उनके सन्देश को याद करने का अवसर है। उनके जीवन से समानता और भाईचारे की सीख ही सही मायने में देश और दुनिया को आगे ले जा सकती है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
ये भी सुखद संयोग है कि रमज़ान के इस मुबारक महीने में ही हम यहां एक बहुत बड़े सपने के पूरा होने पर इकट्ठा हुए हैं। आज मुझे किशनगंगा हाइड्रो पावर प्रोजेक्ट को देश को समर्पित करने का सौभाग्य मिला है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
ये प्रोजेक्ट जम्मू कश्मीर की विकास यात्रा में नए आयाम जोड़ने के लिए तैयार है। इस अवसर पर मैं आप सभी को बधाई देता हूं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
इससे राज्य को सिर्फ मुफ्त ही नहीं बल्कि पर्याप्त बिजली मिलेगी। अभी जम्मू कश्मीर को जितनी बिजली की आवश्यकता होती है, उसका एक बड़ा हिस्सा देश के दूसरे हिस्से से पूरा किया जाता है। 330 मेगावाट की इस परियोजना के शुरु होने से बिजली की कमी की समस्या को बहुत हद तक कम किया जा सकेगा: PM
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
ये प्रोजेक्ट इंजीनियरिंग की बेजोड़ मिसाल है। इसे पूरा करने के लिए अनेक लोगों ने तपस्या की है। पहाड़ के सीने को चीरकर किशनगंगा के पानी को टनल के जरिए बांदीपोरा के बोनार नाला में पहुंचाया गया: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
अभी यहां इस मंच से मुझे श्रीनगर रिंग रोड के शिलान्यास का भी अवसर मिला है। 42 किलोमीटर की इस सड़क पर 1200 करोड़ रुपए से ज्यादा खर्च किए जाएंगे। ये रिंग रोड श्रीनगर शहर के भीतरी इलाकों में जाम की समस्या को काफी हद तक कम करने का काम करेगी, आपकी जिंदगी आसान बनाएगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
जम्मू-कश्मीर के लोगों के जीवन में बदलाव लाने के लिए राज्य के तीनों ही हिस्सों- कश्मीर, जम्मू और लद्दाख का संतुलित विकास बहुत आवश्यक है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
जम्मू कश्मीर का पानी और यहां की जवानी दोनों इसी धरती के काम आने वाले हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
जम्मू कश्मीर में कई नदियां हैं। यहां जल विद्युत की अपार संभवानाएं हैं। ये देश का वो हिस्सा है जो ना सिर्फ अपनी जरूरतों बल्कि बाकी देश के लिए भी बिजली पैदा कर सकता है। इसी को ध्यान में रखते हुए बीते चार वर्षों से हम यहां अनेक परियोजनाओं पर काम कर रहे हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
सरकार राज्य के हर घर तक बिजली पहुंचाने की मुहिम में जुटी है। सौभाग्य योजना के तहत अब जम्मू-कश्मीर के हर उस घर में मुफ्त बिजली कनेक्शन देने का काम चल रहा है, जहां अब तक बिजली नहीं पहुंची है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
जम्मू-कश्मीर में विकास का सबसे बड़ा माध्यम अगर कोई सेक्टर है, तो वो है टूरिज्म। ये दशकों से हम देखते आ रहे हैं। कम निवेश पर सबसे ज्यादा रोजगार पैदा करने वाला ये सेक्टर जम्मू-कश्मीर का भाग्यविधाता रहा है। लेकिन अब ये सेक्टर पुराने-तौर तरीकों पर नहीं चलता: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
आज का टूरिस्ट, आज की सुविधाएं चाहता है। वो एक जगह से दूसरी जगह जाने के लिए घंटों का इंतजार नहीं करना चाहता, वो संकरे रास्तों में फंसना नहीं चाहता, वो लगातार बिजली चाहता है, वो साफ-सफाई चाहता है, वो अच्छी हवाई सेवा चाहता है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
टूरिज्म के लिए जिस आधुनिक इकोसिस्टम की आवश्यकता होती है, ध्यान में रखते हुए हमारी सरकार काम कर रही है। जितना ये इकोसिस्टम मजबूत होगा, उतना ही जम्मू-कश्मीर में पर्यटकों की संख्या बढ़ेगी, उतना ही जम्मू-कश्मीर के नौजवानों को रोजगार के नए अवसर मिलेंगे, उतना ही आपकी कमाई बढ़ेगी: PM
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
यहां श्रीनगर बनने वाली रिंग रोड हो, श्रीनगर-शोपियां-काज़ीगुंड नेशनल हाईवे हो या फिर चेनानी-सुधमहादेव-गोहा रोड हो, इनके पूरा होने पर आप लोगों का समय भी बचेगा और संसाधनों की बर्बादी भी कम होगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
राज्य के ऐसे इलाके जो बर्फबारी में महीनों के लिए कट जाते हैं, उन्हें भी जोड़ा जा रहा है, उनके लिए हेलीकॉप्टर सर्विस मुहैया कराई जा रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
आज जम्मू-कश्मीर के अनेक युवा, देश के दूसरे राज्यों के नौजवानों के लिए रोल मॉडल बन रहे हैं। सिविल सेवा में जब यहां के नौजवानों का नाम देखता हूं, उनसे मुलाकात करता हूं, तो मेरी खुशी दोगुनी हो जाती है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
देश के सवा सौ करोड़ लोग आज New India के संकल्प पर काम कर रहे हैं। जम्मू-कश्मीर इस New India का सबसे चमकता सितारा बन सकता है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
यहां महबूबा मुफ्ती जी के नेतृत्व में चल रही पीडीपी-बीजेपी गठबंधन सरकार और केंद्र की एनडीए सरकार निरंतर ऐसे नौजवानों को मुख्यधारा में लाने का प्रयास कर रही है, जो विदेशी दुष्प्रचार से प्रभावित होकर अपनी ही पवित्र धरती पर प्रहार कर रहे हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
शांति और स्थायित्व का कोई विकल्प नहीं होता। मेरा आग्रह है कि जो नौजवान रास्ता भटक गए हैं, वो मुख्यधारा में लौटें। ये मुख्यधारा है, उनका परिवार, उनके माता-पिता। ये मुख्यधारा है जम्मू कश्मीर के विकास में उनका सक्रिय योगदान: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
इस युवा पीढ़ी पर ही जिम्मेदारी है जम्मू- कश्मीर का गौरव और बढ़ाने की। जम्मू - कश्मीर में इतने साधन हैं, इतने संसाधन, इतना सामर्थ्य है, फिर कोई वजह नहीं कि जम्मू- कश्मीर, भारत के अपने दूसरे क्षेत्रों से रत्ती भर भी पीछे रहे: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
भटके हुए नौजवानों द्वारा उठाया गया हर पत्थर, हर हथियार, उनके अपने जम्मू कश्मीर को अस्थिर करता है। राज्य को अब अस्थिरता के इस माहौल से बाहर निकलना ही होगा। भविष्य के लिए, अपनी आने वाली पीढ़ियों के लिए, उन्हें सिर्फ कश्मीर ही नहीं, भारत के विकास की मुख्यधारा से जुड़ना होगा: PM
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
हजारों वर्षों से, हम एक भारत मां की संतानें हैं। दुनिया की कोई शक्ति ऐसी नहीं, जो भाई को भाई से दूर कर सके। जो लोग दशकों से इस प्रयास में लगे हुए थे, वो अब खुद बिखरने की कगार पर हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
मैं फिर कहूंगा, पिछले वर्ष मैंने दीवाली गुरेज़ में जवानों के साथ मनाई तो इस वर्ष रमज़ान के मौके पर यहां आप सबके बीच में हूं। यही तो कश्मीर की भावना है, यही तो इस धरती की देश और दुनिया को देन है। यहां सबका स्वागत है, यहां सबका सत्कार है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
इसी कश्मीरियत के अटल जी भी कायल रहे हैं और इसी कश्मीरियत का मोदी भी मुरीद है।
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
मैंने तो लाल किले से भी कहा था कि न गाली से समस्या सुलझने वाली है, न गोली से, समस्या सुलझेगी, हर कश्मीरी को गले लगाने से: PM @narendramodi
जम्मू कश्मीर के विकास के लिए राज्य और केंद्र सरकार के पास नीति भी है, नीयत भी है, और निर्णय लेने में भी हम पीछे नहीं रहते: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
मैं चाहूंगा कि आप, हम, सभी अपनी सारी शक्ति सिर्फ और सिर्फ जम्मू-कश्मीर के विकास पर लगाएं।
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
हर समस्या, हर विवाद, हर मतभेद का हल एक ही है- विकास, विकास, और सिर्फ विकास: PM @narendramodi