Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

سفر نیپال کے موقع پر وزیر اعظم کا پریس بیان

سفر نیپال کے موقع پر وزیر اعظم  کا پریس بیان

سفر نیپال کے موقع پر وزیر اعظم  کا پریس بیان

سفر نیپال کے موقع پر وزیر اعظم  کا پریس بیان


عزت مآب، وزیر اعظم جناب کے پی شرما اولی جی، 
مہمانانِ خصوصی، اور موقع پر موجود میڈیا کے رفقائے کار، 
نمسکار!
پردھان منتری جیو، تپائی لے میرو ہاردک سواگت را ستکار گنربھیو۔ یس لائی ما ہاردک آبھار وِیَکت گرد چھوں۔ 

ساتھیوں،

ویسے تو نیپال سے میرا بہت ہی پرانا رشتہ رہا ہے، لیکن وزیر اعظم کے طور پر یہ میرا تیسرا سفرِ نیپال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیپال کے تئیں اور ہند نیپال مراسم کے تئیں میری اور میری سرکار کی عہد بستگی کتنی گہری ہے۔ میں یہاں خواہ وزیر اعظم کی حیثیت سے آیا ہوں یا عام شہری کی حیثیت سے، نیپال کے لوگوں نے مجھے ہمیشہ اپنا مانا ہے اور اپنے کنبے کے فرد کی طرح میرا خیر مقدم کیا ہے۔ اس اپنے پن، گرمجوش خیر مقدم اور میزبانی و اعزاز کے لئے میں وزیر اعظم جناب اولی، ان کی سرکار اور نیپال کے لوگوں کا دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں۔ نیپال کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دو سرکاروں کے مراسم سے کہیں زیادہ اسی طرح کے کنبہ جاتی اور دوستانہ ہیں اور عوام سے عوام کے درمیان آپسی خوشگوار، گہرے رشتوں کی بنیاد پر کھڑے ہیں۔

دوستوں،

میرا یہ سفر نیپال ایک ایسے تاریخی وقت پر ہو رہا ہے جب نیپال میں وفاقی اور مقامی سطحوں پر انتخابات کامیابی کے ساتھ کرائے جا چکے ہیں۔ نیپال کی تاریخ میں یہ دور سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ نیپال کے عوام نے معاشی اور اقتصادی ترقی اور تبدیلی کی خاطر تعمیر قوم کے لئے وزیر اعظم جناب اولی کی قیادت اور تصورات پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ نیپال کے عوام نے وفاقی اور جمہوری نظام میں تعمیر قوم اور سفر ترقی کا جو فیصلہ کیا ہے میں اس کی ستائش کرتا ہوں۔ ایک اٹوٹ، آسودہ حال اور طاقتور نیپال کے لئے سبھی نیپالی لوگوں کے عزائم کی حمایت کرتا ہوں۔ مجموعی ترقی اور معاشی خوشحالی کی آپ کی کوششیں کے لئے ہندوستان کے سوا سو کروڑ لوگوں کی نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔

دوستوں،

پچھلے مہینے ہمیں ہندوستان میں وزیر اعظم جناب اولی کے خیر مقدم کا موقع ملا تھا۔ اس موقع پر ہمارے دونوں ملکوں کی ترقی کے لئے ہمارے تصورات پر خاصی گفتگو کی گئی تھی۔ اور آج یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں ان کے ساتھ نیپال کی راجدھانی میں ہوں۔ پڑوس میں، رابطہ کاری اور دوستی کے لئے ہندوستان کے تصور کی ایک جھلک میرے اس سفر میں ملتی ہے۔

دوستوں،

ہندوستان کے لئے ہمارا، ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا تصور اور نیپال کے لئے اولی جی کا ’’آسودہ نیپال، خوشحال نیپالی‘‘ کا نعرہ ایک دوسرے کے لئے تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج ہم نے ایک بار پھر ہندوستان اور نیپال کی شراکت داری کے سبھی رخوں کا جائزہ لیا ہے۔ تقریباً پانچ ہفتے قبل وزیر اعظم جناب اولی بھارت آئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مجھ سے کئی امور پر بات کی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ اتنے کم وقت میں ہی دونوں ملکوں کی ٹیموں نے مل کر ان سبھی امور پر کام کیا ہے۔ اور کئی مسئلے تو سلجھا بھی لیے گئے ہیں۔ میں نے آج کی اپنی بات چیت میں وزیر اعظم جناب اولی کو ان کی تفصیلی معلومات فراہم کی۔ ہم نے زراعت، درونِ ملک آبی شاہراہیں اور ریلوے میں متعدد انقلابی تبدیلیوں کے اقدامات کیے ہیں جن سے دونوں ملکوں کے کاروبار اور باہمی رابطہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ میں درونِ ملک آبی شاہراہوں میں ہمارے تعاون کو خاص طور سے اہم تصور کرتا ہوں۔ نیپال لینڈ لاگڈ نہ رہے اور لینڈ لنکڈ ہو۔ ہم وزیر اعظم جناب اولی کے اس تصور کو عملی شکل دینے میں ہر ممکن امداد اور کوشش کے لئے عہد بستہ ہیں۔ ہمارے وزیر زراعت جلد ہی ملیں گے اور زرعی تحقیق، زرعی تعلیم اور زرعی ترقی میں تعاون کے لئے روڈمیپ تیار کریں گے۔ رکسول اور کٹھمنڈوکے درمیان نئے ریلوے لنک کے لئے سروے کا کام جلد ہی شروع ہوگا اور ٹریڈ اور انویسٹمنٹ میں اپنے باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہم جلد ہی ٹریٹی آف ٹریڈ کا جامع جائزہ لیں گے۔ صحت کے شعبے میں تعاون کے لئے ہم ایک نیا قدم اٹھا رہے ہیں۔ کٹھمنڈومیں واقع بھکت پور کینسر اسپتال میں کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے ہم جلد ہی بھارت میں تیار بھابھاٹرون ریڈیو تھیریپی نصب کریں گے۔

دوستوں،

ہمارے آبی وسائل اور توانائی کے شعبے میں تعاون میں ایک نیا باب جڑا ہے۔ وزیر اعظم جناب اولی کے ساتھ مل کر آج مجھے 900 میگاواٹ کے ارون تھری الیکٹریسٹی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا۔ تقریباً 6000 کروڑ ہندوستانی روپئے کی سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ نیپال کے سب سے بڑے پروجیکٹس میں سے ایک ہے۔ نیپال میں روزگار کے مواقع کے ساتھ اس پروجیکٹس سے نیپا ل میں معاشی اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پنچیشور پروجیکٹ اور ہائیڈرو پاور آبی وسائل اور توانائی کے شعبے میں اپنے تعاون کے دیگر پروجیکٹس پر بھی ہم اپنی گفتگو کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہم دونوں اس بات پر بھی متفق ہیں کہ رابطہ کاری یعنی کنکٹیویٹی ہماری عوام کی ترقی کے لئے بہت ہی اہم حیثیت کی حامل ہے۔ ہم ابتدائے آفرینش کے دور سے ہی ہمالیہ کے کوہستانی سلسلوں اور دریاؤں وغیرہ کے وسیلے سے جڑے ہوئے ہیں اور اب ہم روڈ، ریلوے، پاور ٹرانسمیشن لائن اور آئل پائپ لائن وغیرہ کے وسیلے سے بھی اپنی کنیکٹیویٹی کو مزید طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔

دوستوں،

بھارت اور نیپال کے مضبوط تعلقات میں ہماری کھلی سرحد ایک خصوصی کردار ادا کرتی ہے۔ ہم کسی بھی ناپسندیدہ عنصر کے ذریعہ اس کھلی سرحد کا بیجا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر اعظم اولی جی اور میں ہمارے دوطرفہ دفاع اور دفاعی تعاون کو اور زیادہ مضبوط کرنے کے لئے عہد بند ہیں۔ کھلی سرحد کے ساتھ ہمارے تعلقات کی ایک اور خصوصیت ہے۔ ہمارے عمیق روحانی تعلقات۔ 2014 میں جب میں نیپال آیا تھا تو بھگوان پشو پتی ناتھ کا آشیرواد لینے کا موقع ملا تھا۔ آج صبح مجھے جانکی مندر میں ماتا سیتا کے درشن کی خوش نصیبی حاصل ہوئی۔ میں امید کرتا ہوں کہ کل صبح مکتی ناتھ اور پشو پتی ناتھ جی کے احاطوں میں ان کی پرستش کرنے کی خوش بختی حاصل ہوگی۔ ہر سال میرے جیسے لاکھوں بھارتی عقیدت مندان نیپال آتے ہیں۔ اور اسی لئے اولی جی اور میں نے بھارت اور نیپال کے درمیان سیاحت کو بڑھاوا دینے کے لئے ساتھ مل کر رامائن اور بودھ سرکٹوں کی ترقی پر آج تبادلہ خیالات کیے ہیں۔ ساتھ ہی ہم نے ٹھوس قدم بھی اٹھائے ہیں۔

دوستوں،

گذشتہ مہینے ہم نے دہلی میں اور آج یہاں کٹھمنڈو میں ہماری گفت و شنید میں لیے گئے فیصلوں سے ہم نے بھارت۔ نیپال تعلقات میں ایک نئی توانائی ، ایک نئی روح ڈالی ہے۔ آج جب میں بھارت۔ نیپال تعلقات کے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت پر امید خیالات سے سوچتا ہوں۔ اسی امید، اعتماد، بھروسے اور باہمی دوستی کے جذبے کے ساتھ میں ایک بار پھر اولی جی کا، ان کی حکومت کا اور نیپال کے لوگوں کے تئیں دلی اظہارِ ممنونیت کرتا ہوں۔ بھارت۔ نیپال دوستی امر رہے۔
شکریہ